ماں کے رَحَم میں ایک مکالمہ

ایک ماں کے رحم میں دو بچے تھے. ایک نے دوسرے سے پوچھا: "کیا تم زچگی کے بعد کی زندگی پر یقین رکھتے ہیں؟"

دوسرے نے جواب دیا:"کیوں نہیں! زچگی کے بعد کچھ نہ کچھ ضرور ہوگا. ہوسکتا ہے کہ ہمیں یہاں اُس زندگی کے لیے تیار کیا جارہا ہو."

"پہلے نے غصے سے کہا:" بیوقوف! زچگی کے بعد کوئی زندگی نہیں ہے. زچگی ہماری زندگی کا اختتام ہوگی. بس! "

دوسرے نے جواب دیا:" میں بالکل ٹھیک سے تو نہیں بتا سکتا کہ وہ زندگی کیسی ہوگی. لیکن مجھے یقین ہے کہ وہاں یہاں سے زیادہ روشنی ہوگی. ہوسکتا ہے کہ ہم اپنی ٹانگوں پر چل سکیں، ہم اپنے منھ سے کھا سکیں. ہوسکتا ہے کہ ہم ایسے حواس کے مالک ہوں جن کے بارے میں ابھی ہم یقین سے کچھ کَہ نہیں سکتے."

پہلے نے جواب دیا:" تم جو کَہ رہے ہو وہ بہت ہی مضحکہ خیز ہے. چلنا تو بالکل ہی ناممکن بات ہے. اور اپنے منھ سے کھانا!، ہونہہ! یہ تو انتہائی فضول بات لگتی ہے. یہ نالی جو ہمارے جسم سے جڑی ہوئی ہے، یہی ہماری غذائی ضروریات پوری کرتی ہے، اسی پر ہماری زندگی کا انحصار ہے. اور یہ اتنی چھوٹی سی ہے کہ زچگی کے بعد اس کے سہارے زندہ رہنا ناممکن ہوگا."

دوسرے نے اصرار کرتے ہوئے کہا:" دیکھو میرے خیال میں وہاں اس زندگی سے کچھ مختلف ہوگا. ہوسکتا ہے کہ ہمیں وہاں اس نالی کی ضرورت ہی نہ رہے. ہم اس کے بغیر بھی زندہ رہ سکیں."

پہلے نے جواب دیا:" بالکل فضول! لیکن اگر تمھاری بات مان بھی لیں اور وہاں کوئی زندگی بھی ہے تو وہاں جانے والوں میں سے کوئی واپس کیوں نہیں آیا؟ ہے کوئی اس کا جواب؟ اس لیے مجھے یقین ہے کہ زچگی زندگی کا اختتام ہے. اور زچگی کے بعد صرف اندھیرا اور خاموشی ہوگی. یہ انجام ہمیں کہیں اور لے کر نہیں جائے گا."

یہ بھی پڑھیں:   بچوں کی تربیت کیسے کریں؟ سعدیہ نعمان

دوسرے نے کہا:" میں نہیں جانتا لیکن مجھے یقین ہے کہ ہم ماں سے ملیں گے اور وہ ہمارا خیال رکھے گی."

پہلے نے حیرانی سے کہا:" کیا تم واقعی ماں پر یقین رکھتے ہو؟ ہاہاہا! یہ تو لطیفہ ہوگیا. اچھا! بتاؤ کہ اگر واقعی ماں ہے تو وہ اس وقت کہاں ہے؟"

دوسرے نے جواب دیا:" وہ ہمارے چاروں طرف ہے. ہم اس سے گھرے ہوئے ہیں. ہم اس کے وجود کا حصہ ہیں. ہم اس کے وجود میں رہتے ہیں اور اس کے بغیر یہ کبھی دنیا قائم نہیں رہ سکتی."

پہلے نے کہا:" لیکن وہ ہے کہاں؟ چوں کہ میں اسے دیکھ نہیں سکتا اس لیے میں نہیں مانتا کہ وہ وجود رکھتی ہے."

اس کے جواب میں دوسرے نے کہا:" بعض اوقات جب مکمل خاموشی ہو، تم غور کرو اور سننے کی کوشش کرو تو تم اس کی موجودگی کو محسوس کرسکتے ہو. تم اس کی محبت بھری آواز سن سکتے ہو. جیسے وہ ہمیں کہیں دور سے، کہیں بلندی سے پکارتی ہے، ایک قابلِ یقین چاہت بھری آواز میں."

(انگریزی سے ترجمہ عاطف الیاس)

Comments

عاطف الیاس

عاطف الیاس

عاطف الیاس ایک نجی کالج میں پڑھاتے ہیں. لکھنے پڑھنے، پھرنے پھرانے اور ٹریکنگ کے شوقین ہیں. عالم، فاضل یا دانشور جیسے الفاظ انھیں زیب نہیں دیتے اس لیے محض اپنی طالب علمانہ رائے کا اظہار کرتے ہیں، لیکن بالیقین نظریاتی طور پر عالم اسلام اور تمام انسانیت کے مسائل کا حل اسلام کے عملی نفاز میں دیکھتے ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.