گڈ گورننس کیلئے پولیس کی ’’خودمختاری‘‘ کی اہمیت؟ نصرت جاوید

مڈل کلاس کے پڑھے لکھے لوگوں کی اکثریت نے اپنے ذہنوں میں ’’گڈگورننس‘‘ کے چند معیار طے کررکھے ہیں۔ پولیس کی ’’خودمختاری‘‘ اس ضمن میں اہم ترین شمار ہوتی ہے۔ ہمیں یقین کی حد تک گماں ہے کہ پولیس میں ’’سیاسی مداخلت‘‘ ختم ہوجائے تو امنِ عامہ سے جڑے تمام مسائل بتدریج ختم ہونا شروع ہوجائیں گے۔

اپنے معاشرے کی خامیوں پر مسلسل کڑھتا میرا دل بھی اس سوچ کا شدت سے حامی رہاہے۔ صحافتی کیرئیر کے آغاز میں ’’کرائم‘‘ میری چاربرس تک Beatرہی۔ عملی زندگی میں اور بھی بہت کچھ دیکھنے کو ملا۔بے تحاشہ واقعات کاعینی شاہد ہوتے ہوئے پولیس کی ’’خودمختاری‘‘ پر سوال اٹھانے کو مجبور ہوجاتا ہوں۔

’’خودمختاری‘‘ کے اصول پر ،مثال کے طورپر،سختی سے کاربند رہا جاتا تو حال ہی میں ساہی وال میں ہوئے واقعہ پر سوالات اٹھانے کی گنجاش ہی نہ رہتی۔ اس واقعہ کے بعد سرکاری طورپر جو پریس ریلیز جاری ہوئی اس پر اعتبار کرلیا جاتا۔ چند Citizen Journalistsنے جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس واقعہ سے متعلق کئی وڈیوز کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کردیا۔ ان کی جی داری کی بدولت مجھ ایسے صحافی مذکورہ واقعہ کو ’’سانحہ‘‘ بنانے کے قابل ہوئے۔ ہماری سیاپا فروشی مگر اس سانحہ سے متعلق اُٹھے بنیادی سوالات کے ابھی تک جوابات حاصل نہیں کرپائی ہے۔ تقریباََ رات گئی،بات گئی ہوچکا ہے۔

ساہی وال سے قبل رائو انوار نامی ایک پولیس افسر کے بھی بہت چرچے رہے۔ ان کے ’’کارناموں‘‘ کی بدولت نوجوانوں کی ایک تحریک کو توانا ہونے میں مدد ملی۔افسرِمذکورہ مگر اب بھی کڑے احتساب سے محفوظ نظر آرہے ہوں۔

اس ہفتے کے آغاز میں کراچی ہی میں دن دھاڑے بھرے مجمعہ میں ایک فرد کا قتل ہوا ہے۔ گولیوں سے چھلنی ہوا مقتول سڑک کنارے تڑپتارہا۔ اسے بروقت ہسپتال نہ پہنچایا جاسکا۔پولیس موقع پر پہنچ جانے کے باوجود تماشائی بنی رہی۔ وہاں موجود ہجوم بھی پیش قدمی نہ لے سکا۔زیادہ تر لوگ اپنے موبائل فونوں سے وڈیوز بناتے رہے۔

وڈیوز کا ذکر چلاہے تو اکثر یہ خیال بھی دل کو گھبرانا شروع ہوگیا ہے کہ خدانخواستہ میرے ساتھ کوئی ’’انہونی‘‘ہوجائے تو موقع پر موجود افراد میری جان بچانے کے لئے SOSقدم اٹھانے کے بجائے وڈیوز بنانا شروع ہوجائیں گے۔ٹی وی اینکروں کی طرح" "Citizen Journalistsکو بھی شاید Click and Baitوالی Ratingsدرکار ہیں۔بنیادی مقصد شاید کسی وڈیو کو ’’وائرل‘‘ بنانا ہی رہ گیا ہے۔

صاف دِکھتی سفاکی کو مگر یہ سوچ کر بھی نظرانداز کرنے کو مجبور ہوجاتا ہوں کہ ’’وائرل‘‘ ہوئی وڈیوز کی بدولت ہی ہمیں ساہی وال میں ہوئے واقعہ کو ’’سانحہ‘‘ بنانے میں مدد ملی۔منطق کے استعمال سے ’’وڈیوصحافت‘‘ کے Goodاور Badپہلوئوں کو الگ کرتے ہوئے دل کو تسلی دینے کی کوشش کرتا ہوں۔

دوبارہ کہے دیتا ہوں کہ ذاتی طورپر ایک عام مڈل کلاس شہری ہوتے ہوئے میں پولیس کی ’’خودمختاری‘‘ کا اصولی طور پر شدید حامی ہوں۔اس تصور کے ساتھ میری سوچ میں شدت سندھ کے ایک سابق وزیر اعلیٰ جام صادق علی کے انداز حکمرانی کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے آئی۔

جام صاحب جب 1980کی دہائی میں لندن میں مقیم تھے تو ان سے تعلقات کا سلسلہ شروع ہوا۔ مجھے وہ ایک افسانوی کردار کی صورت محسوس ہوتے تھے۔ ان کی صحبت میں میرا مشاہدہ اس غرض سے بہت تیز ہوجاتا کہ اگر کبھی ملکی سیاست کو ناول کی صورت لکھنے کا موقع ملا تو میرے بہت کام آئے گا۔ناول لکھنا تو نصیب نہیں ہوپایا اور اب امید بھی نہیں رہی۔ جام صاحب کے ساتھ ذاتی تعلق ان کے انتقال تک مگربہت گہرارہا۔

