مسئلہ منظور پشتین کا نہیں - ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

سوال یہ ہے کہ جن مسائل کی بات وہ کر رہا ہے ان کا زمینی حقائق سے تعلق ہے کہ نہیں۔ اگر ہے تو پھر منظور سے پہلے ریاست نے ان کی طرف توجہ کیوں نہ دی؟

یہ بھی درست ہوگا کہ بہت سی قوتیں انتشار پھیلانے کے لیے عوامی ہمدردی کے ایشوز کو سہارا بناتی ہیں، لیکن یہ بھی تو اتنا ہی صحیح ہے کہ ایشوز ہوتے ہیں تو ان کو استعمال کیا جاتا ہے۔ وہ بھی ایسے ایشوز جن کے حوالے سے داد رسی کی امید عوام میں دم توڑ رہی ہوتی ہے۔ پھر ایسے میں جو مشکلات کے حل کا نعرہ لگاتا ہے لوگ اسی کو مسیحا مان لیتے ہیں۔ عوام سیدھے سادے ہوتے ہیں۔ وہ لمبے جمع خرچ میں نہیں پڑتے کہ کون کیوں یہ سب کر رہا ہے۔ ان کے لیے تو بس یہی کافی ہے کہ کوئی تو ہے جو ان کی بات کر رہا ہے۔ پھر خود ریاست اس بندے کو مزید مضبوط بنا دیتی ہے، جب اس کے کہنے پر وو کام کیے جاتے ہیں جن کی جانب اب تک کوئی توجہ نہیں ہوتی۔ اس سب کے بعد جب کہا جائے کہ یہ شخص ٹھیک نہیں تو یہ عوام کو مزید کنفیوز کرنے کا باعث بن جاتا ہے۔ وہ سوچنے لگتے ہیں کہ جو شخص ہمارے لیے بول رہا ہے اور جس کے کہنے سے ہماری روز مرہ زندگی میں آسانی کی رمق پیدا ہوئی ہے، وہ ملک دشمن کیونکر ہو سکتا ہے؟ کیا ریاست کو اس بابت کچھ غلط فہمی ہوئی یا پھر اس کی وجہ یہ ہے کہ چونکہ وہ ہمارے لیے جدوجہد کر رہا ہے، اس لیے اسے دھتکارا جا رہا ہے۔ یہ نہایت خطرناک مرحلہ ہوتا ہے کیونکہ یہاں سے عصبیت جنم لیتی ہے۔ اور یہ عصبیت ان قوتوں کے لیے بہت کارآمد ہے جو تفریق کو اپنا آلہ کار بنا کر داخلی استحکام کو کھوکھلا کرنا چاہتے ہیں۔

یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ ریاست نے تساہل اور بڑی حد تک نااہلی کا مظاہرہ کیا۔ ٹی ٹی پی کی دفعہ بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا۔ وہ اسلام کا نعرہ لگا رہے تھے اور اسلامی جمہوریہ نظریں چراتی پھر رہی تھی۔ یہاں تک کہ عوام کی ایک خاطرخواہ تعداد کو ایسا گمان ہونے لگا گویا معاملہ ریاست بمقابلہ "مجاہدین اسلام" کا ہے۔ اس تاثر نے ہمدردی کی ایک ایسی لہر ہیدا کی جس کا نتیجہ سہولت کاروں اور "سلیپر سیلز" کی ایک بڑی تعداد کی صورت سامنے آیا اور یہ مسئلہ آج بھی پوری طرح سے حل نہیں ہو سکا۔ حالانکہ ریاست کو کیا کرنا تھا؟ صرف اتنا کہ نعرہ لگانے والوں سے ان کا ایجنڈہ چھین لیا جاتا۔ ریاست خود عوام کو یقین دلاتی کہ اسلام کی سب سے بڑی محافظ تو وہ خود ہے۔ لیکن اس کے بجائے "Enlightened Moderation" جیسے لایعنی ڈھول کو پیٹنا شروع کر دیا گیا۔

یہ بات سمجھ سے بالا ہے کہ ہماری انٹیلی جنس ایجنسیاں عوام میں فروغ پاتے ٹرینڈز سے اس قدر بےخبر کیوں رہ جاتی ہیں جن کے درست علم کے نتیجے میں ممکنہ عواقب کی پہلے سے پیش بندی کی جاسکے۔ جہاں ایک ٹانکہ کافی ہو رفو گری کو وہاں پورا کپڑا ادھیڑ کر بنانا کیا لازم ہے؟ اور پھر اس ادھیڑ بن کے بعد لاکھ کوشش کر لیں، کپڑا پہلے جیسا نہیں رہتا۔ اس پر جا بجا بدنما داغ ابھر آتے ہیں، جو کئی برساتوں کے بعد بھی دھلنے کے بجائے اور بد رنگ ہو جاتے ہیں۔

