کہیں تو بھلا ہوگا- نذیر ناجی

اس میںکوئی شک نہیں کہ عام طور پر 5 جی نامی موبائل‘ مواصلات کی اگلی نسل میں امریکی برتری ایک غیر معمولی معاملہ ہے ‘ تاہم اس بات سے بھی منہ نہیں موڑا جا سکتا کہ چین ایک مضبوط مدمقابل ہے ۔ امریکہ اس منصوبے ‘ یعنی 5جی ٹیکنا لوجیپر 24 ارب ڈالر لگا چکا ہے اور مزیدسرمایہ کاری میں 411 ارب ڈالرخرچ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے ۔اُدھرچینی حکومت بھی موبائل ٹیکنالوجی میں خود کو رہنما کے طور پردنیا میں منوانے کے لیے کئی منصوبوں پر کام کررہی ہے۔ان منصوبوں کو قومی منصوبوں کا نام دیا گیا ہے۔ ایک چینی کمپنی 2020ء تک سب سے بڑی تعدادمیںسمارٹ فون بنانے والا کارخانہ تیار کرنے میں سرگرم ہے۔ایسے میںسوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امریکی کمپنیاں موبائل ٹیکنالوجی کے حوالے سے کیا کر رہی ہیں؟

موبائل ٹیکنالوجی میں جدیدترین ''چپ ‘‘جسے اعلیٰ درجے کے موبائل میں استعمال کیا جاتا ہے ‘ سان ڈیگو کی طرزپر'' کوالکم ‘‘ہے۔ کمپنی موبائل ٹیکنالوجی میں جدت لے کرآئی‘ جس نے ٹیکنالوجی کے خدوخال ہی بدل کر رکھ دیے‘ لیکن اس کے ساتھ قانونی حکمت عملی کا ہونا بھی لازم ہے‘ لیکن کمپنی کوجاری فیڈرل ٹریڈ کمیشن کے مقدمے میں الزامات کا سامنا ہے۔ کوالکم اپنے صارفین کو ایک چپ کی دستیابی اور وسیع پیمانے پر ''پیٹنٹ ہولڈنگز‘‘ کے طور پر موبائل انڈسٹری میںلائسنس کے اجرا کے لیے کام کر رہی ہے ۔ اس پیچیدہ لائسنس سازی سکیم کا اثر ایف ٹی سی کے دعوئوں‘ مسابقتی چپ بنانے والوں کو مارکیٹ سے باہر کرنے پر پڑے گا‘جس سے سمارٹ فون اور موبائل آلات کے سازوسامان میں رعایت مل پائے گی۔

کوالکم کے مدمقابل ایک بڑی امریکی کمپنی ہے ‘جن کی چپ کو سب سے بڑی موبائل بنانے والی کمپنی ''ایپل‘‘ نے حال ہی میں کوالکلم کی بجائے استعمال کرنا شروع کیاہے۔یہ حیرت انگیز بات نہیں ہے۔کوالکم نے اپنی ٹیم کو ''ایپل‘‘ کے خلاف انتقالی تحقیقات کا بھی کہا ہے‘ جس کا کچھ نہ کچھ اثر ہو سکتا ہے‘ جیسا کہ ایک انتظامی جج نے حال ہی میں طے کیا۔ جج صاحب نے موبائل چپ مارکیٹ سے باہر '' انٹل ‘‘ اور'' کوالکم ‘‘ کو اپنی اجارہ داری ختم کرنے کا حکم دیا تھا۔واضح رہے کہ یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ ایپل‘ انٹیل اور کوالکم‘ 5G جیسی جدید ٹیکنالوجی کو اپنانے سے قاصر ہیں ۔لازم نہیں کہ وہ یہ روایت برقراررکھیں۔مختلف کمپنیوں میں مقابلہ نئے منصوبوں اور ٹیکنالوجی کو پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

امید کی جا رہی ہے کہ 5Gٹیکنالوجی سائبر سکیورٹی ‘میں اہم پیش رفت ثابت ہوگی۔اس کے استعمال سے ہیکنگ یا غلط استعمال سے کم خطرہ ہوگا۔یہی وجہ ہے کہ5جی پر کام کرنے والی کمپنیوں کی تعداد بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ کمپنیوں کے درمیان مقابلہ واقعی سخت ہے۔یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ''5G‘‘ کام کیسے کرتی ہے؟کیا یہ معیار ''3 جی پی پی‘‘ کے برابرتو نہیں؟ اس جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں بین الاقوامی کمپنیاں کھیل رہی ہیں۔چینی کھلاڑی جیسے ؛ہواوے ‘ زیڈ ٹی ای‘تھری پی پی ‘ بھی اہم شرکا ہیں۔اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ 3GPP کے معیارات کو امریکی اقدار کی عکاسی کرتے ہوئے متعدد امریکی کمپنیوں کے ساتھ ایک میز پر بیٹھ کربات چیت کرنی چاہیے‘جبکہ کمپنیاں ایک دوسرے کو کاروبار سے باہرکرنے کے لیے مقدمات کر رہی ہیں ‘جس سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔

مسئلہ اگرچہ پیٹنٹ کے نظام کا وجود نہیں ہے‘ لیکن پیٹنٹ قوانین کی ہمیشہ توسیع ایک طاقت رہی ہے۔ کمپنیوں کے پیچیدہ پیٹنٹ لائسنس اورسکرین منصوبوں میں ڈالرز کی سرمایہ کاری کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ نئی ٹیکنالوجی کی تعمیر سخت کام ضرور ہے‘ مگر پیٹنٹ کی حکمت عملیــ‘ تیار کرنے سے کہیں زیادہ منافع بخش ہے۔ ہم اس دوڑ میں 5Gـــ اور دیگر ٹیکنالوجیز کو کھو دیتے ہیں۔یہ صرف رائے نہیں ہے ‘کانگرس کے ایک سے زیادہ ارکان نے پیٹنٹ ‘5G ترقی سے باہر کمپنیوں کی مخالفت کی ہے ‘جو کہ اس طرح کے اقدامات کرتی ہیں۔معیار‘ جدت پسندی‘ مسابقتی قیمتوں کا تعین اور اس معاملے میں 5G کی ترقی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

اس حوالے سے چینی منصوبے قابل دید ہیں۔چینی حکومت ‘بزنس ریسرچ اور ترقی کی حوصلہ افزائی کے لئے بائیں اور دائیں انعامات تقسیم کررہی ہے۔درحقیقت یہ سبسڈی اور مالی فوائد اپنے شہریوں کو پیٹنٹ کی فائلوں کو فروغ دینے کے لئے اہم ثابت ہوتے ہیں۔ عدالت میں پیٹنٹ کی خلاف ورزیوں کے اعزازات معمولی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی تعداد بھی کم ہے۔زیادہ سے زیادہ چینی پیٹنٹ مالکان اور ان کے پیٹنٹس کو پانچ سال کے اندر چھوڑ دیا جاتا ہے۔اس حوالے سے چین نے واضح پیغام دیا ہے کہ بہتر کارکردگی پر ان کمپنیوں کا انعام دیا جائے گا‘ لیکن پیٹنٹ پر قابو پانے کیلئے ان کی کوئی مددنہیں کی جائے گی۔

5Gٹیکنالوجی میں چین سے امریکہ آگے نکلناچاہتا ہے۔ وہ بھی خاطرخواہ اقدامات کررہا ہے۔ مضبوط پیٹنٹ حقوق انسداد منافع بخش تنازعوں کو فروغ دیتے ہیں۔ ان کے لیے ضابطہ اخلاق تیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان مضبوط مقابلہ کا راستہ خود امریکہ کو صاف کرنا ہوگا۔نئی جدید ریسرچ کو اپناتے ہوئے ان کمپنیوں کی مدد بھی کرنا ہو گی ‘ تاہم وقت ہی بتائے گا کہ آیا امریکہ جدید موبائل ٹیکنالوجی میں چین کا مقابلہ کر سکے گا؟ یا نہیں؟اس سوال کا جواب وقت پر چھوڑ دیا جائے تو بہتر ہوگا۔
نوٹ:(گہرے مطالعے میں دلچسپی رکھنے والے قارئین ‘جدید اصطلاحات کی جا بجا وضاحت کے طلبگار ہیں ‘میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں ہائی لیول ٹیکنالوجی کی اصطلاحات کی فہم نہیں رکھتا ‘مجھے اپنے مددگار سے وضاحتیں طلب کرناپڑتیں ہیں ‘جدید ٹیکنالوجی خصوصاً کمپیوٹر اچانک طوفان کی طرح پھیل گیا ‘سائنس کے ان گنت موضوعات کو سمجھنا آسان نہیں ‘لیکن سائنسی معلومات کی تقسیم جیسے طوفان کی مانند ہے‘ چند سال پہلے موبائل فون کا جکڑ چلا تو ان جکڑوں میں آنے والی مصنوعات کی ایک چھوٹی سی مثال دے سکتا ہوں ‘موبائل فون آیا تو کسی کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا‘اب بچے بھی ہر ٹیلی فون سیٹ اور اس کی اقسام کو فٹافٹ سمجھ لیتے ہیں ۔

یہ سائنس کا دور ہے ‘جب اس کی یلغار شروع ہوتی ہے تو صرف تین یا چار برس کے اندر اس کی تقسیم عام ہو جاتی ہے۔میں نے جب اپنے معاون سے نئی سے نئی ایجاد کانام جانتا ہوں تو اسی پر قناعت کرکے قارئین کی معلومات میں اضافہ کرتا ہوں ‘آج اپنی متعدد معلومات کی مشکلوں پر قناعت کر رہا ہوں ‘یہی میرے بس میں ہے ‘ایک مہربان نے لبنان کی پے در پے مشکلات کی تفصیل جاننا چاہی ‘مگر میں صرف یہیں تک محدود ہوں۔ موضوع بے تحاشہ معلومات کے جکڑ‘یلغاریں رکھتا ہے ۔ستم یہ ہے کہ ادھر ایک فارمولا آیا‘ ادھر اس کے درجنوں راز پھیل گئے‘ تب دیکھتے ہی دیکھتے اس کی مصنوعات منڈیوں میں پھیل گئیں۔گزارا ہو جائے تو ٹھیک ہے ‘ورنہ جستجو پر قناعت رکھیں کہیں تو بھلا ہوگا‘آج کے نوجوان گھڑی کے راز تلاش کرتے پھر رہے ہیں۔ گھڑی بازار میں آچکی ہے ‘ انسانی کمزوریاںـ‘ گھڑیوں کے اندر سے ایسے گھڑی کا ڈاکٹر یوں نبضیں پکڑے گا ۔ چل سو چل۔۔۔! )