مسلم عورت کا استحصال، حقیقت کیا ہے؟ انعم علی

اسلام کو ہدف تنقید بنانے والوں کی جانب سے ہر قسم کے اعتراضات اٹھتے رہتے ہیں جن میں نبی کریم صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شخصیت سے لے کر ان کے ہر ہرعمل پرتنقید و تنقیص شامل ہے ... ! لیکن جو اعتراض زیادہ شدت سے کیا جاتا ہے وہ اسلام میں مسلمان عورتوں کے حقوق کا استحصال ہے جس کا ذکر کچھ زیادہ ہی رغبت سے بیان یوں بھی کیا جاتا ہے کہ اس میں بیان کرنے والی کی ذاتی خواہشات وہوس کی تکمیل مطلوب و مقصود ہوتی ہے۔۔! اسلامی تاریخ کے واقعات میں سے کچھ ٹکڑے اٹھا کر عورت کو انتہائی مظلوم بنا کر پیش کرنے کی انکی روایت کافی پرانی ہو چکی ہے، اور اسکی بنیاد پر آئے روز عورتوں کی آزادی کے نعرے ایجاد کرتے نظر آتے ہیں گویا مسلمان عورتیں قید وبند کا شکار ہوں، بعض تو جذبات کی رو میں حد تک بہہ جاتے ہیں کہ عورت کو ہر معاملے میں مرد کے برابر لا کھڑا کرنے کی بات تک کر دیتے ہیں جو حقیقی زندگی میں خود ان کے لیے بھی ممکن نہیں ہے۔۔!

کیا مغرب میں پہلی معاشرتی بے چینی ان کی نام نہاد آزادی کا کل حاصل ہے؟ کیا امریکہ، یورپ اور ہندوستان میں بڑھتے زنا بالجبر اور اس کے بعد قتل کردینے کے واقعات ہی ہماری محنت کا ثمر ہوں گے؟ میں اکثر سوچتی ہوں آزادی کیا ہے؟ اسلام کی رو سے ایسی کیا پابندی ہے عورتوں پر جسکی بنیاد پر مسلمان عورتوں کو قیدی سمجھا جاتا ہے؟ جو لوگ آزادی کا نعرہ لگاتے ہیں وہ بھی ہم میں سے ہی ہیں، انکو سمجھنا شاید اتنا مشکل نہیں جتنا ہمیں لگتا ہے، وہ بھی شاید کسی مضبوط دلیل کی بنا پر ہی اس نقطہ نظر پر کھڑے ہوں۔۔ہوسکتا ہے ہماری بات ایک ہی ہو اس کی تہہ تک پہنچنے کے طریقے مختلف ہوں، یا پھر ہم دونوں ہی مختلف انداز میں کارِزندگی کو دیکھتے ہوں ۔۔ ہر کوئی اپنے حصے کا بوجھ اٹھا کر چلتا ہے ہم کسی کو مکمل طور پر کبھی نہیں سمجھ سکتے:
جیسے ایک جگہ اقبال نے کہا کہ
گل، تبسم کہہ رہا تھا زندگانی کو مگر
شمع بولی، گریہِ غم کے سوا کچھ بھی نہیں

سوال اٹھانے والوں سے سوال ہے عورت کی آزادی سے ان کی منشا و مراد کیا ہے؟ پہلے تو اس کی درست تعریف متعین کرنے کی ضرورت ہے۔ پھر کیا ان کے خیال میں ضروری پردہ اور شرعی پابندیاں عورت کی معاشرتی ترقی کی راہ میں حائل ہیں یا وہ سمجھتے ہیں کہ ان کو عورتوں پر نافذ کیا جاتا ہے؟ پہلی بات تو یہ کہ عصر جدید میں آپ کو سینکڑوں نہیں ہزاروں نہیں لاکھوں مثالیں مل جائیں گی جس میں لڑکیوں نے ان ہی حدود میں رہ کر سائنسی اور علمی کارنامے سرانجام دیئے ہیں۔ ۔ دوسرا معاشرے میں اصلاحات کو نافذ کیا جاتا ہے یا معاشرے کے افراد کی ذہنی نشوونما و تعمیر کر کے اس کو درست راستے کی طرف تلقین کردی جاتی ہے جس کو وہ خود اپنا کر ایک پرامن سماج کا حصہ بن جاتا ہے۔۔!

