این آر او ہو نہیں رہا، ہوگیا ہے- محمد بلال غوری

آپ نے وہ جملہ تو سنا ہوگا جو خلیل جبران سے منسوب ہے لیکن درحقیقت کسی نامعلوم دانشور کا قول ہے ’’اس نے کہا، میں نے مان لیا۔ اس نے اصرار کیا، مجھے شک ہوا۔ اس نے قسم کھائی، مجھے اس کے جھوٹا ہونے کا یقین ہو گیا‘‘۔ عمران خان نے وزیراعظم کا حلف اٹھاتے ہی جب پہلی بار دوٹوک انداز میں اعلان کیا کہ کسی کرپٹ شخص کو کوئی رعایت نہیں ملے گی تو انکی بات پر فوراً یقین کر لیا گیا لیکن 6ماہ پر محیط دورِ حکومت میں عمران خان کم ازکم چھ مرتبہ اپنے اس عزم کو دہرا چکے ہیں کہ کسی شخص یا سیاسی جماعت کو این آر او نہیں ملے گا۔ پنجاب کے علاقے بلوکی میں شجرکاری کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے تو وزیراعظم اس قدر جذباتی ہو گئے کہ این آر او دینے کو ملک سے غداری قرار دیدیا۔

انہوں نے فرمایا کہ آج جن حالات کا ہمیں سامنا ہے اور ملک جو مقروض ہے، اسکی وجہ دراصل دو این آر او ہیں۔ ایک وہ این آر او جو پرویز مشرف نے نواز شریف کو حدیبیہ پیپر ملز کیس میں دیا اور دوسرا وہ این آر او جو پرویز مشرف نے پیپلز پارٹی کو دیا۔ بطور صحافی میری معلومات تو یہ ہیں کہ حدیبیہ پیپر ملز کیس لاہور ہائیکورٹ نے خارج کیا اور پھر اعلیٰ عدلیہ کی مداخلت پر نیب نے اس کیس کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل بھی کی لیکن یہ اپیل مسترد ہو جانے پر حدیبیہ کیس کی فائل ہمیشہ کیلئے بند ہو گئی لیکن بہرحال کپتان نے جو فرمایا، وہ پوری قوم کا سرمایہ، ایک لمحے کیلئے یہ مان لیتے ہیں کہ حدیبیہ پیپر مل ریفرنس کسی ڈیل یا کم از کم ڈھیل کے نتیجے میں ختم ہوا۔ اسی طرح قومی مصالحتی آرڈیننس المعروف این آر او تو ہماری سیاسی تاریخ کا ناقابلِ تردید حوالہ ہے۔ جنرل (ر) پرویز مشرف نے اپنے اقتدار کو طوالت دینے کیلئے ایک صدارتی آرڈیننس جاری کیا جس کے تحت یکم جنوری 1986ء سے لیکر 12اکتوبر 1999ء تک قائم کئے گئے تمام سیاسی مقدمات ختم کر دیئے گئے۔ اس این آر او سے پیپلز پارٹی ہی نہیں ایم کیو ایم نے بھی بھرپور فائدہ اٹھایا لیکن جب افتخار چوہدری بطور چیف جسٹس بحال ہوئے تو این آر او کو امتیازی قانون قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دیدیا گیا۔

اگر وزیراعظم عمران خان کی یہ بات درست تسلیم کر لی جائے کہ آج وطنِ عزیز کو جن نامساعد معاشی حالات کا سامنا ہے، ان کا سبب دراصل محولا بالا مبینہ این آر او ہیں تو پھر قوم کا حقیقی مجرم کون ہوا؟ میری ناقص رائے میں تو اس استدلال کے تحت پرویز مشرف جیسا ڈکٹیٹر ہی ملک کو اس دلدل میں دھکیلنے کا ذمہ دار ہے کیونکہ اس نے ذاتی مفادات اور ہوسِ اقتدار کے پیشِ نظر مبینہ چوروں اور لٹیروں کو این آر او دیا۔ تو کیا یہ بہتر نہ ہو گا کہ قوم کے اس مجرم کو قانون کے کٹہرے میں لاکر نشانِ عبرت بنایا جائے تاکہ آئندہ کوئی طاقتور شخص این آر او دینے کے بارے میں سوچ بھی نہ سکے؟ جب این آر او سے متعلق درخواستوں پر سپریم کورٹ میں سماعت ہو رہی تھی اور ایک کے بعد دوسرے منتخب عوامی نمائندے کو طلب کیا جا رہا تھا تو وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے بھی حسرت بھرے انداز میں یہ بات کہی تھی کہ کاش عدالت این آر او کے خالق کو بھی طلب کرتی اور اس سے پوچھا جاتا کہ اس نے یہ سب کیوں کیا؟ تب تو یہ معصومانہ خواہش پوری نہ ہو سکی لیکن وزیراعظم عمران خان احتساب کے جس بے لاگ اور بے رحم نظام کے قائل ہیں، مجھے پوری امید ہے کہ اس منصفانہ نظام میں این آر او کے خالق اور ماسٹر مائنڈ کو ضرور کیفر کردار تک پہنچایا جائیگا۔

تحریک انصاف کی حکومت کا سب سے بڑا ناقد ہونے کے باوجود مجھے عمران خان کی اس بات پر یقین ہے کہ اگر انکے بس میں ہوا تو وہ کسی کو این آر او نہیں لینے دینگے لیکن وزیراعظم، ان کی کابینہ اور ترجمان جس شدومد کے ساتھ اس بات کی ترویج و تبلیغ کرتے پھر رہے ہیں کہ این آر او نہیں دیا جائے گا، اس سے ان خدشات کو تقویت ملتی ہے کہ کہیں نہ کہیں، کسی نہ کسی سطح پر، کسی نہ کسی انداز میں نہ صرف این آر او دینے کی کوشش کی جا رہی ہے بلکہ دھُن کے پکے کپتان کو نظر آ رہا ہے کہ معاملات انکے ہاتھ سے نکل رہے ہیں اور مستقبل قریب میں کوئی نیا یوٹرن لینا پڑ سکتا ہے کیونکہ ہمارے ہاں رائج سیاست کا بنیادی اصول یہ ہے کہ انکار سے متعلق اصرار میں ضرورت سے زیادہ شدت ہو تو سمجھ لیں کہ دال میں کچھ کالا ہے، گویا کچھ تو ہے جسکی پردہ داری ہے۔جوش ملیح آبادی کی ایک مشہور غزل ہے جس میں وہ بتاتے ہیں کہ تردید اور انکار سے منسوب الفاظ میں بھی اصل بات بدرجہ اتم موجود ہوتی ہے اسلئے اسکا اثر ختم نہیں ہو پاتا۔ مثال کے طور پر