پردہ - گل رانا

آپ پردہ کرتی ہیں یا نہیں کرتیں.یہ آپکا اپنا عمل ہے. سوال یہ ہے کیا آپ پردے کو ٹھیک سمجھتی ہیں؟ یا اس کے خلاف دلیل دے کر اپنے آپکو ٹھیک ثابت کرنے کی کوشش کرتیں ہیں؟؟؟؟ آئیے ایک نظر ڈالتے ہیں ان سوالوں پہ ؟؟ میں واضح کر دوں کہ میں شرعی پردہ نہیں کرتی . شاید میرا دل ایمان سے اتنا پختہ نہیں ہے یا میں بہادر نہیں ہوں...میں نہیں جانتی.اللہ مجھے توفیق دے .آمین.( وضاحت اسلیے کہ کل کو مجھے کوئی یہ نہ کہے کہ آپ کا عمل آپ کی بات کے الٹ ہے) پر ہاں میں پردہ کرتی ہوں.
پردے کی کئی قسمیں ہوتیں ہیں. شرعی پردہ. اگر آپ شرعی پردہ کرتیں ہیں تو یقین کریں آپ بہت خوش قسمت ہیں.بالکل سیپ میں بند اس موتی کی طرح ....جو قسمت والے ہی پاتے ہیں. آپ کو پتا ہے کہ ہم جو بھی کام کرتے ہیں.اس میں بس ہمارا کمال نہیں ہوتا.بلکہ ہمارے ساتھ ہر وقت ہمارا خدا ہم پہ فضل کیے ہوئے ہوتا ہے. خدا نے آپ کو چنا.آپ نے اس کے حکم پہ عمل کیا. .آپ کو مبارک ہو.

عام پردہ: یہ پردے کی وہ قسم ہوتی ہے جس میں ہمارے گھر کے مرد شامل نہیں ہوتے.جیسا کہ کزنز،خالو، پھوپھا وغیرہ. ان کے علاوہ باہر کے ہر بندے سے ہمارا پردہ ہوتا ہے. اور بعض گھرانوں میں یہ بھی نہیں ہوتا.ہر کوئی اپنی سوچ اور ماحول کے مطابق زندگی گزارتا ہے. اب یہاں ایک بات سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ اکثر ایسی لڑکیوں کو فورا کہا جاتا ہے کہ تم گناہ گار ہو.

ایک منٹ کو رکیے.زرا غور سے سوچیے کہ ہم جہاں پیدا ہوتے ہیں ہماری پرورش اسی ماحول کے مطابق ہوتی ہے.ہمارا طریقہ کار ،ہماری سوچ کا انداز بالکل ویسے ہوتا ہے جیسے ہمارے گھر والوں کا.. بالکل اسی طرح وہ لوگ جو دین سے دور ہیں ان میں انکا قصور نہیں بلکہ اس ماحول کا ہے جو انہیں ملا ہے.
ایسے میں کیا کرنا چاہیے؟؟؟

یہ بھی پڑھیں:   دور حاضر کا حجاب، پردہ یا فیشن - طوبی صدیقی

میری رائے کے مطابق کہ جیسے جیسے ہم بڑے ہوتے ہیں ہم جہاں اپنے متعلق اتنا کچھ سوچتے ہیں وہاں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ ہمارا مذہب اصل میں ہمیں کیا سکھاتا ہے؟ کیا کہتا ہے؟ یہاِں پھر آپ کے ذہن میں یہ سوال ہو گا کہ اتنے مسلک ہیں ہر ایک کی الگ باتیں؟ ہم کسے ٹھیک سمجھیں. دیکھیں ہر چیز کو ذہن سے نکال دیجئے.. قران پاک سیکھیے، سمجھیے. جب آپ صاف نیت سے یہ کام کریں گیں خدا آپکو صحیح راستہ ضرور دکھائے گا.اپنی زندگی کے تمام مسائل انکے شرعی حکم سے آگاہ رہیے. آپ انسان ہیں آپ سے گناہ بھی ہوں گیں اور توبہ بھی. اس میں بس آپ کے اختیار اور بے اختیاری کی بات ہے.لیکن سب سے اہم بات احساس کا ہونا ہے.جب آپ گناہ بے اختیاری میں کرتے ہیں اور آپکو احساس ہوتا ہے تو فورا توبہ کیجئے. آپکا دل مطمئن ہو جائے تو سمجھیے خدا نے آپکو معاف کر دیا.اب بچیے..اور گناہ کو چھوڑنے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ آپ ان چیزوں سے دور رہیے جو آپ کو گناہ کی طرف لاتی ہیں.آپ کو فائدہ ہو گا. خیر بات کہاں سے کہاں نکل گئی .

ہاں تو صاف لفظوں میں اتنا کہوں گی کہ پردہ ایک مسلمان عورت پہ فرض ہے. آپ کرتیں ہیں یا نہیں اس میں آپکی کوتاہی آپکا عمل آپکی سزا . آپ یہ نہیں کہہ سکتیں کہ پردہ دل کا ہوتا ہے. یا حیا تو آنکھوں میں ہوتی ہے چہرہ چھپانے سے کیا ہوتا ہے. دوسری بات دنیا میں کوئی بھی چیز حقیر نہیں ہوتی. ہر کوئی اپنے اپنے لیول پہ خود کو ٹھیک سمجھ رہا ہوتا ہے.آپ کو اس کے اور اپنے لیول کے فرق کو سمجھ کر اسے سمجھانے.کی ضرورت ہوتی ہے. اور آخری بات کہ آپ کسی کو حقارت سے نہیں سمجھا سکتے. آپ کے سمجھنے اور سمجھانے کے لیے ایک دوسرے کی عزت و احترام کرنا بہت ضروری ہے. اللہ تعالی ہم سب کو ہدایت دیں. آمین.

ٹیگز