بہرحال اسی آزادی کےموضوع پر پہلے کچھ آیات اور احادیث پیش کرنا چاہوں گی:
1۔سورہ بقرہ آیت نمبر 228 جسکا مفہوم ہے کہ "اور عورتوں کو بھی ویسے ہی حق ہیں جیسے ان مردوں کے ہیں اچھائی کے ساتھ، ہاں مردوں کو عورت پر فضیلت ہے اور اللہ تعالٰی غائب ہے، حکمت والا ہے" ... یہاں پر عورتوں کو مردوں کے برابر حقوق دیے گئے ہیں اور فضیلت مردوں کو اسلیے دی گئی ہے کہ انکا کام عورتوں کی عزت اور انکی حفاظت اور انہیں ضروریات مہیا کرنا ہے... جسمانی طور پر اس فضیلت کو برتر کہا گیا ہے ورنہ حقوق میں کوئی کمی بیشی نہیں۔۔اگر آپ مردو عورت کی اس تقسیم کے بھی قائل نہیں تو پہلے آواز بلند کیجیئے کہ میراتھن ریس میں مردو وعورت کی تقسیم ختم ہونی چاہیئے اور یہ ایک مخلوط دوڑ ہونی چاہیئے۔۔۔یا کرکٹ، فٹ بال، ہاکی، ٹینس اور ایسے ہی دوسرے تمام کھیلوں میں عورت بمقابلہ مرد ہونا چاہیئے۔۔اولمپکس کے پلیٹ فارم سے برابری کا یہ پیغام آپ پوری دنیاتک انتہائی آسانی سے پہنچاسکتے ہیں، آزمائش شرط ہے۔۔مختلف ہونا لازماً کم تر اور گھٹیا ہونا نہیں ہوتا۔!

پھر فرمایا:
وَمَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ مِنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثٰی وَہُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓءِکَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ وَلاَ یُظْلَمُوْنَ نَقِیْرًا.(النسا۴: ۱۲۴)
"مرد ہو یا عورت جو بھی نیکی کرے گا ، اس حال میں کہ وہ مومن ہوا تو ایسے ہی لوگ ہیں جو جنت میں داخل ہوں گے اور اُن پر ذرہ بھر ظلم نہ کیا جائے گا۔"
اور اسلام میں عورت کی عزت وتکریم کس قدر عزیز ہے کہ ارشاد ربانی ہے:
وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوْا بِاَرْبَعَۃِ شُھَدَآءَ فَاجْلِدُوْھُمْ ثَمٰنِیْنَ جَلْدَۃً وَّلَا تَقْبَلُوْا لَھُمْ شَہَادَۃً اَبَدًا، وَاُولٰٓءِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ، اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ وَاَصْلَحُوْا فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ. (النور ۲۴ : ۴۔۵)
"اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگائیں ، پھر چار گواہ نہ لائیں تو اُن کو اسّی کوڑے مارو اور اُن کی گواہی پھر کبھی قبول نہ کرو اور یہی لوگ فاسق ہیں ، لیکن جو اِس کے بعد توبہ و اصلاح کر لیں تو اللہ (اُن کے لیے) غفورو رحیم ہے۔"
ان آیات کو اگر اعتراض کرنے والی اپنی انا سے بالاتر ہوکر پڑھیں تو اس میں کہیں عورتوں کو کمتر نہیں کہا گیا بلکہ انکو ایک ایسا مقام دیا ہے جہاں وہ روزگار کی فکر سے آزاد ہو کر اپنی گھرداری پر توجہ دے سکیں، اب یہ تو نہیں کیا جاسکتا کہ اپنے گھر کی ذمہ داریاں دوسرے درجے پر رکھی، ایک انسان پر پہلا حق اپنے گھر کا بنتا ہے۔۔!

