قومی بحران اور ریاستِ مدینہ (۲) - محمد دین جوہر

پاکستان، تحریک پاکستان اور دو قومی نظریے پر دادِ تحقیق اور علمی کام نائن الیون کے بعد باقاعدہ ایک صنعت کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی سیاسی حالات میں اس کی اپنی ایک معنویت ہے جس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں۔ فی الوقت یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ ڈاکٹر امبیدکر سے لے کر آج تک دو قومی نظریے کو فکر اور تاریخ کے تناظر میں دیکھنے والے اہلِ علم اس کی تہذیبی معنویت اور سیاسی مضمرات سے خوب واقف رہے ہیں۔ اس کی دو حالیہ مثالیں فیصل دیوجی اور وینکٹ ڈھولی پالا ہیں، اور دونوں کا تحقیقی نتیجہ تقریباً ایک ہی ہے کہ دو قومی نظریے کی بنیاد پر پاکستان کی تخلیق کا اصل مقصد ایک ”نئے مدینہ“ کا قیام تھا۔ دوسرے لفظوں میں ریاست مدینہ کی نئی تشکیل کا مقصد دو قومی نظریے میں متضمن تھا۔ سوال یہ ہے کہ دو قومی نظریے یا نظریۂ پاکستان کی موجودگی میں ریاستِ مدینہ کا حالیہ نعرہ الگ سے سامنے لانے کی کیا معنویت ہو سکتی ہے؟ دو قومی نظریے کے ہوتے ہوئے کیا اس نعرے کی حیثیت تحصیلِ حاصل کی نہیں ہے؟

گزارش ہے کہ ریاستِ مدینہ کو بطور ماڈل سامنے لانے کا حالیہ سیاسی نعرہ دراصل دو قومی نظریے کے داخلی عدم توازن کو دور کرنے کی ایک کوشش ہے۔ نائن الیون کے بعد پیدا ہونے والی عالمی صورتحال اور ”مذہبی“ سیاست کے داخلی بیانیے کی وجہ سے نظریۂ پاکستان پر دباؤ بہت بڑھ گیا تھا اور متبادل بیانیے کی گفتگو شروع ہو چکی تھی۔ دو قومی نظریہ برصغیر کے خاص تاریخی حالات میں جائز طور پر مسلمانوں کی سیاسی شناخت کے مسئلے کو مرکزیت دیتا تھا۔ جدید دنیا میں سیاسی تصورات معاشروں کی فنا اور بقا کی بنیاد بن گئے تھے، اور برصغیر میں رائج ہونے والا قومیت کا جدید تصور ہماری ملی ہلاکت کے پورے امکانات رکھتا تھا، اور ہم صرف دو قومی نظریے کے جوابی تصور ہی سے اس کا مقابلہ کر سکے تھے۔ اس میں بنیادی مسئلہ سیاسی شناخت کا تھا جو استعماری برصغیر میں حصولِ اقتدار کی شرط اول قرار پائی تھی۔ سیاسی شناخت پر حد درجہ شدت اور تاکید کی وجہ سے اور پاکستان کی بےجوڑ جغرافیائی ہیئت کی وجہ سے قومی سیاسی عمل کے ایسے پہلوؤں کو سامنے نہ لایا جا سکا جو دو قومی نظریے کی اساس میں شامل تھے۔ مزید یہ کہ پاکستانی تاریخ کے داخلی عوامل نے قومی شناخت اور سیاسی عمل کو باہم متوازن نہیں رہنے دیا۔ دو قومی نظریے کا یہی عدم توازن بیسویں صدی کے اواخر تک باقی رہا اور نائن الیون کے بعد قومی بیانیہ بحران کا شکار ہو گیا اور متبادل بیانیے کی بات چل نکلی۔ متبادل بیانیے کی روک اور دو قومی نظریے کے عملی پہلوؤں کو تقویت دینے کے لیے ریاستِ مدینہ کا نعرہ سامنے لایا گیا ہے۔ لیکن دو قومی نظریہ ایسی کسی تہذیبی فکر میں مفصل نہ ہو سکا تھا جو ریاست کی سیاسی اور معاشی پالیسی کی بنیاد بن سکتی، اور جلد ہی خود بحران کا شکار ہو گیا۔ اندیشہ یہ ہے کہ ریاست مدینہ کا نعرہ بھی کہیں اسی انجام سے دوچار نہ ہو جائے۔

