عقیدہ اور عقیدت اور شکر گڑھ- ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

شکر گڑھ نارروال سے سب سے پہلے معروف شاعر ادیب نے مجھے فون کیا۔ وہ شکر گڑھ سے نوائے وقت کا نمائندہ بھی ہے۔ مجھ سے بہت پہلے میرے بیٹے نے پوچھا تھا کہ شکرگڑھ میں شکر بہت ہوتی ہے۔ ہم ہمیشہ چائے وغیرہ میں چینی کی بجائے شکر ڈالتے ہیں۔ چکڑالہ، میانوالی میں تصوف کے حوالے سے اپنے بزرگ مولانا اللہ یار خان کے گھر میں ایک دفعہ بہت منفرد اور اعلیٰ ذائقے والی چائے پی تو پوچھا کہ یہ کیا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ ہم چائے میں شکر ڈالتے ہیں تو بچوں کا خیال تھا کہ شکر گڑھ میں شکر بہت ہوتی ہے۔ چینی کا رنگ سفید ہوتا ہے اور شکر کا بھی رنگ بہت اچھا اور رومانٹک ہوتا ہے۔

ندیم اختر ندیم دوست آدمی ہے اور نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ میرے پاس لاہور میں کئی خواتین و حضرات کو بھیجا جن کے ادبی وشعری ذوق و شوق کی سرپرستی کے لئے میں نے بھی اعزاز محسوس کیا۔ میں نئے لوگوں کے لئے ہمیشہ دل کھول کے رکھتا ہوں۔ جن میں سے کئی ادبی رونقوں میں کھو جاتے ہیں۔ آج کے نوائے وقت کے آخری رنگین صفحے پر شکر گڑھ کے کئی لکھنے والوں کو پڑھ کر خوشی ہوئی۔ ایک دور آباد گائوں کی رہنے والی ایک محترم خاتون رفعت راجپار بھی شامل ہے۔

جس نے بڑی جرات مندی سے شکر گڑھ کی ایک علمی شخصیت ڈاکٹر حافظ شبیراحمد کے لئے صدارتی ایوارڈ کا مطالبہ کیا ہے۔ وہ آج کل واشنگٹن (امریکہ) میں مقیم ہیں۔ ان کی تحریر بہت خوبصورت ہے۔ وہ کہتی ہے کہ میرا ضمیر شکر گڑھ کی سوندھی مٹی سے اٹھا ہے۔ اس نے ندیم صاحب کا شکریہ ادا کیا ہے جو شکر گڑھ کا نام روشن کر رہے ہیں۔ وہ تعلیمی ماحول میں شکر گڑھ سے بہت لوگوں کو آگے لے کر آئے ہیں۔

ندیم اختر ندیم کا شعری مجموعہ ’’پہلی بھول‘‘ زیر طبع ہے ندیم کی رہنمائی میں کئی خواتین و حضرات کے شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ یہ حال سارے دل والے شاعروں کا ہوتا ہے کہ وہ دوستوں اور دوسروں کے لئے قربانیاں دیتے ہیں۔ جن میں تخلیقی قربانیاں بھی شامل ہوتی ہیں اور پھر بہت زندہ شاعری پڑھنے کو ملتی ہے۔ اس کے پہلے نثری مجموعے کا فلیپ میں نے لکھا ہے۔ ندیم کے شعری مجموعے کا نام ’’پہلی بھول‘‘ مجھے پسند آیا ہے۔ آخری بھول بھی پہلی بھول ہی ہوتی ہے۔

واشنگٹن میں مقیم ادیبہ شاعرہ رفعت راجپار ندیم صاحب کی ماموں زاد بہن ہے وہ لکھتی رہیں تو شکر گڑھ کی نمائندگی ہو گی اور ایک اچھی لکھنے والی سامنے آئے گی۔ رفعت کا ایک اچھا جملہ حاضر ہے۔ ’’میرے ملک پاکستان کے حالات جیسے بھی ہوں۔ لیکن معاملات ٹھیک رہی رہتے ہیں۔ ’’ندیم جذبے والا آدمی ہے۔ رفعت راجپار اسے امریکہ بلائے۔ ندیم کئی ملکوں میں جا چکا ہے۔ ندیم کی طرح بہت معروف شاعرہ انمول گوہر کے پنجابی شعری مجموعے کا نام ’’عشق اسمانی اہلنا ،، ہے
ایک دور آباد علاقے کے لئے ندیم کی سوچیں اور خواہشیں بہت قابل ذکر اور شاندار ہیں۔ اس کی غزل کے چند اشعار ملاحظہ ہوں۔

بہت نازک مگر سیمی بدن ہے

کہ محبوبہ میری شیریں سخن ہے

یہی کافی ہے اس بت کا حوالہ

اسے تو شاعری سے بھی لگن ہے

مزا لیتا ہوں اس کی خفگیوں سے

بھلی اک ایک ماتھے کی شکن ہے

بہت نامور شاعر اور ادبی شخصیت افتخار عارف نے لکھا ہے ’’ندیم اختر ندیم کی شاعری کھلتے ہوئے پھول کی طرح ہے۔ اس شاعری کو چاہا اور سراہا جانا چاہئے۔،،
شاعری کی مزاحیہ صورتحال میں کمال حاصل کرنے والے ڈاکٹر انعام الحق جاوید لکھتے ہیں۔ ’’لوگ ایک بار ندیم ہوتے ہیں۔
ندیم اختر ندیم دو بار ندیم ہیں۔ شکر گڑھ سے ندیم کے جذبوں کی خوشبو آتی ہے وہ تازہ دم شاعر ہے۔،،

دور آباد علاقوں میں شعر و ادب کا چراغ روشن رکھنا بہت بڑی بات ہے۔ اس کے لئے میں ندیم اختر ندیم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ میں ایک بار شکر گڑھ گیا تھا۔ پاک سرحد پربھی گیا۔ وہاں اپنے شیر جوانوں سے ملا اور بھارتی سرحد پر سپاہیوں کو دیکھا ایک واضح فرق مجھے نظر آیا۔
پھر میں بابا گرونانک کے مزار پر بھی گیا۔ وہاں ایک ہی بڑے آدمی کی دو قبریں تھیں۔ سمادھی اور قبر، میں دونوں جگہوں پر حاضر ہوا
فاتحہ پڑھی اور پھول چڑھائے آج تک بابا گرونانک کے لئے لوگ غلط فہمیوں میں مبتلا ہیں کہ ان کا عقیدہ کیا تھا۔ ہمیں قرآن کے ساتھ عقیدت ہے۔