’’ارطغرل‘‘ کے عہد میں - سعدیہ مسعود

ہم آج کل ارطغرل کا پہلا سیزن دیکھ رہے ہیں اور دیوانہ وار دیکھ رہے ہیں۔ یہ مشہور اور مقبول ترک ڈرامہ سیریل ہے، جس نے ترکی میں مقبولیت کے ریکارڈ توڑ دیے اور اب بہت سے ممالک کی مقامی زبانوں میں اس کی ڈبنگ ہوچکی ہے، نیٹ فلیکس پر بھی اس کے دو سیزن موجود ہیں۔ خان صاحب کے ایک دوست نے انھیں اردو ڈبنگ کے ساتھ ارطغرل کے پہلے سیزن کی یو ایس بی دی ، آج کل ہمارے روز و شب اسی کے گرد بسر ہو رہے ہیں۔

ہر روز شام میں کم سے کم دو اقساط بچوں کے ساتھ اور پھر سونے سے پہلے ’’بے ہوش‘‘ ہو جانے تک خان صاحب کے ساتھ دیکھتی ہوں۔ پانچ سالہ عبداللہ سمیت ہمارے تینوں بیٹے آج کل ترک جنگجوؤں ارطغرل، روشان، بابر اور نورگل کے دیوانے ہوچکے ہیں۔ ہر کردار کے ساتھ بچوں کا پسند اور کہیں ناپسند کا ریلیشن بن رہا ہے۔ تیرہ سالہ ’’نوجوان‘‘ صارم خان اور بارہ سالہ معیزخان پانچ اقساط کے بعد ہی پوچھنے لگے کہ ہم دونوں میں سے ارطغرل جیسی خاصیت آپ کو کس میں نظر آ رہی ہے؟ چھوٹا عبداللہ جو شیر بننے کا شوقین تھا اور چیتے جیسا پھرتیلا یا کچھ عرصہ پہلے ایک انگلش فلم دیکھنے کے بعد اپنا نام رسل رکھنا چاہتا تھا، اب وہ کہنے لگا ہے کہ میں تو ارطغرل جیسا بہادر اور نیک ہوں۔

تقریبا ہر روز عبداللہ یہ سوال کرتا ہے کہ تیتوش (ڈرامے میں ایک صلیبی کمانڈر) کا نام تیتوش کیوں ہے۔ میرا یہ جواب کہ اس کے ماں باپ نے یہ ہی نام رکھا تھا، اس لیےاسے مطمئن نہیں کر پاتا تھا۔ کچھ نہ سمجھ آئے تو دنوں تک جناب ایک ہی سوال کیے چلے جاتے ہیں۔ میں ہر بار نیا جواب دینے کی کوشش کرتی ہوں تاکہ وہ کسی لوجک پر تو مطمئن ہو۔ تیتوش کے نام کا راز آخر عبداللہ نے پا لیا کہ کیوں کہ وہ گندا بچہ ہے اس لیے اس کا نام تیتوش ہے۔ (حالانکہ باقی بھی کافی نام اس کے لیے نئے تھے، پھر بھی تیتوش کو سمجھنے کے لیے اس نے کافی کوشش کی۔)

دن رات کے مختلف حصوں میں چار پانچ اقساط دیکھنے بعد رات بھر خواب میں کائی قبیلے کی خواتین جیسا لباس پہنے میرا زیادہ وقت قالین بننے اور کرتوغلو (کائی قبیلے کا ایک منافق کردار)، کارا توئگر (کرپٹ سلجوق کمانڈر)، پیٹروجو (استاد اعظم پادری) جیسے کرداروں سے کبھی خوف زدہ ہوجانے اور کبھی ان کے خلاف کوئی ٹھیک ٹھاک قسم کے جواب کی تیاری میں گزرتا ہے۔ رات تین کا الارم لگا رکھا ہے، اپنے آپ کو یہ خوشی دینے کے لیے کہ ابھی دو ڈھائی گھنٹے مزید سو سکتی ہوں۔ الارم بجنے پر ہی دماغ سے ارطغل کا بٹن آف کرتی ہوں اور خود کو بس تھوڑا وقت رہ گیا ہے، جلدی سے سو جاؤ کہہ کر پھر سے سو جاتی ہوں۔ گھر سے نکلتے ہی ہر تیسرا بندہ خان صاحب کو دکھاتی ہوں کہ دیکھیں وہ سلیمان شاہ (ارطغرل کے والد اور قبیلے کے سردار) آ گئے، یا وہ دیکھیں یہ بندا تو کائی قیبیلے کا لگ رہا ہے۔ ابھی اس بار والے ایکسپو سنٹر کتاب میلے میں بھی’’بھیس بدل کر‘‘ ایک صلیبی ہماری ٹیبل سے تھوڑی ہی دور بیٹھا پلاؤ کھا رہا تھا۔ میں نے عامر کو دکھایا تو وہ بھی چونکے، اس کے بعد میری نظر اسی پر رہی۔ میں بار بار بچوں کو اپنی نظر کے سامنے ہی رہنے کی تاکید کرتی رہی۔ میں نے دیکھا کہ وہ بھی ہماری ہی طرف متوجہ تھا اور مجھے لگا کسی بھی لمحے وہ ہماری ٹیبل پر آنے کو تیار ہے۔ میں نے اپنے ہینڈ بیگ کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔ نظر اسی پر جمی تھی اور دل میں آئمہ خالہ (ارطغل کی والدہ) کے ڈائیلاگ دہرا رہی تھی،‘‘ کائی قبیلے کی عورتیں کسی طرح مردوں سے کم نہیں۔ اپنے بچوں اور اپنے شوہر کی حفاظت کے لیے سعدیہ تیار رہو’’۔ ۔۔۔۔۔ لیکن یہ کیا، وہ بندہ کہہ رہا تھا سر آپ کا کالم پڑھ کے بک ایکسپو آیا ہوں، آپ کے ساتھ ایک سیلفی ہوجائے۔

