چین کا سال نو؛ تاریخ اور خصوصیات - ڈاکٹر ساجد خاکوانی

چین میں سال نو کی آمد پر جشن بہاراں کا تہوار تائیوانی تہذیب میں سب سے اہم تہوار تصور کیا جاتا ہے۔ چین میں اس کا نام ’’چینی سال نو‘‘ ہے، جبکہ چین سے باہر اسے تائیوانی جشن بہاراں کا نام بھی دیا جاتا ہے۔ باقی دنیا کے برعکس چین کے سال کا آغاز کسی خاص دن پر شروع نہیں ہوتا بلکہ چین کے قمری سال کا آغاز اپنے حساب سے جنوری کے آخر یا فروری کے شروع میں واقع ہوتا ہے۔ اس تائیوانی تہوار کے ڈانڈے ماضی بعید میں ’’شانگ‘‘ دورحکومت (1700تا1100ق م) میں ملتے ہیں۔ اس وقت بھی یہ تہوار سال کے آغاز میں منایا جاتا تھا، لیکن اس کا تصور قدرے مختلف تھا۔ اس وقت اس تہوار میں آسمانی کھانے اور بہشتی پکوان رکھے جاتے تھے جن کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ اس دنیا سے کوچ کر جانے والے آباؤ اجداد ان دسترخوانوں پر چنے ہوئے کھانے تناول کرتے ہیں۔ مشرقی ایشیا کا یہ قدیمی تہوار سال کے آغاز پر پہلے مہینے کی پہلی تاریخ سے شروع ہوتا ہے اور پندرہ دنوں تک اس کی تقریبات زندہ رہتی ہیں۔ پہلے ماہ کی ہی پندرہ تاریخ کو، جب چاند اپنا روشن وجود مکمل کر چکتا ہے، ’’لالٹین میلے‘‘ میں اس پندرہ روزہ تہوار کا اختتام ہو جاتا ہے۔ اس طویل تہوار کا ایک خاص موقع ایک رات کا عشائیہ ہوتا ہے جس کا انعقاد وسیع پیمانے پر کیا جاتا ہے اور اس عشائیے میں روایتی کھانے تیار کیے جاتے ہیں اور دستر خوان پر چنے جاتے ہیں، ان کھانوں میں بطخ، مرغی، خنزیر کا گوشت اور بعض مقامات پر مچھلی بھی شامل ہوتی ہے اور میٹھا بھی ضروری خیال کیا جاتا ہے۔ شمالی علاقے میں میٹھی کھیر بڑے شوق سے تیار کی جاتی ہے جبکہ جنوب والے چاولوں کے زیادہ شوقین ہیں۔ یہ عشایہ ایک طرح کے پورے خیش قبلیے کا سالانہ عشائیہ ہوتا ہے جس میں تمام افراد شریک ہوتے ہیں اور رات گئے تک آگ کے کنارے اس عشائیہ کی تقریبات چلتی رہتی ہیں۔ تقریب کے آخر میں بعض لوگ عبادت گاہ کی طرف بھی سدھارجاتے ہیں اور رات کے بقیہ میں سے کچھ وقت وہاں گزارتے ہیں۔ یہ تہوار خاص طورپر خاندان والوں کے لیے اور خاندانی بزرگوں سے ملنے کے لیے مخصوص ہوتاہے اور اس عشایئے کے لیے خاندان کی سب سے بزرگ ہستی کے گھر کا یااسی کے گھر سے قریب ترین جگہ کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ عشائیہ کے آخر میں تمام شرکا کی تصویر بھی لی جاتی ہے اور تصویر کے لیے خاندان کے سب سے بوڑھے مرد کو درمیان میں بٹھایا جاتا ہے۔ اس موقع پر چین اور تائیوان میں عام تعطیل بھی ہوتی ہے۔ چین میں رہنے والے اور دوسری دنیاؤں میں بسنے والے چینی باشندوں کے علاوہ ہانک کانگ، ماکو، تھائی لینڈ، کوریا، جاپان، نیپال، بھوٹان، ویت نام، فلپائن اور سنگاپور کی تہذیبی تقریبات میں بھی اس تہوار کے اثرات ملتے ہیں۔ خاص طور پر ’’ہان تہذیب‘‘ کی باقیات جہاں جہاں بھی موجود ہیں، وہاں یہ تہوار پورے مذہبی و ثقافتی جوش و خوش سے منایا جاتا ہے۔