2۔عورت کی تعلیم: کچھ تنگ نظر لوگوں کی باتوں میں آکر ملحد اسلام کو نشانہ بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے، حالانکہ اسلام میں عورتوں کی تعلیم پر اس دور میں زور دیا گیا جب عرب میں گنتی کے افراد ہی پڑھے لکھے تھے۔ ۔۔اسلام میں عورت کی تعلیم پر جتنا زور دیا گیا ہے اسکی روشن مثال اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کی زندگی سے ملتی ہے، جنکے بارے میں انکے ممتاز ترین شاگرد عروہ بن زبیر کا کہنا ہے کہ " میں نے تفسیر قرآن، فرائض، حلال و حرام، ادب و شعر، اور تاریخ عرب میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر کوئی عالم نہیں دیکھا"

چنانچہ آج حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے 2210 احادیث مروی ہیں اسکے علاوہ وہ طب اور ریاضی کے علوم کی بھی ماہر تھیں، یہ وہ روشن مثال ہے جو ثابت کرتی ہے کہ اسلام کے نظام میں عورت حدود میں رہ کر کیا نہیں کرسکتی۔۔! حضرت ابو موسی اشعری جو خود ایک جید عالم تھے، فرماتے ہیں " جب صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کو کسی معاملے کے بارے میں علم نہ ہوتا تو ہم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کرتے اور وہ ہماری رہنمائی کرتیں"
اسکے بعد بھی اگر کوئی مسلمانوں کی غلطیوں کو اسلام کی غلطی سمجھتا ہے تو صاحب گنجائش نکالنے میں ہمارا کون ثانی ہے؟؟

ہم تو مذہب میں سے ہی حرامکاریوں کی گنجائشیں نکالتے رہتے ہیں، جہاں عورت کو گھر میں قید کرنے انکے ساتھ زیادتی کرنے کی گنجائش اسلام سے نکالی جاتی ہے وہیں ہم بے پردگی حتی کہ سود جیسی لعنت کو بھی مذہب کے ستونوں کا سہارا دیتے نظر آتے ہیں، جہاں وہ غلط کر رہے ہیں وہاں آپ لوگ بھی انہیں معیار بنا کر غلطی کر رہے ہیں۔۔!!

3۔ خیر اب آتے ہیں ایک عورت کے نکاح اور گھریلو ذمے داریاں اٹھانے کی طرف . ملحد جب کسی گاؤں دیہات میں عورتوں کی زبردستی شادی ہوتے دیکھتے ہیں تو انکو لگتا ہے انکا یہ فعل عین اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہے، اس سلسلے میں ابن ماجہ سے ایک واقعہ کوٹ کرنا چاہوں گی:
"ایک نوجوان عورت رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ میرے والد نے میرا نکاح اپنے بھتیجے سے اسلیے کر دیا ہے کہ وہ اسکے ذریعے اپنی مالی تنگی دور کرے، نبی ا کرم صل اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اسے اختیار دیا کہ وہ چاہے تو اس نکاح کو باطل کر دے، تب اس عورت نے کہا میں نکاح کو باقی رکھتی ہوں، رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا اس طرح کرنے سے میری غرض یہ تھی کہ عورتوں کو بتا دوں کہ شریعت نے باپ کو بالغ لڑکی پر نکاح کے معاملے میں زبردستی کا حق نہیں دیا "..

اسلام نہ تو عورت کو مذہب کے نام پر رہبانیت کی طرف دھکیلتا ہے اور نہ ہی اسے کسی دیوی کے روپ میں اسکے حقوق کا استحصال کرتا ہے، بلکہ ایک انسان ہونے کے ناطے اسکو مکمل طور پر اپنی زندگی کے اہم فیصلے اپنی مرضی سے کرنے کا حق دیتا۔۔۔!! اسی طرح بعض لوگ قرآن سے مار پیٹ کی گنجائش بھی نکالتے ہیں حالانکہ یہ احکامات بدکردار عورت کے لئے ہیں، نہ کہ سالن میں نمک تیز ہونے پر، خود سوچیں رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم جن پر قرآن اترا انہوں نے اپنی گیارہ بیویوں میں سے کسی ایک پر بھی ہاتھ نہیں اٹھایا حالانکہ نوک جھونک ہر گھر میں ہوتی ہے، لیکن انہوں نے کوئی ایک مثال نہیں چھوڑی جہاں انہوں نے کسی پر ہاتھ اٹھایا ہو، حقوق کی تلفی کی ہو،جدید دور کے بھی کسی عالمی انسانی حقوق کی پامالی کی ہو ۔۔!

