قومی بحران، ہماری تاریخ اور چار مذہبی سوال (۳) - محمد دین جوہر

گزارش ہے کہ آج کا پاکستان اور برصغیر کا مسلم معاشرہ گزشتہ دو سو سالہ تاریخ کا براہ راست ثمر ہے۔ پاکستان سمیت برصغیر کا مجموعی مسلم معاشرہ جس تہذیبی بحران سے دوچار ہے، وہ نہ صرف جاری ہے بلکہ وقت کے ساتھ گہرا ہو رہا ہے اور تاریخ کی قوتیں اور سیکولرائزیشن کا بھنور اس وسیع الجہت معاشرے کو ہڑپ کیے جا رہا ہے۔ آج پاکستان کی اجتماعی صورت حال میں سیکولرائزیشن کے ساتھ سیاسی عدم استحکام اور معاشی انہدام کے مسائل بھی سنگین ہو چکے ہیں۔ لیکن اس وقت پاکستان جس قومی بحران سے گزر رہا ہے اس کو اپنی تاریخ کے تناظر میں دیکھنا ضروری اور مفید ہو سکتا ہے۔ اس سے قبل سترھویں صدی میں بھی برصغیر کے مسلم معاشرے نے ایک نہایت مہلک سیاسی بحران کا سامنا کیا تھا۔ مغلِ اعظم کے عہد میں ظاہر ہونے والا بحران جدید معنوں میں سیاسی بیانیے ہی کا بحران تھا اور ایک لحاظ سے نہایت حیرت انگیز تھا۔ عین اس وقت جب برصغیر میں مسلم سیاسی طاقت اپنے نقطۂ عروج کو پہنچی تھی، اس کا سیاسی ورلڈ ویو مکمل طور پر منہدم ہو جاتا ہے۔ اس میں حیرت کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ اکبرِ اعظم کی انتہائی کوششوں کے باوجود ہندو معاشرہ ایسی سیاسی اور اجتماعی اقدار سامنے نہ لا سکا جو مسلم ورلڈ ویو کو replace کر سکتیں۔ حضرت مجدد علیہ الرحمۃ کی کوششوں کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ اکبر اعظم اپنے پیدا کردہ سیاسی بیانیے یا سیاسی ورلڈ ویو کے خلا کو خود پر کرنے میں ناکام رہا تھا۔ اگر ہندو معاشرہ اکبر اعظم کو مربوط سیاسی اقدار کی کمک دینے میں کامیاب ہو جاتا تو قوی اندیشہ تھا کہ برصغیر میں مسلم معاشرے کا مکمل خاتمہ ہو جاتا۔

پس منظر کے طور پر اپنی تاریخ کو آواز دینا اس لیے ضروری تھا کہ دو باتوں کا اعادہ کیا جا سکے۔ ایک یہ کہ پاکستان کا موجودہ بحران مغلیہ بحران کی طرح اپنی بنیاد میں دینی، تہذیبی اور سیاسی اقدار اور فکر کے پہلو رکھتا ہے۔ دوسرے یہ کہ ہماری قریب کی تاریخ میں حضرت مجدد علیہ الرحمہ کے بے مثل کردار سے رہنمائی لی جا سکے۔ ہماری تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ مسلم معاشرے میں جب بھی سیاسی مشکلات یا فکری انتشار کی صورت حال پیدا ہوئی، اس سے نبرد آزما ہونے والی شخصیت کا مذہبی موقف قطعی بے لچک رہا ہے۔ اس میں سب سے بڑی مثال تو خلیفۂ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی ہے کہ اہم مواقع پر ان کے فیصلوں کی مذہبی بنیاد قطعی بے لچک تھی حالانکہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سمیت دیگر صحابہ کرام کی رائے مختلف تھی جیسا کہ لشکر اسامہ کی روانگی اور ردہ کی جنگوں وغیرہ سے واضح ہے۔ خوارج کے مقابلے میں امام اعظم علیہ الرحمہ کا مذہبی موقف بھی قطعی بے لچک تھا۔ اسی طرح حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کی روشن مثال ہے۔ امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کے جائز فکری تصلب اور بے لچک موقف کو ان کے ہم عصر سیاسی اور فکری انتشار کے پس منظر میں دیکھا جائے تو اس کی معنویت آشکار ہو جاتی ہے۔ مثالوں کی کمی نہیں اور ہمارے قریب کی غیرمعمولی مثال تو حضرت مجدد علیہ الرحمۃ کی ہے۔ داخلی اور خارجی طور پر ان کا مذہبی موقف اس حد تک بے لچک اور قطعی تھا کہ آدمی کو حیرت ہوتی ہے۔ بزرگوں کے عمل اور بصیرت سے جو معلوم ہوتا ہے وہ یہی ہے کہ مذہبی موقف پر کمپرومائز کرنا مسلم معاشرے کے لیے موجب ہلاکت ہے، جبکہ سیاسی عمل تاریخ کی رہ گزر پر ممکن کا راستہ تلاش کرنا ہے۔ حالاتِ انتشار میں بے لچک مذہبی موقف کا مقصد سیاسی عمل سے اس کے امتیازات کو واضح رکھنا ہے تاکہ دین کے راکب اور تاریخ کے مرکب ہونے کی حیثیت خلط ملط نہ ہو جائے۔ لیکن افسوس کہ انیسویں صدی میں مذہبی موقف و عمل اور سیاسی موقف و عمل میں ایسے التباس کا آغاز ہوا کہ مسلم معاشرہ انتشار در اتنشار کی تصویر بن گیا۔ ہمارے قومی بحران کی موجودہ صورت حال اسی التباس کا تسلسل ہے۔

