ہمارے قومی بحران کی سمتِ سفر - محمد دین جوہر

اپنی حرکیات میں ٹارنیڈو کے تیور لیے ہمارا قومی بحران انتخابات کے بعد ذرا تھم سا گیا ہے۔ لیکن اپنی وجودیات میں یہ بحران چھت اور دیواروں کا تنازع ہے، اور اس کا تھمنا اعتباری ہے۔ تہذیبی نگھری کا ایک زمانہ ایسا بھی تھا کہ نہ چھت تھی، نہ دیواریں۔ پھر گھر کی طلب اپنا بیانیہ ساتھ لائی تھی۔ گھر بنا اور اس کے بننے بگڑنے کی تاریخ میں ہم نہیں جاتے کہ معلوم ہے۔ لیکن قوم تاریخ میں گھری رہی اور بیانیہ ریاست کی گود میں چلا گیا۔ اب آگے پیچھے سلوٹ ہے، دائیں بائیں کروٹ ہے اور اوپر نیچے تلپٹ ہے۔ اب گھر کا بیانیہ گم ہے اور چھت اور دیواریں اپنے اپنے بیانیے کا ایسا نقارہ بجاتی ہیں کہ طوطی نے بھی رخت سفر باندھا ہے۔ لگتا ہے کہ کانٹا بدلنے کا لمحہ ہے: ایک لائن انارکی کو جاتی ہے اور دوسری جبر کو۔ تاریخ کی اوٹ بگولوں سے بھری ہے، اور وہ گھر کے دھندلاتے راستوں پر اترنے کو بیتاب ہیں۔

اکیسویں صدی کے آغاز ہی میں قومی سطح پر دو ”واقعات“ بیک وقت ہوئے ہیں۔ ایک یہ کہ تیزی سے بدلتی تاریخ میں قومی ذہن کا چراغ ٹمٹمانے لگا، قومی بیانیہ قریب المرگ ہوا، اور متبادل بیانیے کی بات سارے میں پھیل گئی۔ دوسرے یہ کہ قومی معاشی عمل جو جنگ کی طرح امن میں قومی ارادے کا اظہار ہوتا ہے، منہدم ہوگیا۔ قومی ذہن اور قومی ارادے کا بیک وقت شل ہونا ہمارے تہذیبی بحران کا اہم ترین پہلو ہے۔ قرضے اور امداد وغیرہ سے معاشی بحران پر اور طاقت کے استعمال سے سیاسی بحران پر صرف وقتی طور پر ہی قابو پایا جا سکتا ہے۔ معاشی ترقی کی شرط اول طاقت کی مضبوطی سے حاصل ہونے والا سیاسی استحکام ہے جو کسی وسیع البنیاد اور تہذیبی بیانیے کے بغیر ممکن نہیں۔ معاشی ترقی، سیاسی طاقت کا مظہر ہے کوئی ثقافتی سرگرمی نہیں ہے۔

تہذیبی سطح پر ہمارا بحران فکری ہے، سیاسی سطح پر حمیتی ہے، ریاستی سطح پر انتظامی ہے، اور سماجی سطح پر اخلاقی۔ کوئی بھی معاشرہ ایسی صورت حال میں زیادہ دیر نہیں رہ سکتا، اور بقا کا جبر نئے راستوں کی تلاش واجب کر دیتا ہے۔

حالیہ انتخابات کے تناظر میں قومی سیاسی صورت حال کے چند اہم پہلوؤں کو دیکھنا ضروری ہے:

(۱) پوسٹ ٹرتھ (post-truth) اور پوسٹ فیکٹ (post-fact) سیاسی فضا کے یہ پہلے انتخابات تھے۔ پوسٹ ٹرتھ اور پوسٹ فیکٹ سے مراد یہ ہے کہ قومی شعور اور قومی عمل کے راستے الگ ہو گئے ہیں۔ ایسے حالات میں قومی سیاست might is right کے اصول پر منتقل ہو جاتی ہے، جس میں خبر، تجزیہ، بیان، مؤقف، منشور، بیانیہ اور کردار معروضی تاریخی حالات اور قومی شعور سے منقطع ہو کر غیر اہم اور fake ہو جاتے ہیں، اور محض شور کی صورت میں باقی رہتے ہیں۔ یہ پتہ چلانا بھی آسان نہیں ہوتا کہ ہو کیا رہا ہے؟ باہم مخالف اور مخاصم قوتوں میں بقا، مفاد اور ننگی طاقت کی بنیاد پر مڈبھیڑ ہوتی ہے، اور فیصلہ کن حیثیت صرف طاقت کو حاصل ہوتی ہے۔ طاقت، سرمائے اور میڈیا کے جدید احوالِ ہستی میں یہ خانہ جنگی کی صورت حال ہے جو ایک تبدیل شدہ میکانکس میں ظاہر ہو رہی ہے۔