یہ بھی پڑھیں:   ارطغرل غازی مجاہد اسلام - ملک سعادت نعمان

سچ تو یہ ہے کہ ارطغل سے بھی زیادہ مجھے سلمان شاہ کا کردار اچھا لگ رہا ہے۔ ایک بوڑھا بیمار سردار اپنے قبیلے کے لیے کچھ بھی قربان کرنے کو تیار۔ سلیمان شاہ کی دلیری اور جرگے میں خطاب بےحد متاثر کن ہیں۔ جب وہ اپنے خطاب کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام لیتا ہے اور وہاں موجود ہر شخص سینے پر ہاتھ رکھ کر سر خم کر دیتا ہے، یقین کریں رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ صوفی شیخ ابن العربی کے سکرین پر آتے ہی ہم مؤدب ہوجاتے ہیں، لیٹے ہوں تو فوری اٹھ بیٹھتے ہیں کہ جیسے حقیقت میں استاد سامنے تشریف لے آئے ہیں۔

ارطغرل میں پیش ماحول میں جینے سے کچھ عجیب حال رہا۔ دن میں ٹی وی اور رات میں خواب، راہ میں چلتے جیتے جاگتے کردار نظر آتے ہیں۔ اللہ کا شکر کہ یوٹیوب پر ارطغرل میکنگ کی کچھ وڈیوز دیکھیں، خاص طور پر ایردوان کے ساتھ ارطغل کی پوری ٹیم سے ملاقات اور اداکاروں کی رئیل لائف کی تصویریں دیکھ کر تھوڑا سا ذہنی طور پر آج کی دنیا میں واپسی ہوئی ہے۔ دوران ڈرامہ دنیا میں واپسی کے لیے خان صاحب کے بےلاگ تبصرے بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ویسے تو کسی بھی ڈرامہ فلم میں خواتین کا نیگٹو کردار خان صاحب سے بےنقط سنتا ہے، لیکن ابھی کیونکہ ہم ارطغل جی رہے ہیں تو ارطغل ڈرامے میں جو بھی کردار خواہ وہ مرد ہو یا خاتون، کسی بلنڈر یا عاقبت نااندیشی کا مرتکب ہو رہے ہیں، ان کا ’’انجام‘‘ خان صاحب کے ہاتھوں بھی ’’عبرت ناک‘‘ ہو رہا ہے۔ ان کے لیے وہ ایسی ایسی خوفناک سزائیں تجویز کرتے ہیں کہ اگر وہ بدنصیب سن لیں تو جیتے جی مر جائیں۔ ڈرامے کا ایک فتنہ پرور کردار شہناز (ارطغل کی بھابھی) ایک منحوس خواب کا ذکر اپنے ساس سسر سے کرتی ہے جس میں وہ منہ بھر کر کہہ دیتی ہے کہ اس نے ارطغل کی لاش دیکھی ہے۔ اس پر جناب کا بےساختہ ردعمل تھا، ’’تیڈے پیو دی لاش ہوسی۔۔۔‘‘

میرے بڑے دیور اس ویک اینڈ پر لاہور ہمارے گھر آئے تو ہم نے انہیں ارطغرل کی چاٹ ڈال دی۔ چار پانچ قسطیں دیکھ ڈالیں، رات زیادہ ہونے پر سونے تو چلے گئے، مگر پھر اگلی صبح ناشتے پر بڑی سنجیدگی سے فرمانے لگے کہ کہ پچھلی رات انگوں نے گہری مونجھ (فکر، چنتا) میں گزاری ہے، کیا خبر گلدارو (ارطغرل کے بھائی) کے ساتھ بدبخت کارا توئگر (ڈرامے کا اہم ولن) کیا سلوک کرے گا؟ اگلے دو دن ہم نے بھائی اور بھابھی کی خاطرداری کے طور پر ان کے ساتھ تیسری بار دیکھی ہوئی اقساط پھر سے دیکھیں۔ بھائی صاحب اب ہم سے بھی زیادہ ارطغرل کے دیوانے ہوچکے ہیں، انہوں نے پہلے سیزن کی 74 اقساط کاپی کرالی ہیں، ان کا ارادہ ہے کہ شیخوپورہ اپنے گھر جاتے ہی دو دن رات لگا کر اسے ختم کریں گے۔ ہمیں چتاونی دے چکے ہیں کہ جلد دوسرے سیزن کی ڈبنگ منگواؤ، اگلے چکر پر انھیں کاپی کرا کر لے جاؤں گا۔

