ظلم، حماقت اور بے حسی - وقاص احمد

تحریک انصاف کی حمایت کرنے اور ووٹ دینے والوں میں ایک بڑی تعداد ان لوگوں کی بھی ہے جو عمران خان کی محبت سے زیادہ پچھلی حکومتوں کی طرزِحکمرانی اور کرپشن سے تنگ تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جو یہ جانتے تھے کہ ملک کے بڑے بڑے مسائل جیسے صنعتوں میں ترقی، برآمدات میں اضافہ، نوکریوں کی فراہمی، رہائش کے مسائل، عدالتوں میں برسوں سے زیر التوا لاکھوں مقدمات فوراً ختم نہیں ہوسکتے اور ان کےحل کے لیے دور رس اور مؤثر منصوبہ بندی اور اس پر استقامت کے ساتھ عمل درکار ہوگا۔ اسی طرح ریاستِ مدینہ کی طرز پر مملکت کو استوار کرنے کا نعرہ مستحسن تو تھا لیکن تحریک انصاف کا ماحول دیکھ کر نہایت مشکوک تھا۔ اور ایسا ہی نظر آرہا ہے کہ آہستہ آہستہ اسلامی فلاحی ریاست سے اسلامی کا لفظ نکال دیا جائے گا۔ کیونکہ اسلامی ریاست کی طرف پیش قدمی کرنے کے لیے عوام کے دنیاوی و جسمانی فلاح سے پہلے ان کی اخروی اور ایمانی فلاح کے فروغ کے اقدامات کیے جاتے ہیں۔ اور اس کام کو سرانجام دینے کے لیے پہلے جماعت کو اس بات کا خوگر اور متمنی بنایا جاتا ہے لیکن افسوس! جماعت یعنی تحریک انصاف کے کلیدی عہدوں میں ایسی نیک اور واضح سوچ رکھنے والے لوگ نہ ہونے کے برابر ہیں۔

معیشت میں بہتری اور ترقی کے حوالے تحریک انصاف نے دعوے تو بلند بانگ کیے تھے اور اسی وجہ سے تحریک انصاف کو اپنے اولین مہینوں میں جلد تبدیلی کے غیرحقیقی دعووں کی وجہ سے اپوزیشن کی سخت تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا لیکن تحریک انصاف کی حمایت کرنے والے اس طبقے نے اسے زیادہ اہمیت اس وجہ سے نہ دی کہ شاید تقریروں اور الیکشن مہم میں عمران خان کے اونچے اونچے بےسرو پا دعووں کی پاکستانی عوام کو ضرورت بھی ہو۔ کیونکہ دیکھا جائے تو عمران خان کے کرپشن سے پاک ماضی، زبردست سوشل ورک، اوپر سے ن لیگ کی نیب زدہ قیادت کے ابتر معاملات کے باوجود تحریک انصاف پنجاب میں ن لیگ سے ہار گئی۔ پھر کس طرح تحریک انصاف کو حکومت بنانے کے لیے پاپڑ بیلنے پڑے وہ سب کے سامنے ہے۔ پاکستان اور اس کے عوام کی گرتی ہوئی معاشی صورتحال اور پنجاب میں دس سال تک مسلسل شاہانہ طرز ِحکومت دیکھ کر بھی لوگوں نے ن لیگ کو نجانے کس امید اور کس جذبے کے ساتھ دوبارہ ووٹ دیے، وہ سمجھ سے باہر ہے۔ اس کا جواب شاید دیہی سندھ کا ووٹر ہی دے سکے جو پچھلے تیس سالوں سے پی پی پی کو ووٹ دے رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   نونکاتی معاہدہ پر عمل درآمد کب ہوگا؟ قادر خان یوسف زئی