پی ٹی ایم کا بھی یہی قصہ ہے۔ کیا ارباب بست و کشاد اس بات سے لاعلم تھے کہ عوام کو چیک پوسٹوں پر کس قدر تحقیر اور اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟ وہ جو گھروں کے مالک تھے اور اپنے ہی وطن میں مہاجر بن کر رہ گئے، ان کی آبادکاری پر بھی توجہ دینا پہلی ترجیح ہونا چاہیے؟ کیا یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی ہے کہ فوجی آپریشنز کے نتیجے میں بالائے اہداف بھی بہت تباہی ہوتی ہے۔ یہ عین حقیقت ہے کہ ایسا دانستہ طور نہیں ہوتا، لیکن بہرحال یہ ایک نہایت تکلیف دہ صورتحال ہوتی ہے۔ اسی لیے روایت یہ ہے کہ شکوہ کو شکایت اور شکایت کو احتجاج میں بدلنے سے پہلے ہی سول انتظامیہ کو کنٹرول حوالے کر دیا جائے۔ فوج بیک اپ کے لیے موجود ہو لیکن سامنے سول سیٹ اپ رہے۔ اس طرح ایک تو فوج پر روز مرہ معاملات کا غیر ضروری پریشر نہیں پڑتا اور دوسرا یہ کہ عوام کا غم و غصہ سول انتظامیہ کے ہرکاروں کے ساتھ بحث و تکرار کی صورت نکلتا رہتا ہے۔ مسائل جمع نہیں ہوتے اور نہ ہی ان کے حوالے جذبات برانگیختہ ہونے کی نوبت آتی ہے۔ اتنی ذرا سی حکمت سے سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ کوئی تخریبی ایجنڈہ سادہ لوح عوام کی مجبوریوں کے کاندھے پر بلند نہیں کیا جا سکتا۔

پاکستان کے حوالہ سے ایک بات یاد رہنی چاہیے کہ پاکستان کے دشمنوں کا طریقہ واردات ہمیشہ ایک رہے گا۔ ماضی میں بھی یہی تھا، اب بھی ایسا ہی ہے اور آئندہ بھی یہی ہوگا۔ یعنی پاکستان کی بنیاد، "دو قومی نظریہ" پر حملہ۔ مسلمان عقیدے کی بنیاد پر ایک قوم ہیں، علاقائی یا لسانی معاملات اس کے بعد آتے ہیں۔ بس اسی بات کو جھٹلانے کے لیے پاکستان میں علاقائی اور لسانی بنیاد پر انتشار اور خونریزی کی راہ ہموار کی جاتی ہے۔ اس میں دوسرا حملہ فرقہ واریت کی صورت ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ کوئی تیسرا طریقہ آپ کو کبھی نظر نہیں آئے گا۔ اس سب کے باوجود ریاست ہمیشہ ایک قدم پیچھے نظر آتی ہے اور بروقت اقدامات کے بجائے ہمیشہ ان کی پچ پر کھیلتی ہے جو اسے کمزور کرنا چاہتے ہیں۔

حکومت اور اس کے اداروں کو اس حوالہ سے اپنی صلاحیت کو بہتر بنانا ہوگا۔ ریاست کو Reactive کے بجائے Proactive Approach سے کام لینا ہوگا۔ اس کے لیے زمینی حقائق سے آگاہی اور عوام کے مفاد اور ان کو درپیش مشکلات کا بھرپور ادراک بہت اہم ہے۔ اگر آپ اپنی بنیادی ذمہ داریوں سے پہلوتہی کریں گے یا اپنی جیو اسٹریٹیجک صورتحال کی سنگینی سے لاتعلق رہیں گے تو اس رویے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خلا کو ٹی ٹی پی، پی ٹی ایم اور بی ایل اے وغیرہ پور کریں گے۔ ریاست کو ایک کنستر پانی سے بجھ جانے والی آگ کے لیے کئی ٹینکر پانی استعمال کرنا پڑے گا اور آگ پھر سلگتی رہے گی۔

Comments

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش کی دلچسپی کا میدان حالاتِ حاضرہ اور بین الاقوامی تعلقات ہیں. اس کے علاوہ سماجی اور مذہبی مسائل پر بھی اپنا ایک نقطہ نظر رکھتے ہیں اور اپنی تحریروں میں اس کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • محترم،آپ نے بالکل درست نشاندھی کی ھے کاش کہ ھم اپنی غلطیوں کو تسلیم کرلیں اور نئے پاکستان کا آغاز ھو قوم تھک چکی ھے