سپریم کورٹ اور ملک بھر میں توڑ پھوڑ - محمد زاہد صدیق مغل

سپریم کورٹ نے آرڈر جاری کیا ہے کہ کراچی کو 1950ء کے نقشے کے مطابق واپس لاؤ، چاہے کچھ بھی کرنا پڑے۔ ایک اندازے کے مطابق کم از کم 500 بڑی عمارتوں کو ملبے کا ڈھیر بنانا پڑے گا اور فی الوقت سندھ حکومت نے اس کام سے ہاتھ کھڑے کر دیے ہیں۔

یہ ایک عام انسانی نفسیات ہے کہ جس کام کا کرنا یا اس کے نتائج اس سے متعلق نہ ہوں، اس کے مسائل کا ادراک کرنا مشکل ہوا کرتا ہے۔ یہی حال ہماری سپریم کورٹ میں بیٹھے طاقت کے نشے میں چور ججوں کا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر یہ جج کوئی ایسا حکم جاری کیوں نہیں کرتے کہ ہر ہر عدالت میں التوا کا شکار سب کیسز ایک ماہ کے اندر اندر حل ہونے چاہییں یا فلاں تاریخ سے پرانے کیسز ایک ماہ میں حل ہونے چاہییں، چاہے ججوں کو رات بھر کچہری لگانی پڑے؟ آخر کوئی ایسا حکم کیوں نہیں جاری ہوتا؟ اس لیے کہ اس حکم کا تعلق خود ان کے اپنے شعبے سے ہے اور اس کی قیمت خود انہیں اور ان کے بھائی بندوں (ججز) اور سارے عدالتی افسروں کو بھگتنا پڑے گی جنھیں ناراض کرنے کا خدشہ یہ مول نہیں لے سکتے۔

اس کے برعکس ٹی وی سکرین کے سامنے بیٹھے کر بلڈوزرز کے ذریعے گرتی عمارتوں و دکانوں کو رات کی چائے کے سپ لیتے ہوئے دیکھنا نہ صرف یہ کہ ان کے لیے بہت آسان ہے، بلکہ اپنی طاقت کے اظہار کا مزہ لینا بھی ہے۔ اسی طرح عدالت ایسا بھی کوئی حکم جاری نہیں کرتی کہ ان ناجائز گھروں و عمارتوں کے قیام کو پاس کرنے والے سب افسروں پر مقدمہ بنایا جائے کیونکہ بہت سے کیسز میں اس کی ذد بھی خود عدالت پر پڑتی ہے۔ اب چونکہ عام لوگ نہ تو عمران خان ہیں کہ ان کے گھروں و دکانوں کو ریگولرائز کیا جاسکے اور نہ ہی ملک ریاض جیسے امیر ہیں کہ اربوں کی رشوت دے کر ناجائز کو جائز بنانے کی جوڑ توڑ کر سکیں، لہذا ان کی مشکلات سے طاقت کے نشے میں چور ان ججوں کے کانوں پر جوں بھی نہیں رینگتی۔ تو یہ اس معاملے کا ایک پہلو ہے۔

دوسرا پہلو اس سے بھی سنگین ہے اور وہ یہ کہ یہ ساری توڑ پھوڑ صرف تخریبی کاروائی ہوگی، ہزاروں لوگوں کو بے روزگار اور بے گھر کرنے کے بعد اس زمین کا کیا کرنا ہے، اس کے لیے حکومت سمیت کسی کے پاس کوئی پلان موجود نہیں ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ آپ دیکھیں گے کہ بہتیری عمارتیں ایسی ہوں گی جنھیں آدھا توڑ کر بس یونہی چھوڑ دیا گیا ہوگا، یہ عمارتیں تادیر ایسی ہی رہیں گی نجانے کس مقصد کو (جی الیون سگنل کے پاس مہر آبادی والی طرف جو دکانیں گرائی گئی ہیں، وہ کم از کم دو ماہ سے آدھی ٹوٹی حالت میں یونہی کھڑی ہیں)۔ میں پوچھتا ہوں کہ جب تمہارے پاس کوئی تعمیری پلان موجود نہیں تو طوفانی رفتار کے ساتھ تخریب کا یہ کوڑا عام آدمی پر کس لیے برسا رہے ہو؟ اس سے بھی افسوس ناک بات بتاتا چلوں، خدشہ ہے کہ واگزار کرائی گئیں یہ زمینیں کچھ عرصے بعد پھر سے کسی کے قبضے میں ہونگی، کچھ پرانے لوگوں کے اور کچھ نئے لوگوں کے۔ یہ اس سارے معاملے کا سب سے المناک پہلو ہوگا۔

Comments

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل نسٹ یونیورسٹی کے شعبہ اکنامکس میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے معاشیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ملکی و غیر ملکی جرائد و رسائل میں تسلسل کے ساتھ تحقیقی آراء پیش کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحقیق کے خصوصی موضوعات میں معاشیات، اسلامی فنانس وبینکنگ اور جدیدیت سے برآمد ہونے والے فکری مباحث شامل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.