’’پھر وہی کھیل۔۔۔‘‘ - احسان کوہاٹی

’’السلام علیکم سیلانی بھائی! کیا حال چال ہے، آپ ٹھیک ٹھاک ہو‘‘ بات کرنے والے کا لہجہ بتا رہا تھا کہ اس کا مخاطب مقبوضہ کشمیر کا ڈار، لون، بھٹ یا کوئی منشی، وانی ہے۔ اس جنت نظیر وادی کے لوگ اردو سمجھ بھی لیتے ہیں اور بولتے بھی ہیں اور پڑھ بھی لیتے ہیں، لیکن بعض الفاظ کی ادائیگی میں انہیں مشکل ہوتی ہے، ان کی بات سمجھنے کے لئے مکمل دھیان دینا پڑتا ہے۔ سیلانی نے پہلی بار یہ لہجہ استنبول میں سنا تھا جہاں مقبوضہ کشمیر کے ایک نوجوان طالب علم سے ملاقات ہوئی تھی دوسری باراس نے یہ لہجہ کراچی میں ایک نیوز رپورٹ کی تیاری کے دوران معروف کشمیری بزرگ اورولی اللہ حضرت انور شاہ کشمیری رحمتہ اللہ علیہ کے بھتیجے کے گھر میں اس وقت سنا تھا جب ان کے اہل خانہ ان کے سامنے وڈیو کال پر مقبوضہ وادی میں اپنے عزیزوں سے رابطہ کیا تھا۔

سیلانی نے فون کان سے لگاتے ہوئے سلام کا جواب دیااور کہا’’کیا حال ہے، سردی تو بہت ہوگی‘‘
’’آج ذرا کم ہے، لیکن پھر بھی ٹمپریچر مائنس میں ہے۔‘‘
’’دوست!! سچی بات ہے مجھے تو سمجھ ہی نہیں آرہا کہ آپ سے کیا بات کروں، میرے لئے یہ اعزاز ہے کہ میں ایک مجاہد سے بات کر رہا ہوں۔‘‘
’’اللہ اللہ ۔۔۔ سیلانی بھائی! اللہ مجاہد بنا دے آپ دعا کرنا ہم نے تو بس بندوق اٹھا لیا ہے، اللہ اسے قبول کرلے۔‘‘

یہ کہہ کر اس نوجوان نے سیلانی کو خوشگوار حیرت میں ڈال دیا، وہ کہہ رہا تھا کہ اس نے سیلانی کے کالم پڑھ رکھے ہیں۔
’’ارے واہ !مگر، مگر آپ کو میرا کالم کہاں سے ملے۔‘‘
’’سیلانی بھائی! دنیا چھوٹا سا ہوگیا ہے ’’کھبر‘‘ کی اسپیڈ بلٹ کی اسپیڈ سے کم نہیں ہوتی، ہم ادھر گولی چلاتے ہیں ادھر انڈین آرمی کو پتہ چل جاتا ہے، اور ساتھ ہی میڈیا میں بھی نیوز آجاتا ہے، اسی طرح دنیا میں کچھ بھی ہوتا ہے تو پتہ چل جاتا ہے، ہم جنگل میں رہتے ہیں لیکن ’کھبر‘‘ برابر رکھتے ہیں۔‘‘

’’موبائل کے استعمال سے آپ غیر محفوظ نہیں ہوتے، انڈین انٹیلی جنس کو آپ لوگوں کی نشاندہی نہیں ہوتی‘‘
’’کیوں نہیں ہوتی، ان کے پاس تازہ ترین ڈیوائسز ہیں، موبائل لوکیٹر ہیں لیکن ہم بھی احتیاط کرتے ہیں، کچھ نہ کچھ کرتے ہیں۔‘‘

سیلانی اس وقت مقبوضہ وادی میں غاصب بھارتی فوجیوں سے برسرپیکار ایک مجاہد سے گفتگو کر رہا تھا۔گفتگو کرانے والے دوست نے نہ تو سیلانی سے اس مجاہد کا تعارف کرایا نہ سیلانی نے کوئی سوال کیا، البتہ اس نے سیل فون سیلانی کو دینے سے پہلے سیلانی کے حوالے سے دو تعارفی جملے ضرور کہہ دیے تھے۔

