Social Non Movements- خورشید ندیم

کیا پاکستانی معاشرہ ایک بے چہرہ سماجی تبدیلی کے دھانے پر کھڑا ہے؟
تبدیلی کے اس عمل کے لیے انگریزی میں 'سوشل نان موومنٹس‘ (Social Non Movements) کی اصطلاح رائج ہے جو غالباً سب سے پہلے سماجیات کے ایرانی نژاد امریکی عالم، آصف بیات نے استعمال کی تھی۔ مسلم دنیا میں اٹھنے والی سیاسی اور سماجی تحریکیں ان کی تحقیق کا خصوصی موضوع ہیں۔ ان تحریکوں پر انہوں نے کتابیں لکھیں اور مضامین بھی۔ آصف بیات نے اُن نئے رجحانات کو بھی سمجھا‘ جو غیر منظم ہیں لیکن مسلم معاشرے میں فروغ پزیر ہیں۔ پاکستان میں برادرم ڈاکٹر حسن الامین نے سوشل نان موومنٹس پر وقیع کام کیا ہے‘ جو کتابی صورت میں بھی سامنے آنے والا ہے۔

'سوشل نان موومنٹس‘ کا ترجمہ 'غیر منظم سماجی تحریکیں‘ کیا جا سکتا ہے۔ یقیناً اس سے بہتر ترجمہ ممکن ہے لیکن اِس وقت مجھے زیادہ دلچسپی اُس سماجی عمل سے ہے جس کے لیے یہ اصطلاح اختیار کی گئی ہے۔ میر ی مراد گوہر ہے، صدف نہیں۔ بات آگے بڑھانے کے لیے ضروری ہے کہ یہ تصور واضح کیا جائے۔
اکثر لوگ سوچتے ہیں لیکن یہ لازم نہیں کہ اس کا ابلاغ بھی کرتے ہوں۔ بعض سوچتے ہیں لیکن ابلاغ کی ضرورت نہیں سمجھتے۔ انہیں اس سے زیادہ دلچسپی نہیں ہوتی کہ ان کی سوچ کوئی تحریک بن جائے۔ سوچ پیدا ہونے کے محرکات ایک سے زیادہ ہوتے ہیں۔ کچھ اعلیٰ ذہن ہوتے ہیں جو سماج کو گہرائی میں سمجھنا چاہتے ہیں۔ کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو زندگی کے تجربات سے سیکھتے اور پھر سوچنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

اس طرح کے بہت سے لوگ معاشرے میں بکھرے ہوتے ہیں۔ بعض اوقات کوئی ایک بڑا واقعہ یا ایک کیفیت کا تسلسل انہیں غیر شعوری طور پر جمع کر دیتا ہے۔ یوں سماج بطور نتیجہ کسی بڑی تبدیلی سے دوچار ہو جاتا ہے۔ ایسی 'تحریکوں‘ کا کوئی لیڈر نہیں ہوتا۔
ایسی نان موومنٹس تاریخ کے ہر دور میں رہی ہیں۔ دورِ جدید میں ابلاغ کی دنیا میں آنے والے غیر معمولی انقلاب نے انہیں منظم ہونے میں بہت مدد دی ہے۔ 2009ء میں ایران کی 'جنبشِ سبز‘ (Green Movement) تحریک کو ایک ایسی ہی نان موومنٹ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ 'عرب بہار‘ (Arab Spring) بھی اسی طرح منظم ہوئی کہ ایک واقعے نے اُن لوگوں کو جمع کر دیا جو یکساں تجربات کے باعث، ہم خیال لیکن ایک دوسرے سے بے نیاز تھے۔