سورہ نسا میں ہے کہ " اسکے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی بسر کرو، اگر وہ تمہیں ناپسند ہو تو ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند نہ ہو مگر اللہ نے اس میں بہت کچھ بھلائی رکھ دی ہو"
اسی طرح رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ " تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنی بیوی کے حق میں بہتر ہو"
ایک اور جگہ بیوی کے حق کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر کسی عورت کو اسکا شوہر خرچہ نہ دیتا ہو تو اسکو حق ہے کہ اسکے خرچ میں سے اتنا حصہ لے جو اسکے اور اسکی اولاد کے لیے کافی ہو۔۔!

عورت روزگار کے لئے نوکری بھی کر سکتی ہےمگر اپنی حدود کا خیال رکھتے ہوئے، لیکن کیا کریں ہم گنجائشیں نکالنے والے لوگ ہر جگہ سے اپنے مطلب کی گنجائش نکالتے ہیں، یہ بات پس پشت ڈالتے ہوئے کہ آیا یہ ذریعہ معاش رب کی مرضی کے مطابق ہے یا نہیں؟؟ ان تمام باتوں کے بعد بھی اگر کسی کو لگتا ہے کہ اسلام میں عورت کی آزادی سلب کی جاتی ہے تو میں اسے معاشرے میں بگاڑ پیدا کرنے سے تعبیر کرونگی، جہاں ایک عورت کو آزادی کے نام پر نہ صرف گھر بلکہ کپڑوں سے بھی باہر نکالنے کی انتھک کوششیں کی جارہی ہیں۔۔!

وہی عورت گھر میں باپ، شوہر اولاد کی خدمت کرے تو قیدی لیکن آفس میں کسی باس کے ماتحت کام کرے تو آزاد؟ کہاں کا انصاف ہے یہ؟ باپ یا شوہر کس غلطی پر ڈانٹیں یا سمجھانا چاہیں تو آزادی چاہیے، ایک باس یا معاشرہ برسرعام بےعزت کرے تو آزادی؟؟ کیا اس آزادی کی قیمت محض وہ ماہانہ " تنخواہ" ہے جو وہ آزاد عورت وصول کر رہی ہے؟؟ یا وہ " واہ واہ" جو اسکو بےپردگی کی صورت میں غیر مردوں سے ملتی ہے؟ اس سب کا فائدہ کوئی بتائے گا مجھے؟؟ یا پھر اعتراف کہ یہ سب باتیں جو اسلام نے عورت کے لئے بتائی ہیں اسکے اپنے حق میں ہی بہتر ہیں؟؟

اپنی انا اور ضد سائیڈ پر رکھ کر سوچیے اور جواب تلاش کیجئے.. اسلام میں عورتوں کے حقوق کے حوالے سے کچھ ایسا نہیں جس پہ انگلیاں اٹھائی جا سکیں،اس ہستی پہ اعتراض کرنے سے پہلے سوچ لیجیے کہ آیا آپ کبھی اپنی بیٹی کے لئے کھڑے ہوئے ہیں جیسے وہ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنی فاطمہ الزہرہ کے لیے؟؟ کوئی ایک واقعہ بتائیے جہاں سرکار دو عالم صل اللہ علیہ و آلہ و سلم نے عورتوں پہ ظلم کرنے کا کہا ہو، ان کو مارا پیٹا ہو، قرآن سے شادی کرائی ہو، اسکو کسی جرگے کے فیصلے کے مطابق کسی پر بیچا ہو، کسی بھائی کی زیادتی کے نتیجے میں اسکی بہن کو قربان کیا ہو؟؟؟ ہے کوئی جواب ان باتوں کا؟؟
اعتراض کرنا سب سے آسان کام ہے لیکن اس انسان کی جگہ خود کو رکھ کر اسکے حالات سمجھنا تقریباً ناممکن اسلیے اپنے فتووں کی پٹاری کھولنے سے پہلے زمینی حقائق کا مطالعہ کیجیے ، یہ سب سمجھنا اتنا مشکل نہیں لیکن کوئی سمجھنا چاہے تو۔۔۔۔!
خواہش کا نام عشق، نمائش کا نام حسن
اہل حوس نے دونوں کی مٹی خراب کی