(۲) حالیہ انتخابات میں ہمارا فرمانروا طبقہ، ریاستی ادارے، مذہبی سیاست، طاقت اور سرمائے کے مراکز، اور میڈیا جس طرح عریاں ہوئے ہیں اس کی کوئی مثال ہماری تاریخ میں پہلے نہیں ملتی۔ رسوائی بھلے شخصی ہو یا قومی، خیر کا کوئی پہلو نہیں رکھتی۔ رسوائی سے اصلاح کا پہلو تو پیدا نہیں ہوتا، لیکن طاقت اور تصور کی legitmacy کا بحران گہرا ہو جاتا ہے اور عدم استحکام میں شدت پیدا ہو جاتی ہے، اور جبر یا انارکی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ قومی سیاست کی اصل یہ ہوتی ہے کہ بیانیے اور منزل پر اتفاق کے ساتھ عمل کے راستے مختلف ہوں۔ موجودہ انتخابات میں بیانیے اور سیاسی عمل دونوں ہی میں ہر سطح پر ٹکراؤ سامنے آیا۔ انتشار کی یہ صورت حال قومی مستقبل کے لیے امکانی نہیں بلکہ یقینی مضمرات رکھتی ہے جن پر دھیان دینے کی ضرورت ہے۔

(۳) حالیہ انتخابات سے قبل کئی مہینوں تک پاک فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف ایک بہت مربوط مہم سامنے آئی، جس میں ہر طرح کا میڈیا گنجائش اور توفیق کے مطابق شریک رہا۔ الیکشن کی رات اور بعد کے چند دنوں میں آئی ایس آئی، پاک فوج اور آرمی چیف کے خلاف کئی جگہوں پر نعرے بازی بھی دیکھنے میں آئی جسے سوشل میڈیا اور بیرونی میڈیا نے عام مشتہر کیا۔ اس طرح پاکستانی معاشرے کے سیاسی عمل نے ایک ایسی نفسیاتی حد عبور کی ہے جو قبل ازیں ناقابل تصور تھی۔ یہ دیکھنا بہت زیادہ بصیرت کا تقاضا نہیں کرتا کہ ایسے واقعات قومی سیاسی عمل کی شدید اور بیمارانہ داخلیت (subjectivity) کا اظہار ہیں اور معاشرے کے لیے موجبِ ہلاکت ہیں۔ اس طرح کے مظاہر سیاسی عمل اور سول بالادستی کے خواب کو کابوس بنا کر اس کے تصور ہی کا خاتمہ کر دیتے ہیں، اور ایسا تونگر سیاسی عمل ممکن نہیں رہتا جو قومی آدرش کے حصول کی شرط اول ہے۔ سول بالادستی کا جائز سیاسی مقصد سر بریدہ سیاسی عمل سے مضبوط نہیں ہو سکتا۔

