یوم یکجہتی کشمیر پر دیسی لبرلز کی بےچینی - فدا محمد

ہم قطعی طور پر یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ سال میں ایک دفعہ یوم یکجہتی کشمیر منانے سے ہمارے بعض دوستوں کے پیٹ میں مروڑ اور سر میں درد کیوں ہونے لگتا ہے؟ وہ لوگ جو صدیوں سے ظلم کی چکی میں پستے چُور، بربریت کے ہاتھوں ریزہ ریزہ، عقوبت خانوں میں ذہنی و جسمانی تعذیب سے زخم زخم ہیں۔ وہ جو پاکستان پاکستان کہتے تھکتے نہیں، جو قابض فوج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر آج بھی "پاکستان زندہ باد" اور "کشمیر بنے گا پاکستان" کے نعرے بلند کرتے ہیں، جو 1846 سے آزادی کو ترسے آ رہے ہیں، جو ہماری مسلسل بےاعتنائی اور عدم توجہی کے باوجود خود کو ہمیشہ سے پاکستان کاحصہ گردانتے آئے ہیں۔ اور اس "جرم" کی پاداش میں لاکھوں جانوں کی قربانی، عزتوں کی پامالی اور مال و متاع کی تباہی انگیز کرچکے ہیں۔

حیرت ہے کہ ان کے ساتھ ہونے والے مظالم کے خلاف اور ان کی تحریک آزادی کی حمایت میں سال بھر میں ایک دفعہ، ہاں ایک ہی دفعہ، آواز اٹھانا بھی ہمارے لبرل اور روشن خیال دوستوں کے طبع نازک پر گراں گرزتا ہے۔ ایسے میں وہ اظہار یکجہتی کرنے والوں پر طرح طرح کی پھبتیاں کستے، منہ چڑاتے اور طعنے دینے لگتے ہیں۔ اس موقع پر اچانک انھیں بلوچستان کے حالات یاد آتے ہیں، ماورائے قانون قتل کے واقعات ستانے لگتے ہیں، وزیر ستان آپریشن کےدل دہلادینے والے مناظر پریشان کر دیتے ہیں، فوج کا کردار کھٹکنے لگتا ہے، پولیس کی بےرحمی دل و دماغ میں ہلچل مچانے لگتی ہے، فورسز کی شقاوت جگر و گردے کو مجروح کرنےلگتی ہے۔ اور یہ سارے بیدار مغز مفکرین، چابکدست ناقدین، دانش و بصیرت کے فاضلین، اورعلم و آگاہی کے حاملین یک زباں ہو کر پہلے خود کی حالت سنوارنے، اندرون کا معاملہ نمٹانے، عدالتوں کا قبلہ درست کرنے، فوج کو حدود میں رکھنے، پولیس کو لگام دینے، چوروں کو بیڑیاں پہنانے، لٹیروں کو الٹا لٹکانے اور مجموعی ملکی حالات سے نبرد آزما ہونے کا درس دیتے دیتے ہلکاں و پریشاں نظر آنے لگتے ہیں۔ گویا مسئلہ کشمیر پاکستان اور پاکستانیوں کا مسئلہ ہی نہیں ہے، اس کا سوچنا دماغ کا خلل اور باتیں کرنا وقت کا ضیاع ہے۔ یہاں تک کہ قائد اعظم کا کشمیر کو پاکستان کا شہ رگ قرار دینا ایک مذاق تھا۔

