کتابوں کا طلسم - محمد عامر خاکوانی

نامور فرانسیسی دانشور اور ادیب والٹیئر نے کہا تھا، ”غیرمہذب، وحشی قوموں کو چھوڑ کر تاریخ انسانی میں ہمیشہ کتابوں نے انسانوں پر حکومت کی ہے۔“ والٹیئر کو یہ بات شاید پسند نہ آتی، لیکن اس کا یہ بیان یہ الہامی کتب کو شامل کرنے سے ہی مکمل اور درست ثابت ہوتا ہے۔ یہ کتابیں ہی ہیں جو انسانی ذہن کو کشادہ اور وسیع کرتی، اس میں سوچنے، سمجھنے، الجھنیں سلجھانے کی استعداد پیدا کرتی ہیں۔ نان فکشن یعنی سنجیدہ کتابوں کی اپنی جگہ ہے، مگر اپنے مطالعے کا ایک خاص حصہ ضرور فکشن کو دینا چاہیے۔ انسان کے اندر نرمی، گداز اور شدت احساس پیدا کرنے کے لیے فکشن (ناول، افسانہ، ڈرامہ وغیرہ) کی بہت اہمیت ہے۔ اسی طرح شاعری جمالیاتی ذوق کی تربیت کرتی ہے۔ ہم میں سے ہر ایک کو تجربہ ہوا ہوگا کہ ابتدائی زندگی میں بعض اشعار یا تک بندی اچھی لگتی ہے، جیسے جیسے ہم مطالعہ کرتے، سوچ پختہ ہوتی ہے، تب شاعری کا ذوق بھی بہتر ہوجاتا ہے۔ ہلکا، عامیانہ شعر تب ناگوار گزرتا ہے۔ اس سب کے لیے مگر اپنے آپ پر کچھ محنت کرنا پڑتی ہے۔ صرف اچھے لباس، جوتوں، ٹائی ، کوٹ وغیرہ پر پیسے خرچ کرنے کے بجائے اپنی اندر کی شخصیت کو سنوارنے، سجانے، دیدہ زیب بنانے پرکام کرنا پڑتا ہے۔ اس کے لئے اہل علم کی صحبت اور زندگی کے بغور مشاہدے کے ساتھ کتابوں سے دل لگانابڑا ضروری ہے۔ یہ تمہید اسی مطالعے کے لئے باندھی گئی کہ ہمارے شہر لاہور میں آج کل کتابوں کا سالانہ میلہ لگا ہوا ہے۔

ہر سال لاہور کے مشہور ایکسپوسنٹر میں کتاب میلہ یا بک فیئر لگتا ہے۔ اس بار یکم فروری سے شروع ہوا، اور پانچ فروری تک جاری رہا۔ کتابوں کی خریداری کے لیے ہر بار بجٹ مختص کرتے ہیں، ہمیشہ وہ کم پڑ جاتا ہے۔ کتابیں خریدنا تو خیر ایک شاندار کام ہے ہی، کتابوں میں کچھ وقت گزارنا اور محاورے کے مطابق آنکھیں سینکنا بھی دل خوش کن امر ہے۔ کتاب میلے جا کر سب سے بڑی خوشی یہ ملتی ہے کہ کتاب کلچر ابھی ختم نہیں ہوا۔ آج بھی ہزاروں، لاکھوں لوگ ایسے ہیں جو کتاب پڑھتے اور اسے ڈھونڈنے کے لیے جتن کرتے ہیں۔ ہر سال لاکھوں لوگ یہاں وزٹ کرتے اور کروڑوں کی کتابیں فروخت ہوتی ہیں۔ اس بار محسوس ہوا کہ بک ایکسپو کی انتظامیہ کو صرف منافع کمانے کے بجائے اسے پھیلانے پر توجہ دینی چاہیے۔ کراچی سے پہلے چند پبلشرز آتے تھے، اب وہ بھی نہیں آتے، اسلام آباد، ملتان کے ناشر حضرات بھی عنقا تھے۔ اس بار فی سٹال کرایہ پچپن ہزار تھا، جوخاصا زیادہ ہے۔ دوسرے شہروں کے ناشر حضرات کو تو مفت سٹال لگانے دینا چاہیے۔ اس بار پبلسٹی بھی کم کی گئی۔ بہت سے لوگوں کو علم ہی نہیں ہوسکا۔ افتتاح کے لیے بھی کسی بڑی نامور شخصیت کو بلانا چاہیے۔ ویسے تو میں سوچ رہا تھا کہ اگر وزیراعظم عمران خان، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی یا وزیراعلیٰ پنجاب، گورنر صاحبان اپنے اہل خانہ سمیت کتابیں خریدنے آتے تو کتاب کلچر کو کس قدر فروغ ملتا۔ عمران خان کتاب پڑھنے والے آدمی ہیں، وہ برطانوی اخبارات میں کالم بھی لکھتے رہے ہیں۔ انہیں ایسی جگہوں پر جانا چاہیے۔ وزیراعظم کا کتاب خریدنا نئی نسل کے لیے بڑی ترغیب ثابت ہوسکتا ہے۔

