کچھ نہیں ہونے کا۔۔۔ احسان کوہاٹی

اہل لاہور کے فخر نے سب ہی کو مشکل میں ڈال رکھا ہے۔ دہی کلچوں، چکڑ چنوں حلوہ پوریوں کے ناشتوں کے بعد لسی کے یہ بڑے بڑے گلاس خالی کرنے والے زندہ دلان لاہوریوں کے نزدیک جس نے لاہور نہیں دیکھا وہ پیدا ہی نہیں ہوا۔ ان کے اس کلیے سے سیلانی کا یہ تقریبا بارہواں جنم تھا۔ اور یہ بھی کرشمہ تھا کہ ایک روز پہلے جنم لینے والا ’’کاکا‘‘ دوسرے دن ہی لاہور ریلویز اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر کھڑی گرین لائنزایکسپریس کے ٹی ٹی بابو کی تلاش میں بھاگتا پھر رہا تھا۔ اسے واپس اسلام آباد جانا تھا، ریل کے چھوٹنے میں کچھ ہی دیر رہ گئی تھی، ٹکٹ گھر سے کہا گیا تھا کہ گرین لائنز ایکسپریس کی ٹکٹ اسی گاڑی کے ٹی ٹی بابو سے ملے گی۔ یہ سن کرسیلانی نے اپنے میزبان اور جماعت الدعوۃ کے ترجمان ندیم اعوان کو بمشکل رخصت کیا۔ وہ اللہ کا بندہ مصرتھا کہ پہلے سیلانی ٹکٹ لے لے، پھر وہ مطمئن ہوکر لوٹے گا۔ سیلانی نے اسے یقین دلانے کی پوری کوشش کی، اب وہ سچ مچ واپس جارہا ہے پلٹے گا نہیں، لیکن جب اس کا اصرار ختم نہ ہوا تو اس نے بڑے ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے زبردستی الواداعی جھپی ڈال لی۔

اس شریف نوجوان کوسیلانی نے چوبیس گھنٹوں سے ساتھ لیا ہوا تھا۔ پہلے وہ اسے لے کر شیخوپورہ کے پنڈ چھاپاں والی لے گیا جہاں شاہد محمود جٹ اور ان کے کزن نعیم بھائی نے سرد رات میں دیسی ککڑ کا اہتمام کر رکھا تھا۔ دیسی ککڑ اور خالص دیسی گندم کی روٹیوں نے جانے کب شکم سیر کیا پتہ ہی نہیں چلا۔ وہ تو حلق تک پیٹ بھرنے کے بعد مقتول ککڑ نے باہر نکل کر اذان دینے کی کوشش کی تو تب سیلانی نے ہاتھ کھینچا۔ رات کے اس ککڑ عشائیہ کے بعد صبح کے ناشتے میں نعیم بھائی نے مقتول بکرا، حلیم، چکڑ چنے،گاجر کا حلوہ، دہی نان اور دیسی گھی والی روٹیوں کا ناشتہ سامنے کیا اور خود بھی سامنے بیٹھ گئے، کچھ تو ناشتہ لذیذ تھا، پھر پہلوانوں کا سا جثہ رکھنے والے نعیم بھائی کا رعب بھی تھا، سیلانی نے آستینیں چڑھا لیں اور امتحان میں پورے نمبر لینے کی کوشش کرنے لگا، اس نے آخر میں میزبانوں کی تقلید میں گجریلے پر دہی ڈال کر حیاتی میں پہلی بار دہی کا منفرد استعمال کیا، لیکن اس کے بعد وہ مزید کچھ کھانے کی پوزیشن میں نہ رہا اور اب پوزیشن یہ تھی کہ ناشتے کو ساڑھے پانچ گھنٹے گزرچکے تھے، لیکن اس سے چلا نہیں جا رہا تھا، کجا یہ کہ اسے بھاگنا پڑ رہا تھا، ریل گاڑی چھوٹنے والی تھی۔ اسے انجن کے قریب نیلی وردی والے ٹی ٹی بابو دکھائی دیا، سیلانی بھاگتا ہوا اس کے پاس پہنچا اور ہانپتے ہوئے کہنے لگا۔