ریاستِ مدینہ کیا ہے؟ اس سوال کے جواب میں جائز طور پر میثاقِ مدینہ کی شقوں اور دفعات کا اعادہ کیا جاتا ہے۔ ریاست مدینہ یقیناً میثاق مدینہ کا مصداق ہے [”ریاست“ کی اصطلاح میں موجود ابہامات و تضادات کو یہاں زیربحث نہیں لایا گیا]۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ میثاق مدینہ اور نبوی معاشرہ اپنی جزیات تک میں معلوم ہے اور یہ ہمارے تہذیبی حافظے کا معجزہ ہے۔ لیکن آج کی دنیا میں ریاستِ مدینہ صرف ایک نعرہ ہے اور کسی سیاسی فکر میں مفصل نہیں ہے۔ نعروں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ بہت جلد ٹھٹھر کر غیرمتعلق ہو جاتے ہیں یا ایسی ہم عصر چیزوں میں اپنے مصداقات تلاش کر لیتے ہیں جو ان کی مکمل ضد ہوتے ہیں یا ایسی تاریخی قوتوں کی اردل میں چلے جاتے ہیں جو ان کی معنویت ہی کو فنا کر دیتی ہیں۔ میثاق مدینہ کوئی اخلاقی یا قانونی دستاویز نہیں ہے، بلکہ ایک سیاسی دستاویز ہے جس کا بنیادی ترین مقصد سیاسی اقتدار کا مسئلہ اسلامی ترجیحات پر کامیابی سے حل کرنا تھا۔ میثاق نے مدینہ منورہ میں اقتدار اور سیاسی طاقت کی نوعیت اور ہیئت کو صراحت کے ساتھ متعین کر دیا۔ حضور علیہ الصلٰوۃ و السلام کی طے کردہ شرائط پر سیاسی اقتدار کی ایک نئی تشکیل سامنے آئی، اقتدار بلا شرکت غیرے مسلمانوں کو منتقل ہوا اور پہلے سے موجود قوتوں، خاص کر یہود کی حیثیت معاہد ہونے تک محدود ہو گئی۔ ہر نئی سیاسی تشکیل اصلاً جنگ کی تیاری ہوتی ہے اور میثاقِ مدینہ میں امن اور جنگ کی شرائط کو بھی صراحت سے متعین کر دیا گیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر انسانی معاشرہ لازمی کچھ ایسے اجتماعی مقاصد رکھتا ہے جن کا حصول اقتدار کے بغیر ناقابل تصور ہے، اور ان میں اولین بقا کا حصول اور عدل اجتماعی کا قیام ہے۔ برصغیر کے تاریخی اور سیاسی تناظر میں ہمیں یہی بات سب سے پہلے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ حضور علیہ الصلٰوۃ و السلام کے عمل مبارکہ سے یہ بات واضح ہو گئی کہ کارِ جہانبانی مسلمانوں کی اولین ذمہ داریوں میں سے ہے، اور ہمارے تہذیبی آلام کی بڑی وجہ اسی ذمہ داری کے تمام تصورات کو مسخ کرنا یا انہیں فراموش کر دینا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   شکر ہے بھارت کا رخ نہیں کیا! - احسان کوہاٹی