چین کے باشندے اس تہوار کا بہت بے چینی سے انتظار کرتے ہیں، اس موقع پر نمائشی اشیا اورتحفوں کی خریدوفروخت پر بے پناہ وسائل خرچ کیے جاتے ہیں اور لوگ دل کھول کر اپنی جیبیں خالی کرتے ہیں۔ مختلف قسم کے کھانے تیارکیے جاتے ہیں اور مرد،خواتین اور بچے اپنے لیے نئے نئے کپڑے سلواتے ہیںاورنئے جوتے خریدتے ہیں تاکہ تہوار کے موقع پر دیدہ ذیب نظر آئیں۔ ملکی نشریاتی ادارے اس موقع پر بہت اچھے اچھے اور دلچسپ تفریحی و پرکشش پیش نامے تیارکرتے ہیں،چنانچہ ہرگھرمیں رات گئے تک ٹیلی ویژن چلتا رہتا ہے۔ تمام گھروں میں خوب خوب اور رگڑ رگڑکرصفائیاں کی جاتی ہیں اور آمدسال نو کے موقع پر ہر طرح کے میل کچیل کو گھرسے نکال دینے کو ایک نیک مذہبی شگون کادرجہ حاصل ہوتاہے۔شہرکے گھرانے ہوں یا دیہات کے، یہ گھروالی کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ سال بھرکا جمع شدہ گند گھرسے باہر نکال پھینکے۔لیکن باقی گھروالے بھی اس کی بھرپور مدد کرتے ہیںاور صفائی سے اپنے سال کاآغاز کرتے ہیں۔دروازوں اور کھڑکیوں کو سرخ رنگ کے خوبصورت نمائشی کاغذوں کے کٹتیوںسے آراستہ کیاجاتاہے،ان کٹتیوں پرسال نوکی آمد کے حوالے سے خوشی، خوش بختی،دولت اور طویل العمری کے بارے میں خوبصورت تحریریں بڑے دلکش انداز سے تحریر کی گئی ہوتی ہیںجبکہ بعض لوگ اس موقع پر سارے گھرکو سرخ رنگ سے قلعی کرواتے ہیں۔ بچوں کو سرخ لفافوں میں کرنسی ڈال کر عیدی کے طورپر دی جاتی ہے، امیرلوگ اپنے بچوں کو بڑی بڑی رقوم دیتے ہیں جب کہ باقی لوگ اپنی حیثیت کے مطابق۔ بڑوں کے لیے یہ تہوار سال بھر کی رنجشوں اور ناراضگیوں کے خاتمے کا باعث بھی بن جاتاہے۔اور اس موقع پر ایک دوسرے کوصحت اور خوشی کی مبارک بھی دی جاتی ہے، مبارک باد دینے کاروایتی طریقہ تو سرخ لفافے میں عیدکارڈ بھیجناہے لیکن فی زمانہ ای میل اور موبائل فون میں موجود متعدد تحریری و تصویری طریقوں سے بھی نت نئے انداز سے عیدمبارک بھیجی جاتی ہے۔اس تہوار کے موقع پر سرخ رنگت کے پیچھے ایک روایتی کہانی کارفرماہے، چینی سال کا آغاز ایک جنگلی جانور ’’نیان‘‘ سے لڑائی کے ساتھ ہوتا تھا۔ نیان ہر سال کے پہلے دن گاؤں پر حملہ کرتاتھا تاکہ پالتو جانوروں کو کھائے، فصلوں کو اجاڑے اور کاشتکاروں کو اور ان کے بچوں کو ہڑپ کر کے اپنے پیٹ کاایندھن بھرے۔ گاؤں کے لوگ ’’نیان‘‘ سے بچنے کے لیے سال کی پہلی رات اپنے گھروں کے دروازوں پر خوراک رکھ دیا کرتے تھے جس کے باعث نیان وہی خوراک کھا کر واپس چلا جاتا تھااوران کی بچت ہو جاتی تھی۔ ایک دفعہ لوگوں نے دیکھاکہ نیان ایک بچے سے ڈر کر بھاگا چلا جا رہا ہے کیونکہ بچے نے سرخ رنگت کے کپڑے زیب تن کیے رکھے تھے، تب سے گاؤں والوں نئے سال کے آغاز پر سرخ رنگ کو اپنا لیا، اب وہ اپنے گھروں اور کھڑکیوں کوسرخ رنگ دیتے ہیں اور سرخ رنگ کا ہی لالٹین جلاتے ہیں چنانچہ تب سے نیان نے حملہ کرنا چھوڑ دیا ہے۔ اب نیان کو چین کے قدیم دیوتاؤں میں سے ایک دیوتا’’ہونگ جن لوذو‘‘ نے گرفتار کر رکھا ہے اور یہ دیوتا اب نیان پر سواری بھی کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   برما سے میانمار (حصہ اول) - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد مانگٹ

پندرہ روزہ تہوار کا پہلادن آسمانی خداؤں اور دیوتاؤں کو خوش آمدید کہنے کادن ہوتاہے،پہلی تاریخ کاآغازچونکہ نصف شب کو ہوجاتاہے اس لیے رات گئے سے ہی روشنیوں کا انتظام کر لیا جاتا ہے اور بڑے بڑے بانس جلتے رہتے ہیں اور آتش بازی بھی کسی حد تک جاری رہتی ہے۔رات کایہ عمل نصف شب 12بجے شروع ہوجاتاہے،قدیم زمانے میں تو رات گئے تک جاری رہتاتھالیکن فی زمانہ کسی حادثے سے بچت کے لیے آدھ گھنٹے بعد آتش بازی ختم کردی جاتی ہے،خاص طورپر شہری علاقوں میں۔یہ رات بہت رونق والی رات ہوتی ہے،چینی ثقافت کے قدیمی روایتی رقص بھی کثرت سے ہوتے نظر آتے ہیں۔شمالی چین میں’’یانگ کو‘‘نامی روایتی ناچ اور بانسوں پر پاؤں ٹیک کر اونچا ہو کر چلنے والا رقص کیا جاتا ہے، جبکہ جنوبی چین میں بہت سے افراد مل کراپنے اوپر لمباسارنگ برنگا کپڑا ڈال کر شیر جیسا روپ اوراژدہا جیسا روپ دھار کر خوب ہلتے جلتے ڈولتے ناچتے ہوئے چلتے ہیں۔ اس ساری تگ و دو کامقصد ’’نیان‘‘جیسے جانورکو دور رکھنا ہے۔ بدھ مذہب کے ماننے والے سال کے اس پہلے دن گوشت سے پرہیزکرتے ہیں کیونکہ ان کے عقیدے کے مطابق اس سے طوالت عمری ملتی ہے۔ بدھوں کے مطابق سال کا پہلا دن ان کے ایک دیوتا’’بدائی لولان‘‘کے جنم کادن بھی ہے۔ تہوارکے دوسرے دن شادی شدہ خواتین اپنے میکے جاتی ہیں جبکہ چینی تہذیب میں خواتین کے میکے جانے کو عموماََپسند نہیں کیاجاتااورسخت معیوب سمجھاجاتاہے لیکن سال کادوسرادن شادی شدہ خواتین کے لیے اس لحاظ سے پرمسرت دن ہوتاہے کہ وہ اپنے والدین، بزرگوں اور دیگر نسبی رشتہ داروں سے ملنے کے لیے خصوصی طور پراپنے آبائی علاقے چلی جاتی ہیں۔اس کے بعد تہوارکے باقی تمام ایام میں رشتہ داروں،عزیزوں،دوستوں اور تعلق داروں کو ملنے کی سعی کی جاتی ہے۔پندرہ دن کا لمباوقت اس مقصد کے لیے بہت کافی ہوتاہے کہ سال کے شروع میں اپنے تمام واقف کاروں سے مل لیاجائے۔سال اور تہوار کے دوسرے دن بعض بے روزگاریا منگتوں نے دولت کے دیوتاکی تصویراٹھائی ہوتی ہے اور گھرگھرخوش بختی کی صدائیں دیتے ہوئے گزرتے ہیں جبکہ گھروالے کچھ سکے بطورخوش قسمتی دولت کے ان کی نذرکردیتے ہیں۔بعض مذہبی روایات کے مطابق سال کادوسرادن کتوں کی پیدائش کادن ہے ،چنانچہ اس دن کتوں کے نصیب بھی کھلے رہتے ہیں۔تہوارکاتیسرادن غریب شیطان کا دن کہلاتاہے اور بعض علاقوں میں اسے سرخ منہ والا دن یا سرخ کتے کا دن بھی کہتے ہیں،یہ سب استعارات نحوست کی نشاندہی کرتے ہیں چنانچہ تیسرے دن کوئی سرگرمی دیکھنے کو نہیں ملتی اور لوگ اپنے اپنے گھروں میں ہی دبکے رہتے ہیں۔جدید چین کے اکثر علاقے چوتھے دن سال نو کی تقریبات ختم کر کے تواپنی اپنی ذمہ داریوں پر لوٹ آتے ہیں لیکن باقی ماندہ افراد تہوار کے پندرہ دن پورے کرتے ہیں۔