سوچنے کی بات یہ ہےکہ قائد اعظم نے تحریک آزادی کے دوران سخت سے سخت حالات میں بھی تشدد کا راستہ اختیار کرنے سے نہ صرف گریز کیا، بلکہ ہر لمحہ قوم کو اس عمل سے روکے رکھنے کی سخت تدابیر کرتے رہے۔ مگر وہ کیا بات تھی جس کے سبب انھوں نے کشمیر کے حق میں مسلمانوں اور پاکستان کے تہی دست سپاہ اور رضاکار مجاہدین کو اس طرف ترغیب دلائی۔ اور نہ صرف یہ بلکہ کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دے کر پاکستان کی تکمیل کو کشمیر کے اس کے ساتھ الحاق سے مشروط کر دیا۔ یہ اس لیے کہ ان کی دوربیں اور بصیرت افروز نگاہ اس حقیقت کو محسوس کر رہی تھی کہ پاکستان کی سیرابی کا تمام تر انحصار کشمیر سے بہتے دریاؤں اور نالوں پر ہے۔ اور جب بھی ان سوتوں کو روک لیا گیا تو پاکستان کے بنجر بننے میں دیر نہیں لگے گی۔ مستقبل میں بپا ہونے والے ان خطرات کو پیش نظر رکھتے ہوئے انھوں نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ اور اس کی آزادی کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے اور خطرہ مول لینے کا فیصلہ کیا۔ جبکہ ہمارے یہ دوست مسئلہ کشمیر کو پاکستان کا مسئلہ سمجھنے سے انکاری، اور اس پر بھارتی قبضے کو خوشی خوشی قبول کر کے دم سادھ لینے کو راست معاملہ اور پاکستان کی طرف سے آواز اٹھانے یا حمایت کرنے کو "دراندازی" میں شمار کرتے ہیں۔ درحقیقت یہ لوگ اپنے تئیں قائداعظم سے بھی زیادہ صاحب بصیرت اور اس معاملے کو ان سے زیادہ سمجھنے یا ان سے بڑھ کر پاکستان کے لیے مخلص اورفکرمند ہونےکے مغالطے میں مبتلا ہیں۔ اگر اس مغالطہ انگیزی کو ہمارے یہ ممدوحین اپنے آپ تک محدود رکھے ہوتے تب تو کوئی مسئلہ نہ تھا، مگر دَور کے یہ نابغے اس گمراہ کن فکر کو سب سے بڑی حقیقت کے طور پر پیش کرنے کی ہمہ تن کوششوں میں مصروف رہتے ہیں۔ اگر خدا نخواستہ بھارت کی طرف سے اس خدشے کو جو قائد اعظم کو کھٹکتا تھا، عملی جامہ پہنایا گیا تو یقین جانیں کہ ہم پاکستانی نان جویں کو ترس کر رہ جائیں گے۔

ان کے نزدیک ظلم و زیادتی کی تعریف بھی کچھ اور ہے۔ وہ اس چیز کو ظلم میں شمار ہی نہیں کرتے کہ کوئی کافر مسلمانوں پر دست درازی کرے، ہاں وہ اس بات کو ضرور ظلم کا عنوان دیں گے کہ کوئی مسلمان ردعمل میں کسی کافر پر ہاتھ اٹھائے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ مسلمان قتل کیے جانے کے لیے پیدا ہوا ہے، اس کو کسی قابض سے قبضہ چھڑانے کا حق حاصل ہے نہ سر اٹھا کر جینے کی ضرورت، وہ اپنا حق مانگ سکتا ہے نہ ظلم کا جواب دے سکتا ہے۔ روس افغانستان پر حملہ آور ہوا تو ان کی منطق جہاد کو بے ہودہ کام اور صریح حماقت گردانتی رہی۔ پاکستان نے (خود اپنے دفاع میں) افغانوں کا ساتھ دیا، جس پر ان کی طرف سے لعنت ملامت کا سلسلہ اب بھی جاری و ساری ہے۔ روس بھاگ کھڑا ہوا اور یوں چور ہو کر بھاگا کہ پھر سنبھل ہی نہ سکا۔ پھر امریکا بہادر آیا تو ان کے قبیلے کا ایک مردود ایک ہی کال پر عزت و ناموس کا جامہ اتار کر اس کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ جس پر یہ لوگ تحسین و آفرین کے ڈونگرے بجاتے اور تعریفوں کے پل باندھتے تھکتے نہیں تھے۔ پھر چشم فلک نے امریکا کو بھی یہاں سے رسوا ہوتے اور نکلنے کے لیے راستہ ڈھونڈھتے دیکھا۔ مادی طاقت کو خدا کا درجہ دینے والے ان لوگوں نے تھوڑے سے عرصے میں دو سپر پاورز کو افغانستان میں ذلیل ہوتے دیکھا، مگر ان کا دل ہے کہ مانتا ہی نہیں، آنکھیں ہیں کہ کھلتی ہی نہیں اور کان ہیں کہ سنتے ہی نہیں۔ لھم قلوب لایفقھون بھا ولھم اعین لایبصرون بھا ولھن اٰذان لایسمعون بھا

اس پامال سوچ اور خدا سے ناامید ذہنیت کی وجہ سے ان لوگوں کو کشمیر میں تحریک آزادی اور اس تحریک کی اَخلاقی حمایت خود فریبی، زیاں کاری اور حماقت دِکھتی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ہندوستان سے کشمیر کی آزادی کی آرزو ناممکنات میں سے ہے، اس لیے یہ اس خیال ِخام سے ہمیشہ کے لیے دست کش ہونے پر زور دیتے رہتے ہیں۔ مگر ہم پورے وثوق اور یقین کامل کے ساتھ انھیں بتا دینا چاہتے ہیں کہ جس طرح افغانوں نے اللہ پر توکل اور اپنی بے مثال جدوجہد اور لازوال قربانیوں کے ذریعے یکے بعد دیگرے دو سپر پاورز کو شکست فاش دے کر روسیاہی سے دوچار کیا، اسی طرح تحریک آزادی کشمیر بھی اللہ کی مدد اور کشمیری مسلمانوں کی قربانیوں سے بامراد ہوگی۔ ان شاء اللہ