مرحوم جب بھی بحیثیت وزیر اعلیٰ سندھ 1990کے آغاز میں اسلام آباد تشریف لاتے تو سرکاری مصروفیات سے فارغ ہوکر رات گئے مجھے فون کرکے اپنے ہاں طلب کرلیتے۔ بیڈ روم میں اپنے بستر پر لیٹے ہوئے میرے خیالات کرید تے رہتے۔ وہ کم خوابی کا شکار تھے۔ بہت مشکل سے نیند کے قریب پہنچتے توسونے سے قبل اپنے سٹاف کے ذریعے سندھ کی تقریباََ تمام ڈسٹرکس میں تعینات ڈی ایس پیزکے ساتھ براہِ راست فون کے ذریعے ’’تازہ ترین‘‘ معلوم کرتے۔میں اکثر جھنجلا کر انہیں یاد دلاتا کہ ایک صوبے کے ’’چیف ایگزیکٹو‘‘ کو کئی دہائیوں سے بندھی ٹکی Chain of Commandسے ماورا ہوکر ڈی ایس پی سے براہِ راست بات کرنے کی ضرورت نہیں۔

مرحوم جام صادق میری جھنجھلاہٹ سے ڈھیٹ بنے لطف اندوز ہوتے اور بالآخر یہ کہہ کر سونے کے لئے کروٹ بدل لیتے کہ ’’مجھے اپنا صوبہ چلانا ہے۔تمہاری طر ح اخباروں کے لئے شاعری نہیں لکھنا ہوتی‘‘۔ 1993میں پنجاب کا گورنر مقرر ہونے کے بعد چودھری الطاف حسین مرحوم کا بھی اپنے صوبے میں تعینات پولیس افسروں کے ساتھ ایسا ہی رویہ تھا۔ اس رویے نے راولپنڈی کی لال حویلی سے اُٹھے بقراطِ عصر کو ’’سبق‘‘سکھانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

’’سیاسی مداخلت‘‘ کی یہ دو انتہائیں دیکھنے کے بعد میں پولیس کی ’’خودمختاری‘‘ کا مزید شدت سے قائل ہوگیا۔بتدریج مگر کنفیوژ ہوچکا ہوں۔ ’’خودمختاری‘‘ کے سبب نصیب ہوئے رائوانوار اور سانحہ ساہی وال کی بدولت۔

کراچی میں حال ہی میں برسر عام جو قتل ہوا ہے اس نے میرے ذہن کو مزید الجھن میں ڈال دیا ہے۔ اس واقعہ کے بعد سندھ میں ’’سول سوسائٹی‘‘‘ متحرک ہوگئی۔ اس تحریک میں بدقسمتی سے کچھ حلقوں نے لسانی اور نسلی تعصب کو بڑھاوادینے کی بھی کوشش کی۔یہ تاثر پھیلانے کی کوشش ہوئی کہ جیسے ’’اُردو میڈیا‘‘ کے لئے کام کرنے والے کراچی میں ہوئے قتل سے لاتعلق ہیں۔

میرے لئے اس ضمن میں اہم ترین بات مگر سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کی وہ تقریر تھی جو انہوں نے صوبائی اسمبلی میں کھڑے ہوکر فرمائی۔آبادی کے اعتبار سے پاکستان کے دوسرے بڑے مگر اقتصادی اعتبار سے اہم ترین صوبے کا آئینی طورپر ’’چیف ایگزیکٹو‘‘ ٹھہرایا وزیر اعلیٰ اس تقریرمیں پولیس کی ’’خودختاری‘‘ کے سامنے قطعاََ بے بس نظر آیا۔ اپنی ’’ بے بسی‘‘ کا تقابل مراد علی شاہ نے پنجاب اور خیبرپختونخواہ کے وزرائے اعلیٰ سے کیا جو جب چاہیں اپنے صوبے کے آئی جی کو بدلنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ یہ سہولت مگر سندھ کے وزیر اعلیٰ کو میسر ہوئی نظر نہیں آرہی۔

ایک خاص تناظر میں سندھ کے وزیر اعلیٰ کی داد فریاد شاید حق بجانب ہوگی۔ یہ فریاد مگر سیاسی پوائنٹ سکورنگ بھی ہے۔اصل بات جو انہوں نے خود کہی Oversightکا ایک ایسا نظام قائم رکھنا ہے جو پولیس کی ’’خودمختاری‘‘ کو زک پہنچائے بغیر سانحہ ساہی وال جیسے واقعات کو ٹھوس انداز میں روکنے کی راہ دکھائے۔اس میکنزم کی تشکیل کے لئے بہت سوچ بچار اور بحث مباحثے کے بعد قانون سازی کی ضرورت ہے۔ اس پہلو کی جانب مگر میڈیا اور سیاست دان توجہ ہی نہیں دے رہے۔ ’’ڈیل اور ڈھیل‘‘ کی تکرار جاری ہے اور انتظار ہورہا ہے کہ مارچ کے اختتام تک کتنی ’’صفائی‘‘ ہوجائے گی۔