مُجدِّد کون اور مُحَدَّث کون - مفتی منیب الرحمن

اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو منصب قرآنِ کریم میں مذکور ہے ،وہ ہے :’’نبوت ورسالت‘‘۔اللہ تعالیٰ نے کئی انبیائے کرام کا ذکر فرمانے کے بعد فرمایا: ’’بے شک وہ ہمارے نزدیک چنیدہ وپسندیدہ ہیں ،(ص:47)‘‘۔قرآنِ کریم میں پچیس انبیائے کرام کے نام صراحت کے ساتھ آئے ہیں، اُن پر نام بنام ایمان لانا فرض ہے اور اُن میں سے کسی ایک کی نبوت کا انکار بھی کفر ہے، اُن کے اسمائے گرامی یہ ہیں: (۱) حضرت آدم (۲) حضرت نوح (۳) حضرت ابراہیم (۴) حضرت اسماعیل (۵) حضرت اسحاق (۶) حضرت یعقوب (۷) حضرت یوسف (۸) حضرت موسیٰ (۹) حضرت ہارون (۱۰) حضرت شعیب (۱۱) حضرت لوط (۱۲) حضرت ہود (۱۳) حضرت داوٗد (۱۴) حضرت سلیمان (۱۵) حضرت ایوب (۱۶) حضرت زکریا (۱۷) حضرت یحییٰ (۱۸) حضرت عیسیٰ (۱۹) حضرت الیاس (۲۰) حضرت الیَسَع (۲۱) حضرت یونُس (۲۲) حضرت ادریس (۲۳) حضرت ذُوالکِفل (۲۴) حضرت صالح (۲۵)اورخاتم النبیین سیدنا محمد رسول اللہ، صلوات اللّٰہ تعالیٰ وسلامہٗ علیہم اجمعین۔

حضرت عزیر علیہ السلام کا نام التوبہ: 30 میں صراحت کے ساتھ آیا ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اور یہود نے کہا: ’’عزیر اللہ کے بیٹے ہیں اور نصاریٰ نے کہا: مسیح اللہ کے بیٹے ہیں، یہ محض ان کے منہ سے کہی ہوئی (بے سروپا) باتیں ہیں‘‘۔ اسی طرح البقرہ : 258میں حیات بعد الموت کے حوالے سے ایک تجربہ اور مشاہدہ بیان ہوا، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ’’یا اس شخص کی طرح جو ایک بستی پر اس حال میں گزرا کہ وہ اپنی چھتوں کے بل گری ہوئی تھی، اس نے (تعجب سے) کہا: اللہ اس بستی والوں کو مرنے کے بعد کیسے زندہ کرے گاتو اللہ نے سو برس تک اس پر موت طاری کردی ، پھر اس کو زندہ کر کے اٹھایا ‘‘۔ مفسرینِ کرام نے یہاں عزیر علیہ السلام مراد لیے ہیں ، بعض علماء نے انہیں نبی کہا ہے، لیکن ان کی نبوت قطعی نہیں ہے، بلکہ ظنی ہے۔ حضرت خضر علیہ السلام کا نام صراحت کے ساتھ قرآنِ کریم میں مذکور نہیں ہے، اُن کی نبوت کے بارے میں بھی اختلاف ہے، تاہم جمہور علمائے امت کی رائے یہ ہے کہ وہ نبی تھے، اُن کا ذکرالکہف: 65 میں ان الفاظ میں ہے: ’’تو اُن دونوں (حضراتِ موسیٰ و یوشع ) نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندے (خضر) کو پایا، جسے ہم نے اپنے پاس سے رحمت اور علم عطا کیا تھا‘‘۔ قرآنِ کریم نے اسے ’عِلمِ لَدُنِّی‘ سے تعبیر فرمایا، یعنی وہ علم جو کسی استاذ کے واسطے کے بغیر اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا۔ الغرض تکوینی امور کے پیچھے جو اللہ تعالیٰ کے اسرار اور حکمتیں پوشیدہ ہیں، ’عِلمِ لَدُنِّی‘ سے اُن کا علم مراد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے المؤمن:78میں فرمایا: ’’اور بے شک ہم نے آپ سے پہلے (بھی) رسول بھیجے، اُن میں سے بعض کا حال ہم نے آپ پر بیان فرما دیا اور بعض کا حال ہم نے آپ پر بیان نہیں فرمایا‘‘۔ اس آیت میں اس بات کی صراحت ہے کہ سارے انبیائے کرام علیہم السلام کے احوال قرآنِ کریم میں بیان نہیں ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’اور ہر امت میں (اللہ تعالیٰ کے عذاب سے) ڈرانے والاگزرا ہے۔ (فاطر:24)‘‘۔