’’اللہ آپ لوگوں سے راضی رہے، یوم جمہوریہ کیسا رہا؟‘‘
’’ہمارا تو یہ یوم سیاہ ہوتا ہے ہمیشہ کی طرح بلیک ڈے منایا۔ سرینگر، بڈگام، پہلگام، کپواڑہ اور سارے کشمیر میں کالے جھنڈے لگائے اورمجاہدین نے چھ گھنٹوں میں چھ اٹیک کیا، ایک بی ایس ایف کا سپاہی کھتم کیا اور ان شاء اللہ سب کو کھتم کردے گا، یا کھود کھتم ہوجائے گا، شہید ہوجائے گا۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:   ڈاکٹر عافیہ صدیقی 16 مارچ کو پاکستان واپس آرہی ہیں - اوریا مقبول جان کا دعویٰ

ابو مجاہدگفتگو میں بارہا انگریزی زبان کے الفاظ بھی استعمال کر رہا تھا، جس سے سیلانی کو اندازہ ہوا کہ وہ کسی اسکول کالج کا پڑھا ہوا ہے۔ سیلانی نے یہ بات پوچھی تو ابومجاہد بےساختہ ہنس پڑا۔

’’میں گریجویٹ ہوں سیلانی بھائی! اب اس تحریک میں پی ایچ ڈی ڈاکٹر، انجینئر ایم اے، ایم ایس سی پاس نوجوان ہے، انڈیا نے اتنا ظلم کیا کہ ان سے برداشت نہیں ہوا، انہوں نے قلم چھوڑ کر بندوق اٹھا لیا، اب انڈین آرمی کے لیے عذاب بنا ہوا ہے۔‘‘ اتنا کہہ کر ابو مجاہد نے سیلانی سے کہا ’’سر! میں آپ سے زیادہ لمبا بات نہیں کرسکتا، یہاں کھطرہ (خطرہ) ہو جائے گا، بس مجھے ایک بات پوچھنا ہے، میرا کھواہش تھا کہ کبھی کسی پاکستانی جرنلسٹ یا آفیشل سے بات ہو تو میں پوچھوں۔‘‘
’’جی جی فرمائیے‘‘
’’آپ لوگوں کو فریڈم کا قدر کیوں نہیں آتا، ہم یہاں پاکستان کے لیے جان دیتا ہے، سب جان دیتا ہے، ہمارے لیے پاکستان مسجد جیسا ہے لیکن کبھی کبھی ایسا نیوز بھی آتا ہے کہ دل دکھ جاتا ہے۔ ابھی ہم نے الجزیرہ پر ایک پاکستانی جرنلسٹ کا آرٹیکل پڑھا کہ پاکستان میں ایک اور بنگلہ دیش بن رہا ہے، پاکستان میں کوئی جماعت ہے پی ٹی ایم، جو کہہ رہا ہے کہ وہاں پٹھانوں پربڑا ظلم ہو رہا ہے۔ ہم نہیں جانتا کہ یہ کتنا سچ ہے؟ ہو سکتا ہے سچ ہو لیکن تھوڑا سچ ہوگا زیادہ نہیں، اس کو بنیاد بنا کر پاکستان کے خلاف بات کرنا بالکل مناسب نہیں ہے۔۔۔ ہمارا سیاست سے کیا کام ہمیں تو کل کا بھی نہیں پتہ کہ زندہ ہوں گے یا نہیں لیکن میں یہ ضرور کہوں گا کہ کسی نے ظلم دیکھنا ہے تو کشمیر آجائے اور دیکھے ۔۔۔ بڑا دکھ ہوتا ہے جب کوئی پاکستان کے لیے غلط بات کرتا ہے، ہمیں بالکل اچھا نہیں لگتا‘‘۔

ابو مجاہد کے اس پیغام نے سیلانی پر ٹھنڈے یخ بستہ موسم میں جیسے گھڑوں پانی ڈال دیا ہو، اس کی تو زبان ہی تالو سے لگ گئی، اس نے کوشش کی کہ کچھ کہے لیکن بس تھوک نگل کر رہ گیا، دوسری طرف سے کچھ آوازیں آئیں اور پھر ابو مجاہد کی آواز آئی: ’’اب جانا ہے، زندگی رہی تو پھر ملیں گے اللہ حافظ‘‘