لیکن سوال یہ ہے کہ میثاق مدینہ اور ریاست مدینہ کے ہم عصر مصداق کی معنویت، نوعیت اور ساخت کیا ہوگی؟ اس سوال کا جواب تہذیبی حافظے سے نہیں دیا جا سکتا، اس کے لیے تہذیبی ذہن کی ضرورت ہے۔ ہم عصر دنیا میں، میثاق مدینہ کا اولین اور پہلا سبق مسلم اقتدار کا حصول، اس کی حفاظت اور مضبوطی ہے۔ دو قومی نظریے اور تحریک پاکستان کا اولین مقصد بھی یہی تھا۔ میثاق مدینہ کا دوسرا سبق عدلِ اجتماعی کا قیام ہے اور اس میں ناکامی ہمارے موجودہ قومی مسائل کا سبب ہے۔ برصغیر میں اقتدار اور سیاسی طاقت کے جدید مذہبی تصورات الف لیلوی افسانوں سے زیادہ کچھ نہیں اور ان کے روایت سے تلازمات بھی موہوم ہیں۔ زوال، شکست و ریخت اور طویل محکومی کی وجہ سے یہاں کا مسلم ذہن سیاسی طاقت اور اقتدار سے کوئی فطری یا انسانی نسبتیں باقی نہیں رکھ سکا۔ مسلم ذہن کی اقتدار اور سیاسی طاقت سے نسبتیں بالعموم مسخ شدہ ہیں یا بالکل افسانوی اور رومانوی ہیں۔ اس میں ایک استثنیٰ آل انڈیا مسلم لیگ اور دو قومی نظریے کی صورت میں سامنے آئی اور برصغیر میں تاریک صدیوں کے بعد مسلم اقتدار کا قیام ممکن ہو سکا۔ برصغیر میں مسلم ذہن کا سب سے بڑا مسئلہ یہی تھا کہ وہ نہ صرف مسلم اقتدار کے ہر تصور سے محروم ہو چکا تھا، بلکہ وہ اس کے کسی تصور ہی کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھا اور افسانوی بیانیوں میں پناہ لینے کا عادی ہو گیا تھا۔ دو قومی نظریے کا صرف ایک استثنائی بیانیہ ہے جس نے اس اہم ترین مسئلے کا سامنا کیا۔ لیکن گزشتہ ایک صدی میں مذہب ہی کی بنیاد پر دسیوں ایسے بیانیے سامنے آئے جو مسلم اقتدار کے تصور ہی کو قبول نہیں کرتے اور اپنی خلقت میں مسلم اقتدار سے مخاصمانہ تعلق رکھتے ہیں یا افسانوی اور متحرک ہونے کی وجہ سے مسلم معاشرے کے لیے مہلک ہیں۔ ابھی یہ بحث نہیں کہ پاکستان میں قائم مسلم اقتدار عیوب و مسائل کا حامل ہے یا نہیں۔ زیربحث یہ ہے کہ برصغیر میں غالب مسلم ذہن انسانی حمیت کی بنیاد پر کسی بھی طرح کے مسلم اقتدار کا کوئی تصور نہیں رکھتا، اور وجودی طور پر مسلم اقتدار سے مخاصمانہ موقف پر تشکیل پایا ہے۔

اس افسوسناک صورت حال کے قریب کے اسباب کو سمجھنا مشکل نہیں۔ برصغیر کی مسلم سیاست میں تحریک خلافت کو ایک آرکی ٹائپ کی حیثیت حاصل ہے، اور مذہبی سیاسی ذہن اور مذہبی سیاسی عمل پر اس کے انمٹ نقوش مرتب ہوئے ہیں۔ بطور سیاسی پیراڈائم تحریکِ خلافت قومی خود کشی کا منصوبہ تھا، اور ہمارے ہاں مذہبی سیاست کا بنیادی سانچہ یہی ہے۔ تحریک خلافت نے تین مہلکات کو مذہبی سیاسی شعور اور مذہبی سیاست کی بنیاد میں داخل کر دیا: (۱) استعمار سے خلافت کی بھیک مانگنے کو مطالبے کا کشکول بنا کر مسلمانوں کے ہاتھ میں مستقل تھما دیا جو ہم نے کبھی نہیں چھوڑا، اور جو مختلف مطالباتی عنوانات سے آج تک مذہبی سیاست کا طرۂ امتیاز ہے۔ مذہبی جماعتیں حاضر و موجود سیاسی طاقت کے روبرو کچھ مطالبات کے کشکول کو حریفانہ لہرائے جانا سیاست خیال کرتی ہیں۔ (۲) تحریکِ خلافت ایک ایسی نام نہاد سیاسی تحریک تھی جو مسلم اقتدار اور سیاسی طاقت کے تصور سے یکسر خالی تھی، یعنی اس کا سیاسی عمل معاشرے کی حقیقی تاریخی اور سیاسی ضروریات سے نہ صرف بالکل منقطع تھا بلکہ اس کے لیے شدید مہلک رہا۔ (۳) تحریک خلافت نے ہمارے اساسی دینی عقیدے اور تہذیبی اصول کو اپنے عمل سے مطلقاً فنا کر دیا، یعنی اس نے عملاً یہ تسلیم کر لیا کہ ایک اسلامی سیاسی تحریک اور دینی جدوجہد گاندھی جی جیسے کسی بھی مشرک اور کافر کی قیادت میں واقع ہو سکتی ہے [مجھے گاندھی جی کی عظمت کا اعتراف ہے، اور یہاں کوئی سوئے ادب مراد نہیں بلکہ صرف اپنی مذہبی بات کہنا مقصود ہے]۔ ہماری مذہبی سیاست تحریکِ خلافت کی کوکھ سے پیدا ہوئی ہے۔ اس میں دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ہمارے کلچر پر ہندو مت کے نام نہاد مشرکانہ اثرات مذہبی فکر کا ایک مستقل موضوع ہے، لیکن ہماری مذہبی سیاست کی ہندوانہ تشکیل ہر طرح کی گفتگو سے خارج ہے۔ تحریک خلافت کے محولہ بالا اثرات کی وجہ سے کہ برصغیر میں مابعد مسلم مذہبی سیاست کا فکری تناظر اور عملی سانچہ ہماری دینی اور تہذیبی ضروریات سے کسی بھی سطح پر کوئی نسبت اور مطابقت نہیں رکھتا اور یہ سیاسی اقتدار کے کسی بھی مذہبی یا انسانی تصور سے یکسر خالی ہے۔ مذہبی سیاست کی وجودیات ”مطالبے“ اور ”نفاذ“ سے تشکیل پاتی ہے جو مکمل طور سلبی اور منفی ہے، اور جدید مذہبی سیاسی فکر نے اسلامی معاشرے کے خواب ہی کو کابوس بنا دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   محمد مرسی کی موت، ہماری حکومت کا افسوسناک رویہ- فضل ہادی حسن