گزارش ہے کہ گزشتہ دو سو سال کے انتشار میں کانٹے کے چار ایسے مواقع آئے ہیں جب ہم اجتماعی/سیاسی صورت حال میں مذہب کے موقف کو باقی نہ رکھ سکے۔ اس سے مذہب کی ہدایتی حیثیت متاثر ہوئی اور مذہب کے نام پر معاشرے میں ایسے سیاسی اعمال کا آغاز ہوا جن کے ہوتے ہوئے کسی بھی طرح کے مستحکم انسانی معاشرے کے قیام کا امکان ہی ختم ہو جاتا ہے۔ اس میں اہم تر پہلو یہ ہے کہ تاریخ اور سیاسی عمل میں درست مذہبی موقف کو باقی رکھنا کسی بھی طرح کے عمل سے زیادہ ضروری ہے مثلاً قبلہ کی مخالف سمت رخ کر کے نماز پڑھنا اور اسے نماز کہنے پر اصرار کرنا دینی حکم کو برباد کرنے کے مترادف ہے۔ گزشتہ دو سو سال میں ہمارے دین کی سیاسی تعلیمات کے ساتھ یہی کچھ ہوا ہے۔ مذہب اور سیاست کا باہمی تعلق ایک لاینحل پیچیدگی اختیار کر چکا ہے، اور اس بات کا اندیشہ ہے کہ ہمارا معاشرہ اپنے تاریخی تجربے کی وجہ سے سیاست کے ہر مذہبی تصور ہی سے دستبردار ہو جائے۔

استعماری جدیدیت کے تحت تجدید کے جس دور کا آغاز ہوا تھا، اس میں بنیادی مسئلہ ایمانیات کو جدید علوم اور ان کی منہج کے تابع کرنا تھا، اور جدید اسلام کی پوری تشکیل اسی طریقۂ کار پر ہوئی ہے۔ دوسری طرف چار اہم تاریخی مواقع پر مذہبی بنیادوں پر جو سیاسی عمل اختیار کیا گیا، اس کا نتیجہ بھی دینی لحاظ سے نہایت تباہ کن نکلا۔ آقائے سرسید کی تعبیراتی کارگزاری اور علما کی زیر قیادت سیاسی عمل کی ان دو متوازی سرگرمیوں سے ہمارا مذہب جن مراحل سے گزرا ہے اور جس حالت کو پہنچا ہے، وہ اب مسلم معاشرے کے لیے کوئی تہذیبی امکانات نہیں رکھتا، الا یہ کہ ہم اپنی دینی اور تہذیبی اقدار کی طرف ازسر نو رجوع کریں۔ یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ ہم اپنے دو سو سالہ تاریخی تجربے سے بصیرت پکڑ کر ہدایت حق کی خودمختار حیثیت کو ازسرنو تسلیم کریں اور اس پر ایک نئی تہذیب کی نیو اٹھانے کی کوشش کریں۔