’’سر۔۔۔سر وہ ٹکٹ ۔۔۔مل جائے گا‘‘
’’کس کلاس کا‘‘
’’اکانومی‘‘
’’ہاں مل جائے گا، آپ جلدی سے بوگی میں پہنچو، ٹرین چلنے والی ہے۔‘‘
’’بوگی کہاں ہے؟‘‘ سیلانی نے گھبرا کر پوچھا
’’وہ سب سے آخر میں لگی ہے۔‘‘
’’او نہیں ۔۔۔‘‘ سیلانی نے بوگی کی طرف دوڑ لگا دی، ادھر پلیٹ فارم پر گارڈ کی سیٹی کے بعد گرین لائنز نے بھی سرکنا شروع کر دیا۔ سیلانی نے معدے میں موجود شرارتی بکرے کی شرارتوں کی پرواہ کیے بنا دوڑ لگائی اور بمشکل بوگی میں سوار ہو کر سانسیں درست کرنے لگا تو کیا دیکھتا ہے، سامنے ضرار بھائی کھڑے ہیں، ضرار بھائی دائیں بازو کے سینئر صحافی اور نوکر شاہی، اشرافیہ کے کڑے ناقد ہیں، انہیں دیکھ کر سیلانی کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی، لاہور سے اسلام آباد کا سفر زیادہ نہیں، لیکن پھر بھی پانچ ساڑھے گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ سیلانی کو خوشی ہوئی کہ ضرار بھائی سے گپ شپ میں سفر کی طوالت کا پتہ نہیں چلے گا۔
سیلانی نے آگے بڑھ کر ضرار بھائی کو سلام کیا اور بیگ لے کر ایک طرف رکھ دیا۔
’’تم کدھر بھئی‘‘ ضرار بھائی نے بےتکلفی سے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
’’ایک دوست سے ملنا تھا، کل آیا تھا، آج واپس جا رہا ہوں۔‘‘
انہوں نے سر ہلایا اورکوٹ کی جیب سے گولڈ لیف نکال کر دروازے کے پاس پہنچ گئے۔

سیلانی ایک طرف ہو کر ٹی ٹی بابو کا انتظار کرنے لگا جو بمشکل چند منٹوں کا ہی تھا۔ ٹی ٹی بابو نے ٹکٹ کاٹ کر سیٹ نمبر بتا دیا۔ سیلانی اور ضرار بھائی آمنے سامنے بیٹھ گئے اور پھر دنیا جہاں کے موضوعات پر گفتگو ہونے لگی، انہوں نے اک جہاں دیکھ رکھا ہے، سانحہ علیگڑھ کالونی کراچی، کراچی آپریشن، سوات آپریشن، وزیرستان آپریشن سے لے کر سانحہ آرمی پبلک اسکول تک بڑے بڑے سانحات اور واقعات رپورٹ کر چکے ہیں۔ بے نظیر بھٹو کے قتل کی بریکنگ نیوز بھی سب سے پہلے ضرار بھائی ہی نے دی تھی اور اب سیلانی کو اپنی ریٹائرمنٹ کی بریکنگ نیوز دے رہے تھے۔ سیلانی کے لیے یہ حیرت کی بات تھی۔ صحافت اور امامت میں ریٹائرمنٹ کا تصور نہیں، صحافی ریٹائرڈ ہوتا ہے نہ مسجد کا امام یہ صرف جبری ریٹائرڈ ہوتے ہیں۔ ضرار بھائی نے ریٹائرمنٹ کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ وہ یکسانیت سے بیزار آچکے تھے۔ ایک عرصہ ہو گیا تھا ایک جیسا کام کرتے ہوئے ۔۔۔ پھربات سے بات نکلتی رہی اور چھک چھک کرتی ریل چلتی رہی گفتگو کے دوران جب انہیں سگریٹ کی طلب ہوتی تو اٹھ کر دروازے کے پاس چلے جاتے۔ اس وقت بھی ایسا ہی ہوا، وہ سگریٹ سلگانے گئے اور ڈبے میں چائے قہوے والا بیرا آگیا۔ سیلانی نے اسے دو سبز چائے لانے کے لیے کہا اور سیل فون چیک کرنے لگا۔گذشتہ دنوں وہ کافی مصروف رہا تھا اور دوستوں کے پیغامات وڈیوز نہیں دیکھ سکا تھا۔ ابھی موقع ملا تو وہ سارے پیغامات اور وڈیوکلپ دیکھنے لگا۔ کچھ دوستوں نے یوم کشمیر پر بیرون ملک ہونے والے مظاہروں کے وڈیو کلپ بھیج رکھے تھے جو بڑے جاندار تھے۔ اس بار کشمیری حریت پسندوں نے دنیا کو اپنی جانب اچھا خاصا متوجہ کیا ہے۔ برطانوی پارلیمنٹ میں اے پی سی، سری لنکا میں ہائی کمیشن کے سیمینار، تہران میں کشمیر ثقافتی کانفرنس اور پھر میلان میں ہونے والا زبردست مظاہرہ حیران کن تھا۔ اسے یہ سب دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی کہ چلو حکومتی سطح پر بھی کچھ ہل جل تو شروع ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں:   بس نظام ہی پٹڑی سے اتر جاتا ہے ۔ شبیر بونیری

تھوڑی دیر میں ضرار بھائی پھیپھڑوں مییں نکوٹین اتار کر آگئے اور گفتگو کا سلسلہ جہاں سے ٹوٹا تھا وہیں سے جڑ گیا۔ گرین لائنز تیز رفتاری سے فولادی پٹڑیوں پر بچھا فاصلہ سمیٹتے ہوئے آگے بڑھ رہی تھی اور ضرار بھائی سیلانی کا ہاتھ پکڑے ماضی کی جانب بڑھ رہے تھے۔ انہوں نے جو کچھ دیکھ رکھا تھا بتا رہے تھے۔ اسی اثناء میں بیرا دو کپوں میں کھولتا پانی اورسبز چائے کا تعویذ لیے آگیا۔ سیلانی نے تعویذ کو پانی میں غوطے دیکر قہوہ تیار کیا اور چسکیاں لینے لگا۔ اکانومی کلاس کا ڈبہ ہیٹر اور ائیرکنڈیشنڈ سے بےنیاز ہوتا ہے۔ بارشوں کی وجہ سے موسم خاصا سرد ہورہا تھا۔گرین لائنز وی آئی پی ٹرین ہے، اس لیے اس کی کھڑکھیوں کے شیشے سلامت تھے، لیکن پھر بھی ٹھنڈ احساس دلا رہی تھی کہ ابھی جاڑا گیا نہیں ہے، ایسے میں قہوے کی چسکیاں مزہ دے رہی تھیں، لیکن یہ سارا مز ہ اس وقت کافور ہوگیا جب بیرے نے 80 روپے طلب کیے۔
’’یار! پیسے کچھ زیادہ نہیں؟‘‘
جواب میں اس نے ان دس ہزار روپے کی دہائی دے ڈالی جو فی پھیرا اس نے ریل گاڑی کے ٹھیکدار کو دینے تھے۔ اس کا کہنا تھا کہ اس نے گرین لائنز ایکسپریس کے ٹھیکدار کو کراچی سے اسلام آباد اور اسلام آباد سے کراچی تک ایک پھیرے کے دس ہزار روپے دیے ہیں جو ظاہر ہے مسافروں سے ہی وصول کرے گا۔ یہ عجیب منطق تھی جس پر ساتھ بیٹھے بابا جی نے کہا دوسری ریل گاڑیوں میں ٹھیکدار نہیں ہوتے، وہاں چائے تیس روپے کی دی جاتی ہے یہاں ساٹھ روپے لیے جاتے ہیں، جو چپس کا پیکٹ تیس روپے کا ہے وہ پچاس روپے میں فروخت کرتے ہو۔