لیکن اِجمالاً تمام انبیاء پرایمان لانا ضروری ہے، البقرہ:285 میں فرمایا: ’’رسول ایمان لائے اُس کلام پر جو اُن پر اُن کے رب کی جانب سے اتارا گیا اور سب مؤمن بھی، سب کے سب اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اُس کی کتابوں پر اور اُس کے (سب ) رسولوں پر ایمان لائے‘‘۔ اسی آیۂ مبارکہ میں فرمایا: ’’ہم (ایمان لانے میں)اُس کے رسولوں کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے‘‘۔ تاہم قرآنِ کریم نے یہ ضرور بتایا کہ انبیائے کرام کے مابین درجہ بندی موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’یہ (سب) رسول ہیں، ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت عطا کی ہے۔ (البقرہ:253)‘‘۔ انبیائے کرام کی قطعی تعداد قرآن کریم کی کسی آیت یا کسی حدیث صحیح میں مذکور نہیں ہے کہ اس کا انکار کفر و ضلالت قرارپائے، البتہ بعض روایات میں انبیائے کرام کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار یا کم وبیش، رسولوں کی تعداد 313 اور صُحفِ سماوی کی تعداد 110 بتائی گئی ہے، لہٰذا ہم کہتے ہیں کہ اپنے اپنے زمانے میں جسے بھی اللہ تعالیٰ نے نبی اور رسول بنا کر بھیجا، وہ سب کے سب برحق تھے اور ہم ان پر ایمان لاتے ہیں۔

ختم المرسلین ﷺ نے خود بیان فرمایا: ’’بنی اسرائیل کی سیاست کے امور انبیائے کرام انجام دیتے تھے، جب ایک نبی کا وصال ہوجاتا تو دوسرا نبی اس کی جگہ لے لیتا، مگر اب میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا، بس خلفاء ہوں گے۔ (صحیح البخاری:3455)‘‘۔ سو آپ ﷺ کے بعد خلافت کا تصور موجود ہے، لیکن خلیفہ نبی اور رسول کی طرح منصوص نہیں ہوتا کہ اُس کی خلافت پر ایمان نہ لانے والے کو دائرۂ اسلام سے خارج قرار دیا جائے۔ اسی طرح احادیثِ مبارکہ میں مُجَدِّد اور مُحَدَّث کے مناصب کا بھی ذکر آیا ہے، لیکن مُجدِّد یا مُحَدَّث بھی نبی اور رسول کی طرح منصوص اور مُعیَّن نہیں ہوتا کہ اس کی اس حیثیت کا انکار کفر قرار پائے۔ نبی ﷺ نے فرمایا:’’بے شک اللہ اِس امت کے لیے ہر صدی کے سرے پر ایسے شخص کو مبعوث فرمائے گا جو اُس کے لیے اُس کے دین کی تجدید کا فریضہ انجام دے گا۔ (سنن ابودائود: 4291)‘‘۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جب دین کی تعلیمات مٹ جاتی ہیں یا اُن میں باطل کی آمیزش کردی جاتی ہے یا دین کو اپنی خواہشات کے تابع بنادیا جاتا ہے، بدعات و مُنکَرات اہلِ دین میں نفوذ کرجاتی ہیں، اور دین کا روشن چہرہ دھندلانے لگتا ہے، تو اللہ تعالیٰ پردۂ غیب سے ایسے اشخاص کو غیر معمولی علمی و فکری صلاحیتوں، قوتِ عملی اور جذبۂ صادق سے فیض یاب کر کے ظاہر فرماتا ہے جو دین کی تعلیمات کو باطل کی ہر آمیزش سے پاک و صاف کر کے اپنی اصل پاکیزہ شکل میں دوبارہ پیش کرے، اسی کو تجدید واِحیائے دین کہتے ہیں، حدیث میں ایسی ہی عالی مرتبت شخصیات کی طرف اشارہ ہے۔ واضح رہے کہ تجدید اور تجدُّدْ میں زمین آسمان کا فرق ہے، تجدید دین کو اپنی اصل شکل میں پیش کرنا ہے اور تَجدُّدْ سے مراد دین کو اپنے باطل افکار اور خواہشات کے تابع بنانا ہے۔ مُجدِّد یقینا اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ظہور میں آتا ہے اور دین کے حوالے سے انقلابی کارنامہ انجام دیتا ہے، لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُس کا نام منصوص نہیں ہوتا، اس لیے کوئی کسی مجدِّد کا انکار کرے تو اس پر کوئی فتویٰ صادر نہیں کیا جائے گا۔