واضح رہے کہ مذکورہ چار مواقع کے بارے میں کسی بھی قسم کی سیاسی اور فکری گفتگو کی بجائے ان کو صرف مذہبی زاویے سے دیکھنا مطلوب ہے۔

(۱) پہلا موقع: سنہ ۱۸۰۳ء میں دہلی پر جنرل لیک کا قبضہ ہوا۔ اس تاریخی واقعے کا مذہبی بیان کیا ہو سکتا ہے؟ اس میں کوئی کلام نہیں کہ اس صورت حال کے بارے میں بیسیوں سیاسی، معاشی، تہذیبی، ثقافتی، تعلیمی، انتظامی، قانونی اور فکری باتیں کہی جا سکتی ہیں اور کہی گئی ہیں۔ لیکن فی الوقت مجھے ان میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ بطور مسلمان ہمارا عقیدہ ہے کہ دین نجی، سماجی اور اجتماعی معاملات میں مکمل ہدایت ہے، تو یقیناً اس صورت حال کا مذہبی بیان اور اس سے متعلق دینی رہنمائی موجود ہوگی۔ گزارش ہے کہ حضرت شاہ عبدالعزیز علیہ الرحمۃ کا دار الحرب کا فتویٰ اس صورت حال پر ایک مکمل مذہبی مؤقف کا اظہار ہے۔ عین اسی صورت حال کو سادہ مذہبی پیرائے میں یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ ”باطل کا غلبہ ہو گیا ہے“۔ اس تاریخی صورت حال کو صرف قانونی یا ایمانی مؤقف میں بیان نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ تاریخی، سیاسی اور اجتماعی صورت حال ہے، اور یہ دوسرے موقف اس معاملے میں ضمنی تو ہو سکتے ہیں، بنیادی نہیں۔ باطل لازماً تاریخی، سیاسی اور اجتماعی جہات رکھتا ہے۔ مذکورہ واقعے کے حوالے سے جو مذہبی سوال اٹھانا مطلوب ہے وہ یہ ہے کہ ”باطل کے غلبے کی تاریخی صورت حال میں باطل کے خلاف جہاد اور مزاحمت ضروری ہے یا شرک و بدعات کی اصلاح؟“ یہ بات معلوم ہے کہ باطل کے اس غلبے کی صورت حال میں جو بڑی مذہبی تحریک سامنے آئی وہ شرک و بدعات کے خلاف اصلاحی تحریک تھی۔ مسلم معاشرے میں شرک و بدعات کی اصلاح ایک ایسی آڑ بن گئی جس میں باطل اور اس کا غلبہ نہ صرف نظرانداز ہو گیا بلکہ بتدریج مسلم سیاسی فکر اور سیاسی عمل سے بھی محو ہو گیا۔

یہ بھی پڑھیں:   لاڈلہ مرید -پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