یہ تہوار پورے ملک میں سفرکاسماں لے کروارد ہوتاہے۔مشرق سے مغرب تک لوگ اپنے سامان کندھوں پر اٹھائے اور بیوی بچوں کو بغل میں سنبھالے بسوں،گاڑیوں اورہوائی اڈوں پر سراپا انتظار بنے نظرآتے ہیں۔ایک سروے کے مطابق پوری قوم کم و بیش چالیس دنوں تک اس تہوار سے قبل اور مابعد گویا حالت سفرمیں رہتی ہیں۔پہلے اپنے اپنے آبائی علاقوں میںجانے کی فکردامن گیرہوتی ہے اور پھر واپسی کاجاں گسل مرحلہ درپیش ہوتاہے جب ایک سال بھرکی جدائی پھردامن گیرہوتی ہے۔تین بلین افراد سفراندازہوتے ہیں جن میں طلبہ و طالبات اور پیشہ ورافرادکافی کافی عرصے قبل دوطرفہ سفرکی خاطر اپنی منزل کے لیے نشستیں محفوظ کرالیتے ہیں تاکہ عین وقت پر دقت کاسامنا نہ ہو۔شمالی چین والے بیجنگ کے لیے رخت سفرباندھتے ہیں،جنوبی چین والوں کی اکثریت ’’گھنگو‘‘کے لیے عازم سفرہوتے ہیں اور چونکہ یہ جنوری کے آخری ایام یا فروری کے ابتدائی ایام ہوتے ہیں اس لیے صاحبان ثروت ’’ہربن‘‘کارخ کرتے ہیںجو بلندپہاڑی مقام ہے اور عید بہاراں کے دوران تک ابھی بھی برف کی باقیات یہاں سرمازن ہوتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   برما سے میانمار (حصہ اول) - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد مانگٹ

پانچواں دن دولت کے دیوتاکا جنم دن سمجھاجاتاہے اور گھروں میں عمدہ پکوان تیارکیے جاتے ہیں،ساتواں دن سب لوگوں کی زندگی کو ایک سال کااضافہ عطاکرتاہے اور آج کے دن سب لوگ اب ایک سال اور بڑے ہوگئے ہیں،بدھوں کے ہاں ساتویں دن بھی گوشت سے پرہیزکیاجاتاہے۔آٹھواں دن خاندان کے ساتھ رات کے کھانے کادن ہوتاہے ۔نواں دن دعاؤں کا دن ہوتاہے اور ہرکوئی اپنی مراد یںمانگتاہے۔تیرہواں دن چین کے عسکری دیوتا کا دن ہے اس دن صرف سبزیاں کھائی جاتی ہیں تاکہ کئی دنوں سے بھراہواپیٹ صاف ہو سکے۔آخری اور پندرواں دن ’’لالٹین میلا‘‘ کہلاتاہے گھروں کی دیواروں پر موم بتیاں روشن کی جاتی ہیں اور خاندان بھرکے لوگ اپنے ہاتھوں میں لالٹین لے کر رات کے اندھیروں میں گلی میں نکلتے ہیں ۔سال نوکے تہوار کایہ آخری دن ہوتاہے۔ بعض مقامات پر یہ پندرہ دن مکمل طورپر منائے جاتے ہیں جبکہ بعض مقامات پر ان سے کم ایام میں یہ تہوار اختتام پزیر ہوجاتاہے۔ان تمام ایام میں موسیقی بھی مکمل طورپر انسانوں کاساتھ دیتی ہے اور مقامی زبانوں میں سال نو کے خوش آمدیدی گیتوں سے تمام تقریبات گونجتی رہتی ہیں۔اس تہوار کی آمد سے کئی دن پہلے سے تیاریاں عروج پر پہنچ جاتی ہیں اوربچے بچیاںموسیقی کی دھن پر نغموں کی مشق کرتے ہیں۔تمام تہواروں کے دوران سرخ ہیرے کانشان گھروں کے ماتھے پر لٹکارہتاہے جو خوش بختی کانشان سمجھاجاتاہے۔