بیسیویں صدی میں برصغیر کے مسلمانوں میں باہم قطعی متضاد دو طرح کے اجتماعی عمل سامنے آئے۔ (الف) ایسا سیاسی عمل جس کے مقاصد مذہبی تھے، اور (ب) ایسا مذہبی عمل جس کے مقاصد سیاسی تھے۔ تحریک پاکستان اول الذکر کی مظہر ہے، اور باقی تمام تحریکیں خصوصاً مذہبی تحریکیں مؤخر الذکر کی مثال ہیں۔ اگر کسی مذہبی عمل کا مقصد دنیوی ہو تو وہ اصلاً سیکولرائزیشن کا عمل بن جاتا ہے، اور مذہبی سیاسی جماعتوں نے وطن عزیز میں اس عمل کو غیرمعمولی تقویت دی ہے۔ جب یہ بات کہی جاتی ہے تو فوراً تحریک پاکستان اور اس میں شامل لوگوں کی عملی اور واقعاتی کوتاہیوں پر خردہ گیری شروع ہو جاتی ہے، اور اصل نکتے کو فراموش کر دیا جاتا ہے۔ تاریخ میں بعض اوقات ایسا وقت بھی آتا ہے جب آئیڈیل کو صرف باقی رکھنا ہی ہزاروں اعمال پر فوقیت رکھتا ہے، اور تحریک پاکستان نے یہ کام بھی کیا اور نتیجہ خیز عمل بھی کر کے دکھایا۔ یہاں ایک بات ضمناً عرض کرنا ضروری ہے کہ تحریک پاکستان نے نہ صرف ہمارے دینی اور تہذیبی آئیڈیل کو ایک ناقابل یقین حد تک مخاصم عالمی صورت حال میں زندہ رکھا، بلکہ اپنی حرکیات سے مغربی تہذیب کے قومیت اور جمہوریت جیسے دو نہایت بنیادی تصورات کو یکسر تبدیل (radically transform) کر دیا۔ اس میں اہم تر یہ ہے کہ جس طرح آقائے سرسید اور تحریک علی گڑھ نے اپنی جدید دینی تعبرات سے مذہب کی شکل بدل دی، بالکل ویسے ہی تحریک پاکستان نے مغرب کے بنیادی ترین تصورات کو بھی بدل کر رکھ دیا۔ تحریک علی گڑھ اور تحریک پاکستان یقیناً ہماری تاریخ کے عجائبات میں سے ہے، لیکن کسی بھی معیار پر انسانی تاریخ کا بھی ایک عجوبہ ہے۔ ہم ابھی تک ان دونوں کی بیک وقت تفہیم کا کوئی تہذیبی تناظر پیدا نہیں کر سکے۔

