کوئی ہے جو منظور پشتین کو بتائے - عامر ہزاروی

کوئی ہے جو منظور پشتین بتائے کہ اب وہ کھلنڈرا نوجوان نہیں بلکہ ایک لیڈر ہے؟ کیا منظور پشتین کو علم نہیں کہ اس کی طاقت عدم تشدد میں ہے؟ تشدد تحریکوں کو تباہ کر دیتا ہے، کوئی منظور کو ماضی کی مسلح تحریکوں کا انجام بتائے پھر تشدد کی بات کرے۔

منظور پشتین نے آج مایوس کیا، اس کا لہجہ کمزور لگا، جب وہ کہہ رہا تھا کہ وہ ایک تھپڑ ماریں تو بدلے میں دس مارے جائیں، ایک بندہ وہ ماریں تو دس ان کے مارے جائیں، کیا آئین پر یقین رکھنے والے شخص کو یہ لہجہ، یہ انداز زیب دیتا ہے؟

ریاست کا کیا ہے؟ لوگ بھرتی ہوتے ہیں، مارے جاتے ہیں، نیا خون لائنوں میں لگا ہوتا ہے، کوئی شوق سے آتا ہے اور کسی کو غربت یہاں تک لے آتی ہے۔

جرنیلوں کا کیا ہے؟ جنگ ان کا مشغلہ ہے، وہ پیدا جنگ کے لیے ہوتے ہیں، لڑائی لڑتے ہیں، مراعات لیتے ہیں، بچوں کو باہر پڑھاتے ہیں اور پھر خود بھی ملک چھوڑ دیتے ہیں۔ ان کا جنگ میں کیا نقصان ہوتا ہے؟

مرتا غریب کا بچہ ہے یا پھر پشتون قوم، کیا منظور پشتین غریبوں کے بچوں اور پشتون نسل کو دوبارہ جنگ کی طرف لے جانا چاہتا ہے؟ اب اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ ان ماؤں کی بدقسمتی ہوگی جو بچوں کو جوان کرتی ہیں۔ پشتون حسن میں یکتا ہیں، ان کی جوانیاں دیکھ کر آنکھیں رک جاتی ہیں، جی چاہتا ہے قبائلیوں کو رک کر دیکھا جائے، واللہ یہ لوگ مرنے کے لیے نہیں ہیں، یہ جنگ کا ایندھن بننے کے لیے نہیں ہیں، پھول سنبھالے جاتے ہیں کچلے نہیں جاتے، ریاست اور منظور دونوں کو ان پھولوں پر رحم کرنا ہوگا۔

ریاست سے ہمیں گلہ نہیں، گلہ منظور پشتین سے ہوگا۔ بہت سارے لوگ دیکھ رہے تھے کہ منظور ریاست کو آئین کا پابند کر دے گا، مگر وہ خود ہی آئین سے باہر نکل کر کھیلنے کی کوشش کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   مسئلہ منظور پشتین کا نہیں - ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

مکرر عرض ہے کہ منظور کوئی کھلنڈرا نوجوان نہیں بلکہ ایک لیڈر ہے۔ وہ روئے گا تو لاکھوں لوگ روئیں گے، وہ ہنسے گا تو لاکھوں لوگ ہنسیں گے، وہ آئین کی بات کرے گا تو لاکھوں لوگ آئین کی بات کریں گے ، وہ مرنے کی بات کرے گا تو لاکھوں لوگ مرنے کو بھی تیار ہوں گے۔ اس کا امتحان لوگوں کو مروانا نہیں بچانا ہے۔ موت پہلے لیڈر بہت دے چکے، اب زندگی دینے کی باری ہے، مرنا کمال نہیں جینا کمال ہے۔

جناب منظور پشتین صاحب!
موت نہیں زندگی، تشدد نہیں عدم تشدد، گالی و گولی نہیں بلکہ بولی اور صرف بولی۔ بات کیجیے، بات کوئی سنے نہ سنے، ضائع نہیں جاتی۔ گولی ضائع ہو جاتی ہے۔ ریاست پر گولی چلائیں گے تو اسے میزائل چلانے کا جواز مل جائے گا۔ یہ جواز ریاست کو فراہم نہ کیجیے۔