افغانستان میں کیا ہو رہا ہے؟ محمد عامر خاکوانی

پچھلے سترہ اٹھارہ برسوں میں پہلی بار افغانستان میں ایک اہم ترین تبدیلی رونما ہو رہی ہے، جسے نہ صرف غور سے دیکھنا اور سمجھناچاہیے بلکہ حسب توفیق کچھ نہ کچھ سبق بھی اخذ کرنے چاہییں۔ سب سے پہلے تو ان لوگوں سے معذرت جنھیں افغان طالبان سخت ناپسند ہیں، جنہوں نے ہمیشہ یہی پروپیگنڈہ کیا اور لکھا، ”طالبان افغانستان میں شکست کھا چکے ہیں، اگر پاکستان مداخلت نہ کرے تو افغانستان میں مکمل امن وامان قائم ہوجائے گا اور امریکہ فتح یاب ہوگا۔“ ان احباب کے دلی جذبات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ امریکیوں نے افغانستان چھوڑنے کا اعلان اور طالبان کے ساتھ مذاکرات، امن معاہدہ کر کے اس حلقے کو شدید ذہنی اور دلی تکلیف پہنچائی۔ افسوس، مگر یہ ہونا ہی تھا۔ زمینی حقائق کو نظرانداز کر کے اگر دلی خواہشات اور تمناﺅں کے مطابق تجزیے کیے جائیں تو پھر ایسی مایوسی ہی مقدر بنتی ہے۔

اگلے روز ایک دوست سے اس موضوع پر گفتگو ہور ہی تھی۔ ایک ایسے لہجے میں، جس سے بیزاری اور سخت ناخوشی ٹپک رہی تھی، انہوں نے فرمایا، ”امریکہ تو چلو افغانستان سے جا رہا ہے، مگر اسے طالبان کی فتح کیوں کہا جائے؟ لاکھوں افغان مارے گئے، افغانستان کھنڈر بن گیا، پاکستان میں ستر ہزار جانیں چلی گئیں، ایسے میں کون سی فتح اور کون سا فتح کا جشن ؟“ قریب بیٹھے ایک او ر دوست نے لقمہ دیا، ”ویسے بھی جنگ میں کسی کی فتح، شکست نہیں ہوتی۔“ باتیں دونوں درست نہیں۔ جنگ میں ہار جیت کیسے نہیں ہوتی؟ اگر ایسا ہوتا تو دوسری جنگ عظیم میں کوئی فاتح نہ ہوتا اور ہٹلر بدستور جرمنی کا حکمران رہتا۔ دوسری جنگ عظیم کے نتائج نے دنیا کا نقشہ بدل دیا اور اس کے بعد طاقت کا ایک نیا توازن اور نیا عالمی اقتصادی نظام وجود میں آیا، جس میں ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف جیسے ادارے بنے، جو سپرپاورز کا ہتھیار بن کر تیسری دنیا کے ممالک کو یرغمال بنائے رکھتے ہیں۔ اسی طرح جب کسی ملک پر قابض غیر ملکی قوت اور اس کے فوجی واپس جاتے ہیں تواس کی صرف علامتی اہمیت ہی نہیں بلکہ یہ پسپائی اپنے اندر بہت کچھ سموئے ہوتی ہے۔یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ افغانستان کا بہت نقصان ہوا، بےشمار جانیں گئیں، بہت سے علاقے تباہ ہوئے۔ امریکہ کے جانے پر خوش ہونے کے بجائے اگر کوئی ماتم کرے یا خاموش رہے، تب اس نقصان کی کیا تلافی ہوجائے گی؟