ہر سال کتاب میلہ کے موقع پر اور ویسے عمومی طور پر بھی اکثر دوست کتابوں کی فہرست تجویز کرنے کا کہتے ہیں۔ یہ کام آسان نہیں، ہر ایک کا اپنا ذوق اور میلان طبع ہے، اسی کے مطابق ہی پڑھنا چاہیے۔ کسی کی دلچسپی فکشن میں زیادہ ہے توکسی کے لیے ضخیم ناول پڑھنا دشوار ہے، بہت سے لوگ مذہبی لٹریچر میں زیادہ شغف رکھتے ہیں، کوئی تاریخ پر کتابیں پڑھنا چاہتا ہے۔ اس لیے پہلے اپنے آپ سے سوال کریں کہ کس میں دلچسپی ہے، پھر اس شعبے کے حوالے سے اہم اور ضروری کتابیں خریدی جائیں۔ کتاب میلہ کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ وہاں سستی اور معیاری کتابیں چھاپنے والے کئی سرکاری، نیم سرکاری ادارے بھی سٹال لگاتے ہیں۔ نیشنل بک فاﺅنڈیشن نے بہت سی اعلیٰ کتابیں شائع کی ہیں، اردو سائنس بورڈ ، اقبال اکیڈمی اور سب سے بڑھ کر مجلس ترقی ادب جس نے ٹائن بی کی مطالعہ تاریخ اور فریزئر کی شاخ زریں چھاپی ہے۔ انجمن ترقی اردو وغیرہ سے بہت اچھی کتابیں نہایت مناسب داموں مل جاتی ہیں۔

میرے جیسے لوگ جنہیں شروع کے زمانے میں کوئی رہنمائی کرنے والا نہیں ملا، ہم تو کتابوں کی دکان پر جا کر ورق گردانی کرکے اندازہ لگاتے۔ جہاں دلچسپی محسوس ہوتی، وہ کتاب لے لی جاتی۔ زیادہ بہتر طریقہ تو یہ ہے کہ اپنی پسند کا موضوع منتخب کیجیے اور اس میں بنیادی نوعیت کی کتابیں پڑھ ڈالیے، وہ کتابیں جنہیں امہات الکتب (کتابوں کی مائیں) کہا جاتا ہے۔آغاز بے شک ہلکی پھلکی، دلچسپ کتابوں سے کریں۔ کوئی افسانوی مجموعہ، سفرنامہ، مزاح کی کتاب وغیرہ۔ جیسے جیسے پڑھنے کا سٹیمنا بنتا جائے، زیادہ میچور مطالعے کی طرف آ جائیں۔

اردو فکشن میں تو ویسے بھی بہت زیادہ آپشن نہیں۔ چند ایک لکھنے والے ہیں، انہیں پڑھنا شروع کر دیں۔ پانچ سات اردو کے ممتاز افسانہ نگار ہیں، سعادت حسن منٹو، راجندر سنگھ بیدی، کرشن چندر، احمد ندیم قاسمی، غلام عباس، انتظار حسین، عصمت چغتائی وغیرہ۔ اشفاق احمد، بانو قدسیہ، ممتاز مفتی، قدرت اللہ شہاب کا اپنا ایک سکول آف رائٹنگ ہے۔ اشفاق احمد کے ساتھ کچھ تعصب برتا گیا، ورنہ ان کے پہلے دونوں افسانوی مجموعے کمال کے ہیں۔ بانوقدسیہ کے ناول ”راجہ گدھ“ کے ساتھ بھی ہمارے لبرلز نے خاصے تعصب سے بےاعتنائی برتی ہے۔ یہی لوگ اگرچہ کہتے ہیں کہ ادیب کی شخصیت، اس کے نظریے سے اس کے ادب کو نہ ناپو۔ اشفاق احمد، بانوقدسیہ، ممتاز مفتی کے ساتھ انہوں نے اگرچہ یہی کیا۔ افسانہ نگاروں میں میرے نزدیک اسد محمد خان، حسن منظر، سید رفیق حسین اور ابوالفضل صدیقی کو بھی شامل کرنا چاہیے۔ نئے لکھنے والوں میں کئی نام ہیں، علی اکبر ناطق ان میں نمایاں ہیں۔ نیلوفر اقبال اور ایم الیاس بھی بہت عمدہ لکھنے والے ہیں۔