دکھوں کا اشتراک بھی لوگوں کو یکجا کر دیتا ہے۔ قدیم دور میں شاعر عندلیب سے مل کر آہ و زاری کرتے تھے۔ آج کل سوشل میڈیا کی مدد سے لوگ ایک دوسرے کے گلے مل کر روتے ہیں۔ایک معاشرے میں نان موومنٹس کب اٹھتی ہیں؟ جب ریاست، سیاسی جماعتیں اور سماجی تنظیمیں عوام کے حقیقی مسائل کا ادراک اور نمائندگی نہیں کر پاتیں تو پھر جگہ جگہ پیدا ہونے والا اضطراب لوگوں کو مجتمع کر دیتا ہے۔ بعض اوقات یہ اضطراب پورے نظام کو عدم استحکام میں مبتلا کر دیتا ہے جیسے 'عرب بہار‘ (Arab Spring) نے پورے مشرقِ وسطیٰ کو مضطرب کر دیا تھا۔ جہاں ریاست کا ہاتھ عوام کی نبض پر ہو یا سیاسی جماعتیں اور سماجی تنظیمیں عوامی امنگوں کی ترجمانی کر رہی ہوں، وہاں ایسی تحریکیں نہیں اٹھتیں اور اگر کوئی اٹھانے کی کوشش بھی کرے تو ناکام رہتا ہے۔

کیا پاکستان میں بھی ایسا فضا بن چکی‘ جس میں نان موومنٹس اٹھ سکتی ہیں؟ کیا پاکستان کی ریاست، سیاسی جماعتیں اور سول سوسائٹی عوام کی نمائندگی کرنے میں ناکام ہو چکے؟ کیا میڈیا کو وہ آزادی میسر نہیں جو عوام کی ترجمانی کے لیے ناگزیر ہے؟ یہ سوال ہم سب کو سنجیدہ غور و فکر کی دعوت دے رہے ہیں۔ سوشل میڈیا جس طرح رائے عامہ پر اثر انداز ہو رہا ہے، اس نے معاملے کو سنگین بنا دیا ہے۔
میرے نزدیک ان سوالات کے جواب اثبات میں ہیں۔ ریاست کو پوری طرح اندازہ نہیں کہ ملک کے مختلف حصوں میں کیسے کیسے رجحانات جنم لے رہے ہیں اور کیوں؟ ریاست آج بھی یہ خیال کرتی ہے کہ طاقت سے ہر مسئلہ حل کیا جا سکتا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ریاست اسی وقت طاقت کا استعمال کر سکتی ہے جب عوام اس کی پشت پر ہوں اور کسی گروہ نے بندوق اٹھا لی ہو۔

اگر کوئی گروہ غیر مسلح ہو تو اس کے خلاف طاقت استعمال نہیں کی جا سکتی۔ ریاست جس دن کسی پرامن فرد یا گروہ کے خلاف اقدام کرتی ہے، اسی روز اسے مظلوم بنا دیتی ہے۔ ایسے لوگوں کو، خاموش یا اعلانیہ، عوام کی تائید حاصل ہو جاتی ہے جو ریاست کے لیے نیک شگون نہیں ہوتی۔کچھ دن پہلے لاہور، کراچی، بلوچستان اور چند دوسرے شہروں میں بعض غیر منظم افراد جمع ہوئے تھے۔ سوشل میڈیا پر رابطے نے انہیں یک جا کر دیا۔ یہ کسی ایک تنظیم کا حصہ تھے نہ ان کا کوئی ایک منشور تھا۔ وہ مل کر بعض مظلوموں کے حق میں آواز اٹھا رہے تھے۔ وہ ساہیوال جیسے واقعات پر ریاست سے انصاف کا مطالبہ کر رہے تھے۔ کسی سیاسی جماعت نے ان کا ساتھ نہیں دیا۔ اگر کوئی تھا تو اپنی انفرادی حیثیت میں، جیسے فرحت اللہ بابر۔