سیلانی نے کمزور سی آواز میں ان شاء اللہ کہا اور لب بھینچ کر صوفے پر بیٹھ گیا۔ ابو مجاہد سے بات کرانے والا دوست کہنے لگا ’’انہیں اب فورا ہی علاقہ چھوڑنا ہوگا، ورنہ کریک ڈاؤن ہو سکتا ہے، انڈیا کی الیکٹرونکس انٹیلی جنس بہت جدید ہے‘‘۔ سیلانی نے خاموشی سے سر ہلا دیا۔

یہ بھی پڑھیں:   سدا بہار دوست - احسان کوہاٹی

سیلانی کی خواہش تھی کہ مقبوضہ کشمیر کے کسی مجاہد سے رابطہ ہو اور وہ کسی شیردل مجاہد سے بات کرے۔ بھارت کے یوم جمہوریہ پر تویہ ممکن نہ ہوسکا کیوں کہ پوری وادی میں ہائی الرٹ تھا اور موبائل فون، انٹرنیٹ سروس بھی بند تھی البتہ دوسرے دن اس کے ایک دوست کے توسط سے اس کی یہ خواہش پوری ہوگئی، لیکن اس طرح کہ ایک مجاہد کے پیغام نے پاکستانی کی حیثیت سے اس کا سر شرم سے جھکا دیا۔ وہ کشمیری مجاہد یقینی طور پر الجزیرہ میں 13جنوری 2019ء کے شائع ہونے والے مضمون کے بارے میں بات کر رہا تھا جس میں ایک خودساختہ جلاوطن صحافی کی طرف سے قوم پرستی کے لبادے میں پاکستان مخالف قوتوں کی پشت سہلائی گئی تھی۔ منظور پشتین کی تحریک کو حق بجانب دکھا کر اسے مسیحا بنا کر قبائلیوں کو اس کی جانب متوجہ کیا گیا تھا اور عالمی سطح پر اسے متعارف کرانے کی تحریک میں کردار ادا کیا گیا تھا۔ نفس مضمون کے مطابق فاٹا میں قبائل کے ساتھ وہی سلوک روا رکھا جا رہا ہے جو دشمنوں کے ساتھ روا رکھا جاتا ہے اور جو کبھی بنگالیوں کے ساتھ رکھا گیا۔ اس خودساختہ جلاوطن صحافی نے زہر میں بجھے قلم سے ننانوے فیصد جھوٹ اور صرف ایک فیصد سچ لکھا تھا کہ پی ٹی ایم ایک اور بنگلہ دیش بنانا چاہتی ہے۔۔۔ انہوں نے یہ سچائی چھپا لی تھی کہ مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے میں بھارت نے دو دہائیاں کیا کیا محنت کی تھی۔ پروپیگنڈے کی ہانڈی میں شکوے شکائتیں ڈال کر کیسے نفرت کی آگ جلا ئی تھی۔ تب ہی تو اندرا گاندھی نے سقوط ڈھاکہ کے بعد اسمبلی میں نظریہ پاکستان کو خلیج بنگال میں ڈبونے کا فخریہ اعلان کیا تھا۔ آج پھر وہی قوتیں اس کھیل کو دوہرانا چاہتی ہیں اور وہ کھلاڑی تلاش کر رہے ہیں۔ ایسا نہیں کہ قبائل کی ساری شکایات بے بنیاد اورسارے مطالبات غلط ہیں، قبائلی پشتونوں کی وطن سے محبت آنگن میں چمکتی دھوپ کی طرح روشن ہے، انہوں نے اس ملک کی خاطر قربانیاں دیں، اس ملک کی خاطر آئی ڈی پیز بنے، ہجرت کی اور اب واپس ہورہے ہیں تو منہدم دیواریں اور مٹی کے ڈھیر ان کے منتظر ہیں۔ حکومت جو دے رہی ہے وہ اونٹ کے منہ میں زیرہ نہیں زیرے کا چھلکا ہے اور اس میں بھی کرپشن کی کہانیاں گردش کر رہی ہیں۔ یہ شکایات ترجیحی بنیادوں پر دور ہونی چاہییں تاکہ کسی خودساختہ جلاوطن کو پروپیگنڈے کی ہانڈی میں چمچ ہلانے کا موقع نہ ملے اور کوئی کھرا پاکستانی دکھی دل سے پاکستان کی قدر کرنے کا پیغام نہ دے ۔۔۔ سیلانی نے یہ سوچتے ہوئے ٹھنڈی سانس لی اور دوست کی طرف موبائل فون بڑھا کر اسے دیکھتا رہا دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا۔

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.