گزارش ہے کہ موجودہ قومی بحران کی اساس یہ ہے کہ ہمارے ہاں ”اسلامی“ یا ”مذہبی“ کی بنیاد پر ایسے سیاسی بیانیے رائج اور فعال ہیں جو باہم بالکل متضاد ہیں۔ اس وقت نفاذی اسلام کے علمبردار اور ریاستِ مدینہ کے نعرہ زن ایک دوسرے کے بارے میں جو زبان استعمال کرتے ہیں، وہ اسی کا مظہر ہے۔ یہ صورت حال مسلم معاشرے میں انیسویں صدی کے اوائل سے چلی آتی ہے۔ اس صورت حال میں قومی سیاسی فکر بالکل منتشر ہو چکی ہے اور قومی سیاسی عمل کی پیچیدگیاں لاینحل ہو کر خطرناک رخ اختیار کر چکی ہیں۔ اس میں افسوسناک پہلو یہ ہے کہ پاکستان میں مرتکز سیاسی طاقت اور اقتدار پر آج بھی مذہبی بنیادوں پر سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ یاد رہے کہ ان سوالات کی نوعیت تنقید کی نہیں ہے بلکہ وہ پاکستانی اقتدار کے محض ہونے پر معترض ہیں، یعنی آج بھی یہ بات عام کہی جاتی ہے کہ پاکستان بنا ہی غلط تھا۔ موجودہ بحران اور اس میں مذہب کے رول کو تاریخی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے تاکہ مذہب اور سیاسی عمل کی درست نسبتوں کا سراغ لگایا جا سکے۔

پاکستان کے محض ہونے پر جو سوالات مذہبی بنیادوں پر اٹھائے جاتے ہیں، ان کا ایک بڑا نقصان یہ ہوا کہ پاکستانی ریاست اور سیاسی نظام پر ایسے مذہبی سوالات کو کوئی جگہ نہ مل سکی جو اس کی استعماری اسٹرکچر کو واضح کر کے کسی اصلاحی ایجنڈے کی بنیاد بن سکتے، اور ریاست اور معاشرے کے مابین حائل خلیج کو پاٹ سکتے۔

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • سیدی السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔۔۔مزاجِ گرامی بخیر
    اپنی کج فہمی،بے بصری اورعملاًثابت شدہ جہالت مآبی کے باوجود۔۔ دلیل پاک۔۔کا روزن کھول بیٹھنےکی جسارت کرلیتاہوں۔۔صرف آپ کی چاہ میں۔۔خزینۂ تحریرسےبقدراوقات تفہیم بھی کچھ نہ کچھ ہو ہی جاتی ہے۔
    3فروری کاپوسٹ کردہ مضمون نظر نوازہواتودلچسپی اسلئےبڑہی کہ آنجناب نےفقیرکےہاں موقع ملاقات پربھی کم و بیش اسی مضمون کے مندرجات کا اجمالی خاکہ بیان فرمایاتھا۔تنگئ وقت ملاقات کے باعث جوتشنگی رہ گئ تھی بصدشکروکرام تفصیل آنےکےبعد سیرابی ہوگئ اورماقبل ومابعد کااتصال مربوط ہوگیا۔فجزاکم اللہ
    محترم ۔۔بقول آپ کے۔ریاست مدینہ۔صرف ایک نعرہ ہےاورکسی سیاسی فکر میں مفصل نہیں ہے
    عرض ہے۔کہ ہماری مقتدرفکری خراد مشینوں میں تیارہوتےیہ نام نہاد قومی بیانیئےاور ریاست مدینہ جیسے نعرے۔۔آپ ہی کےالفاظ میں ٹھٹھرکررہ جاتے ہیں۔
    ان کا ٹھٹھرنااورمعدوم ہونااپنی جگہ مگرقومی بیانیہ کے طورپران کا جبری نفاذ کسی بھی طرح درست قرار دیا جاسکتاھے۔معذرت کےساتھ۔۔کسی اصولی اوراخلاقی قدر کو زحمت دئے بغیر۔۔اور یہ جبری نفاذہوسکتاہےماضی قریب کی متعدد امثال شاہدو ثابت ہیں۔۔کیا یہ بات درست نہیں کہ بے بنیاد مصلحتوں اور وقتی ضرورتوں کے تحت بطور ریفریش منٹ متعارف شدہ نعرے۔۔ پلس قومی بیانیئے۔۔ بعدازاں مہلک نتائج کے ساتھ قومی ابتلاء کی شکل اختیار نہیں کر گئے؟ہوتایہ رہااور مسلسل ہورہا ہےکہ بد ریاحی کی مریض فکری زنبیلوں سے ہروقفۂ نجات کےبعدقلقلاتی ہوئ کوئ مدہم سرسراہٹ نکلتی ہےاور ایک نئے نعرے پلس قومی بیانئیےکی تشکیل کا اعلان کردیتی ہے۔۔آپ ہی سے خواستگارہوں فرمائیے۔۔
    کچھ علاج ان کا بھی اے چارہ گراں ہے کہ نہیں