کفن میں لپٹی جنتی چڑیا کی لاش - عامر ہزاروی

کفن میں لپٹی یہ لاش جنتی چڑیا کی ہے، یہ چڑیا سلمان، قاسم، بلاول اور مریم نواز سے زیادہ خوبصورت ہے۔ میری ایک نگاہ اس خوبصورت چہرے پر جاتی ہے اور دوسری کفن پر، میں فیصلہ نہیں کر پا رہا کہ سفیدی کفن کی زیادہ ہے یا اس جنتی چڑیا کی؟ یہ مطمئن اور مسکان بھری لاش مانسہرہ سے تعلق رکھنے والے خواجہ سرا جہانگیر کی ہے، جہانگیر رزق کمانے کوہاٹ نکلا تھا، واپسی پر اسے قتل کر دیا گیا، اس کے ساتھ دیگر دو چڑیاں بھی تھیں جنہیں زخمی کیا گیا۔

کیا یہ کسی خواجہ سرا کا پہلا قتل ہے؟ نہیں۔ کیا یہ آخری قتل ہوگا؟ اس کا جواب بھی نہیں میں ہے۔ سوال یہ ہے یہ قتل کب تک ہوتے رہیں گے؟ جواب ایک ہی ہے جب تک انہیں مریم نواز، بلاول اور سلمان قاسم جتنی عزت نہیں دی جائے گی، تب تک یہ قتل ہوتے رہیں گے۔ کیا کسی کو معلوم ہے کہ مرنے والی اس جنتی چڑیا کا والد کون ہے؟ کیا خاندان میں کوئی شخص سامنے آیا ہے؟ کیا کسی اور خواجہ سرا کا کیس ان کے ماں باپ نے لڑا ہے؟ جس باپ کے نطفے اور ماں کے بطن سے یہ پیدا ہوتے ہیں، وہ وارث نہیں بنتے، کوئی اور کیا بنے گا؟

میں نے جہانگیر پر ماتم کرنے والے صرف خواجہ سرا ہی دیکھے ہیں۔ شناخت سے محروم یہ طبقہ اس زمین کا سب سے مظلوم ترین طبقہ ہے، ان کے لیے گھر میں بھی جگہ نہیں ہوتی، یہ جس محلے میں بڑے ہوتے ہیں وہ محلہ بھی ان سے تنگ آ جاتا ہے، یہ شہر جاتے ہیں تو لوگ تنگ کرتے ہیں، جب لوگ سوتے ہیں تو یہ جاگتے ہیں، یہ رات کے اندھیرے میں رزق کماتے ہیں، یہ ناچتے ہیں اور کمینے سکے ڈالتے ہیں، بگڑے ہوئے رئیس زادے اور جلدی جوان ہونے والے تلنگے ان کے جسموں کا نظارہ کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق کا خواجہ سراوں کے لئے بڑا اعلان

جسم کی نمائش کے بعد چار پیسے زیادہ کما لیں تو بھتہ خور پیسے لینے آ جاتے ہیں، توں تکرار ہو تو انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے، بھتہ خور قاتلوں کو معلوم ہوتا ہے کہ ان کا پیچھا کرنے والا کون ہے؟ یہ مر جائیں تو رونے والا کوئی نہیں ہوتا، جنازے کو کندھا دینے کے لیے معززین موجود نہیں ہوتے، جنازہ پڑھانے کے لیے امام غائب ہو جاتے ہیں، نئے مفتی انہیں بےحیا اور فاسق کہہ کر مغفرت کی دعا کرنا گوارہ نہیں کرتے، زخمی ہو جائیں تو انہیں اسپتال میں جگہ نہیں ملتی، مرد کہتے ہیں یہ عورت ہے عورتیں کہتی ہیں یہ مرد ہیں۔ عورت و مرد کی کشمکش میں خون نکلتا ہے اور یہ اجل کا جام پی لیتے ہیں۔ پشاور اسپتال میں ایسا ہی ہوا، لوگ مرد عورت کا فیصلہ کرتے رہے اور اس فیصلے میں ایک جان اپنی بازی ہار گئی۔

جس دھرتی پر ان جنتی چڑیوں کی قدر نہیں وہاں خدا انہیں پیدا ہی نہ کرتا تو اچھا ہوتا، بندہ لاوارث ہو تو زخم سہہ لیتا ہے وارث موجود ہوں، وقت پڑنے پر سامنے نہ آئیں تو دکھ بڑھ جاتا ہے، حیرانی اس ماں پر ہے جو لاش دیکھ لیتی ہے مگر ممتا کو سلائے رکھتی ہے۔ مائیں اگر ان کو اپنے دوپٹوں میں چھپا لیں تو کوئی ان کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکے گا۔ ممتا چڑیا بھی ہو تو سانپ سے لڑ جاتی ہے، خواجہ سراؤں کی مائیں عجیب مائیں ہیں؟ کیا ایسی ماوں کے پاوں تلے بھی جنت ہوگی جو اولاد سے بے غم ہو جاتی ہیں؟

دکھ ہے تمام دکھ۔ میری دعا ہے خدا ہر سیاسی سماجی اور مذہبی رہنماوں کے گھر میں ایک ایک خواجہ سرا ضرور پیدا کرے تاکہ انہیں ان لاوارثوں کا احساس ہو۔