اس وقت وہ مسائل پارلیمنٹ میں زیر بحث نہیں جن کے لیے یہ نان موومنٹ اٹھ رہی ہے۔ میڈیا میں بھی ان پر کوئی بات نہیںہو رہی۔ ریاست خیال کرتی ہے کہ یہ مٹھی بھر لوگ ہیں جنہیں طاقت سے کچلاجا سکتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ ریاست کی غلط فہمی اور سیاسی جماعتوں کی بے حسی صورتِ حال کو گمبھیر بنا سکتی ہے۔ اس کا سامنا کرنے کی ایک صورت یہ ہے کہ ففتھ جنریشن وار فیئر کی آڑ میں ان مسائل سے صرفِ نظر کیا جائے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ ان مسائل کو دن کی روشنی میں زیرِ بحث لایا جائے تاکہ کوئی چاہے بھی تو ان کو ریاست کیخلاف استعمال نہ کر سکے۔
سوشل میڈیا نے ابلاغ کے نئے امکانات کو جنم دیا ہے۔ جو چاہے ان سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ بندوق کو برا بھلا کہنے سے اس کی نالی خاموش نہیں ہوتی۔ اس سے بچا جاتا ہے یا جواب میں بندوق چلائی جاتی ہے۔ سوشل میڈیا ایک ہتھیار ہے۔ اگر یہ کوئی وار فیئر ہے تو ہمیں اسی زبان میں اپنا دفاع کرنا ہو گا۔ مولانا وحیدالدین خان نے مدتوں پہلے اس جانب توجہ دلائی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ سیاسی شکست نے ہماری سیاسی ایمپائر ختم دی لیکن ابلاغ کی دنیا میں آنے والے انقلاب نے ہمیں موقع فراہم کر دیا ہے کہ ہم اپنی دعوہ ایمپائر کھڑی کر دیں۔

سوشل میڈیا نے وہ اسباب فراہم کر دیے ہیں جو ایک نان موومنٹ کو کم وقت میں ایک موومنٹ میں بدل سکتے ہیں۔ یہ ماضی میں ممکن نہیں تھا۔ اُس وقت انفرادی سوچ ایک اجتماعی تحریک میں کم ہی ڈھل سکتی تھی۔ اب یہ آسانی سے ممکن ہے۔ یہ سب کچھ کسی سازش کے نتیجے میں نہیں ہوا۔ یہ ایک فطری تبدیلی ہے جسے جو چاہے، اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔
ریاست کیلئے چیلنج یہ ہے کہ وہ ایسے اسباب کا کس طرح تدارک کرتی ہے‘ جو کسی ریاست مخالف گروہ کو اس کیخلاف اٹھنے کا جواز فراہم کرتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو دیکھنا ہے کہ وہ محروم طبقات کی آواز بنتی ہیں یا نہیں؟ سول سوسائٹی کو اپنا جائزہ لینا ہے کہ وہ کس حد تک مظلوم کی نمائندگی کر رہی ہیں۔ اگر یہ سب اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو پھر نان موومنٹس کا راستہ روکنا مشکل ہو جائیگا۔

آج خیبر پختون خوا اور بلوچستان میں سوشل نان موومنٹس اٹھ رہی ہیں۔ پنجاب میں جیسے جیسے نواز شریف کی خاموشی کا دورانیہ بڑھ رہا ہے، مایوسی بھی اسی طرح بڑھ رہی ہے۔ نون لیگ نے اگر پنجاب کی حقیقی نمائندگی نہ کی تو اس وقت جو آوازیں منتشر ہیں، وہ مجتمع ہو سکتی ہیں۔ دیگر صوبوں سے اٹھنے والی نان موومنٹس سے ان کا قرب بڑھ سکتا ہے۔ یہ قربت نان موومنٹ کو کسی موومنٹ میں بدل سکتی ہے۔ اس کے لیے کسی لیڈر یا تنظیم کا ہونا ضروری نہیں۔ ایک بار پھر عرب بہار کی یاد تازہ کر لیجیے۔
اب یہ ریاست اور سیاسی جماعتوں کی بصیرت کا امتحان ہے کہ وہ اسے ففتھ وار فیئر سمجھ کر دشمن کی سازش قرار دیتی ہیں یا ایک حقیقی مسئلہ جان کر اس کا حل تلاش کرتی ہیں۔ سوشل نان موومنٹ اگر کسانوں، مزدوروں اور دوسرے محروم طبقات کو محیط ہو گئی تو انہیں سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