مہنگا حج، سستے دلائل - آصف محمود

ایک توحج مہنگا ہو گیا اوپر سے عالم وارفتگی میں نونہالان انقلاب کے دلائل۔ غالب ہوتے تو کہتے : نمک پاشِ خراشِ دل ہے لذت زندگانی کی۔

خلقِ خدا نے سادہ سا سوال اٹھایاتھا؛ حج اتنا مہنگا کیوں ہو گیا؟ ملک الشعراء نے سبسڈی کی قوالی چھیڑ دی؛ صاحب کیا سبسڈی لے کر حج کرو گے؟ ہمارے وزیر اعظم تمہیں کیوں سبسڈی دیتے؟ کیا سبسڈی پر حج ہو سکتا ہے؟ جب استطاعت نہیں ہو تو حج کی خواہش ہی کیوں رکھتے ہو؟ کیا ہم بھی سابق حکومت کی طرح سبسڈی دیں؟ کیا ہم بھی قومی خزانہ لٹا دیں؟

حج کے لیے تنکا تنکا جمع کرنے والوں کی جانے بلا سبسڈی کیا ہوتی ہے؟ انہیں تو یہ بھی معلوم نہیں کہ وزیر خزانہ اسد عمر جس اینگرو میں کبھی اعلی عہدے پر کام کیا کرتے تھے، اسی اینگرو کو 16 ارب کی ’سبسڈی‘ دی جا چکی ہے۔ عام آدمی کا سوال یہ ہے کہ نئے پاکستان میں حج اتنا مہنگا کیوں ہو گیا اور مدینے کی ریاست میں مدینے کی مسافت اتنی طویل کیسے ہو گئی؟

سوال سبسڈی کا نہیں سوال خلوص نیت کا ہے۔ کیا حکومت نے حج اخراجات کم کرنے کے لیے کوئی کوشش کی ہے؟ گذشتہ حج کے موقع پر یہاں سے ایک وفد سعودی عرب گیا اور رہائش کے اخراجات 3800 ریال سے کم ہو کر 1700 ریال ہو گئے۔ کیا موجودہ حکومت نے بھی ایسی کوئی کوشش کی؟ کہاں لکھا ہے کہ سعودی عرب میں حجاج کے قیام کا دورانیہ کم نہیں ہو سکتا؟ اس دورانیے کے کم ہونے میں کس کا مفاد رکاوٹ ہے؟ حج اور عمرہ کے شعبے سے وابستہ لوگوں کا دعوی ہے افراط زر اور مہنگائی کے تناسب سے آج حج کے اخراجات 3 لاکھ 40 ہزار ہونے چاہییں۔ کیا کوئی صاحب وضاحت فرمائیں گے کہ حکومت نے ساڑھے چار لاکھ کا فیصلہ کیسے کر لیا؟ یہ کب کہاں اور کیسے طے کر لیا گیا کہ حج اخراجات کم کرنے کا واحد راستہ سبسڈی تھا؟

حج پر سبسڈی دینا گوارا نہیں ہے تو فرٹیلائزر ، ٹیکسٹائل وغیرہ کی اندسٹری کے مالکان کو سرچارج کے 125ارب روپے معاف کیوں کیے گئے؟ حج پر سبسڈی دی بھی جاتی تو 9 ارب کے قریب رقم بنتی ہے۔ نو ارب کا ریلیف دینا گوارا نہیں تو ایک سو پچیس ارب کیسے معاف کر دیے گئے؟ روزنامہ 92 نیوز میں برادرم سہیل اقبال بھٹی کی رپورٹ کے مطابق صرف اینگرو فرٹیلائزرز کو 16 ارب روپے کا سرچارج معاف کر دیا گیا ہے۔ جی ہاں وہی اینگرو جس میں اسد عمر کسی زمانے میں ملازمت کرتے تھے۔ پوری قوم کے حجاج کو 9 ارب کا ریلیف نہ دینے والے اسد عمر بتانا پسند کریں گے کہ اینگرو کو 16 ارب کیسے اور کیوں معاف کیے گئے جبکہ سرچارج کی یہ رقم اینگرو عوام سے وصول کر چکی ہے، مگر خزانے میں جمع نہیں کرا رہی اور معاف کرنے والوں نے متعلقہ وزارتوں اور اداروں سے رائے لیے بغیر اور کابینہ ایجنڈے میں شامل نہ ہونے کا باوجود یہ معافی دے دی؟ اگر حج صرف صاحب استطاعت پر فرض ہے تو اینگرو کے مالی معاملات سے چشم پوشی کرنا اور انڈسٹری کو سرچارج کے 125روپے معاف کرنا، کب سے فرض عین ہو چکا ہے؟ ہمارے پیسوں سے اگرحج میں سبسڈی نہیں دی جا سکتی تو ہمارے پیسے اینگرو کو کیسے معاف کیے جا سکتے ہیں؟