بات کو آگے بڑھاتے ہوئے پی ٹی آئی کی حمایت کرنے والے اس سنجیدہ طبقے کو اس نئی حکومت سے سب سے زیادہ مایوسی اور تکلیف اُن امور پر ہوئی ہے جو کسی بڑے منصوبہ بندی اور جوئے شیر لانے کی متقاضی نہ تھی۔ یا جس کے لیے عقل و خرد کے سبک رفتار گھوڑے دوڑانے کی ضرورت نہ تھی، جس کے لیے بس نظم ِزیریں میں ڈسپلن اور سزا و جزا کے قانون کے عملدرآمد کی یقین دہانی کی ضرورت تھی جس کو کوئی بھی مخلص، سنجیدہ، پرعزم منتظم پہلے ہی ہفتے میں واضح کر دیتا ہے۔ جیسے پنجاب پولیس جو سیدھا سیدھا پنجاب حکومت کے ماتحت آتی ہے وہاں جیلوں میں جان لیوا تشدد، ماروائے عدالت قتل کی وارداتوں میں ہی کوئی واضح تبدیلی نظر نہیں آئی تو سڑکوں، چوراہوں پر عوام کے ساتھ ان کے ظلم پر کیا بات کی جائے۔ سانحہ ساہیوال اس بات کا کلائمیکس ثابت ہوا۔ تحریک انصاف کی حکومت چھ مہینوں میں ماتحت اداروں کو یہ واضح پیغام بھی نہ دے سکی کہ اب اگر غلطی ہوگی، عوام کے ساتھ زیادتی ہوگی تو اس کا خمیازہ بھگتنا ہوگا۔ عوام کے مفادات کا اب تحفظ ہوگا۔ افسوس کی بات ہے کہ پنجاب میں تھانہ کچہری کی سیاست ویسے ہی ہو رہی ہے جیسے پہلے ہوا کرتی تھی۔ ایک پولیس ریفارمز ہیں جس پر سوائے خبروں میں ڈھول بجانے کے کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی۔ تحریک انصاف کے حمایتیوں کا یہ طبقہ تو یہ سوچ رہا تھا کہ پنجاب پولیس کے حالات بہتر ہوں گے تو وفاق سندھ دباؤ بڑھائے گا اور سندھ پولیس کے حالات بہتر ہوں گے۔

دوسری طرف یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ یہ حکومت عوام کے بعض دینی جذبات کو سمجھنے کے معاملے میں بےحس دکھائی دے رہی ہے۔ سپریم کورٹ کا آسیہ کیس کے متعلق فیصلے پر وزیرِاعظم کی یکطرفہ سمجھ بوجھ سے عاری تقریر اور پھر اس کے بعد وزیراطلاعات فواد چودھری کی شراب سے متعلق بےحس گفتگو کی بازگشت ابھی ختم ہی ہوئی تھی کہ حج سبسڈی پر حکومتی فیصلے اور اس سے آگے بڑھتے ہوئے فلسفہ حج اور فیصلے کی منطق پر کسی اور نہیں بلکہ فواد چودھری کے خطبوں نے عوام کے بہت سے طبقات کو سیخ پا کر دیا ہے۔ بےدلیلی کی بھی حد ہوتی ہے۔ سب سے پہلے تو پیسے کاٹنے کے لیے حج سبسڈی کا انتخاب کرنا ہی حکومتی بےحسی کا مظہر ہے۔ اوپر سے یہ منطق کہ غریب عوام کا پیسہ لوگوں کے حج میں خرچ ہوجانے کا رونا انتہائی بچگانہ ہے۔ جب پٹرول میں ٹیکس بڑھتا ہے، جب عام اشیاء پر سیلزٹیکس لگتا ہے تو امیر اور غریب یکساں ٹیکس دیتے ہیں۔ جب حکومتی اداورں کو بحال کرنے کے لیے حکومت خزانے سے کئی سو ارب روپے دیتی ہے، اس وقت خیال نہیں آتا غریب عوام کے ٹیکس کا۔ حالانکہ اس میں بھی ٹاپ مینجمنٹ زیادہ مستفید ہوتی ہے۔ حکومتی حج سکیم میں زیادہ تر غریب متوسط طبقہ ہی حج کرتا ہے جبکہ پیسے والے لوگ پرائیویٹ حج کوٹہ کا استعمال کرتے ہیں اور اگر اس میں حکومت اپنا حصہ ریاست کی حیثیت سے حج کی اہمیت اور عظمت کا پاس کرتے ہوئے کوئی حصہ ہدیتاً اور تحفتاًڈال دیتی ہے تو یہ اس کے اپنے فیوض و برکات کا موجب بنتا ہے۔ لیکن حکومت کو گھیرے ہوئے سیکولر لبرل لوگوں کو ان روحانی معاملات کا کیا ادراک۔ ان کے نردیک تو یہ طنز و مزاح کی بات ہے کہ حج استطاعت سے باہر ہوگیا ہے تو نہ کرو، البتہ نمازیں مفت ہیں۔ جن لوگوں نے اس سال پائی پائی جوڑ کر پیسے اکھٹے کیے تھے اور جو اس سال حج سے محروم رہ جائیں گے، ان کی آہ کی ان لوگوں کو کوئی پرواہ نہیں۔ کم از کم سبسڈی ختم نہ کرکے اخراجات میں اضافے کو ڈیڑھ لاکھ تک نہ بڑھنے دے کر حکومت اس معاملے میں حساس رہنے کا مظاہرہ کر سکتی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   عمران خان کی بنگلہ دیشی سفیر سے ملاقات کا احوال - صہیب جمال

