عِلم کے لیے - محمد فیضان

عِلم کسی بھی قسم کا ہو: دنیاوی ہنر سے متعلق ہو یا دینوی احکام سے عبارت ہو، اس کی فطرت میں ہے کہ سرعت کے ساتھ سفر یہ صرف سینہ بہ سینہ ہی کرتا ہے۔ انسان سے انسان کا تعلق قائم ہونا، قلوب کا قریب ہونا اور علم کی ترویج پر باہم متفق ہونا اس کے لئے چند بنیادی ضروریات ہیں۔ یہ اجزائے ترکیبی میسر آجائیں تو عِلم مثلِ مہتاب خود بھی دمکتا ہے اور اپنے حامل کو بھی دنیا کے سامنے چَمکا دیتا ہے۔ اہلیانِ عِلم اس کے تقدس کی اتنی رعایت کرتے ہیں کہ کسی ایسے شخص کے سامنے عِلم کا پیش کرنا جُرم سمجھتے ہیں جو اس کی قدر نہ کر سکے، لہٰذا ایک سچا طالبِ عالم ایک سچے استاد کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہے۔

ایک خالص اہلِ علم کی صحبت کا فیض کا حصول کئی صورتوں میں ہوتا ہے، جن کا مکمل شمار اور احاطہ کرنا صاحبانِ علم ہی کے لیے ممکن ہے۔ البتہ اپنا مختصر مشاہدہ اور تجربہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ کچھ دنوں سے اس کا بار دِل پر ہے۔

- بینائی و دانائی
اہلِ علم حضرات بنیادی طور پر اس لیے افضل ہوتے ہیں کہ وہ اپنا سیکھا، اپنی زندگی پر لاگُو کرتے ہیں۔ یہ بنا غور و فکر کے ممکن نہیں۔ سو ساتھ رہنے والا شاگرد یا سالک ایک ایسی علم و دانائی کا مشاہدہ کرتا ہے جو زندگی کے مختلف شعبوں میں پہلے سے عمل پیرا ہوتے ہیں۔ اس مشاہدے سے وہ ایسی بینائی حاصل کرتا ہے جو اسے اپنے استاد یا مربّی کی طرز پر ہی دنیا و زندگی کو دیکھنے کے قابل بناتی ہے۔ تربیت کے اس ابتدائی دور میں یہ بالکل اتنا ہی اہم ہے جیسے کوئی اور ہنر پہلے استاد کی طرز پر سیکھا جاتا ہے اور ایک درجہ مہارت حاصل کر لینے کے بعد خود تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لایا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   وزیراعلی صاحب! پروفیسروں کی بھی سن لیں - امیرجان حقانی

- اندازِ فکر
ہر صاحبِ علم کا اپنا ایک اندازِ فکر ہوتا ہے جس کی بنا پر وہ اپنے گرد و نواح کی دنیا کو دیکھتا، بیان کرتا اور بالآخر اپنی زندگی ترتیب دیتا ہے۔ اس تمام علم کو اپنے تمام شعبہ ہائے زندگی میں ہم آہنگ بنانا صاحبِ علم کی اولین ترجیحات میں سے ہوتا ہے۔ شاگرد اس اندازِ فکر کے ساتھ قدم ملا کر خود فکر کرنے کا ڈھنگ سیکھتا ہے۔ آنے والے وقت میں بظاہر مختلف دکھائی دینے والے معاملات کے اندر چُھپے اُن محرکات کو پہچان لیتا ہے جو دورانِ تربیت اس پر وا ہوئے۔

- مُرَوّت و عاجزی
حقیقی صاحبِ علم خود کو عقلِ کُل نہیں سمجھتا جس کا اظہار وہ مختلف طریقوں سے کرتا رہتا ہے، مثلاً کبھی اپنے شاگرد کی رائے سے اتفاق کرتا ہے، تو کبھی اپنی ہی پرانی رائے یا مشورے سے رجوع کر لیتا ہے۔ اس طرح وہ عملاً یہ سکھاتا ہے کہ ہر کوئی ہمہ وقت درست نہیں ہو سکتا، لہٰذا خود عاجزی اختیار کر کے اپنے دیے جانے والے علم کے ساتھ مروّت کو گوندھ دیتا ہے۔

ٹیگز