باطل اولاً ایک مذہبی سیاسی تصور ہے، لیکن ایک آدھ استثنیٰ کے علاوہ ہماری گزشتہ دو سو سالہ مذہبی سیاسی فکر باطل کے تصور سے خالی ہے۔ ہماری مذہبی سیاسی فکر کا مرکز و منبع عقیدہ اور کفر و شرک کے مسائل ہیں، جس کا تعلق ایمانیات سے ہے، اور جو نجی، سماجی اور قانونی دائرے تک محدود ہے۔ ہم نے مذہبی سیاسی عمل کو حق و باطل کے تاریخی تناظر کی بجائے کفر و شرک کی ایمانیات پر استوار کرتے ہوئے مسلم معاشرے تک محدود رکھا ہے۔ اس کا براہ راست نتیجہ مسلم معاشرے کی تباہی اور انتشار کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ ایک تاریخی مظہر کے طور پر باطل مسلم معاشرے کا غیر ہے۔ مسلم معاشرہ سو طرح کے عیوب و نقائص کا شکار ہو سکتا ہے، اور عین ممکن ہے اس میں کفر و شرک اور بدعت کے مظاہر بھی نظر آنے لگیں، یا سیاسی طاقت کی کمزوری میں وہ باطل کا محکوم نظر آئے، لیکن یہ ممکن نہیں کہ وہ اجتماعی طور پر باطل کا نمائندہ ہو۔ دار الحرب کی مابعد مذہبی تعبیرات سے باطل کے سیاسی تصور کا خاتمہ ہو گیا، اور کفر، شرک اور بدعت وغیرہ کو سیاسی مرکزیت حاصل ہو گئی۔ اس میں مسئلہ یہ کہ مسلم معاشرے میں کفر و شرک کے محدود مظاہر کی نشاندہی کی جا سکتی ہے اور ان کو جواز بنا کر مذہب کی بنیاد پر ان کے خلاف سیاسی اور جنگی عمل کا جواز پیدا کیا جا سکتا ہے۔ باطل کے مذہبی سیاسی تصور کے ہوتے ہوئے یہ ممکن نہیں۔ پاکستانی اور کئی دیگر مسلم معاشروں میں داخلی مذہبی نقائص کو جواز بنا کر تحریک طالبان اور داعش وغیرہ جیسے عفریت سامنے آئے ہیں۔ ان کی تہہ میں مسخ شدہ مذہبی سیاسی تصورات کارفرما ہیں جو شرک اور بدعات کی بنیاد پر تشکیل دیے گئے ہیں۔ اس میں اہم تر یہ ہے کہ باطل کا مذہبی شعور اگر کمزور ہو جائے تو ایسے مذہبی شعور کو تاریخی قوتوں کا آلہ کار بنتے دیر نہیں لگتی۔ ہمارے ہاں نیم مذہبی اور مذہبی فکر و عمل کے کئی دھارے اس وقت اسی مسئلے سے دوچار ہیں۔ بدعات کے خلاف مذہبی اصلاحی اور سیاسی تحریک کے اثرات ہی کی وجہ سے مذہبی سیاسی فکر سے باطل کا تصور غائب ہونا شروع ہوا، اور جنگ آزادی کے بعد مذہبی سیاسی فکر سے باطل کے تصور ہی کا خاتمہ ہو گیا۔ تاریخی صورت حال سے پیدا ہونے والے مذہبی مطالبے سے ارادی دستبرداری اور معاشرہ دشمن سیاسی عمل کو اختیار کرنے سے مذہب کی ہدایتی حیثیت کو بہت زک پہنچی۔

جو آدمی ذرا سا بھی تاریخی اور سیاسی شعور رکھتا ہے اس پر یہ بات چھپی نہیں رہ سکتی کہ شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا فتویٰ ہندوستان کے بارے میں ہے، لیکن انگریزوں کے اقتدار کو دار الحرب قرار دینا استعمار کو متضمن ہے اور جو اس وقت ایک گلوبل مظہر تھا۔ اس فتوے کو صرف ہندوستانی تناظر میں زیر بحث لانا ممکن نہیں کیونکہ باطل کے جس غلبے کی وجہ سے ہندوستان کو دارالحرب قرار دیا جا رہا تھا وہ گلوبل اور عالمگیر تھا۔ اس لیے جو ذہن بریدہ اور دہن دریدہ لوگ پاکستان کے حوالے سے یہ سوال اٹھاتے ہیں انہیں اپنے تاریخی شعور کے ساتھ ساتھ مذہبی شعور کو بھی دوبارہ دیکھنے کی ضرورت ہے۔

(۲) دوسرا موقع: انیسویں صدی میں دو جہاد ہوئے۔ ان کے بارے میں مذہبی سوال یہ ہے کہ ان میں کون سا ”اسلامی“ ہے اور کون سا ”غیراسلامی“؟ یہ فیصلہ کرنا اس لیے ضروری ہے کہ ان دو جہادوں کے پس منظر میں کارفرما دینی مؤقف اور مذہبی فکر یکسر مختلف تھی۔ یہ بات اس امر سے قطعی واضح ہے کہ ان جہادوں کے علمبردار باہم دشمنی اور شدید مخاصمت کا تعلق رکھتے تھے، اور ایک دوسرے کو کافر یا منافق یا مشرک کہنا ان کی پبلک مذہبی پوزیشن کا بنیادی جز تھا۔ ہمارے ہاں داعش یا تحریکِ طالبان پاکستان کے بارے میں مذہبی بنیادوں پر دوگونگی اور مذہبی سیاسی آدمی کی پاکستان کے بارے میں عدم یکسوئی کا سبب یہی ہے کہ ہم نے ان دو جہادوں کے بارے میں درست مذہبی پوزیشن اختیار کرنے سے پہلو تہی کی ہے۔ سنہ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی مسلم معاشرے کی درست مذہبی پوزیشن کا اظہار تھی جبکہ تحریک مجاہدین پہلے اصلاحی طور پر اور پھر جنگی طور پر مسلم معاشرے ہی کے خلاف برسرپیکار تھی۔ مسلم معاشرے کے خلاف جنگی اقدام اس لیے ممکن ہو سکا کہ تحریک مجاہدین اپنے علاوہ برصغیر کے پورے مسلم معاشرے کو علی الاطلاق مشرک اور منافق گردانتی تھی اور واقعاتی باطل اس کے سیاسی ادراک میں مفاہمانہ موجودگی رکھتا تھا۔