یہ بھی پڑھیں:   اور جمہوریت کا حسن مزید نکھر گیا - حبیب الرحمن

(۴) حالیہ انتخابات کے حوالے سے ایک بات تقریباً ہر طرف اور درست طور پر کہی گئی کہ یہ پاکستانی تاریخ کے dirtiest الیکشن تھے۔ یعنی مخاصم اور مخالف سیاسی قوتوں کی باہم نبردآزمائی نہایت شدید تھی، اور ایک دوسرے کے خلاف اور رائے عامہ کو متاثر کرنے کے لیے ہر طرح کا حربہ استعمال کیا گیا۔ سیاسی کشمکش نہایت شدید اور سفاک رہی۔ ایسا ہو نہیں سکتا، نہ کبھی ہوا ہے اور نہ ہوتا ہے کہ کسی معاشرے کی اس قدر شدید داخلی کشمکش میں ’غیر ملکی‘ عنصر غیر حاضر ہو، اور محض ’تماشائی‘ ہو۔ ایسی صورت حال میں فعال ترین قوتیں صرف داخلی نہیں ہوتیں۔ ہاں کسی گپھا میں دھیان پرور سادھو کا یہ مؤقف ضرور ہو سکتا ہے۔ اہم سوال یہ ہے کہ سنہ ۲۰۰۵ء سے امریکی، یورپی اور بھارتی میڈیا میں آئی ایس آئی اور پاک فوج کے خلاف جو مہم وقفے وقفے سے چلائی جاتی رہی ہے، اور بلوچستان کی علیحدگی کے لیے جو مہم حال ہی میں کئی ملکوں میں سامنے آئی، اس کا ہماری داخلی سیاسی صورت حال سے بھی کوئی تعلق ہو سکتا ہے یا نہیں؟ کیا ’جمہور پروری‘ کے کسی کمزور لمحے میں یہ فرض کیا جا سکتا ہے کہ ان ممالک کی میڈیائی مہم بھی ہماری ”جمہوری امنگوں“ کی ترجمان رہی ہے؟ یہ ضروری سوالات ہیں اور ان کا جواب دیے بغیر قومی سیاست پر کوئی پوزیشن نہیں لی جا سکتی، اور نہ dirtiest کی معنویت متعین کی جا سکتی ہے۔

(۵) ان انتخابات کے ایک اور حیرت انگیز پہلو کو دیکھنا بھی ضروری ہے کہ ”مارکسی، لبرل اور سیکولر سیاست کے بیانیے“ اور ”مذہبی سیاست کے بیانیے“ باہم شیر و شکر نظر آئے۔ یہ موانست حیرت انگیز ہے، اور اس شدت سے سنہ ۱۹۴۶ء کے انتخابات کے بعد پہلی دفعہ سامنے آئی ہے۔ اس صورت حال کو دیکھ کر یہ کہنا بعید از حقیقت نہیں کہ قیام پاکستان سے قبل برصغیر کا مسلم معاشرہ جس ہلاکت انگیز تہذیبی بحران سے دوچار تھا، اور دو قومی نظریے کی کمک سے وقتی طور پر اس سے نکل آیا تھا، عین وہی بحران اب عود کر آیا ہے۔ ہمارے ہاں ایسے پاکستان مخالف یا فوج دشمن تصورات کا سامنا کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی جن کی اساس لبرل اور سیکولر ہو۔ لیکن ہمیں یہ ہرگز نہیں بھولنا چاہیے کہ طاقتور پاکستان دشمن بیانیے صرف سیکولر اور لبرل نہیں ہیں بلکہ ”اسلامی“ بھی ہیں۔ مذہبی سیاسی تصورات کی یہی وہ دوگونگی ہے جس نے قومی ذہن کو مکمل طور پر مفلوج کر دیا ہے، اور شدید ترین پیچیدگی اور الجھاؤ کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔ ہمارے ہاں تمام مذہبی سیاسی بیانیوں کا شجرۂ نسب انیسویں صدی کے اوائل کی تحریک مجاہدین سے جا ملتا ہے۔ ہمارے ہاں کوئی ’مذہبی‘ سیاسی بیانیہ تحریکِ وہابیت کے اثرات سے خالی نہیں۔ دو قومی نظریے اور ’مذہبی‘ سیاسی بیانیوں کی باہمی فکری جدلیات ازحد پیچیدہ اور آتش فشانی ہے، اور اس کا براہ راست سامنا کیے بغیر ہم قومی بحران سے نہیں نکل سکتے۔ اس مسئلے کو ازسر نو زیربحث لانے کی ضرورت اب پہلے سے کہیں زیادہ شدید اور فوری ہے۔ اس میں بنیادی ترین مسئلہ برصغیر میں مسلم اقتدار کی ضرورت، تصورِ قومیت اور جدید ریاست سے اسلام کی نسبتوں کا ہے۔ جدید سیاسی مباحث میں ہماری پسماندہ فکری اور تاریخی صورت حال کی پیچیدگی سے ہمارے قومی بیانیے کو زک پہنچی ہے اور ہمارا سیاسی ورلڈ ویو بہت تیزی سے بکھرنے لگا ہے۔ بیانیہ مِنمنانے لگے تو طاقت لڑکھڑاتی ہے۔ یاد رہے کہ بیانیے کا بحران گردآلود ہوتا ہے اور طاقت کا بحران خون آلود۔ جب تک یہ معاملات فکری اور بیانیے کی سطح پر فیصل نہیں ہوتے، سیاسی عمل ہماری قومی آرزؤں کی ترجمانی نہیں کر سکتا، اور حال و مستقبل کے بارے میں اعتماد پیدا نہیں ہو سکتا۔

