ہندو دیوی کا تہوار مسلمان کیوں منانے لگے؟ ثناء اللہ خان احسن

ہندی بھاشا کے پوربی لہجے میں گایا جانے والا یہ گیت بسنت، بہار کے موسم کے آغاز پر راگ بہار میں گایا جاتا ہے۔ یہ گیت بسنت پنچمی کے تہوار پر منائی جانے والی مختلف تقاریب کے دوران شام کے وقت گایا جاتا ہے۔


سکل بن پھول رہی سرسوں

امبوا بورے ٹیسو پھولے

کوئل بولے ڈار ڈار اور گوری کرت سنگار

ملنیا گڑھوا لے آئیں کرسوں


جس طرح اہل فارس بہار کی آمد پر جشن نوروز مناتے ہیں بالکل اسی طرح ہنود موسم بہار کی آمد کے موقع پر بسنت مناتے ہیں۔ بسنت (Basant) یا بسنت پنچمی موسم بہار میں منائے جانے والا بنیادی طور پر ہندوؤں کا ایک تہوار ہے۔ یہ پانچویں ہندو مہینہ ماگھ کی 5 تاریخ کو ہوتا ہے اور ویدوں میں اس کا تعلق سرسوتی دیوی سے بتایا جاتا ہے جو ہندو مت میں موسیقی اور آرٹ (فن) کی دیوی سمجھی جاتی ہے۔

بسنت کو ہندوستان کے بعض علاقوں میں دیگر مذاہب کے افراد بھی مناتے ہیں اور اس کی تاویل یہ دیتے ہیں کہ سردیوں کا موسم ختم ہو رہا ہوتا ہے، لوگ جو موسم کی شدت کی وجہ سے گھروں میں بند تھے۔ درجہ حرارت مناسب ہونے پر گھروں سے باہر آتے ہیں اور خزاں اور سرما کی بے رنگی اور بدمزگی جو ان کے مزاج اور آنکھوں پر چھائی ہوئی ہے اسے باہر آکر تیز رنگوں والے کپڑے پہن کر باہر گھوم پھر کر یا پتنگ بازی کر کے طبیعت کے اس زنگ کو اتارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ شوق کا زیادہ اظہار پتنگ بازی کی شکل میں نکلتا ہے۔ پرانی کتابوں کے مطابق پتنگ پر دو آنکھیں یا دوسرے شکلیں بنا کر آسمان سے نازل ہونے والی بلائیں دور کی جاتی ہیں۔ یہ خیالات جنوب مشرقی ایشیا کے کچھ ممالک میں بھی پائے جاتے ہیں جیسے سنگاپور، تھائی لینڈ وغیرہ۔سپاٹ آسمان اچانک رنگوں سے سج جاتا ہے۔ فطرت انگڑائیاں لیتی ہے اور ایک نئی زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔ خاکی رنگ کی زمین سرسوں کے پیلے اور ہرے رنگ کی وجہ سے رنگین ہو جاتی ہے۔ بہار کے دوسرے پھول اور پرندوں کی چہچہاہٹ خوشیوں کے پیغام لاتی ہیں کہ یہ بسنت ہے یہ جشن بہاراں ہے۔ فطرت کے اس رنگوں بھرے اور خوشیوں بھرے جشن میں انسان بھی شریک ہو جاتے ہیں۔ یہ لوگ وہ تمام کام کرتے ہیں جو اہل ہنود کرتے ہیں سوائے سرسوتی دیوی کی پوجا کے۔

برصغیر کے مسلمانوں میں بسنت منانے کا آغاز کیسے ہوا؟
حضرت امیر خسرو دہلوی نے اس میلے کو مسلمانوں میں رائج کیا۔ اس کی کہانی حضرت نظام الدین اولیا کی زندگی سے شروع ہوتی ہے، آپ 1238ء سے 1325ء عیسوی تک حیات رہے اور دہلی میں نظام الدین اولیا کی درگاہ انھی سے منسوب ہے۔ نظام الدین اولیا چشتیہ سلسلے سے تھے اور ہندوستان کے اہم صوفی بزرگ خیال کیے جاتے ہیں۔ سلسلہ ءِچشتیہ کا آغاز خواجہ معین الدین چشتی سے ہوتا ہے جن کا مزار اجمیر راجھستان میں ہے۔ خواجہ قطب الدین بختیار کاکی، المعروف قطب صاحب جن کی درگاہ دلی کے جنوب مغرب میں واقع مضافاتی علاقے مہرولی میں قائم ہے ان کے جانشین بنے۔ قطب صاحب کے بعد یہ منصب بابا فرید جن کی درگاہ پنجاب پاکستان میں ہے، نے سنبھالا اور ان کے بعد خواجہ نظام الدین اس منصب پر فائض رہے۔