سنہ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں مسلمان تین حصوں میں منقسم تھے۔ ایک بڑا گروہ فتویِ جہاد کے بعد اپنے لولے لنگڑے بادشاہ کے جھنڈے تلے جمع ہو کر جنگ میں شریک ہوا۔ یہ فتویٰ دراصل شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے فتوے ہی کا تسلسل تھا۔ دوسرے وہ جو سرسید احمد خاں کی طرح متفرق طور پر انگریز حکومت کے وفادار اور حامی رہے۔ مسلمانوں کا تیسرا معتد بہ گروہ غیرجانبدار رہا۔ سوال یہ ہے کہ ان میں کون سے مسلمان گروہ کی پوزیشن مذہبی تھی؟ آقائے سرسید کی بنیادی پوزیشن اس مسلمان گروہ کے خلاف تھی جو جنگ آزادی میں شریک ہوا۔ شکست اور دبستانِ سرسید کے مابعد غلبے کی وجہ سے اہلِ حق کی پوزیشن کو مذہبی کہنے میں تامل ہوتا ہے، لیکن قطعی ظاہر ہے کہ جہاد کے فتوے کے تحت استعمار کے خلاف لڑنے والے مسلمانوں کی پوزیشن عین مذہبی تھی۔ اس جنگ میں اہلِ حق کی ایک فصل کٹ گئی اور دس ہزار سے زیادہ علما شہید ہوئے اور ہزاروں ہزار قید ہوئے۔ لاکھوں (جس کا اندازہ دس لاکھ سے ایک کروڑ تک ہے) ہندوستانیوں کا قتل عالمگیر استعماری نسل کُشی کے مقامی مظہر کے طور پر سامنے آیا۔ ہمارے قومی اور مذہبی سیاسی مسائل کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کے تہذیبی اور فکری دھاروں میں آج ان کا کوئی وارث نہیں ہے۔ پاکستان کی تہذیبی اور مذہبی تشکیل میں مؤخر الذکر دو گروہوں کی حیثیت بنیادی رہی ہے۔ ان میں سے دنیوی سیادت دبستان سرسید کے ہاتھ میں آئی اور غیر جانبدار علما نے مذہبی خلا کو پر کیا۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو اس وقت پاکستان میں باہم فکری مناقشہ بھی ان دو گروہوں کے درمیان ہے۔ نائن الیون کے بعد، عالمی سیاسی طاقت کی کروٹ سے جو فکری اور تہذیبی چیلنج سامنے آئے، ان میں سے کوئی دھارا ان سے نبردآزما ہونے کی فکری استعداد نہیں رکھتا۔

یہ بھی پڑھیں:   محبت کی تاریخ - صائمہ راحت

جنگ آزادی سے ایک چیز یقیناً واضح ہو جاتی ہے کہ ہمارا روایتی مذہبی شعور باطل کے گہرے ادراک سے مملو تھا۔ اس کے حامل افراد نے اپنے دستیاب سیاسی اور معاشی وسائل اور موجود قیادت کے تحت کسی بھی طرح کی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔ شکست اس بنیادی پوزیشن کے خلاف کوئی دلیل فراہم نہیں کرتی۔

