سبحان اللہ- ھارون الرشید

پاکستان پہ تقدیر مہرباں ہے‘ ہم خود مہرباں نہیں۔ چوراہے پر سوئے پڑے ہیں۔ خرابی پیدا کرنے میں لگے رہتے ہیں۔خود اپنے ساتھ اگر کوئی مخلص نہ ہو تو دوسرا کوئی اس کی مدد نہیں کر سکتا۔
مجبوری میں قرض لینا اگر برا ہوتا تو پیغمبرانِ عظام ہرگز نہ لیتے۔ قطعاً کوئی حرج نہیں۔ نیت اگر یہ ہو کہ واپس کرنا اور اپنے قدموں پہ کھڑا ہونا ہے۔ امریکی معیشت آج بھی سب سے بڑی ہے۔ اس کے باوجودانکل سام مقروض ہے۔
قوم منقسم ہے ‘بری طرح منقسم ۔ معاشی نمو کے لئے جو سیاسی استحکام درکار ہوتا ہے‘ اس کی فکر ہم نہیں پالتے۔ سیاسی استحکام کو ایک کم از کم اتفاق رائے درکار ہوتا ہے۔ آرزو اور منصوبہ بندی کیا‘ ہم اس کے در پے رہتے ہیں۔
اس کے باوجود ہم بچ نکلے تو یہ قدرت کی منشا ہے‘ مہربانی ہے۔پروردگار عالم کی رحمت ہے۔ بدپرہیزی کے باوجود‘ اگر کوئی مریض زندہ سلامت ہو؟ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ محفوظ ہے۔

پاکستانی معاشرے کا مرض مزمّن ہے‘ ایک نہیں کئی بیماریاں۔ بینک لمیٹڈ کمپنیاں نہیں ہوتے کہ دیوالیہ ہو جائیں۔ افراد نہیں کہ قبر میں اترجائیں؛ باایں ہمہ اجتماعی زندگی کے اپنے تقاضے ہیں ۔ان تقاضوں کو ہم نظرانداز کر تے آئے اور مسلسل !
جاپان سمیت کئی ملکوں کی معیشت نے بیرونی سرپرستی میں فروغ پایا۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس عمل میں خود ان اقوام کا بھی اپنا کوئی کردار تھایا نہیں۔ جاپان پیچھے رہ گیا تھا‘ اس نے مغرب سے سیکھا۔ بالکل اسی طرح جیسے مغرب نے عالم اسلام سے ۔

فعال طبقات نے ان کا تاثر مسخ کر دیا‘جنرل محمد ضیاء الحق ایک دانا حکمران تھے۔ ان کے عہد میں غربت کم ہوئی۔ بنیادی تضادات اور افغانستان کی جنگ کے باوجود بڑی حد تک ملک مستحکم رہا۔ ان کے بعد پاکستان کمزور ہوتا گیا۔ فیلڈ مارشل محمد ایوب خان بھی ویسے نہ تھے‘ جیسا کہ انہیںسمجھا جاتاہے۔ صنعتی اور زرعی نمو کی بنیاد‘ ان کے دورمیں رکھی گئی۔
جنرل محمد ضیاء الحق کا انکسار سچ تھا۔ کتابیں پڑھا کرتے‘ ملاقاتیوں سے سوال پہ سوال کیا کرتے۔ ٹوکیو گئے تو جاپانی زعما سے ان کی ترقی کا راز پوچھا۔ جواب یہ تھا: ہمارے وسائل محدود اور مسائل پیچیدہ تھے۔ تعلیم کو اوّلین ترجیح بنایا اور زیادہ سے زیادہ وسائل اس میں جھونک دئیے۔
اب ایک لمحے کو ہم رکتے ہیں اور سرکارؐ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں۔ رسول اکرمؐ سے منسوب ہے کہ ''اطلبوالعلم ولوکان بالصین‘‘ علم حاصل کرو خواہ چین جانا پڑے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ ضعیف حدیث ہے ۔ ارے بھائی‘ محدثین کئی وجوہ سے کسی روایت کو مسترد کرتے۔ گاہے اس لئے کہ چار یا پانچ سلسلوں میں کوئی ایک راوی کمزور ہے۔ روایت کے عمل کو وہ ایک زنجیر کی طرح دیکھتے۔ ایک بھی کڑی کمزور ہو تو لینے سے انکار کر دیتے۔ اس کا مطلب مگر یہ نہیںکہ اس حدیث کے درست ہونے کا امکان ہی نہیں۔