روایت یہ ہے کہ محبوب الہی حضرت نظام الدین اولیا کو اپنے بھانجے مولانا تقی الدین نوح سے بہت پیار تھا۔ تقی الدین نوح کو بھی حضرت محبوب الہی سے اس درجے انس تھا کہ پانچوں وقت نماز پڑھ کر دعا مانگتے تھے کہ الہی میری عمر بھی محبوب الہی کو دے دے تاکہ ان کا روحانی فیض عرصہ دراز تک جاری رہے۔ بھانجے کی دعا قبول ہوئی اور اٹھتی جوانی ہی میں اس جہاں سے اٹھ گئے۔

حضرت نظام الدین اولیا کو یہاں تک صدمہ اور رنج و الم ہوا کہ آپ نے یک لخت، جس راگ کے بغیر دم بھر نہیں رہتے تھے، اسے بھی ترک کر دیا۔ سردیاں گزریں، بہار کے دن آئے تو حضرت کے دوستوں اور ساتھیوں نے ایک دن انہیں باہر جنگل کی سیر کا مشورہ دیا۔ تھوڑی دور ایک تالاب تھا، جہاں اب نظام الدین اولیا کی باؤلی ہے، سب اس کے کنارے پہنچے تو حضرت نظام الدین اولیا کو خیال آیا کہ امیر خسرو کہیں رہ گئے ہیں۔

ادھر خسرو نے چند دیہاتی عورتوں کو پیلا لباس پہنے، زرد پھول اٹھائے، گاتے ہوئے خواجہ صاحب کی چلہ خانقاہ کے قریب سڑک پر سے گزرتے دیکھا۔ خسرو نے ان عورتوں سے پوچھا کہ وہ یہ پیلا لباس پہنے کہاں جا رہی ہیں؟ اس عورت نے جواب دیا کہ وہ مندر میں اپنے بھگوانوں کو پھولوں کا نذرانہ پیش کرنے جا رہی ہیں۔ خسرو نے اس پر پوچھا کہ کیا اس طرح ان کا بھگوان ان سے راضی اور خوش ہو جائے گا۔ جب ان عورتوں نے کہا کہ امید ہے کہ ایسا ہی ہو گا۔

ادھر حضرت نظام الدین اولیا نے امیر خسرو کو لانے کے لیے ایک شخص کو بھیجا۔ لیکن جب وہ واپس نہیں آیا تو دوسرے کو بھیجا گیا اور جب وہ بھی واپس نہیں آیا تو تیسرے کو بھیجا گیا جس نے واپس آ کر بتایا کہ امیر خسرو کو ساتھ لانا مشکل ہے۔ اس پر نظام الدین اولیا خود ہی امیر خسرو کو لانے چل دیے، جب وہ وہاں پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ امیر خسرو سرسوں کے کھیتوں میں کھڑے ہیں، اپنا صافہ انہوں نے کھول کے کندھوں پر ڈال رکھا ہے، کانوں اور بالوں میں سرسوں کے پھول لگائے ہوئے ہیں اور بلند آواز سے ایک مصرع پڑھ رہے ہیں: اشک ریز، آمدہ است ابر بہار (بہار کے بادل چھائے ہوئے ہیں تو بھی آنسو بہا)

امیر خسرو پرایک حال کی سی کیفیت ہے۔ اتنی اونچی آواز سے مصرع پڑھ رہے ہیں کہ ایک زمانہ گونجتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ جن لوگ اس سے پہلے انہیں لانے کے لیے بھیجا گیا تھا وہ بھی ان کے ساتھ گانے میں شامل تھے۔ امیر خسرو نے دور سے حضرت نظام الدین اولیا کو آتے دیکھا توان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور شعر کا دوسرا مصرع پڑھا: ساقیا گل بریز بادہ بیار (اے ساقی پھول بکھیر اور شراب لے آ)

اس پوری کیفیت کا حضرت نظام الدین اولیا پر گہرا اثر ہوا۔ ان کا دل بھی بھر آیا لیکن وہ امیر خسرو کو ساتھ لے کر تالاب کے کنارے آگئے۔ اس دن کے بعد سے حضرت نظام الدین اولیا کے دل پر اپنے بھانجے کی موت کا غم ہلکا ہونے لگا اورانہوں نے پھر سے زندگی میں دلچسپی لینی شروع کی۔ کہتے ہیں اسی وقت سے بسنت کا میلہ مسلمانوں نے بھی منانا شروع کیا۔ دہلی میں چاند رات کو ایک پہاڑی پر اللہ میاں کی بسنت چڑھائی جاتی ہے۔

