قومی بحران، آقائے سرسید اور تحریک پاکستان (۴) - محمد دین جوہر

اگر جذامی نفرت، ثقافتی علالت، فرقہ وارانہ پسماندگی اور اخلاقی افلاس سے ہٹ کر برصغیر کی مسلم تاریخ کو معروضی انداز میں دیکھا جائے تو پاکستان اپنی تمامتر ناکامیوں اور کامیابیوں سمیت انسانی تاریخ کا ایک غیرمعمولی مظہر ہے۔ واقعۂ پاکستان اگرچہ اپنے اسکیل میں چھوٹا ہے لیکن اپنی تہذیبی significance میں کوئی نظیر نہیں رکھتا۔ عالمی تاریخ میں کسی بھی انسانی معاشرے کو برصغیری مسلم معاشرے کی طرح بیک وقت تاریخ، جغرافیے اور احوال ہستی کی سفاک اور تقدیری قوتوں سے نبردآزما نہیں ہونا پڑا۔ لیکن جدید تاریخ کے خونچکاں سائبان تلے ہمیں عزاداری، دماغ سوزی اور جگر کاوی کے مرحلے جوں کے توں درپیش ہیں، اور اس تاریخ سے نگاہ ہٹانا نئی موت کا سامان لیے ہوئے ہے۔ ہمارا موجودہ قومی بحران اور اس کی میکانکس تحریک پاکستان کے زمانے سے زیادہ سنگین امکانات رکھتے ہیں۔ اس میں تین پہلوؤں سے اپنی تاریخ کو دیکھنے اور اس کے روبرو نہایت دوٹوک پوزیشن لینے کی ضرورت ہے: (۱) آقائے سرسید اور تحریک پاکستان؛ (۲) مذہبی سیاسی تصورات؛ (۳) متوارث استعماری ریاست۔

آقائے سرسید کی دینی تعبیرات اور سیاسی تعلیمات معروف ہیں۔ وہ استعمار کو رحمتِ خداوندی قرار دیتے تھے۔ ان کی زیرسرپرستی جہاد اور مسلم اقتدار کی نئی تعبیرات سامنے آئیں جن کا مقصد یہ تھا کہ مسلمان، استعمار کی غلامی میں ایسے پختہ ہو جائیں کہ جہانبانی کا تصور ہی ان کے لیے کابوس بن جائے۔ آقائے سرسید نے مسلمانوں کو جس طرح سیاست سے دور رکھا وہ حیرت انگیز ہے۔ لیکن اس سے بھی فزوں تر حیرت یہ ہے کہ برصغیر میں مسلمانوں کی طویل نکبت و شکست کے بعد جس تحریک نے مسلمانوں میں اقتدار کے داعیے کو بیدار کیا اور مسلمانوں کے لیے حقِ اقتدار اور شراکتِ اقتدار کی سیاست کا آغاز کیا وہ عین وہی تحریک تھی جو آۡقائے سرسید سے فکری غذا پاتی تھی! دوسری طرف مسلمانوں کے شاندار ماضی کے گیت الاپنے والا مذہبی سیاسی ذہن نہ صرف اقتدار کے ہر تصور ہی سے خالی تھا بلکہ مسلم سیاست کی ہندوانہ تشکیل میں پوری قوت سے جتا ہوا تھا۔ تحریک پاکستان کے علاوہ مسلمانوں میں جو بھی منتشر سیاسی عمل سامنے آیا، اس کا مجموعی عنوان ”اسلامی“ ہے۔ لیکن اس کا اسلامی یا غیر اسلامی ہونا ہمارے نزدیک اہم نہیں، کیونکہ وہ سیاسی عمل اصلاً فطرتِ انسانی اور تاریخ کے نیچرل آرڈر ہی سے متصادم تھا۔ ”اسلامی“ سیاسی عمل اور اس سے جڑی ہوئی فکر میدان جنگ میں بیٹھ کر کچھ اخلاقی مسائل کے حل میں زیادہ دلچسپی رکھتی تھی، اور افسانوی مذہبی تصورات کی بنیاد پر سیاسی عمل کو آگے بڑھا رہی تھی۔

