صاحب استطاعت کون ہے؟ ابو محمد مصعب

اور اب حج پر سبسڈی دینے، نہ دینے کی بحث شروع ہوگئی ہے۔ پھر یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ حج ہر ایک پر تو فرض نہیں، وہی لوگ حج کا سوچیں جو اس کی استطاعت رکھتے ہیں۔ بظاہر یہ بات بڑی منطقی معلوم ہوتی ہے لیکن معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے جتنا بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔

آئیے اس بات کو ذرا تفصیل سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

فرض کریں، میں ایک عام سا، سفید پوش مسلمان ہوں لیکن اپنے دل میں اللہ کے گھر اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ و سلم کے روضہءِ اطہر پہ حاضری کی تمنّا رکھتا ہوں۔ ویسے تو میں جتنا کماتا ہوں اس میں ہمارے گھر کا گزارہ ہو جاتا ہے، لیکن چوں کہ میں نے اللہ کے گھر کی زیارت کرنی ہے اور اس کے پیارے حبیبﷺ کے روضہءِ اطہر کی جالی چومنی ہے جس کے لیے مجھے اپنے بچوں کے لیے دو تین ماہ کا راشن اور خرچے کا بندوبست کرکے جانا ہوگا۔ لہٰذا، میری بیوی اور میرے بچے، اس نیک کام میں میرے ساتھ تعاون کرتے ہوئے کچھ کم پر گزارا کر لیتے ہیں۔ یوں، کچھ ہی وقت بعد میں اس قابل ہو جاتا ہوں کہ “اصحابِ استطاعت” میں شامل ہو کر فریضہءِ حج ادا کر سکوں۔

یاد رہے کہ صاحبِ استطاعت بننے کے لیے بس اتنا ہی کافی ہے کہ:

اوّل: میرے پاس حج کے سفری اخراجات موجود ہوں، کسی سے بھیک مانگنی نہ پڑے۔

دوم: میری غیر موجودگی میں میرے گھر والوں کے پاس بھی کھانے پینے اور گزارے کے لیے اتنا راشن اور خرچہ موجود ہو کہ وہ کسی سے مدد طلب نہ کریں۔

آپ نے دیکھا، حج کے حوالہ سے صاحبِ استطاعت بننا کتنا آسان ہے؟

اب میں گھر سے تیار ہو کر حج کے سفر پر روانہ ہوتا ہوں۔ راستہ میں ایک دوست ملتا ہے۔ پوچھتا ہے: کہاں کا قصد ہے؟

میں کہتا ہوں، حج پر جا رہا ہوں۔

وہ حیران ہو کر پوچھتا ہے، کون سی ائیر لائن سے؟

یہ بھی پڑھیں:   میں مریضِ وعشقِ رسول ہوں - حبیب الرحمن

میں کہتا ہوں: کیا حج پر جانے کے لیے ہوائی جہاز پر جانا ضروری ہے؟

دوست، پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے کہتا ہے:

ارے بھائی تمہارا دماغ تو درست ہے؟ کیا تم پیدل ہی حج پر جاؤ گے؟ چلو، مان لیتے ہیں کہ پیدل جانا ناممکن نہیں لیکن یہ تو بتاؤ کہ تمہارے پاس پاسپورٹ، ویزہ اور دیگر لوازمات بھی ہیں؟

دوست کی باتیں سن کر میں ششدر رہ جاتا ہوں، کیوں کہ صاحبِ استطاعت ہونے کے لوازمات میں یہ چیزیں تو ہرگز ہرگز شامل نہیں تھیں (بلکہ یہ تو حکومتوں نے حج کے اخراجات میں ڈال دی ہیں)

پھر دوست مجھے ان تمام لوازمات کے بارے میں بتاتا ہے جن کا اہتمام حج سے پہلے کرنا میرے سفرِ حج کے لیے ازحد ضروری بلکہ ناگزیر ہے۔

ان لوازمات میں سب سے پہلی چیز ’’پاسپورٹ‘‘ ہے۔ میں پاسپورٹ آفس جاتا ہوں، مجھے پتہ چلتا ہے کہ اس کی فیس دس ہزار روپے ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ فیس تو میرے علم میں نہیں تھی، اس لیے یہ رقم تو میرے پاس موجود ہی نہیں۔ اس لیے پاسپورٹ آفس سے خالی ہاتھ باہر آ جاتا ہوں۔