دہلی میں مسلمانوں کی بسنت کا احوال
دہلی میں بسنت کا آغاز عصر کی نماز کے بعد تقاریب کے باقاعدہ انعقاد سے شروع کیا جاتا ہے۔قوال قرون وسطیٰ سے قائم نظام الدین بستی کے قریب ایک گلی میں مغل عہد کے مشہور شاعر غالب کے مزار کے سامنے اکٹھے ہوتے ہیں۔ سالہاسال سے اس تہوار کی تقاریب کا آغاز اسی مقام سے ہوتا آ رہا ہے۔ زائرین بھی قوالوں کے اس قافلے میں شامل ہوتے جاتے ہیں جو اس نواحی بستی کی مختلف گلیوں سے شروع ہوتا ہے اور نظام الدین کے بھانجے خواجہ تقی الدین نوح کی مرقد پر رکتے ہوئے درگاہ میں داخل ہوتا ہے۔ درگاہ کے احاطے میں داخل ہونے کے بعد قوال اپنے ساتھ لائی پیلی چادریں سروں پر تان کر مزار کی عمارت میں داخل ہوتے ہیں۔ یہ سال کا وہ واحد موقع ہے جب قوالی مزار کے اندر نظام الدین کی قبر کے پاس ہوتی ہے،سال کے باقی ایام میں قوالی باہر صحن میں ہوتی ہے۔اس موقع پر درگاہ کے سجادہ نشین فاتحہ پڑھاتے ہیں۔ سجادہ نشین کا تعلق نظام الدین اولیا کے خاندان سے ہے اور وہ مزار کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ وہ قبر پر ایک پیلی چادر چڑھاکر ، زرد پھولوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں- ، اگر بتیاں جلائی جاتی ہیں اور قوال گانے لگتے ہیں۔


آج بسنت منائلے سہاگن، آج بسنت منائلے

انجن منجن کر پییا مورے، لمبے نیہر لگائے،

تو کیا سووے نیند کی ماری،

سو جاگے تیرے بھاگ، سہاگن، آج بسنت منائلے


دو گھنٹے تک قوالی کے بعد قوال امیر خسرو کی درگاہ تک جاتے ہیں اور چڑھاوے چڑھاتے ہیں۔ امیر خسرو کی درگاہ صحن کی دوسری جانب قائم ہے۔ مزار کا صحن مختلف عقائد اور طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے بھرا ہوتا ہے- جو سب اس صوفی بزرگ کی محبت اور عقیدت میں اکٹھے ہوتے ہیں- درگاہ میں خواتین کا داخلہ ممنوع ہے لیکن ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے مرد یہاں داخل ہو سکتے ہیں-

طویل تاریخ
اگرچہ آج نئی دلی کے مسلمان صرف حضرت نظام الدین اولیاء کے مزار پر ہی بسنت مناتے ہیں، لیکن حیدرآباد کے نظام الملک آصف جاہ کے ایک مصاحب درگاہ قلی خان نے دلی پر اپنی یادداشتوں "مرقع دلی" میں کئی ایسےمزارات کا ذکر کیا ہے جہاں بسنت کا تہوار منایا جاتا ہے۔ درگاہ قلی خان 1739 سے 1741 تک دلی میں مقیم رہے۔ یہ تقاریب سات روز تک جاری رہتی ہیں۔ چھٹے روز وہ بادشاہ کے محل جاتے ہیں، اور ساتویں روز احدی پورہ میں عزیزی کی قبر پر حاضری دیتے ہیں جسے شراب سےغسل دینے کے بعد وہاں باری باری ناچتے ہیں۔ بست کی تقریبات فیروز شاہ تغلق کے بیٹے فتح خان کی درگاہ قدم شریف پر بھی منائی جاتی تھیں، پہاڑ گنج میں قائم یہ درگاہ آج امتداد زمانے کے ہاتھوں مٹ چکی ہے۔ تہوار کے دوسرے روز گلوکار اور رقاص مہرولی میں قائم قطب شاہ کی درگاہ پر حاضری دیتے ہیں، پھر آج کے عظیم تر کیلاش کے قریب واقع درگاہ حضرت چراغ دہلی کے مزار پر جاتے ہیں۔

