جگنو - مؤمنہ گل

برقی قمقموں کی جگ مگ دیکھتے ہی ذہن کی رو مختلف سمتوں میں سفر کرتی ہوئی ماضی میں لے گئی۔ غالبا سکول کا دور تھا اور گرمی کا موسم کہ صحن میں رات کو چہل قدمی کے دوران نظر اچانک تار پر لٹکے امی جان کے دوپٹے میں اٹک گئی۔ دوپٹے میں جھلمل سی ہو رہی تھی۔ چمک ہوتی اور پھر معدوم ہوجاتی ایک دلچسپ اور حیران کن منظر تھا۔ نظموں اور کہانیوں میں جگنو کو پڑھا ضرور تھا مگر کبھی دیکھا نہ تھا۔ جلد ہی سمجھ آگئی کہ یہ جگنو ہے، جو دوپٹے میں پھنس گیا تھا۔ اس کو دیکھنا ایک نیا اور انوکھا تجربہ تھا۔

اسی چمک دمک میں محو تھی کہ اندر سے صدا آئی کہ یہ آزادی کا طلب گار ہے، فوراََ جا کر اس کو دوپٹے کی قید سے آزاد کر دیا۔ سیاہ تاریک رات میں وہ اپنی روشنی بکھیرتا ہوا نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ مگر آج کی برقی جھلمل نے اس قصے کو ذہن کے پردہ پر تازہ کر کے پیغام دیا کہ روشنی کا کام ہی راستہ دکھانا ہے، قید میں بھی ہو تو اپنا کام کرتی رہتی ہے۔

قدرت نے جگنو کو جو کام سونپا ہے بغیر کسی اجر و معاوضہ کے وہ کام سر انجام دے رہا ہے۔میں اور آپ ہم سب بھی جگنو کی طرح ہیں ہر جگہ ہر پل اعمال صالحہ سے روشنی کرسکتے ہیں، جہالت کے اندھیروں کو ختم کرنے میں کہیں نہ کہیں ہم بھی شامل ہوسکتے ہیں۔ تاریکی اور ظلمت میں بھولے بھٹکے کسی راہ گزر کے لئے تو روشنی کی ایک چھوٹی سی کرن ہی بہت اہم ہوتی ہے۔