یہ بھی پڑھیں:   ارطغرل غازی مجاہد اسلام - ملک سعادت نعمان

عام طور سے ہمارے ہاں ڈبنگ کے بارے میں اچھا تاثر نہیں۔ ارطغرل کی جو ڈبنگ ہم نے دیکھی، وہ کمال کی ہے۔ بہترین ترجمہ کیا گیا ہے اور بےحد معیاری وائس اوور، اتنا اچھا وائس اوور کہ جب نیٹ فلیکس پر ترکی زبان میں اوریجنل ڈرامہ انگلش سب ٹائٹل کے ساتھ چند اقساط موازنے کی خاطر دیکھا تو اندازہ ہوا کہ جیسے اصل سے بھی زیادہ اچھا کام ہو گیا ہے۔ کریڈٹس نہیں ہیں تو اندازہ نہیں کن فنکاروں نے یہ وائس اوور کا کام کیا۔ شکر ہے کہ نئی آوازیں استعمال کی گئیں ورنہ سارا رومانس ہی غارت ہو جاتا۔ بہت سالوں سے میں اس خواہش کا اظہار کیا کرتی تھی کہ پی ٹی وی کے شاہکار ’’الفا براوو چارلی‘‘ یا ’’دھواں‘‘ جیسے ڈرامے ریڈیو پاکستان کی طرز پر نیشنل ہک پر دکھائے جائیں، مختلف چینلز پر ایک ہی وقت میں وہ ڈرامہ آئے تاکہ لوگ دیکھیں اور مثبت رجحانات نئی نسل میں منتقل کیے جا سکیں۔ جب کوک سٹودیو ہر چینل پر چل سکتا ہے تو کوئی ایسا کونٹینٹ کیوں نہیں؟ ہم بھی کوئی ایسی چیز پروڈیوس کریں جو سب پاکستانیوں کو جوڑ دے۔ جیسے پی ٹی وی کے زمانے میں ہوتا تھا۔ تب سبھی زبانیں اور سبھی ہمارے سب کلچر اپنے محسوس ہوتے تھے۔ ارطغرل تو خیر اس سے بھی بڑا پلیٹ فارم ہے۔ امت کا تصور، ہم تب کے ارطغل کو دیکھ کر اس کی کامیابی کے لیے دعا گو ہوجاتے ہیں کیونکہ وہ اپنے دوست، اپنے قبیلے سے پہلے مسلمانوں (امت) کا مفاد سامنے رکھتا ہے۔ ہمیں پہلی بار یہ موقع مل رہا ہے کہ ہم اپنے بچوں کو یہ کہہ سکیں کہ یہ ہے ہمارا ایک ایسا ہیرو کہ اس جیسا بنو تو ہمیں تم پر فخر ہوگا۔

ارطغرل نے زندگی کے ایک نئے تجربے سے روشناس کرایا ہے۔ دل کی عجیب سی کیفیت ہے۔ وہ مسلمان ہے، امت کے لیے مرنا اس کا نصب العین ہے، اور ہم اس سے دلی طور پر اس قدر جڑ گئے ہیں، اس کی کامیابی ہماری کامیابی اور مشکل ہماری مشکل بن گئی ہے۔ یہ ایک امت ہیں۔ ایک ہیں، بھائی بھائی ہیں، یہ سب اگر آپ خود محسوس کرنا چاہیں تو یہ ڈرامہ آپ کو محسوس کروا دے گا۔

(سعدیہ مسعود کا تعلق میڈیا سے رہا ہے۔ روہی چینل میں بطور پروڈیوسر کام کیا، بطور ڈی جے ایف ایم چینلز پر سرائیکی اور اردو پروگرام کیے۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں کچھ عرصہ پولیٹیکل سائنس پڑھایا۔ ایک امریکی یونیورسٹی کے لیے سرائیکی لینگویج کے جدید اسباق تیار کیے۔ ریڈیو وائس اوور کیے۔ تاہم شادی کے بعد اپنے تخلیقی جوہر دکھانے کے لیے گھر کا انتخاب کیا۔ ان کا ماننا ہے کہ گھر داری اگر سلیقے اور نفاست سے کی جائے تواسے فنون لطیفہ میں شامل کیا جا سکتا ہے۔)