چراغ دہلی کی وجہ تسمیہ: لقب ’چراغ دہلی‘ کی وجہ بعض سیرت نگاروں نے یہ لکھی ہے کہ ایک دن چند درویش سیروسیاحت کرتے ہوئے حضرت سلطان المشائخ قدس سرہٗ کی خدمت میں پہنچے اور آپ کےگرد حلقہ بناکر بیٹھ گئے۔ اسی اثناء میں حضرت خواجہ نصیر الدین محمود تشریف لائے اور کھڑےہوگئے۔ حضرت سلطان المشائخ نے فرمایا بیٹھ جاؤ آپ نےعرض کیا کہ درویش بیٹھے ہوئےہیں انکی طرف پشت ہوتی ہے۔ حضرت اقدس نےفرمایا چراغ کےلیے پشت اور منہ نہیں ہے۔ آپ حضرت محبوب الہی کا حکم مان کر بیٹھ گئے۔ اُسی دن سے آپکے آگے اور پیچھے کی سمت برابر ہوگئی۔ یعنی سامنےاور پیچھےکی طرف یکساں دیکھ سکتے تھے اور اُسی روز سے آپ کا لقب چراغ دہلی ہوگیا۔ ایک اور کتاب میں اس لقب کی وجہ یہ درج کی گئی ہے کہ ایک رات حضرت سلطان المشائخ کے عرس کے موقع پر بادشاہِ وقت نے حسد کی بنا پر بازار میں سارا تیل ضبط کرلیا اور حضرت شیخ نصیر الدین محمودنے تمام چراغوں کو پانی سے روشن فرمایا۔ اُسی روز سے آپ کا لقب چراغ دہلی ہوگیا۔(اقتباس الانوار:482)

چندر شیکھر اور شمع مترا چوہدری اپنی کتاب 'The Mughal Capital in Mohammad Shah’s Time' میں درگاہ قلی خان کی یادداشتوں کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں "خوشی کے اس تہوار کے موقع پر لوگ بے صبری سے قوالوں، رقاصوں اور زائرین کا انتظار کرتے ہیں، قوال اور گائیک اس موقع پر خوبصورت دھنیں گا کر خراج عقیدت پیش کرتے ہیں اور زائرین پھولوں کے رنگین گلدستوں کا نذرانہ اس پاک روح کو پیش کرتے ہیں۔" "یہ تقاریب سات روز تک جاری رہتی ہیں۔ چھٹے روز وہ بادشاہ کے محل جاتے ہیں، اور ساتویں روز احدی پورہ میں عزیزی کی قبر پر حاضری دیتے ہیں جسے شراب سےغسل دینے کے بعد وہاں باری باری ناچتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے گانے بجانے سے عزیزی کی روح کو سکون نصیب ہو گا۔"

پاکستان میں بسنت:
بسنت پتنگ کا تہوار پنجاب کے شہروں میں مقبول ہے۔ لاہور میں یہ تہوار تاریخی طور پر راجا رنجیت سنگھ کے دور میں بہار کا خیرمقدم کرنے کے لیے منایا جاتا تھا۔ تہوار کی تقریبات پر مذہبی رنگ غالب تھا۔ مہاراجا کا میلے میں باقاعدہ گرنتھ صاحب سننا اور گرنتھی کو تحائف دینا مذہبی رسومات کے زمرے میں آتا ہے۔ ہندو برہمنوں کو نذرانے دیتے ہیں تو سکھ گرنتھیوں کو تحائف دیتے ہیں۔ سکھ مذہب میں بسنتی یا زرد رنگ کو بھی ایک خاص تقدس کا مرتبہ حاصل ہے۔

پنجاب، پاکستان میں تہوار پر پابندی
بسنت کے موقع پر دھاتی دھاگوں کے استعمال سے بعض ہلاکتوں کے باعث پنجاب، پاکستان کی صوبائی حکومت نے چند برس قبل بسنت کے تہوار اور اس موقع پر پتنگیں اڑانے پر پابندی عائد کر دی تھی۔ 2012ء میں اس کو لاہور لائی کورٹ نے برقرار رکھا تھا۔ تاہم صوبائی حکومت 2017ء سے اس تہوار کو بحال کرنے پر غور کر رہی ہے۔

( اس آرٹیکل کی تیاری میں وکی پیڈیا، بی بی سی اردو اور اسکرول ان بلاگ پر شائع مضامین سے مدد لی گئی ہے)