کوئی مانے یا نہ مانے، حقیقت ہے کہ امریکہ کو افغانستان میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ شکست فاش۔ سینکڑوں، ہزاروں ارب ڈالر خرچ کرنے، بڑے جانی نقصان کے باوجود امریکہ افغانستان میں اپنے اہداف مکمل کرنے میں ناکام رہا۔ بعض اندازوں کے مطابق امریکہ نے افغانستان میں ڈیڑھ ٹریلین (ڈیڑھ ہزار ارب ڈالر) خرچ کیے، سرکاری سطح پر البتہ کم بتایا جاتا ہے، تاہم امریکی ماہرین اس پر متفق ہیں کہ افغانستان میں بےپناہ مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ اس سب کے عوض امریکہ کو کیا حاصل ہوا؟ کتنے اہداف اس نے پورے کیے؟ جواب خاصا مایوس کن ہے۔ نائن الیون حملوں کے بعد امریکی اپنی ہولناک عسکری قوت کے ساتھ افغانستان پر چڑھ دوڑے۔ کہا گیا کہ القاعدہ اور طالبان کا خاتمہ کر دیا جائے گا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ القاعدہ بھی موجود ہے، اگرچہ وہ اپنا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم افغانستان سے شفٹ کر چکی ہے، مگر کوئی بھی امریکی ماہر یہ نہیں کہہ سکتا کہ القاعدہ نام کی تنظیم کا دنیا سے خاتمہ ہوگیا۔ افغان طالبان کی حکومت امریکہ نے ختم کی اور ان کی جگہ ان کے مخالف شمالی اتحاد کو موقع دیاگیا۔ آج یہ صورتحال ہے کہ خود امریکی جرنیلوں کے مطابق افغانستان کا ساٹھ فیصد سے زائد علاقہ عملی طور پر طالبان کے کنٹرول میں ہے اور مستقبل کے افغان سیٹ اپ میں انھیں شامل کرنا اشد ضروری ہے۔ امریکی مدبر ہنری کسنجر نے کہا تھا، ”اگر ریگولر آرمی کسی گوریلا تنظیم کو ختم نہ کر سکے تو یہ اس کی شکست ہے، گوریلا تنظیم کا اپنا وجود برقرار رکھ لینا ہی بذات خود اس کی کامیابی اور فتح ہے۔“ طالبان کو ختم نہ کرنا ہی امریکیوں کی شکست اور باعث شرمندگی امر ہے۔ انہوں نے بے پناہ وسائل صرف کیے اور اپنی دانست میں افغان عوام کے دل جیتنے کی سعی کی۔امریکیوں نے طالبان قیادت کے خاتمے، ان میں اختلافات پیدا کرنے، مختلف دھڑے بنانے اور کمانڈ سٹرکچر توڑنے کی سرتوڑ کوششیں کیں، مگر کامیابی نہ ملی۔ امریکہ طویل عرصے تک افغان طالبان سے براہ راست مذاکرات کرنے سے گریز کرتا رہا۔ وہ انہیں الگ سے فریق یا قوت تسلیم نہیں کرتا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ طالبان کو افغان حکومت سے مذاکرات کرنے چاہئیں۔ وہ ہمیشہ مذاکرات سے پہلے افغانستان سے نکلنے کا فریم ورک دینے سے انکاری رہا۔

یہ بھی پڑھیں:   ترکی نے امریکہ کو سرنڈر کرنے پر مجبور کر دیا - محمد شاکر

طالبان کے دو بنیادی مطالبات تھے۔ وہ افغان حکومت کو کٹھ پتلی حکومت قرار دیتے ہوئے ان سے مذاکرات کے لیے تیار نہیں تھے۔ ان کی شرط رہی کہ امریکیوں سے براہ راست مذاکرات کیے جائیں۔ دوسرا وہ مذاکرات کرنے سے پہلے افغانستان سے غیر ملکی افواج کی واپسی یا کم از کم اس کی ڈیڈلائن دینے کی شرط رکھتے تھے۔ امریکہ کو یہ دونوں شرطیں منظور نہیں تھیں۔ آج ہم سب دیکھ رہے ہیں کہ امریکی یہ دونوں شرطیں مان کر قطر میں افغان طالبان سے مذاکرات کر رہے ہیں۔ زلمے خلیل زاد کے طالبان سے مذاکرات کے کئی دور چل چکے ہیں اور ایک امن معاہدہ پر اتفاق رائے ہوچکا ہے۔ اگلے مرحلے میں ظاہر ہے افغان حکومت کو بھی شامل کیا جائے گا، مگر بنیادی مذاکرات امریکیوں اور افغان طالبان کے مابین ہی ہوئے۔ امریکہ نے جو شرائط رکھی ہیں ، وہ بھی ایسی نہیں جو افغان طالبان پہلے نہیں مانتے تھے۔ امریکی سیز فائر چاہتے ہیں اور دوسرا وہ طالبان سے گارنٹی مانگ رہے ہیں کہ مستقبل میں افغان سرزمین امریکہ کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔ یہ وہ بات ہے جو طالبان دس سال پہلے ہی ماننے کو تیار تھے۔ ملا عمر اور طالبان قیادت القاعدہ کی لیڈرشپ کو کنٹرول میں نہ رکھنے پر ناخوش تھی، ان کی حکومت القاعدہ کے ایڈونچر کی وجہ سے گئی اور افغانستان پر امریکی فوج قابض ہوئی۔ دس بارہ سال پہلے ہی طالبان ذرائع سے یہ باتیں سامنے آتی رہی تھیں کہ اگر مستقبل میں وہ افغانستان میں حکمران ہوئے تو پہلے جیسی غلطی نہیں دہرائی جائے گی۔ رہا سیز فائر تو یہ طالبان کے لیے کون سا ایشو ہے؟ ان کے بنیادی مطالبات تسلیم کر لیے گئے ہیں، امریکی افواج افغانستان سے جا رہی ہیں۔ طالبان جانتے ہیں کہ موجودہ افغان حکومت میں اتنا دم خم اور قوت موجود نہیں کہ وہ معاملات سنبھال لیں۔ طالبان کوفتح بالکل سامنے نظر آ رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ترکی نے امریکہ کو سرنڈر کرنے پر مجبور کر دیا - محمد شاکر

