اوپن ریلوے کراسنگ پھاٹک! حکومت غور کرے - حاجی محمد لطیف کھوکھر

ریلوے کی کسی بھی ملک کے معاشی نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت ہوتی ہے اور ملکی ذرائع آمدن کا ایک بڑاذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک بالخصوص امریکہ‘ برطانیہ‘ جرمنی‘ فرانس اور ایشیا میں چین‘ جاپان‘ ملائشیا میں ریلوے کی ترقی پر توجہ دی جاتی ہے اور وہاں ایک مربوط سسٹم موجود ہے۔ کیونکہ دنیا بھر میں ریل گاڑی کے سفر کو سستا ترین سفر سمجھا جاتا ہے اور کم آمدنی والے افراد کیلئے موثر ذریعہ آمدورفت ہے۔ جس کا کوئی متبادل نہیں۔ بھارت کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں ایک اَن پڑھ وزیر لالو پرساد نے اپنی وزارت کے دوران اسے بے پناہ ترقی دی جس کی بدولت آج انڈیا میں روزانہ لاکھوں افراد ریل گاڑی کا سفر کرتے ہیں۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ملک پاکستان میں شعبہء ریلوے میں بد عنوانیاں عروج پرہے ۔ آنے والی ہر حکومت نے محکمہ ریلوے کی ترقی کے حوالے سے بلند و بانگ دعوے تو کئے مگر بے سود۔ پنجاب میں اربوں روپے کی لاگت سے میٹرو، سپیڈو گاڑیاں لائی گئیں۔نامکمل منصوبے اورنج ٹرین کی تعمیر پر اربوں خرچ کئے جا چکے ہیں لیکن پاکستان ریلوے کی زبوں حالی پر توجہ نہیں دی گئی۔

اگر چہ سابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کسی حد تک اس کا خسارہ کم کرنے میں کامیاب رہے مگر محکمے کی مکمل بحالی کیلئے ٹھوس اقدامات نہ کئے جا سکے۔ موجودہ وزیر ریلوے شیخ رشید بھی ریلوے میں انقلابی تبدیلیاں لانے کے لئے کوشاں ہیں، ہر روز کسی نہ کسی نئی ریل گاڑی (پرانے کاٹھ کباڑ کو نئے رنگ وروپ دیکر) افتتاح کر دیتے ہیں۔لیکن ان کا یہ انقلابی پروگرام بھی صرف نئے ڈبوں یا گاڑیاں چلانے تک محدود ہے۔لیکن کبھی کسی بھی حکومت ریلوے پھاٹکوں اور ریلوے کراسنگ پر توجہ نہیں دی جہاں جانی حادثات رونما ہوتے رہتے ہیں۔ ان بغیر پھاٹک کے کراسنگز پر موسم سرما میں دھند کی وجہ سے حادثات میں اور بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔ملک بھر میں 11881 کلومیٹر طویل ریلوے ٹریک پر کل 4072 ریلوے کراسنگ ہیں۔ محکمہ ریلوے کے اعداد وشمار کے مطابق ان میں سے صرف1341 پرپھاٹک موجود ہیں جبکہ2731 پھاٹک سے محروم ہیں۔ ریلوے کے کراچی ڈویژن میں481،سکھر ڈویژن میں632، ،553لاہور ڈویژن میں،426راولپنڈی ڈویژن میں،318پشاور ڈویژ ن میں170اور کوئٹہ ڈویژن میں 107 بغیر پھاٹک کے ریلوے کراسنگ موجود ہیں۔ ان بغیر پھاٹک کے کراسنگز پر موسم سرما میں دھند کی وجہ سے حادثات میں اور بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔

ریلوے کراسنگزپر پھاٹک نہ لگوانے کی ذمہ صرف موجودہ حکومت ہی نہیں۔ ماضی کی حکومتوں کا ریکارڈ بھی کچھ قابل تحسین نہیں رہا۔ پیپلز پارٹی کے دور میں صرف 7لیول کراسنگز پر گارڈ تعینات ہوئے ۔ن لیگ کے دور میں اب تک 80لیول کراسنگز پر گارڈ زتعینات کئے گئے۔ متعدد بغیر پھاٹک کراسنگز پر صرف انتباہی بورڈز ہی لگے نظر آتے ہیں۔یہی وجہ ہے آج پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے کہ جہاں ریلوے کراسنگ سب سے زیادہ غیر محفوظ تصور کئے جاتے ہیں۔ پاک۔ چین اقتصادی راہدی کے منصوبے کے تحت فیز ون میں لاہور تا ملتان کے درمیان تمام لیول کراسنگز ،فیز ٹو میں کراچی سے پشاور تک مین لائن پر 2020ء تک تمام لیول کراسنگز ختم کر کے ان کی جگہ انڈر پاس اور پل بنائے جائیں گے۔ مگر ان سب منصوبوں پر عمل درآمد التوا کا شکار ہے۔ اس دوران ان ریلوے ٹریکس پر ہونے والے حادثات کا ذمہ دار کون ہوگا؟

