سیکولر تخریب کاری - حماد احمد

کہتے ہیں جب ناک میں تنکے مارو تو چھینک آ ہی جاتی ہے ہمارے سیکولر احباب جو میڈیا کی نظر میں ترقی پسند بھی ہیں کم از کم پاکستان کی حد تک تو صرف یہی کر رہے ہیں کہ کسی طرح قوم مسائل میں ہی الجھی رہے . مجھے اچھی طرح یاد ہے ایک دوست کے ساتھ مذہبی سیاست پہ بات ہو رہی تھی تو بیچ گفتگو کہ انہوں نے فرمایا کہ آپ جو بھی کہو لیکن ھود بھائے جیسے دلائل مذہبی گفتگو میں کوئی نہیں لا سکتا . ان کو دینی مسائل پر کافی عبور حاصل ہے . میرے پاس انگلیاں منہ میں دینے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہ تھا.
اصل میں افسوس تب ہوتا ہے جب فساد کا باعث ہمارے اساتذہ بنتے ہیں حالانکہ ان کی ذمہ داری ہوتی کہ نئی نسل کو نئی ترقی پسند اور روشن خیال ذہن فراہم کرے ان کی اخلاقی تربیت کرے ان کو آزاری اظہار رائے اور آزادی اظہار رائے میں فرق سکھائے . مگر پاکستان کی حد تک یہ دیوانے کے خواب ہی ہیں .پرویزھود بھائے جو جانے پہچانے استاد ہیں اور سائینس کیلئے کم از کم اتنے خدمات تو ہیں کہ ایک دو انگریزی کتابوں کا اردو میں ترجمہ کیا ہے .

حضرت ھود بھائے سائنس پہ کم مذہب پہ زیادہ بات کرتے دکھائی دیتے ہیں اور انہی صاحب کا ہمیشہ شکوہ بھی یہی ہوتا کہ ترقی نہ ہونے کی بڑی وجہ مذہب کا سائنس کی ٹانگیں کھینچنا ہے . مگر افسوس جب فزکس کا پروفیسر اپنی پوری کلاس میں طلبہ کو داڑھی و حجاب کی تاریخ بتاتا ہو وہاں ترقی تو دور اگر انسان پتھر کے دور میں نہ رہ رہا ہو تو یہ بھی خالق کی کوئی خاص مہربانی ہوسکتی ہے۔
موضوع پہ آتے ہیں . یہ جو احتجاجی مظاہرے میں پرویز ھود بائے نے کہا کہ یہ لوگ ہمیں چودہ سو سال پیچھے لے جانا چاہتے ہیں اس کی وضاحت پرویز صاحب کو دینی چاہئے .کیا مطلب ہے ان کا اس بات سے ؟ ایسی سیکولر تخریب کاری نہیں چل سکتی کہ کوئی بھی للو پنجو پروفیسر اٹھ کر منہ سے جراثیم پھینکتا رہے اور قوم خاموشی سے نظارہ دیکھے۔

یہ سیدھا سیدھا تخریب کاری و فساد کی کوشش ہے . پرویز ھود بائے اس کی وضاحت پیش کرے اور آئندہ احتیاط کرے کیونکہ یہی رویہ تخریب کا باعث بنتا ہے
ان جیسوں نے ہمیشہ ناک میں تنکے مارنے کی کوششیں کیں ہیں شاید یہ ہمیشہ خواہشمند رہے ہیں اس بات کے کہ ملک میں ہر وقت کوئی نا کوئی ٹینشن موجود رہے
پرویز صاب اچھی طرح جانتے ہیں کہ چودہ سو سال پہلے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت تھی .

وہ ایک ایسی مثالی حکومت تھی کہ خود پرویز صاب کے ائمہ بھی اس کا اقرار کرچکے ہیں .لہذا اس پر طنز یا کسی بھی اور نیت سے یا پھر کم علمی کی وجہ سے غلط بیانیاں درست نہیں . پرویز ھود صاب ایک استاد ہیں اور استاد کے لباس کو داغدار کرنے کی کوشش نہ کریں لوگوں کو اگر سچ بتانے سے معذور ہیں تو کم از کم گمراہ نہ کریں .اگر چودہ سو سال پہلے کی حکومت اسلامیہ پر ھود کو کوئی اعتراض ہے تو سامنے آ کر اس پر بات کرے کچھ خود بولے کچھ دوسرے کی سنے
مظاہروں میں اس طرح کے جملے استعمال کرنا نری جہالت اور قوم کو گمراہ کرنے کی کوشش کے علاوہ کچھ نہیں۔