حیاء ایک پائیدار وصف - زین الدین

حیا ایک بہت ہی پائیدار وصف ہے، جو کوئی اس کو اپناتا ہے کمال کو پہنچتا ہے۔ اس وصف کے حاصل ہونے کے بعد آدمی میں زیادہ بولنے کی عادت ختم ختم ہوجاتی ہے جو کہ آدمی کو حلیم اور بردبار بناتا ہے۔ حیا ایک ایسی صفت ہے کہ جب آدمی خلاف فطرت اور برائیوں کے قریب ہوتا ہے تو اس میں ایک طرح کی جھجھک اور شرم پیدا ہوتی ہے جو اس آدمی اور گناہ کے درمیان رکاوٹ اور حجاب بن جاتی ہے۔

ایک مرتبہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک انصاری صحابی پر ہوا، وہ انصاری صحابی ایک اپنے دوست کو یہ بول رہا تھا کہ آپ اتنا شرم کیوں کرتے ہیں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سن لیا تو ارشاد فرمایا کہ اس آدمی کو اپنے حال پر رہنے دو۔ یعنی اگر کوئی حیا کرتا ہے اور اس میں حیا کی صفت زیادہ ہے اور وہ اس کا مظاہرہ بھی کرتا ہے تو ہمیں اس سے روکنا نہیں چاہیے بلکہ اس کی تعریف کرنی چاہیے جیسے کہ یہاں اس حدیث میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ارشاد فرمایا۔

مدارس میں جب اساتذہ کرام کلاس میں ہمیں پڑھانے کے لئے ہیں، تو بیٹھنے کے بعد پاؤں کی طرف سے اپنے گھٹنوں پر چادر ڈال دیتے ہیں اور کلاس کے دوران سارے طلبہ ایک ٹانگ پر بیٹھتے حالانکہ اساتذہ ایک ٹانگ پر بیٹھنے کی وجہ سے طلبہ کو ڈانٹتے نہیں تھے بلکہ سارا ماحول حیا اور ادب کی وجہ سے بن جاتا تھا۔ چھوٹی کلاسوں میں اگرچہ تلقین اور نصیحت کرتے تھے کہ ایک ٹانگ پر بیٹھا کریں، ادب کے ساتھ بیٹھا کریں، اگر کہیں سے استاذ کا کسی راستے پر گزر ہوتا اور وہاں طلبہ کھڑے ہوتے تو اپنی جگہ سے اس وقت تک نہیں ہلتے جب تک کہ استاذ وہاں سے گزر نہیں جاتے۔

حیا کی وجہ سے ہی سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کو وہ مقام ملا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عثمان غنی کا حیا کی وجہ سے الگ لحاظ رکھتے تھے۔ عربی کا مقولہ ہے الحیاء لا یاتی الا بخیر ''حیا صرف اچھائی ہی لاتی ہے''، کیونکہ حیا کی وجہ سے آپ غلط کاموں میں نہیں پڑیں گے، برائیوں سے دور رہیں گے، گالم گلوچ سے بچیں گے، والدین کی نافرمانی نہیں ہوگی، بھائیوں کے ساتھ تلخ کلامی نہیں کر پائیں گے۔ اگر آپ میں حیا کی صفت ہے تو پھر سامنے والا بھی آپ کا خیال رکھے گا۔

اگر آپ میں حیا والی صفت نہیں ہے تو پھر آپ کا سامنا ہر وقت برائی سے ہوگا، کیونکہ آپ برائی کا جواب برائی اور گالی کا جواب گالی سے دیں گے۔ والدین کی نافرمانی سے نہیں کترائیں گے، بھائیوں کے ساتھ تلخ کلامی آپ کو بری نہیں لگے گی، جس کی وجہ سے آپ کا ہر وقت برائی اور نقصان کا سامنا ہوگا۔ جیسا کہ فرمایا گیا کہ اذا فاتک الحیاء فافعل ما شئتکہ جب انسان کے اندر سے حیا والی صفت ختم ہو جاتی ہے تو پھر جو برائیاں اس کا دل چاہے کرتا پھرے اس کو کوئی پرواہ نہیں ہوگی۔

حیا کی دو قسمیں ہیں: ایک وہ حیا جو انسان میں فطرتی طور پر ہوتی ہے جیسا کہ ستر کھلنے کی وجہ سے آدمی کو حیا آتی ہے، یہ ہر کسی میں پائی جاتی ہے چاہے مسلمان ہو یا کافر، ہندو ہو یاسکھ، عیسائی ہویا یہودی۔ دو وہ حیا ہے جو حقیقی حیا کہلاتی ہے۔ مسلمان میں ایمان اور اسلام کی وجہ سے ہی پائی جاتی ہے، یعنی ہر وقت اللہ تعالی سے حیا اور شرم کا دل میں موجود ہونا کہ نافرمانی اور گناہ کرتے ہوئے آپ کو شرم اور حیا آئے۔ حیا سے متعلق بزرگوں کا قول ہے کہ اللہ سے اتنا ڈرو کہ ہر وقت یہ خیال ہو کہ اللہ تعالی آپ پر ہر وقت قادر ہے، کبھی بھی آپ کی پکڑ ہو سکتی ہے۔ اور اللہ تعالی سے حیا اور شرم اتنی ہو کہ ہر وقت یہ خیال گزرے کہ اللہ تعالی آپ سے آپ کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں

ٹیگز