(۶) قومی بیانیہ یا سیاسی بیانیہ تین چیزوں کو محیط ہوتا ہے: (الف) قومی شناخت کا بیان اور قومی عمل کے مناہج و مقاصد؛ (ب) سیاسی طاقت کا حصول اور اس کا استحکام؛ (ج) عسکری قوت کی تشکیل اور اس کی نگہبانی۔ اس تناظر میں ’سول بالا دستی‘ اور ’عسکری قوت‘ الگ بیانیے نہیں ہیں بلکہ ایک ہی بیانیے کے اجزا ہیں۔ قومی سیاسی عمل، ’سول بالا دستی‘ اور ’عسکری قوت‘ دونوں کو متضمن ہے، یعنی ’سول بالا دستی‘ اور ’عسکری قوت‘ قومی سیاسی عمل کے اجزا ہیں۔ جز کو کل فرض کرنے سے سیاسی عمل منہدم ہو جاتا ہے۔ یعنی کوئی قومی بیانیہ اور عمل صرف ’سول بالا دستی‘ یا صرف ’عسکری قوت‘ کے اصول پر قائم نہیں ہو سکتا۔ یہ بات کہنا ضروری ہے کہ بھٹو شہید نے سول بالادستی کو de jure اور de facto دونوں طرح سے قائم کر دیا تھا۔ مابعد، اس عظیم اور نئی سیاسی تشکیل کے انہدام کا ذمہ دار کسے ٹھہرایا جائے گا؟ میری گزارش صرف اتنی ہے کہ اُس وقت ہمارے قومی سیاسی عمل کی جو بھی ہیئت تھی، وہ طاقت کی اس نئی قومی تشکیل کو برقرار نہیں رکھ سکی۔ سول بالادستی کے خاتمے کی براہ راست ذمہ داری ہمارے سیاسی عمل کی بےحمیتی پر عائد ہوتی ہے۔ کسی داخلی سیاسی بحران میں فوج کو مداخلت کے لیے پکارنا، اور کسی مشکل سیاسی صورت حال میں فوج کو سیاسی مداخلت پر مطعون کرنا، ایک ہی طرح کی سیاسی نفسیات کے متوازی مظاہر ہیں، اور یکساں قابل مذمت ہیں۔ یہ دونوں مؤقف ہمارے سیاسی ذہن کے دیوالیہ پن اور سیاسی عمل کی بےحمیتی کو ظاہر کرتے ہیں، اور قوم و معاشرے کے لیے موجبِ ہلاکت ہیں۔ ہمارے اہل سیاست اور اہل دانش نے قومی سیاسی عمل کی پرداخت جس طرح کی ہے، ہم آج اسی کا پھل کاٹ رہے ہیں۔ فوج کو مطعون کرنے سے سیاسی عمل کا آگے بڑھنا تو دور کی بات ہے، کوئی سیاسی عمل ہی واقع نہیں ہو سکتا۔ سیاسی عمل کے داخلی مسائل سیاسی شرائط پر حل ہوتے ہیں، اور فوج کو مطعون کرنے سے وہ اوجھل ہونے کا التباس پیدا کر لیتے ہیں اور کسی سیاسی استحکام میں ظاہر نہیں ہو سکتے۔