سوا ل یہ ہے کہ آخر امریکہ نے افغانستان چھوڑنے کا فیصلہ کیوں کیا؟ اس کا سادہ جواب یہی ہے کہ ایسا ہونا ہی تھا۔ کوئی بھی غیر ملکی قوت کسی دوسرے ملک میں آخر کتنی دیر تک رہ سکتی ہے؟ امریکہ کو افغانستان میں رہنے پر بہت زیادہ خرچ کرنا پڑ رہا تھا اور ایک نہ ایک دن کسی نے اس معاشی نقصان کا جائزہ لینا ہی تھا۔ ٹرمپ نے یہ کام کر دیا۔ اس نے اپنے ماہرین بلائے اور ان سے پوچھا کہ ہر سال افغانستان پر ہونے والے خرچ کا جواب دیا جائے کہ آخر ہمیں اس سے کیا فائدہ ہو رہا ہے؟ ٹرمپ سے پہلے صدر اوبامہ بھی اس نتیجے پر پہنچ چکا تھا۔ اس نے الیکشن ہی اسی ایجنڈے پر جیتا تھا، مگر اوبامہ کو امریکی اسٹیبلشمنٹ نے بے بس کر دیا اور وہ چاہتے ہوئے بھی افغانستان سے باہر نکلنے کی پالیسی نہ بنا سکا۔ ٹرمپ کو دو ایڈوانٹیج حاصل ہیں، ایک تو وہ امریکی اسٹیبلشمنٹ کو کسی خاطر میں نہیں لے آتا، اس کا تعلق ری پبلکن پارٹی سے ہے جو ہمیشہ سے اسٹیبلشمنٹ کے قریب رہی۔ ری پبلکن ہمیشہ جنگوں کے حامی رہے ہیں اور اس کے لیے کبھی پیچھے نہیں ہٹے۔ ٹرمپ نے البتہ ایک نئی ڈاکٹرائن دی ہے کہ ہم دوسروں کی جنگ کیوں لڑیں، جہاں امریکہ کے لیے ضروری ہوگا، صرف وہاں جائیں گے۔ ٹرمپ کو دوسرا ایڈوانٹیج یہ حاصل ہے کہ اس نے امریکہ کے اندر بہت کچھ ٹھیک کر دیا ہے، کاروبار میں تیزی آئی ہے، معیشت بہتر ہو رہی ہے، ٹیکس کم ہو رہے ہیں ،سب سے بڑھ کر ٹرمپ نے سفید فام امریکیوں کو ایک نیا احساس تفاخر اور اعتماد دیا ہے۔ یہ امریکی سیاست میں ایک نیا عنصر ہے۔ ٹرمپ اگر افغانستان سے فوج باہر نکال لیتا، وہاں خرچ ہونے والے پیسوں سے امریکی عوام کے لیے کچھ سہولتیں، مراعات کا اعلان کر دیتا ہے تو آسانی سے اگلا الیکشن جیت لے گا۔ ادھر امریکی دفاعی اسٹیبلشمنٹ کو خدشہ یہ ہے کہ اگر دیر کی گئی تو کہیں کسی روز صدر ٹرمپ یکطرفہ طور پر مکمل فوجی اخراج کا اعلان نہ کر دے۔ وہ اسی لیے جلد از جلد معاہد ہ کرنا اور کسی حد تک فیس سیونگ چاہتے ہیں۔ طالبان کی قوت یہ ہے کہ وقت ان کا ایشو نہیں۔ برسوں سے طالبان لیڈر یہ کہتے آئے ہیں کہ وقت امریکہ کا ایشو ہے، ہم تو گھڑی تک نہیں پہنتے، ہم اپنے ملک میں ہیں، ادھر ہی رہیں گے، امریکی فوج نے آخر کار واپس جانا ہی ہے۔

پوسٹ امریکہ افغانستان میں کیا ہوتا ہے، کیا نہیں، یہ الگ تجزیے کا موضوع ہے۔ طالبان کی کامیابی کے کیا اسباب ہیں۔ پاکستان نئے منظرنامے سے کیا فائدہ اٹھا سکتا ہے؟.... ان تمام سوالات پر بات جاری رہے گی۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.