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • سرمایہ دارانہ نظام اور شادی
    سرمایہ دارانہ نظام کو شادی کی ضرورت نہیں ہے۔ شادی سے معاشرہ میل جول کی طرف جاتا ہے جس سے صارف یا کنزیومر کم ہو جاتے ہیں۔ ایک شادی شدہ جوڑا مارکیٹ پر کم انحصار کرتا ہے گھر میں جتنا زیادہ کھانا بنے گا اس سے ریستوان اور ہوٹل کم چلیں گے اور میڈیکل کا بل بھی کم ہو جائے گا۔ کیونکہ بازار کی خوراک کاروباری نقطہ نظر سے تیار کی جاتی ہے صحت کے حساب سے نہیں۔ گھر کی تیار شدہ خوراک دوائی کا کام بھی کرتی ہے۔ شادی کی وجہ سے سرمایہ دارانہ نظام کو نہ صرف صارف یا کنزیومر کم ملتے ہیں بلکہ ورکر کم ہونے کا خطرہ بھی ہوتا ہے کیونکہ عورت کو شادی کے بعد معاشی سکون حاصل ہوتا ہے۔ مگر شادی کی وجہ سے عورت میں اس چیز کا احساس محرومی بھی پیدا ہوتا ہے کہ وہ خاوند کے برابر قوت خرید نہیں رکھتی۔ یہ احساس تو عورت کے جنم لینے کے ساتھ ہی جنم لیتا ہے جب معاشرے میں اسے مرد کے برابر مساوی جائیداد اور تعلیم کے مواقع نہیں ملتے۔ مگر دو آتشہ اس وقت ہوتا ہے جب اسے شادی کے بعد ایک home-maker کا ناگزیر کردار تو نبھانا ہوتا ہے جو پہلے سے موجود یا ممکنہ منافع بخش جاب کی قربانی مانگتا ہے۔ اپنے ہی ساتھ کی خواتین کا کیرئیر وومن ہونا ایک آزمائش کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ مغرب کی جو تصورات ہمارے اندر سرائیت کر چکے ان کے نتیجے میں عورت بھی self actualization یا خود اظہاری چاہتی ہے جو کہ گھر اور بچے اسے نہیں دے پاتے۔ یہ احساس ایک خاموش بغاوت کی شکل میں معاشرے کو کھوکھلا کرتا جا رہا ہے۔ گاڑی کے دو پہیے اگر مخالف سمت چل پڑیں تو رگڑ اور کشاکش ہی پیدا ہو گی۔ اس کے دو ممکن حل ہو سکتے ہیں پہلی جب کہ عورت گھر سے باہر نکل کر جاب کرے یا کوئی کاروبار کرے اور دوسری کہ بیگم اپنا تمام وقت خانہ داری کے امور میں استعمال کرے۔ پہلی صورت میں معاشرے کا فرض ہے کہ عورتوں کو لچکدار یا flexi-hours کی سہولت فراہم کرے اور ان کی اجرتیں مردوں سے زیادہ ہوں۔ اگر ایک بیوی یہ انتخاب کرے کہ وہ خاتون خانہ رہ کر بچوں اور خاوند کی دیکھ بھال کرے گی تو خاوند کی کمائی میں سے اس کا ایک نمایاں متعین حصہ ہونا چاہیے۔ معاشرہ نہ صرف ترقی کرے گا بلکہ فلاح بھی پا جائے گا۔
    ڈاکٹر عمر اقبال بھٹی