یہ بھی پڑھیں:   اور جمہوریت کا حسن مزید نکھر گیا - حبیب الرحمن

بیسویں صدی کے اوائل ہی سے برصغیر میں جدید مسلم سیاسی عمل نہایت سنگین نوعیت کے وجودی اور داخلی مسائل کا شکار چلا آتا ہے۔ ان مسائل کے ہوتے ہوئے صحت مند سیاسی عمل کی بنیاد پر سول بالا دستی قائم نہیں ہو سکتی ہے اور اگر قائم ہو جائے تو باقی نہیں رہ سکتی۔ سیاسی عمل کے داخلی تضادات کا فوری حل عسکری قوت کو مطعون کرنے سے فراہم کرنا ناپختہ سیاسی شعور کو ظاہر کرتا ہے۔ سیاسی طاقت کے داخلی تضادات اتنے سنگین اور خطرناک ہو سکتے ہیں کہ وہ سیاسی اور عسکری قوت سمیت پوری قوم کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں، اور سارے راستے معدوم ہو جاتے ہیں۔ عسکری قوت، سیاسی طاقت کا ایک جزو اور حصہ ہے، اور یہ کوئی ایسی قوت نہیں ہے جو خارج سے سیاسی عمل پر اثرانداز ہوتی ہو۔ قومی سیاست میں فوجی مداخلت کی نفی کرتے ہوئے مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ کم از کم نائن الیون کے بعد سے پاکستانی فوج نے اپنی حیثیت سے کہیں فزوں تر کام کیا ہے۔ سول بالا دستی کا براہ راست تعلق سیاسی طاقت کے تصور اور اس کی قومی ہیئت سے ہوتا ہے۔ محکم قومی بیانیہ اور بہتر فرمانروائی (good governance) سیاسی طاقت کا اظہار بھی ہے اور طاقت کے عوارض کا لامحدود تریاق بھی۔ سوال یہ ہے کہ ہمارے سیاسی عمل میں اس کے فوری اور دوررس امکانات کو بروئے کار لانے کی کوئی کوشش کبھی کی گئی ہے؟

پاکستان کا موجودہ بحران جمہوری یا غیر جمہوری قوتوں کا ٹکراؤ نہیں ہے۔ یہ بحران سول ملٹری بالادستی کی جدوجہد نہیں ہے۔ یہ بحران مذہبی اور سیکولر قوتوں کی آویزش نہیں ہے۔ یہ بحران کرپٹ یا غیر کرپٹ عناصر کی مڈبھیڑ نہیں ہے۔ ان تناظرات میں کیے گئے سیاسی تجزیے نہ صرف لغویاتِ محض ہیں بلکہ ہماری سفاک تاریخی صورت حال سے قطعی غیرمتعلق ہیں۔ یہ بحران کہیں گہرا ہے۔ یہ بحران متفق علیہ تہذیبی اور سیاسی اقدار و مقاصد پر اقتدار اور پاکستانی سیاسی طاقت کو نہ دیکھنے سے پیدا ہوا ہے۔ برصغیر میں مسلم اقتدار اور طاقت کی کیا معنویت ہے اور اس کا بیانیہ کیا ہے؟ یہ وہ سوال ہے جس پر قطعی متضاد مواقف نے اس بحران کو جنم دیا ہے۔ یہ بحران اپنی پوری وجودیات اور حرکیات میں سنہ ۱۹۴۷ء سے قبل برصغیر کے مسلم معاشرے کو درپیش بحران کی واپسی ہے۔ قیام پاکستان سے اس بحران کی ہیئت میں ایک ریڈیکل تبدیلی یقیناً آئی ہے اور اس کو ایک نئے تہذیبی تناظر میں سمجھنا ضروری ہے۔ ہمارے معاشرے کی کچھ فعال سیاسی قوتیں پاکستان میں مسلم اقتدار کی تاریخی واقعیت پر پرانے سوالات کے خواب آور اعادے میں مگن ہیں۔ برصغیر میں استعمار کی آمد کے بعد ظاہر ہونے والے بیشتر مذہبی سیاسی تصورات کے تسلسل نے ایک لاینحل ملی اور سماجی صورت حال پیدا کر دی ہے۔ اس پر مستزاد متوارث استعماری ریاست ہے جو اپنی وجودیات میں ایک آزاد معاشرے کی ثقافتی، معاشی اور تہذیبی ضروریات سے قطعی ہم آہنگ نہیں، اور یہ ہم آہنگی ریاست کے پاور اسٹرکچر میں ریڈیکل اصلاحات کے بعد ہی قابل حصول تھی۔ مذہبی سیاسی فکر کی ہیئت اور سیاسی طاقت کے اسٹرکچر نے اس بحران کو ازحد پیچیدہ بنا دیا ہے۔