چین ہمیں جانا چاہئے۔آج ہمیں چین ہی جانا چاہیے۔ چینیوں سے سیکھنا چاہئے۔امریکا اور انکل سام کیوں سیکھائیں گے۔
سال گزشتہ چین جانا ہوا تو ہم پاکستانی اخبار نویس حیران رہ گئے۔ ایک چین اخباروں‘ جریدوں اور کتابوں میں پڑھا تھا۔ یہ تو بالکل ہی مختلف تھا۔ 1985ء میں بڑھتے پھولتے کراچی کا مطالعہ کرنے ایک وفد شنگھائی سے آیا تھا۔ اب شنگھائی نیویارک سے برتر ہے۔ ہر ایک کلومیٹر پہ‘ ایک باغیچہ۔ آلودگی سے پاک‘ بازاروں کی رونق ساری دنیا سے سواہے۔ امن ایسا کہ اجنبی اپنے وطن سے زیادہ محفوظ۔ ایک اُجلا اور مرتب شہر۔

کسی ایک شعبے میں نہیں‘ ایسا ہی فروغ ہر کہیں ہے۔مثلاً ریل میں‘ تعمیرات میں۔ بیجنگ شہر میں داخل ہوتے ہی سہیل وڑائچ سے میں نے کہا: ''باغ میں بازار ‘‘۔ میزبان ایک مارکیٹ میں لے گئے۔ تکان سے نڈھال‘ ہم شاکی تھے۔ وہاں ایک بیکری نما ریستوران میں ناشتہ کیا۔ شوروم کی طرح دھمکتی ہوئی‘ کھانا لذیذ۔ کسی کی تجویز پر دو تین دوست غسل خانوں کا جائزہ لینے گئے۔ لوٹ کر آئے تو مبہوت تھے۔ اس قدر صفائی‘ اس قدر جدّت طرازی ۔ اس ایک بلڈنگ کا حال لکھنے کے لئے دو سو صفحات چاہیے۔

یہ سب کیسے ممکن ہوا؟ پاکستان سے زیادہ غریب ملک‘ ضرورت کی اشیاء کا جہاں اکثر قحط رہا کرتا۔کبھی انڈے غائب‘ کبھی جرابیں‘ کبھی ٹراسسٹراور کبھی گھڑی۔ تین عشروں میں دنیا کی دوسری بڑی معیشت بن گیا۔سرمایہ کاری سے‘ ڈسپلن اور آزادی سے۔ حکمران پارٹی کے معیار اور میرٹ پر ڈٹے رہنے سے۔ سمندر پار چینیوں کی حبِّ وطن سے۔ سب سے بڑھ کر نظام کی اصلاح سے۔پاکستانی قوم ان سے دوگنا زیادہ ذہین سمجھی جاتی ہے‘ مگر بے قابو‘ بے مہار۔

کمیونسٹ پارٹی نے کمیونزم میں پیوند لگایا اور لوہے کے کمرے میں تازہ ہوا کی کھڑکی کھول دی۔ ڈنگ سیائو پنگ نے اپنی پارٹی کو قائل کیا کہ چار شہروں میں سرمایہ کاری کے قوانین نرم کیے جائیں۔ ٹیکسوں میں پانچ سال کی چھوٹ دی گئی۔ گاڑی چلی تو پھر کبھی نہ رکی۔
اللہ اللہ‘ چین میں ریل 350کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی ہے‘ شیخ رشید کی زبان مبارک کی طرح!پارلیمانی نظام یہاں ایک مقدس صحیفہ ہے۔ آئین مقدس ہوتا ہے‘ مگر یہ فرمان ِرسول ِاکرمؐ تو نہیں۔ یہ قرآن کریم تو نہیں۔ شاعر ظہیر کاشمیری کہاکرتے: انسان قانون کے لئے نہیں ہوتے۔ پارلیمانی نظام کو برقرار رکھیے‘ مگر سرمایہ کار پہ ضابطوں کی آہنی گرفت؟ کرپٹ افسر شاہی اور سیاست‘ بے لگام صحافت‘ سونے پر سہاگہ‘ تعلیم کا المناک زوال۔

