حج اور "نام نہاد" سبسڈی کا خاتمہ - محمد زاہد صدیق مغل

موجودہ حکومت نے حج پر دی جانے والی "نام نہاد" سبسڈی ختم کرنے کا اعلان کرکے حج اخراجات میں یکمشت 55 فیصد سے زیادہ (1 لاکھ 56 ہزار روپے) اضافہ کردیا ہے۔ اس زیادتی پر مختلف احباب مختلف طرز پر رائے کا اظہار کر رہے ہیں لیکن اس اقدام کو جائز بتانے والوں کی بھی کچھ کمی نہیں۔ ان حضرات کی دلیل کا خلاصہ یہ ہے کہ حج صرف صاحب استطاعت پر فرض ہے اور کسی شخص کو سبسڈی دے کر صاحب استطاعت بنائے جانے کا مطالبہ کرنا درست نہیں (حکومت کے حامی وزیر علماء کے یہ بیانات میڈیا پر نشر کروائے جا رہے ہیں)۔ سبسڈی ختم کیے جانے کی یہ دلیل حج اخراجات کے معاملے کے کلی پہلو سے سہو نظر کر کے صرف اس کے جزو پر بات کرتی ہے۔

یہ بات بالکل درست ہے کہ حج صاحب استطاعت پر ہی فرض ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا شرع نے کسی شخص (چاہے وہ ریاست نامی شخص یا حکمران ہی کیوں نہ ہو) کو یہ حق دیا ہے کہ وہ اپنے فائدے کے لیے لوگوں کے حج اخراجات میں اضافہ کردے؟

اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ حکومت ہر شخص کو مجبور کرتی ہے کہ وہ حج کے لیے 40 دن کا خرچ برداشت کرے۔ کیا حج واقعی 40 دن کا ہوتا ہے؟ اس کا جواب ہے نہیں۔ تو پھر ذرا سوچیں کہ یہ 40 دن کہاں سے آگئے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اتنے لوگوں کو حج پر لے جانے اور لانے میں وقت درکار ہے اور پی آئی اے کے پاس اتنی پروازیں نہیں کہ وہ چند دنوں میں یہ کام کرسکے۔ اچھا تو بھائی آخر یہ کیوں فرض کیا جائے کہ اکثریت حاجیوں کو لے جانے اور واپس لانے کا کام پی آئی اے نے ہی کرنا ہے نیز دوسری ائیر لائنز کو ان روٹس سے باہر رکھ کر ان پر پی آئی اے کی بڑی اجارہ داری کیوں قائم کی جائے؟ اگر مارکیٹ اکانومی ہی کا شوق ہے تو پھر ایسا کیوں نہ ہو کہ دنیا بھر کی تمام ائیر کمپنیوں کو کھلی اجازت دی جائے کہ وہ ہر ملک سے اپنا حج فلائیٹ آپریشن شروع کریں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ پی آئی اے کی تو اصل کمائی ہی حج فلائٹس سے ہونے والی آمدن ہے، تو سرکار بھلا یہ کیسے کرسکتی ہے کہ اس ادارے کے مقابلے پر دوسری بڑی ائیر لائنز کو لے آئے۔

تو اب ذرا پوری تصویر ملاحظہ فرمائیں۔ سرکار چاہتی ہے کہ پی آئی آے کو آمدن ہو، اس کے لیے لازم ہے کہ ہر شخص 40 دن کے حج اخراجات برداشت کرے جن میں سے زیادہ تر اخراجات سعودی عرب قیام و خرد و نوش پر ہوتے ہیں۔ یعنی سرکاری ادارے (وہ بھی نقصان ذدہ اور جسے سرکار ہر سال اربوں روپے کی سبسڈی دے رہی ہے) کی اجارہ داری کو تو چیلنج نہ کیا جائے، اس کی آمدن بھی پکی رکھی جائے، ہاں اس سب کا بوجھ عام آدمی اٹھائے اور اسے مطمئن کرنے کے لئے ایک مذھبی شخص کو آگے کردیا جائے جو لوگوں کہ یہ بتائے کہ "حج صرف صاحب استطاعت پر فرض ہے"۔ چنانچہ حکومت حج اخراجات پر اگر کوئی سبسڈی دے بھی رہی ہے تو کوئی احسان نہیں کررہی بلکہ لوگوں پر مسلط کئے جانے والے اضافی اخراجات میں سے کچھ کا ازالہ کررہی ہے، اسے سبسڈی کہنا بیوقوف بنانا ہے۔ حیرت ان مذھبی لوگوں پر ہے جو درج بالا سوال اٹھانے کے بجائے یہ بتا رہے ہیں کہ حج صاحب استطاعت پر فرض ہے۔ کیا شرع نے 40 دن کا حج فرض کیا ہے؟ اگر ایسی کوئی شرط سعودی عرب لگاتا ہے تو بھی سوال یہ ہے کہ اس کا بوجھ عام آدمی کیوں اٹھائے؟