(۳) تیسرا موقع: تحریک خلافت ایک مذہبی تحریک تھی، جس کی قیادت بالآخر گاندھی جی کے ہاتھ میں چلی گئی اور انہوں نے ہی اس تحریک کے خاتمے کا اعلان کیا۔ گاندھی جی کی عظمت کا ہمیں اعتراف ہے۔ لیکن اس میں کیا شک ہے کہ ہماری مذہبی زبان میں وہ مشرک اور کافر تھا، اور یہ بات کہنے سے کوئی سوئے ادب مراد نہیں۔ اس تحریک کے حوالے سے ہمیں دلچسپی صرف مذہبی سوال میں ہے کہ ”کیا کسی مسلم مذہبی تحریک کا رہنما کوئی مشرک و کافر ہو سکتا ہے؟“ اس کو تاریخی اور سیاسی دلائل سے جواز دینے کی کوشش کی گئی ہے، جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ سیاسی اور تاریخی جبر میں دین کو ترک کرنا یا معطل کرنا جائز ہے۔ لیکن یہ استدلال بودا ہے، کیونکہ دینی ہدایت کو ترک یا معطل کرنے کا سوال زیربحث نہیں ہے۔ مذہبی مؤقف کو سیاسی یا سائنسی دلائل سے جواز دینے کا ایک بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ دین کو چھوڑ دینے کے دلائل ہی باقی رہ جاتے ہیں، دین باقی نہیں رہتا۔ اس طرز عمل کا یہ نقصان بھی معمولی نہیں ہے، لیکن یہاں یہ طرز عمل بھی زیربحث نہیں، کیونکہ مسئلہ اس سے بھی سنگین تر ہے۔ اصل مسئلہ اور اس سے پیدا ہونے والا نقصان غیر دین اور ضد دین کا دین بن جانا ہے، جو تحریک خلافت میں عملاً واقع ہوا اور ہماری مذہبی سیاست کا بنیادی جزو بن گیا۔ گزارش ہے کہ اس طرح کے عفریتی مواقف نے ہمارے دین کی حیثیت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ ہمارے چاروں طرف مذہب اور سیاست کی نسبتوں میں اب اسی طرح کے فلسفے آگے بڑھائے جا رہے ہیں۔ دین کو ترک کر دینا، اس میں قطع و برید کر کے اسے محدود کرنا یا غیردین کو دین قرار دینا اب دینی تعبیرات اور عملی سیاست کی بنیادی کارگزاری ہے۔ اسی سبب سے آج ”اسلامی“ یا ”دینی“ کی معنویت ایک قطعی غیر متعین امر بن کر رہ گئی ہے۔

(۴) چوتھا موقع: جمیعت علمائے ہند نے گانگریس کے ساتھ سیاسی اتحاد کیا جس کی مذہبی، سیاسی اور تاریخی جواز سازی کی صنعت آج بھی فعال ہے۔ لیکن افسوس کہ سیاست بازی کی گرما گرمی میں مذہبی سوال اٹھایا ہی نہیں گیا جو یہ ہے کہ ”کیا مسلمانوں کے بالمقابل مشرکین سے سیاسی اتحاد کرنا مذہبی طور پر جائز ہے یا ناجائز؟“ اس کے سو غیر مذہبی جواز دیے گئے ہیں، اور ان کو مذہبی ثابت کیا گیا ہے۔ یہاں بھی مسئلہ وہی ہے کہ غیرمذہبی مؤقف کو شرعی دلائل سے مذہبی ثابت کرنا۔ تو آقائے سرسید سے کیا جھگڑا ہے؟ اگر آقائے سرسید نے اپنی تعبیرات سے دین اور غیر دین کے امتیازات کو دھندلا دیا، اور غیر دین کو دینی دلائل سے عین دین ثابت کیا تو تو وہابیت سے متاثر ہمارے مذہبی علما نے بھی عملاً یہی کام کیا اور کامیابی سے غیر دین کو دین بنا کر دکھا دیا۔ سیاسی دائرے میں یہ صورت حال آج تک چلی آتی ہے۔