حکومت حج کے معاملات میں سہولت نہیں دے سکتی تو حج پر اس کی اجارہ داری کیوں ہے؟ یہ معاملات پرائیویٹ اداروں کو کیوں نہیں دیکھنے دیے جاتے۔ نجی شعبہ اسے دیکھے گا تو ہو سکتا ہے بیوروکریسی کی لوٹ مار کی خوفناک کہانیوں سے نجات مل جائے اور مسابقت کے ماحول میں خود ہی قیمتیں نیچے آ جائیں اور کچھ شفافیت پیدا ہو سکے۔ لیکن یہاں معاملہ یہ ہے کہ حکومتوں نے حج کو نہ صرف کاروبار بلکہ لوٹ مار کا ذریعہ سمجھے رکھا ہے۔ حکومتیں اپنی ذمہ داری بھی ادا نہیں کرتیں اور اس نفع بخش کاروبار سے دست بردار بھی نہیں ہوتیں۔ حج ایک عبادت ہے اور آئین پاکستان کی رو سے حکومت پابند ہے کہ لوگوں کو اس باب میں سہولیات فراہم کرے۔ اگر حکومت نے یہ کام نہیں کرنا تو مذہبی امور کی وزارت کیوں قائم کی گئی ہے اور اس پر اخراجات کیوں اٹھائے جا رہے ہیں۔ وزارت مذہبی امور حج اور عمرے کے علاوہ آخر کرتی ہی کیا ہے؟ سال میں ایک حج کے معاملات بھی اگر یہ اچھے طریقے سے نہیں دیکھ سکتی تو اس کی افادیت کیا ہے؟

یہ عجیب تماشا ہے کہ حج کے نام پر حکومت کھاتی اور کماتی تو بہت ہے لیکن ریلیف دینے کو تیار نہیں۔ حاجیوں سے پیسے درخواستوں کے ساتھ ہی وصول کر لیے جاتے ہیں۔ قرعہ اندازی بعد میں ہوتی ہے۔ بہت دفعہ یہ تجویز دی گئی کہ لوگوں سے ساری رقم درخواستوں کے ساتھ نہ لی جائے۔ کچھ رقم لے لی جائے ور کچھ رقم اس وقت وصول کی جائے جب قرعہ اندازی میں نام آ جائے لیکن وزارت مذہبی امور اسے ماننے کو تیار نہیں۔ ایک وفاقی وزیر مذہبی امور دوست تھے، یہی سوال ان سے پوچھا تو انہوں نے رہنمائی فرمائی کہ یہ سارے پیسے بنک میں رکھ کر وزارت مذہبی امور اس پر سود کھاتی ہے۔ اب سوال یہ ہے اگر سبسڈی دینا گوارا نہیں تو حاجیوں کے پیسوں پر سود کھانا کیوں گوارا ہے؟ گذشتہ سال سوا تین لاکھ لوگوں نے درخواستیں جمع کرائیں۔ اتنے ہی لوگ اس سال درخواستیں جمع کرائیں تو یہ ایک کھرب اڑتیس ارب بارہ کروڑ روپے بنتے ہیں۔ یہ رقم چار پانچ ماہ بنک میں پڑی رہے گی اور حکومت اس پر سود وصول فرمائے گی۔ سوال یہ ہے کہ اس رقم پر جتنا سود وصول فرمایا جائے گا کیا اتنی سبسڈی بھی نہیں دی جا سکتی؟

حیرت ہوتی ہے اور دکھ بھی، کس برفاب اور بے رحم لہجے میں کہہ دیا جاتا ہے کہ استطاعت نہیں ہے تو حج نہ کرو۔ کیا استطاعت کی شرط کا مطلب یہ ہے کہ جتنا چاہو حج اخراجات بڑھا دو کوئی سوال نہ کرے۔ حج ایک ایسی عبادت ہے جو اکثریت زندگی میں ایک بار ہی کرتی ہے اور اس ایک حج کے لیے یہاں لوگ ساری عمر پائی پائی اکٹھی کرتے رہتے ہیں۔ کتنے لوگوں نے اس بار بھی برسوں کی خواہشات کا گلا گھونٹ کر کچھ روپے اکٹھے کیے ہوں گے۔ اب اچانک انہیں بتایا جا رہا ہے آپ گھر بیٹھیں، استطاعت نہیں تو حج پر جانے کی کیا ضرورت ہے۔ یہ لوگ اب اگلے سال تک ایک ایک پائی جوڑیں گے اور اگلے سال حج مزید مہنگا کر دیا جائے گا اور وہ ایک بار پھر اس سے محروم رہیں گے۔ کیا حکومت کو معلوم ہے لوگوں کی حج سے وابستگی اور معاشرے کی حساسیت کا عالم کیا ہے؟ حکومت کو فارن کوالیفائیڈ مشیران کرام کی مبینہ کوالیفیکیشن کا اتنا ہی گھمنڈ ہو چلا ہے کہ سماج سے یوں لا تعلق ہو کر فیصلے کیے جا رہے ہیں؟

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.