جو مسئلہ خطرناک حد سے آگے نکل رہا ہے وہ حکومت کی زبان ہے۔ جس کا مالک و مختار ایک ایسے شخص کو بنا دیاگیا ہے جو ماضی میں اپنی دین بیزاری اور لبرل جذبات کے حوالے سے شہرت رکھتا ہے۔ لبرل اور سیکولر طبقات وزیراطلاعات کے ہی پیچھے صف بندی کرتے نظر آ رہے ہیں۔ علمائے کرام اور دین کا قرب رکھنے والے پہلے ہی عمران خان کو اپنے خدشات کا اظہار کر چکے ہیں۔ بات سادہ ہے، مزید چند مہینوں میں یہ بات واضح ہوجائےگی کہ وہ اقدامات جیسے حکومت کا مجبور و لاچار کو عدل و انصاف دلوانا، ظلم کے معاملات میں فوری مداخلت کر کے ظالم کو منطقی انجام تک لے جانا، پاکستان میں اسلامی اقدار اور شعائر کی عمارت جتنی بھی کھڑی ہے، اسے کمزور کرنے کے بجائے مزید مضبوط اور بلند تر کرنا، یعنی جن کاموں کے لیے صرف نیت، عزم و جرأت اور فوری عمل درکار ہوتا ہے، یہ حکومت کتنی سنجیدہ ہے، واضح ہوجائے گا۔ اور یہی چیز تاریخ کے صفحات میں اس حکومت اور عمران خان کے مقام اور حیثیت کا تعین کرے گی۔

Comments

وقاص احمد

وقاص احمد

کراچی یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز اور سنہ2000 سے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں خدمات سرانجام دینے والے وقاص احمد ایک دنیا دیکھ چکے ہیں۔ مشرق وسطیٰ ، مشرقِ بعید اورآسٹریلیا کے سفر کر چکے ہیں ۔مطالعہ کا شوق تو بچپن سے تھا لیکن گزشتہ کئی برسوں سے باقاعدہ فلسفۂ دین،احیائے دین کی تحاریک، فلسفہِ اخلاق ، سیاست، احتساب اور تاریخ کے موضوعات ان کی تحقیقات اور فکر کا حصہ ہیں۔ اس حوالے سے علمائے کرام اور دینی اسکالرز کے بے شمار دروس اور لیکچرز میں شرکت کر چکے ہیں۔ ان سے ٹوئٹر پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.