کم از کم ایک بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ آقائے سرسید سے فکری اور تہذیبی غذا لینے والی سیاسی تحریک نے اپنے سیاسی عمل میں عین دینی مراد کو سربلند رکھا، اور تحریک پاکستان کا جو مقصد بیان کیا وہ یقیناً دینی اور عین حق تھا۔ تاریخ کے ایک کانٹے کے لمحے میں اس تحریک کا یہی کام غیرمعمولی ہے۔ باقی عمل کی کوتاہی تو علی الاطلاق ہے۔ اس سوال سے دیوبند اور علمائے دیوبند کی بے ادبی مقصود نہیں۔ دیوبند برصغیر کی سب سے بڑی مذہبی تحریک ہے اور مسلم معاشرے اور مسلم فکر پر اس کے اثرات بہت گہرے اور دور رس ہیں۔ تحریک دیوبند پر گفتگو سنجیدہ فکری اور احترام کا تقاضا کرتی ہے۔ لیکن اگر ردائے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر سوال اٹھ سکتا ہے تو ردائے ملت کے تار تار ہونے کو موضوع بنانا کیونکر جائز نہیں ہو سکتا؟ اگر دیانتداری سے دیکھا جائے تو یہ سوال مکتبِ دیوبند کے گھر کا سوال ہے اور ہم یہ سوال وہیں سے اٹھا رہے ہیں۔ کیا یہ تاریخی حقیقت نہیں کہ دیوبند کے ایک بڑے گروہ نے مسلم سیاست کی ہندوانہ تشکیل سے الگ ہو کر تحریک پاکستان کی حمایت کی؟ یہ ایک مذہبی، سیاسی اور تہذیبی سوال ہے اور اسے صرف فقہی اور اجتہادی صواب و خطا کے تناظر میں زیربحث نہیں لایا جا سکتا۔ یہ اسی سوال کی گونج ہے کہ ہمارا پورا قومی سیاسی عمل آج تک مرتعش ہے اور اس کے قدم ڈگمگا رہے ہیں۔ یہی وہ سوال ہے جو ٹلتا نہیں ہے اور کبھی ”امن کی آشا“ اور کبھی ”غیراہم لکیر“ کی صورت میں ظاہر ہوتا رہتا ہے۔ تقسیمِ برصغیر، تقسیم دیوبند اور تخلیق پاکستان ایک ہی سوال کے رخ ہیں، لیکن افسوس کہ فرقہ ورانہ تناظر سے بلند ہو کر آج تک اس کے مذہبی، فکری اور تہذیبی مضمرات کا جائزہ نہیں لیا گیا۔

اگر مسلم معاشرے کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو صاف اندازہ ہوتا ہے کہ متجددین نے اپنے علمی اور فکری کام میں غیر دین کو دین قرار دینے کی کوشش کی اور ہمارے علما کے ایک بڑے گروہ نے گزشتہ دو سو سالوں میں اپنے سیاسی اور عملی کام سے غیر دین کو دین بنانے کی سعی کی۔ بدنصیبی کا یہ سلسلہ جاری ہے اور آج ہماری مذہبی جماعتیں جو فکر اور عمل سامنے لائی ہیں وہ نہ صرف ہمارے معاشرے اور ملت کے لیے سود مند نہیں ہے بلکہ ہلاکت کا باعث ہے۔ گزشتہ دو سو سال میں اسلام کے زیر عنوان ہم نے جو علم پیدا کیا وہ ہمارے ہاں دینی روایت کے انتشار، مسلم ذہن کے انہدام اور مکمل پسپائی پر منتج ہوا ہے۔ اور گزشتہ تقریباً ڈیڑھ سو سال سے ہم نے اسلام کے نام پر جو سیاسی عمل بالعموم پیش کیا ہے اس نے ہمارے معاشرے کا تارو پود ہی بکھیر کر رکھ دیا ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ اسلام کے نام پر جو کوششیں فکر اور عمل میں سامنے آئیں، ان کا مقصد اسلام کو ہر پہلو سے مغرب کے تابع کر کے اسے عضو معطل بنانا اور انسانی معاشرے سے بے دخل کرنا ہے۔ خود احتسابی کی ضرورت سیکولر قوتوں کو مورد الزام ٹھہرانے سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔ آج کی مذہبی جماعتیں جس سیاسی فکر اور عمل کو آگے بڑھا رہی ہیں، اس سے ہمارے معاشرے کا عدم استحکام بڑھ رہا ہے، اور معاشرے کو اسلامی اور ترقی یافتہ بنانے کی منزل دور سے دور ہوتی جا رہی ہے۔