گزارش ہے کہ تحریکِ پاکستان نے آقائے سرسید کے سیاسی افکار کو جو سر کے بل کھڑے تھے، سیدھا کھڑا کر دیا اور آخر کار ایک ملک کے حصول میں کامیاب ہوئی۔ تخلیقِ پاکستان کے بعد نئے ملک کو مستحکم کرنے اور اسے اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے جو تہذیبی وسائل درکار تھے وہ بھی آقائے سرسید ہی کی تحریک سے فراہم ہوئے۔ جبکہ مذہبی سیاسی ذہن پاکستانی ریاست کے مذہبی جواز یا عدم جواز ہی کے سوال سے آج تک باہر نہیں آ سکا ہے۔ اس ذہن نے پاکستان کو de facto ضرور تسلیم کیا ہے لیکن de jure تسلیم کرنے میں آج تک متامل ہے۔ یعنی بن گیا ہے تو مان لو، لیکن نہ بنتا تو اچھا ہوتا۔ آج یہ موقف نمو پا کر قومی ذہن کو آکاش بیل کی طرح لپیٹ چکا ہے۔ گزشتہ دو صدیوں میں ”مذہبی سیاسی فکر“ کا اسلامی یا غیراسلامی ہونا ضمنی اور مکتبی سوال ہے۔ اہم تر یہ ہے کہ زیر استعمار ظاہر ہونے والی ”مذہبی سیاسی فکر“ فطرتِ انسانی، معاشرے کے فطری داعیات اور تاریخ کے نیچرل آرڈر ہی سے متصادم ہے۔ سیاسی فکر اور عمل دونوں کا بنیادی ترین سوال اقتدار، اس کا حصول اور اس کا استحکام ہے۔ لیکن زیربحث ”مذہبی سیاسی فکر“ کی نسبتیں ہماری طویل تہذیبی روایت سے بالکل موہوم ہیں۔ انسان اور معاشرے میں اقتدار کا داعیہ اسلامی یا غیر اسلامی نہیں ہوتا، بلکہ فطری ہے، اور ہماری تمام ”مذہبی سیاسی فکر“ میں یہ سوال ہی غیرحاضر ہے، اور وہ تاریخ اور دینی روایت کے زندہ تجربے سے مکمل طور پر منقطع ہے۔ یہ امر ہماری حالیہ تاریخ سے واضح ہے کہ ”مذہبی سیاسی فکر“ نہ صرف مسلم اقتدار کے تصور ہی سے خالی ہے بلکہ عملاً اس کے خلاف سیاسی عمل میں اپنا وجودی تسلسل تلاش کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   قومی بحران اور ریاستِ مدینہ (۲) - محمد دین جوہر

تحریک پاکستان انسانی تاریخ میں کئی اعتبار سے غیرمعمولی ہے۔ میرے نزدیک اس کی حیثیت ایک unfinished revolution کی ہے اور جو ابھی جاری ہے۔ تحریک پاکستان ہی کی وجہ سے مغربی تہذیب/استعماری جدیدیت کے چار بنیادی ترین تصورات کو تخمی تبدیلی (radical transformation) سے گزرنا پڑا: (۱) اکثریتی جمہوریت کا تصور؛ (۲) قومیت کا تصور؛ (۳) مذہب کی بازیافت؛ اور (۴) ریاست اور ساورنٹی کا تصور۔ مغرب سے درآمدہ یہ جدید اور مذہب دشمن سیاسی تصورات اپنی اصل حالت میں باقی نہیں رہ سکے اور تحریک پاکستان کے ظہور سے ان میں نہایت بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں۔ یہ تصورات اپنے اصل معنوں میں مغربی نہیں رہے، اور یہ نتائج قیام پاکستان سے قبل واقعاتی طور پر سامنے آ چکے تھے۔ یہ سوال ابھی حل طلب ہے کہ وہ دین کی بنیادی سیاسی اقدار سے مطابقت پیدا کر پائے ہیں یا نہیں؟ لیکن یہ سوال زیراستعمار ظاہر ہونے والی ”مذہبی سیاسی فکر“ کے تناظر میں زیر بحث نہیں لایا جا سکتا، کیونکہ وہ فطرتِ انسانی اور تاریخ کے نیچرل آرڈر سے اس قدر متغائر ہے کہ اس میں رہتے ہوئے انسانوں کے زندہ مسائل کو سرے سے ایڈریس ہی نہیں کیا جا سکتا۔