’’کوئی پوچھنے والا نہیں ہے جو جی چاہیں مرضی کریں۔ ‘‘ بابا جی نے بے بسی میں لتھڑا ہوا جملہ ساتھی مسافروں کی سماعتوں میں داخل کیا۔
’’ہر جگہ یہی حال ہے، بندہ کس کس بات کا رونا روئے۔‘‘ یہ دوسرا تبصرہ تھا۔

80 روپے کے قہوے نے گفتگو کا موضوع بدل دیا تھا۔ اس گراں فروشی نے وہاں بیٹھے سب ہی مسافر وں کے منہ میں کوکین ڈال رکھی تھی، لیکن حیرت کی بات تھی کہ سب بڑ بڑا بھی رہے تھے اور اسی بیرے سے چیزیں بھی خرید رہے تھے۔ سیلانی کو یاد آیا کہ اس نے بیت الخلاء پر ٹرین منیجر کا نام اور فون نمبر کا اسٹیکر لگا دیکھا ہے، وہ اٹھ کر گیا اور منہ بنا کر رہ گیا، کسی نے اس اسٹیکر کو کھرچ کر آدھا فون نمبر غائب کر دیا تھا۔ سیلانی دوسری بوگی میں چلاگیا، وہاں اسے ایک جگہ منیجر کا فون نمبر مل گیا، اس نے نمبر نوٹ کیااور اسے فون کرنے لگا، دوسری طرف گھنٹی بج رہی تھی لیکن کوئی کال وصول نہیں کررہا تھا۔ عموما ایسا ہی ہوتا ہے۔ سیلانی نے وزیر ریلویز شیخ رشیدصاحب کے اشتہار میں دیا گیا نمبر نکالا، یہ نمبر اس نے راولپنڈی کے پلیٹ فارم پرشیخ صاحب کے اشتہار سے لیا تھا، پلیٹ فارم پر لگی ٹی وی اسکرین سے شیخ صاحب عوام کو بتا رہے تھے کہ عمران خان صاحب کے وژن کو آگے بڑھانے کے لیے گرین کلین اور ماہ خوش اخلاقی منایا جا رہا ہے، کوئی بھی شکایت ہو تو 03305555556 پر شکایت درج کروائیں۔ سیلانی نے اس نمبر پر جعفر ایکسپریس کی نصف گھنٹہ تاخیر کی شکایت درج کرائی تھی جس پر نامعلوم صاحب نے کہا تھا تھوڑی بہت دیر سویر تو ہو ہی جاتی ہے۔ اب سیلانی نے ان سے پوچھنا تھا کہ گرین کلین مہم میں کیا مسافروں کی جیبوں کی تھوڑی بہت صفائی بھی شامل ہے اور کس حد تک شامل ہے لیکن اس صاحب پر کسی نے کال وصول نہیں کی۔ سیلانی نے دوبارہ ٹرین منیجر کا نمبر ملایا، دوسری تیسری کوشش پر سیلانی کے کان میں ہیلو کی آواز سنائی دی۔ سیلانی نے جھٹ سے سلام کیا اور مدعا عرض کرتے ہوئے کہا ’’جناب !آپ کے ہوتے ہوئے ہم چالیس روپے کا قہوہ اور ساٹھ روپے کی چائے پی رہے ہیں۔‘‘
’’اچھا جناب! آپ سے یہ پیسے کس نے لیے ہیں۔‘‘
’’جسے آپ نے گاڑی میں چائے قہوہ دینے کی اجازت دے رکھی ہے، وہ کہتا ہے ہم نے ٹھیکیدار کو ایک پھیرے کے دس ہزار روپے دیے ہیں۔‘‘
’’اچھا میں ابھی دیکھتا ہوں۔‘‘
اور پھر پندرہ منٹ میں وہی بیرا تازہ تازہ ہونے ولے رنڈوے کی سی شکل بنائے آموجود ہوا، اس کے پیچھے ایک پہلوان نما شخص بھی تھا، اس نے آتے ہی پکڑے جانے والے پیشہ ور جیب کترے کی طرح چہرے پر یتیمی لاتے ہوئے کہا ’’سرجی! معاف کر دیں میں پیسے واپس کردیتا ہوں۔‘‘