ناول نگاری میں بھی چند ایک نام ہی ہیں۔ قرات العین حیدر، مستنصر حسین تارڑ، عبداللہ حسین، مرزا اطہر بیگ۔ عینی آپا کے کئی ناول مشہور ہیں، جس نے آگ کا دریا اور آخر شب کا ہم سفر نہیں پڑھا، اس نے بہت کچھ مس کیا۔ عبداللہ حسین کا سب سے مقبول ناول ”اداس نسلیں“، اگرچہ انہیں خود باگھ زیادہ پسند تھا، نشیب ان کا ناولٹ ہے، آخری ناول ”نادارلوگ“ بھی کسی سے کم نہیں۔ تارڑ صاحب کے ناولوں پر کئی بار بات کی ہے، ہر بار جی چاہتا ہے کہ مزید لکھا جائے۔ ”بہاؤ“، ”راکھ“، ”خس و خاشاک زمانے“، ” ڈاکیہ اور جولاہا“، ”قربت مرگ میں محبت“ اور تازہ ترین شاہکار ناول” منطق الطیر“۔ ویسے میرے خیال میں نئے پڑھنے والے کو تارڑ صاحب کے ناول ”پیار کا پہلا شہر“ سے ابتداکرنی چاہیے، بڑا سویٹ سا کومل سُروں والا ناول ہے، جپسی، دیس ہوئے پردیس سے گزر کر راکھ اور پھر بہاﺅ تک پہنچنا چاہیے۔ بہاؤ کو سمجھنا اتنا آسان نہیں۔ ان کی سب کتابیں سنگ میل پر دستیاب ہیں۔ بانوقدسیہ آپا کا اوپر ذکر آ گیا، جمیلہ ہاشمی کا نام چھوٹ نہ جائے۔ ان کے دو اہم ناول تلاش بہاراں اور حسین بن منصور حلاج پرلکھے ”دشت سوس“ کو ضرور پڑھنا لینا چاہیے۔ مرزا اطہر بیگ نے اردو ادب میں جدید ناول کے تجربات کیے، ان کا ضخیم ناول غلام باغ دلچسپ ہے، سائبر سپیس کے منشی دوسرا ناول جبکہ تیسرا حسن کی صورتحال ہے۔ عاصم بٹ کا ناول دائرہ دلچسپ ہے۔ اختر رضا سلیمی نے اپنے ناول جندر میں ایک بڑے لینڈ اسکیپ کا احاطہ کیا، پہلا ناول ”جاگے ہیں خواب میں “ بھی دلچسپ ہے۔علی اکبر ناطق کا ناول” نولکھی کوٹھی“ دیہی پنجاب کی عمدہ عکاسی ہے۔ پچھلے سال انیس اشفاق کا ناول دکھیارے پڑھا تھا، اس بار ایکسپو سے عکس (کتاب محل) پبلشر نے ان کا نیا ناول ”پری ناز اور پرندے“ بھی پڑھنے کو دیا، سنگ میل نے انیس اشفاق کا دوسرا ناول خواب سراب بھی شائع کر رکھا ہے۔ بھارت ہی کے سید محمد اشرف کا ناول ”نمبردار کا نیلا“ ایک زمانے میں مشہور ہوا تھا۔ پچھلے سال اجمل کمال نے آج کے زیراہتمام ان کا ناول ”خواب سراب“ شائع کیا، پڑھ کر کئی دنوں تک اس کے ٹرانس میں رہا۔ ویسے شمس الرحمن فاروقی کے شاہکار ناول ”کئی چاند تھے سرآسماں“ کو پڑھ لیں تو برسوں ٹرانس سے نہیں نکل پائیں گے۔ ایک سٹال پر یہ ناول نظر آیا۔ اروندھتی رائے کا ناول ”بےپناہ شادمانی کی مملکت“ بھی بک ایکسپو میں موجود تھا۔

مزاح نگاری میں بھی تین چار نام ہی ہیں۔ یوسفی صاحب کی چار کتابیں (چراغ تلے، خاکم بدہن، زرگزشت، آب گم) ہیں، پانچویں پچھلے سال ان کے لیکچرز، مضامین کا مجموعہ شائع ہوا۔ شفیق الرحمن کی چند مشہور کتابیں (حماقتیں، مزید حماقتیں، کرنیں، دجلہ وغیرہ ) ہیں۔ کرنل محمد خان کی تین کتابیں (بجنگ احمد، بہ سلامت روی، بزم آرائیاں) اور ایک انگریزی سے تراجم ہیں۔ ابن انشا کی کتابیں اس بار نظر نہیں آئیں، اردو کی آخری کتاب، خمارگندم، نگری نگری پھرا مسافر اور ان کے کالموں کے مجموعے۔ سید ضمیر جعفری کے شگفتہ مضامین کے مجموعے اور ڈائریاں بھی چھپ چکی ہیں۔ اردو کے بےمثال نثر نگار مختار مسعود کی بھی چار شاہکار کتابیں (آواز دوست، سفر نصیب، لوح ایام، حرف شوق) ہیں۔ آواز دوست کے درجنوں ایڈیشن شائع ہوئے، آج بھی یہ صرف ڈیڑھ سوروپے میں دستیاب ہے۔ مقدور ہو تو مرزافرحت اللہ بیگ کی کتابیں دلی کا آخری مشاعرہ، نیرنگ خیال، ڈپٹی نذیر احمد کی کہانی پڑھیں اور ڈپٹی صاحب کے پوتے شاہد احمد دہلوی کی زبان کا چٹخارہ لینے کے لیے ان کی کتابیں اور خاکے پڑھ ڈالیے۔ ملاواحدی، اخلاق احمد دہلوی اور اشرف صبوحی کی کتابیں بھی کتاب میلے میں انجمن ترقی اردو اور دیگر سٹالوں پر میسر ہیں۔ زبان کا مزہ لینا ہو تو ان سب کو پڑھیں۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.