ہمارے موجودہ قومی بحران میں ایک اہم مسئلہ متوارث استعماری ریاست کی ہیئت اور اسٹرکچر کا ہے جسے ناگزیر اصلاحات کے عمل سے گزار کر معاشرے سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے، اور اس کام میں پہلے ہی خطرناک حد تک تاخیر ہو چکی ہے۔ مطلوبہ اصلاحات بنیادی علمی کام کے بغیر ممکن نہیں۔ اس میں دلچسپ پہلو ”مذہبی سیاسی فکر و عمل“ کا جدید ریاست سے تعامل ہے۔ یہ فکر ریاست کو de facto تسلیم کرتے ہوئے اس سے ”اسلامی قانون کے نفاذ“ کا مطالبہ کرتی ہے، اور de jure اس پر ”مذہبی حکم“ لگا کر اس کے جواز کو مشتبہ بناتی ہے۔ اس سے بھی اہم فقہ کا یہ معروف موقف ہے کہ جدید ریاست ایک ”شخص غیر معین/فرضی شخص“ ہے کیونکہ یہ آرگنائزیشنل ہے اور فقہ میں نامعلوم ہے۔ جبکہ جدید عہد میں سیاسی طاقت اور سرمائے کی موجودگی اور فعلیت کا واحد اسلوب ہی آرگنائزیشنل ہے۔ فقہ کے اس خود تسلیم کردہ موقف کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مذہب کے پاس جدید سیاسی اور معاشی نظام پر کہنے کے لیے کچھ نہیں اور نہ وہ اس پر کوئی رہنمائی فراہم کر سکتا ہے۔ دیانت داری کا تقاضا یہ ہے کہ مذہبی سیاسی فکر اپنی اس داخلی تحدید اور مذہبی سیاسی عمل اپنے اس داخلی تضاد کو دور کیے بغیر ہم عصر صورت حال میں معاشرے کے لیے مفید نہیں ہو سکتا۔ مذہبی سیاسی فکر و عمل کی یہی وہ نارسائی ہے جو نہ صرف قومی سیاسی عمل پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے، بلکہ دین کی سیاسی تعلیمات کو ہم عصر دنیا سے بتدریج غیرمتعلق کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   قومی بحران، ہماری تاریخ اور چار مذہبی سوال (۳) - محمد دین جوہر

موجودہ قومی بحران میں ریاست اور معاشرے کا عدم تطابق بہت اہمیت کا حامل ہے۔ ریاست اور معاشرے کو فنا کر دینے والی کرپشن کا منبع یہی عدم تطابق ہے کیونکہ اگر ریاست کا قانونی سانچہ معاشرے کے جائز داعیات کی ثمرآوری میں مانع ہو تو کرپشن جنم لیتی ہے۔ اس صورت حال میں اصلاحات کے بغیر متوارث استعماری ہیئتوں کا احیا معاشرے میں کسی بڑی اور مثبت تبدیلی کا ذریعہ نہیں بن سکتا، بلکہ نئے مسائل کو جنم دے گا۔ ریاست کے متوارث استعماری اسٹرکچر کو معاشرے سے ہم آہنگ کرنے کے لیے تیز تر اور وسیع البنیاد قانون سازی کی ضرورت ہے۔ دوسری طرف، تحریک پاکستان کے پیدا کردہ بیانیے سے متعارض ”مذہبی سیاسی فکر“ کو رد کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بامعنی مستقبل کی طرف اعتماد سے پیشرفت کی جا سکے۔