’’کس کس کو پیسے واپس کرو گے، تم نے تو کراچی سے یہی اندھیر لگا رکھی ہے، تمہارا منیجر کہہ رہا ہے چائے پچیس روپے کی ہے اور تم ساٹھ روپے کی دے رہے ہو۔‘‘
’’سر! سنگل ٹی بیگ والی تیس اور ڈبل ٹی بیگ والی ساٹھ روپے کی ہی ہے۔‘‘
’’او بھئی! کس اصول سے ساٹھ کی ہوگئی، تمہارا مینیجر کہہ رہا ہے کہ چائے پچیس روپے کی ہے، اور تم تیس روپے کہہ رہے ہو، چلو تیس ہی سہی، دوسرا ٹی بیگ ڈلوانے والے سے دس روپے اضافی لے لو، وہ دودھ نہیں مانگ رہا ،چینی نہیں لے رہا، صرف ایک ٹی بیگ ہی تو مانگ رہا ہے، اس کے ساٹھ روپے کس حساب سے ہوگئے۔‘‘
اب پہلوان حمایتی مدد کو آگیا ’’سر! انہیں گن کر ٹی بیگ دیے جاتے ہیں، خیر معاف کردیں، غلطی ہوگئی، آئندہ ایسا نہیں ہوگا، آپ اپنے پیسے واپس لے لیں۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:   قاتل کون اسماء طارق -گجرات

وہ اضافی لیے گئے بیس روپے واپس کرنے لگا لیکن ضرار بھائی نے ہاتھ اٹھا کر کہا ’’پیسوں کی بات نہیں، یہ طریقہ غلط ہے۔‘‘ ساتھ ہی دیگر مسافر بھی بول پڑے۔ ایک انیس گریڈ کے افسر ساتھ سفر کر رہے تھے، انہوں نے کہا کہ میں تو اس کی شکایت کر کے ہی رہوں گا۔ بیرے نے بڑی مشکل سے منتیں ترلے کر کے جان چھڑائی، دراصل اسلام آباد کا مارگلہ ریلوے اسٹیشن بھی قریب آگیا تھا، سب ہی نے اترنا تھا، کون جھک جھک کرتا، ٹرین کی رفتار دم توڑ رہی تھی، اسی لیے مسافروں نے اسے وعدہ لیا کہ وہ آئندہ مہنگی چائے نہیں دے گا۔ اس نے جھٹ سے وعدہ کر لیا۔ ظاہر ہے وعدہ کرنے میں اس کا کیا جاتا تھا۔ مسافروں سے جان چھڑانے کے بعد بیرا خوشی خوشی واپس پلٹ گیا۔ کچھ ہی دیر میں مارگلہ کے پلیٹ فارم پرریل گاڑی بھی آلگی سب اترنے لگے اور سیلانی بھی یہ سوچتا ہوا اترنے لگا کہ سستی کاہلی کے گملے میں مایوسی اگانا ہمارا قومی مشغلہ بن چکا ہے۔ ہم کچھ کرنے سے پہلے سے طے کر لیتے ہیں کہ کچھ نہیں ہونا اور پھر واقعی کچھ نہیں ہوتا۔ یہی ایک کال اس ٹرین کا کوئی مسافر حیدرآباد میں کر لیتا تو ٹرین کے سارے مسافر اس لوٹ مار سے بچ جاتے۔ اس بیرے نے ہماری سستی کاہلی اور قومی مزاج سے فائدہ اٹھا کر بھرپور دیہاڑی لگائی اور چونا لگا کر اتر گیا۔ سیلانی بھی ضرار بھائی کے ساتھ ساتھ نیچے اترا اور کراچی سے مسلسل لٹنے والے مسافروں کو سامان اٹھائے اسٹیشن سے باہر جاتا دیکھتا رہا دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا۔

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.