ضرورت اس امر کی ہے کہ ریلوے پھاٹکوں پر جانی نقصانات سے بچنے کے لئے اور ٹریفک کا بہائو جاری رکھنے کے لئے جہاں جہاں ریلوے کراسنگ ہیں وہاں پل اور برج بنا دئیے جائیں تاکہ ایک تو لاہور جیسے بڑی آبادی کے حامل شہر میں ٹریفک کا نظام درہم برہم نہ ہو لاہور کے اندر کالاخطائی اور دوسرا ان ریلوے پھاٹکوں پر ہونے والے حادثات کو بھی کم کیا جا سکتا ہے۔سب سے ضروری بات حکام بالا کے گوش گزار کرنا ہے کہ کالاخطائی روڈ تک ریلوے کراسنگ کا متبادل نظام قائم کیا جائے۔ ریلوے پھاٹک اوپن ہونے اور گارڈز کی عدم تعیناتی کے باعث حادثات معمول بن چکے ہیں۔بہتر ہو گا کہ پلوں کی تعمیر کو ترجیح دی جائے۔اکثر و بیشترکوٹ لکھپت پل ریلوے پھاٹک بند ہونے سے فیروز پور روڈ پر ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوجاتا ہے اور یہاں گاڑیوں کی لمبی لائنیں لگی رہتی ہیں جس کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ شہری گاڑیوں میں محبوس ہوکررہ جاتے ہیں جبکہ متعدد ایمبولینسز بھی ٹریفک جام میں پھنسی رہتی ہیں ۔اگر یہاں اوور ہیڈ برج بنا دیے جائیں تو ان مشکلات پر کسی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔ اوپن ریلوے کراسنگ پھاٹک کی بدولت درجنوں قیمتی جانوں کا ضیاع ہو چکا ہے۔ محکمہ ریلوے صرف ان مقامات پرعملہ تعینات کرتاہے جہاں پر پھاٹک نصب ہیں ریلوے حکام کایہ بھی کہناہے کہ اراکین اسمبلی کی ذمہ داری ہے کہ وہ محکمہ ریلوے سے اوپن گراسنگ کیلئے پھاٹک منظورکرائیں، محکمہ ازخودپھاٹک نصب نہیں کرتاکیونکہ یہ پراجیکٹ کافی مہنگاہوتاہے اس لیے عوام کو چاہیے کہ اپنے منتخب نمائندوں کومجبورکریں کہ پورے ٹریک پرجہاں بھی اوپن کراسنگ پھاٹک ہیں، وہاں پر پھاٹک منظورکرائیں تاکہ جانی ومالی نقصانات سے بچا جا سکے۔

واضح رہے کہ ملک میں متعدد ریلوے کراسنگز پر چوکیدار نہ ہونے کے باعث گزشتہ پانچ برس میں 800 حادثات ہوئے جس کے نتیجے میں سینکڑوں شہری جاں بحق ہوچکے ہیں۔ ریلوے ایکٹ 1890ء میں واضح ہے کہ ریلوے پھاٹک کو اپ گریڈ کرنے سے متعلق امور کی ذمہ داری متعلقہ صوبائی حکومت اور روڈ اتھارٹیز پر عائد ہوگی جس کے لیے وزارت ریلوے تکینکی بنیادوں پر تمام وسائل فراہم کرے گی۔ خواجہ سعد رفیق نے انکشاف کیا تھا کہ ملک بھر میں 2 ہزار سے زائد ریلوے پھاٹک پر سگنلز اور کوئی ریلوے اہلکار تعینات نہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کی طرف سے واضح ہدایت بھی جاری کی گئی تھی کہ ریلوے ٹریکس پر سے گزرنے والے تمام راستوں پر فوری طور پر پھاٹک نصب کئے جائیں مگر ریلوے حکام کے کانوں پر جوں تک نہ رینگتی اور عدالت عالیہ کے اس حکم کو ہوا میں اڑا دیا گیا جس کا خمیازہ شہریوں کوریلوے ٹریکس پر آئے روز رونما ہونے والے انفرادی و اجتماعی ہلاکتوں کے واقعات کی شکل میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔ آنے والا ہولناک سانحہ ہے جس کی بازگشت آج بھی شہریوں کو سوگوار کردیتی ہے، اس بھلائے نہ جا سکنے والے درد ناک واقعہ میں جان بحق ہونے والے افراد کی تعدادمیں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے جو حکومت پر ایک سوالیہ نشان ہے۔