کچھ لوگ بتا رہے ہیں کہ خلفائے راشدین کے دور میں بیت المال سے کسی کو حج کے لیے سبسڈی نہیں دی جاتی تھی۔ سوال ہے کہ کیا خلفائے راشدین کے دور میں حج کو کاروبار چمکانے کا ذریعہ بنانے اور اسے سیزن سمجھ کر ریٹ بڑھا دینے کی مثالیں بھی ملتی ہیں؟ کیا خلفائے راشدین نے کعبے کے ارد گرد اپنے، اپنے گھر والوں اور دوستوں کے ہوٹل و بزنس سینٹرز کھڑے کردیے تھے؟

حج سبسڈی پر ایک اعتراض یہ پیش کیا جارہا ہے کہ ٹیکس میں جمع شدہ رقم بیت المال کی طرح ہوتی ہے جسے عوام کی مرضی کے بغیر سبسڈی کی صورت کسی کو نہیں دیا جاسکتا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ اعتراض وہ لوگ کررہے ہیں جو جمہوریت کے زبردست حامی ہیں۔ بھائی یہ جسے ووٹ نامی جنس کہتے ہیں، اس کا مطلب اس کے سوا اور کیا ہے کہ لوگوں نے پانچ سال کے لیے کچھ لوگوں کو یہ حق دے دیا ہے کہ وہ آئین و قانون کی حدود میں رہتے ہوئے جو چاہیں فیصلے کریں؟ کیا شرع میں یا پاکستان کے آئین میں کہیں لکھا ہوا کہ حج ادائیگی کے لیے کسی شخص کی مدد کرنا حرام و غیر قانونی ہے؟ کیا حکومت ہر ٹیکس لگاتے اور ہر سبسڈی دیتے ہوئے نئے سرے سے ریفرنڈم کرواتی ہے کہ اس معاملے پر یہ دلیل یاد آگئی ہے؟ حکومت یہ سبسڈی سالہا سال نہیں بلکہ دہائیوں سے دیتی آرہی ہے لیکن آج تک کسی پارٹی نے اس پر اعتراض نہیں کیا اور نہ ہی اس کے اختتام کی بنیاد پر اپنی الیکشن کمپین چلائی کہ جس کی بنیاد پر کہا جاسکے کہ چونکہ لوگوں نے اس پارٹی کو ووٹ دے کر اس سبسڈی کو مسترد کردیا ہے، لہذا اب یہ سبسڈی دینا عوام کی مرضی کے خلاف ہے۔

حج ایک مسلمان کے جذبہ شوق کا اظہار ہے، ہزاروں لاکھوں لوگ پورا سال نہیں بلکہ اپنی زندگی کے کئی سال لگا کر تھوڑی تھوڑی بچت کرکے اس قدر مال جمع کرتے ہیں کہ خدا کے گھر حاضر ہوکر سجدہ ریز ہوں، اس کے محبوبﷺ کے دربار پیش ہوکر صلوۃ سلام کا ھدیہ پیش کریں، خدا کے محبوب بندوں کی نشانیوں کا مشاہدہ کریں۔ پھر یک دم سے یہ ہوتا ہے کہ حکومت حج اخراجات میں ڑیڑھ لاکھ روپے اضافہ کرکے ان کے اس جذبہ شوق کی تکمیل کو کئی سال پیچھے دھکیل دیتی ہے۔ آخر یہ دنیا کی کونسی معاشیات ہے جس میں ایک ضروری و فرض عمل کی لاگت میں یکدم فی کس لاکھوں روپے کا اضافہ ہوجایا کرتا ہے؟ کیا سبسڈی (اگر اسے سبسڈی کہا بھی جائے) کو آہستہ آہستہ ختم نہیں کیا جا سکتا تھا؟ تم حاجیوں سے جہاز کے ٹکٹ سے لے کر ہر شے پر ٹیکس لیتے ہو، "حج صاحب استطاعت پر فرض ہے" کا وعظ سنانے والے اس سوال کا جواب دیں گے کہ حج اخراجات پر ٹیکس لگانا کیسا عمل ہے؟

Comments

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل نسٹ یونیورسٹی کے شعبہ اکنامکس میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے معاشیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ملکی و غیر ملکی جرائد و رسائل میں تسلسل کے ساتھ تحقیقی آراء پیش کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحقیق کے خصوصی موضوعات میں معاشیات، اسلامی فنانس وبینکنگ اور جدیدیت سے برآمد ہونے والے فکری مباحث شامل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.