چین سوشلسٹ ملک ہے اور سوشلزم بھی دراصل سیکولرازم کی ناجائزپیداوارہے۔سیکولرازم کاخمیر مذہب دشمنی سے اٹھایاگیااورسولھویں صدی میں میکاولی نے وحی کو بلاضرورت قراردے کر عقل انسانی کو انسانوں کے کل مسائل کے حل کے لیے کافی سمجھانے کا بے ہودہ تصور دیاتھا۔گزشتہ چارپانچ صدیوں سے سیکولرازم کا تجربہ جہاں انسان کے دنیاوی و جسمانی مسائل بھی حل کر نے میں انتہائی ناکام رہاہے وہاں اس تصور حیات نے انسان کو روحانی طورپر بہت ہی تشنہ کام کررکھاہے۔انسانوں کے گروہ کے گروہ خدا ناآشنائی کے باعث روحانیات سے بالکل نابلد خشک اور بے مروت زندگی گزارنے پر مجبورہیں۔اس نظریے کی فکرحلق سے شروع ہوتی ہے اور پیٹ کے نیچے پہنچ کر اختتام پزیر ہو جاتی ہے۔ قرآن مجید نے اس پر کیاخوبصورت تبصرہ کیا کہ اولئک کالانعام بل ہم اذل یعنی یہ لوگ جانوروں کی مانند ہیں بلکہ جانوروں سے بھی بدتر۔چنانچہ انسانی زندگی کی مذکورہ کوتاہیاں پوری کرنے کے لیے آج کا سوشلزم بھی ہزاروں سال قدیم مذہب کا دست نگرہے۔مذہب سے انکار انسانیت سے انکار ہے کیونکہ اگرانبیاء علیھم السلام اس دنیامیں تشریف نہ لاتے توجنگل کابادشاہ انسان ہوتا،اورآج بھی تعلیم وتعلم اور علوم و معارف سے بھری خلاؤں کی طرف گامزن دنیاجوآسمانی تعلیمات سے محروم ہے،دنیاکے خطوں پر شیر،چیتے،بھیڑیے اور کتوں کے جنگلی و غیرانسانی رویوں کی خونین تاریخ رقم کررہی ہے۔

خوشی اور غمی کے مواقع کی فراہمی تمام مذاہب کے درمیان قدر مشترک ہے۔سیکولرازم اور مذہبی تعلیمات میں یہی فرق ہے کہ مذہبی تعلیمات جوانوں کو اپنے بزرگوں سے قریب کرتی ہیں،خاندانوں کو جوڑتی ہیں اور انسانوں سے پیارکرنا سکھاتی ہیںجبکہ سیکولرازم میں بوڑھے افراد کنارے لگادیے جاتے ہیں،خاندان کی اکائی کو سیکولرازم نے ’’آزادی نسواں ‘‘کے نام پر آزادی زناکی بھینٹ چڑھادیاہے اور انسانیت کے نام پر اس سیکولرمغربی تہذیب نے قتل و غارت گری اور خون کی ہولی کے بازارگرم کیے ہیں۔تمام مذاہب وحی کے مقدس ذریعے سے اس زمین پر نازل ہوئے لیکن بعد میں آنے والوں نے کل مذاہب میں اپنی پسندوناپسند اور اور اپنے طبقے کی برتری سے مذاہب کی مقدس تعلیمات کو آلودہ کر دیا اور توحید کی جگہ شرک کواور فکرآخرت کی جگہ ہوس نفس کومذاہب کی تعلیمات داخل کردیا۔آخرمیں خالق کائنات نے اپنے آخری نبیﷺ اور آخری کتاب نازل فرمائی اورتمام گزشتہ مذاہب کی تعلیمات کاخاصہ و خلاصہ اس کتاب قرآن مجیدمیں نازل فرمادیااور اس پر عمل کرنے کے لیے آخری نبیﷺ کی اطاعت کی شرط عائد کردی۔اب یہ کل انسانیت کو دعوت ایمان و عمل ہے کہ اس آخری دین کی ٹھنڈی چھاؤں میںاپنے آپ کو اور اپنی نسلوں کو آسودگی و راحت سے آراستہ کریں اور دنیاو آخرت میں کامیابی و کامرانی کی ضمانت حاصل کر لیں۔