قوم کبھی خواندہ تھی ہی نہیں‘اب سکولوں‘ کالجوں اور یونیورسٹیوں سے بھی نیم خواندہ لشکر نکلتے ہیں۔ پرائیویٹ تعلیمی ادارے نہ ہوتے تو جہالت کا اندھیرا اور بھی گہرا ہوتا۔ انگریزی کیا‘ اردو نہیں لکھ سکتے۔ کتاب غائب‘ ریستوران حاضر۔
اخبار نویس اگر معاف کر سکیں تو عرض کروں کہ صحافت کی بے مہار آزادی نے چند سو اخبار نویسوں کو خوشحال ضرور کیا‘ ملک اور معاشرے کو کیا دیا؟ آزادی ذمہ داری کے ساتھ ہوتی ہے‘ ڈسپلن کے ساتھ!
سیاسی جماعتوں پہ تنقید اس لئے نہیں کرنی چاہئے کہ وہ جمہوریت کی مظہر ہیں۔ سبحان اللہ۔ عبدالغفار خان‘ عبدالولی خان‘ اسفند یار ولی خان۔ مفتی محمود اور مولانا فضل الرحمن۔ بھٹو‘ بے نظیر اور بلاول۔ میاں محمد شریف‘ نواز شریف‘ شہباز شریف‘ حمزہ شہباز‘ مریم نواز وغیرہ وغیرہ‘سبحان اللہ!

چین کے بعد سعودی سرمایہ کاری یقینا خوش آئند ہے۔ مخالف جماعتیں اس لئے ستائش نہ کریں گی کہ وہ مخالف ہیں۔ریاض کے پاس ایک ہزار ارب ڈالر پڑے ہیں۔ سرحدوں کے دفاع میں ہم ان کا آخری سہارا ہیں۔ سی پیک کے طفیل سرمایہ کاری کے لئے پاکستان اب سازگار ہے۔ بیس بلین ڈالر لگانے میں سنجیدہ ہیں۔ گوادر میں سمندر کی ساخت ایسی کہ دنیا کی سب سے بڑی بندرگاہ کیلی فورنیا سے دوگنا بڑی بندرگاہ بن سکتی ہے۔ چین‘ افغانستان اور وسطی ایشیا کو اس کی ضرورت ہے۔چالیس کی بجائے‘ چین کے لئے تیل کی مسافت سات دن رہ جائے گی۔
افغانستان میں امریکیوں سے اختلافات اب ختم ہو سکتے ہیں۔ایران‘ ترکی‘ چین اور عربوں کے تعاون کا ممکن ہے۔
لیکن ہماری پولیس اور عدالت؟ ہماری سول سروس‘ سیاست اور صحافت؟ قوموں کا مزاج صدیوں میں ڈھلتا اور آسانی سے بدلتا نہیں۔ یہاں بادشاہ بسا کرتے تھے یا رعایا‘ آج بھی یہی ہے۔ (بقیہ صفحہ11پر)

عمران خان ‘ نواز شریف حتی ٰ کہ مولوی فضل الرحمن دیوتا ہیں۔خلق کی تربیت کرنا ہوتی ہے۔ سرکارؐ نے تعلیم اور تربیت ہی کی تھی۔ رحمۃ اللعالمین ؐپہ کوڑا پھینکنے والے بدقسمت تاریخ کی بہترین امت بن گئے۔ قرآن کریم میں لکھا ہے:رضی اللہ عنہ ورضوعنہ ''اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی‘‘۔ہزار برس دنیا پہ حکومت کی۔ عِلم سے نجات پائی تو عَلم بھی سرنگوں ہوئے۔

ع وہ جو میرے غلام تھے‘ مجھے کھا گئے
کبھی نہیں بدلتی‘ خدا کی سنت کبھی نہیں بدلتی۔ جواس سے ہم آہنگ ہو‘ وہی آباد‘ جو متصادم ہو‘ وہی برباد۔
پاکستان پہ تقدیر مہرباں ہے‘ ہم خود مہرباں نہیں۔ چوراہے پر سوئے پڑے ہیں۔ خرابی پیدا کرنے میں لگے رہتے ہیں۔خود اپنے ساتھ اگر کوئی مخلص نہ ہو تو دوسرا کوئی اس کی مدد نہیں کر سکتا۔