ایک دوست ہے جو دنیا گھومتا پھرتا رہتا ہے۔ میں اسے اپنی ساری کتھا سناتا ہوں۔ وہ مجھے بتاتا ہے کہ حج کے لیے نہ صرف پاسپورٹ چاہیے ہوتا ہے بلکہ آپ کو نہ صرف حج کا ویزہ بھی درکار ہوگا بلکہ کئی دیگر لوازمات بھی پورے کرنے ہوں گے۔ اس لیے میری مانو تو کسی ایجنٹ کو پکڑ لو، سارے کام سکون سے ہو جائیں گے۔

دوست کے مشورے پر میں قریب ہی حج و عمرہ والے ایک ایجنٹ کے پاس چلا جاتا ہوں۔ جو مجھے وہ تمام اخراجات تفصیل سے بتاتا ہے جو پاکستانی حکومت اور سعودی حکومت کی طرف سے فریضہءِ حج کی ادائیگی کے لیے سفر کے دوران پیش آتے ہیں۔ ان اخراجات میں پاسپورٹ کی فیس، سعودی حکومت کی فیس، جہاز کا کرایہ، وہاں کی رہائش اور سفری اخراجات سب شامل ہیں۔

اخراجات کی لسٹ دیکھ کر میں حیران پریشان ہو جاتا ہوں اور سوچتا ہوں کہ یہ تمام اخراجات، (سوائے سفری کرایہ کے) تو حکومت کی جانب سے عائد کیے گئے ہیں، دینی ضرورت نہیں۔ مثلاََ، حج کے سفر کے لیے مجھے پاسپورٹ کی ضرورت کیوں ہے؟ جبکہ میں نے نہ تو زندگی میں اس سے قبل کوئی بیرونی سفر کیا ہے اور نہ ہی آئندہ کرنے کا پروگرام ہے؟

یہ بھی پڑھیں:   صرف جماعت اسلامی - آصف محمود

مجھے ویزہ کی کیوں ضرورت ہے؟ میں تو اللہ کے گھر کی زیارت کے لیے جا رہا ہوں، کسی ملک کو دیکھنے یا سیاحت کے لیے تو نہیں جا رہا؟

مجھے مہنگے ہوٹلوں میں رہائش رکھنے کی کیا ضرورت ہے، جو کسی بڑے سرمایہ کار یا دولتمند کی ملکیت ہیں اور جن کا کرایہ اسی کی جیب میں جانا ہے؟

میں مکہ سے جدہ تک کا ٹیکسی کا کرایہ تین سو ریال کیوں ادا کروں جبکہ یہ کرایہ عام دنوں میں پندرہ بیس ریال سے زیادہ نہیں ہوتا۔

میں وہ مختلف و اضافی اخراجات طرح طرح کی فیسوں اور معلم کے معاوضوں پر مشتمل ہوتے ہیں، کیوں ادا کروں جب کہ مجھے ان کی ضرورت بھی نہیں اور نہ ہی میں نے وہ سہولیات طلب کی ہیں؟

سچ پوچھیں تو اگر یہ تمام اخراجات، جو پاکستان گورنمنٹ اور وہاں کی حکومت نے حج پر عائد کیے ہیں، اگر ہٹا دیے جائیں تو مجھ جیسے لاکھوں گئے گزرے لوگ، جو اس وقت ’’صاحبِ استطاعت‘‘ نہیں، وہ بھی ’’صاحبِ استطاعت‘‘ کی کیٹیگری میں شامل ہو جائیں گے اور اللہ کے گھر کی زیارت کر سکیں گے۔ وہ بھی مالدار لوگوں کی طرح کعبۃ اللہ کے غلاف کو چھو سکیں گے اور حضورﷺ کے روضہءِ اقدس کی جالیوں سے اپنی بے نور آنکھوں کے اندر نور کے سرمے کی سلائی پھیر کر انہیں روشن کر سکیں گے۔

یہ کہاں کا انصاف ہے کہ حکومت عوام پر مختلف اقسام کے ٹیکس، فیسیں اور ضابطے نافذ کر کے اللہ کے گھر کے راستے ان پر مسدود کرے اور پھر کہے کہ حج وہ کریں جو ’’صاحبِ استطاعت‘‘ ہیں۔