مختلف صدیوں میں روئے زمین کے مختلف خطوں میں اپنے اپنے زمینی حقائق اور تقاضوں کے مطابق لوگوں نے شخصیات کو مجدِّد قرار دیا ہے، اس لیے ایک وقت میں مختلف خطوں میں ایک سے زائد مجدِّدین کا ہونا بعید از امکان نہیں ہے، یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ کوئی شخص خود سے مجدِّد ہونے کا دعویٰ کرے، اہلِ علم اُن کے تجدیدی کارناموں کے سبب انہیں جان لیتے ہیں۔ علامہ علی القاری لکھتے ہیں:
’’مُجدِّد سنت کو بدعت سے ممتاز کرتا ہے، علم کو فروغ دیتا ہے، اہلِ علم کو عزت سے سرفراز کرتا ہے ، بدعت کو جڑ سے اکھیڑ کر اہلِ بدعت کی سازشوں کو توڑ دیتا ہے، علامہ ابن اثیر جذری نے ’’جامع الاصول‘‘ میں لکھا ہے: ’’علماء نے اس حدیث کی تاویل میں کلام کیا ہے اور ہر ایک نے اپنی سوچ کے مطابق کسی نہ کسی عالم کو مجدِّد اور اس حدیث کا مصداق قرار دیا ہے ، بہتر یہ ہے کہ اس حدیث کو عموم پر محمول کیا جائے ، کیونکہ لفظِ ’’مَنْ‘‘ کا اطلاق واحد وجمع دونوں پر ہوتا ہے اور تجدید کا تعلق صرف فقہاء کے ساتھ ہی خاص نہیں ہے ، اگرچہ امت کو زیادہ فائدہ انہی سے پہنچاہے ، مجدِّد کسی عہد کا اولوالامر یا صاحبِ اقتدار بھی ہوسکتا ہے ، ہر شعبے کے لیے الگ الگ مجدِّد بھی ہوسکتے ہیں ،کیونکہ دین اور مسلمانوں کے امورِ اجتماعی کی تدبیر اور عدل کا قیام صاحبانِ اقتدار کی ذمے داری ہے، علومِ دینیہ کے مختلف شعبوں کے غیر معمولی ماہرکو بھی اپنے شعبے کا مجدِّد قرار دیا جاسکتا ہے ،لیکن شرط یہ ہے کہ ان فنون میں مجدِّد اپنے عہد کے لوگوں میں ممتاز ہواور اُس کے نمایاں تجدیدی کارنامے سب پر عیاں ہوں۔مجدِّد کے لیے شخصِ واحد ہونا بھی ضروری نہیں ،بلکہ ایک جماعت مل کر بھی تجدیدی کارنامہ انجام دے سکتی ہے۔ تجدید ایک اضافی امر ہے، کیونکہ علم روبہ زوال اور جہل مائل بہ ترقی ہے ، سو مجدِّد کا اپنے عہد کے لوگوں سے تقابل ہوگا نہ کہ قرنِ اول سے لے کر آخر تک ، کیونکہ متقدمین عہدِ نبوت سے قرب کے سبب علم ،عمل ،حلم، فضل اور تحقیق وتدقیق میں یقینا متاخِّرین پر فضیلت رکھتے ہیں ، کیونکہ جس کادور منبعِ نورِ ہدایت سے جتنا قریب رہا، اُس پر نور کا فیضان اتنا ہی زائد رہا۔ (مرقاۃ المفاتیح، ج:1،ص:322،ملخصاً)‘‘۔

حدیث پاک میں ایک منصب ’’مُحَدَّث‘‘ کا بھی آیا ہے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’بے شک تم سے پہلی امتوں میں ’مُحَدَّث‘ گزرے ہیں اور اگر میری امت میں اس منصب کا حامل کوئی ہے تو وہ یقینا عمر بن خطاب ہیں۔ (بخاری:3469)‘‘۔ محدِّثینِ کرام نے اس حدیثِ مبارک کی شرح میں فرمایا: محدَّث سے مراد پاکیزہ قلب، نورانی ذہن، علمِ نافع اور اعمالِ صالحہ کی حامل وہ شخصیت ہے، جس کے قلب و ذہن پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اِلقا و الہام ہوتا ہے، یعنی اُس کا ظاہر اتنا پاکیزہ اور باطن اتنا نورانی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُن پر حق کا القا ہوتا ہے، اُن کا ذہن منشائے ربانی کے سانچے میں ڈھلا ہوتا ہے اور وہ وہی بات سوچتے، وہی بات کہتے اور وہی بات کرتے ہیں جو رِضائے باری تعالیٰ کے عین مطابق ہوتی ہے اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شخصیت ایسی ہی صفات کی حامل تھی۔ کئی مواقع پر انہوں نے نزولِ وحی سے پہلے ہی منشائے ربانی کو پا لیا، پھر وحیِ ربانی نے اُن کی تائید کی، ایسی آیات کو ’’مُوَفَّقَاتِ عُمَر‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس کی مزید تائید ان احادیث سے ہوتی ہے (1): ’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ حق کو عمر کی زبان اور قلب پر جاری فرماتا ہے۔ ( ترمذی:3682)‘‘۔(2) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’بے شک اللہ حق کو عمر کی زبان پر رکھ دیتا ہے، پھر وہ بیان کرتے ہیں۔ (ابن ماجہ:108)‘‘۔ یہاں ہم نے کالم کی محدودیت کے پیشِ نظر ہر صدی کے مجدِّدین کا ذکر نہیں کیا، کیونکہ ہر دور کے اکابر علماء نے اپنے اپنے خطے کے اعتبار سے مجدِّدین کا ذکر کیا ہے۔