"مجرم والدین" اور بے لگام آزادیاں - محمد عاصم حفیظ

اٹھارہ سال سے کم عمر دولہا یا دلہن کی شادی ناقابل ضمانت جرم ہوگی، والدین کو تین سال قید کی سزا ہوگی۔ اس کی شرعی حیثیت تو صاحب علم ہی بتا سکتے ہیں، ہم جیسے کم علم البتہ صرف اتنا جانتے ہیں کہ سیرت النبی کے معمولی مطالعے سے بھی پتہ چلتا ہے کہ "کلمہ طیبہ کے نام پر بننے والی اس پاک سرزمین" کے قوانین کے مطابق تو نعوذ باللہ شاید نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شادی بھی ناقابل ضمانت جرم تھا۔ کئی صحابہ نے گویا جرم کیا۔ یہ تقابل بنتا تو نہیں لیکن جب سیکولر طاقتوں کے کہنے پر اس طرح کے غیر فطری قوانین بنائے جائیں تو پھر دکھی دل کے ساتھ ایسا لکھنا پڑتا ہے۔

ثابت ہوا کہ پاکستانی قانون دان شاید اسلاف سے کہیں زیادہ سیانے ہیں۔ کچھ لوگ سیانی دلیلیں دیں گے کہ جی یہ سب تو بہت ضروری ہے۔ ایسے واقعات ڈھونڈے جائیں گے کہ جب کسی بچی کی کمسنی میں شادی کی گئی ہو۔ البتہ ہر روز کمسن بچوں سے زیادتی کو جواز بنا کر سخت قانون سازی کی کوئی بات نہیں کرتا۔ کیا اس حوالے سے واضح اسلامی تعلیمات کی روشنی میں قوانین کی بات کی جا سکتی ہے؟ اگر یہ قانون بنایا جائے کہ اٹھارہ سال سے کم عمر میں کوئی زناکاری کرتا پکڑا گیا تو اس کو سخت ترین سزا دی جائے گی تو اس پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور ان کے مغربی آلہ کاروں نے طوفان مچا دینا ہے، لیکن اٹھارہ سال سے کم عمر کی باقاعدہ شادی پر وہی لوگ قانون سازی کرا رہے ہیں۔ کاش اگر ملکی ایوانوں میں دینی جماعتوں کی سننے والا کوئی ہوتا تو یہ شق بھی ڈالی جاتی کہ کمسنی کی شادی پر قانون سازی کرنے والو! معاشرے میں پھیلتے زنا کے کاروبار پر بھی تو کچھ قانون بنایا جائے۔

یہ بھی پڑھیں:   میں نے اپنے بچے کو پیار سے پالا۔جویریہ سعید

اس سے پہلے حدود آرڈیننس کی آڑ میں ایسے قانونی نقطے متعارف کرائے گئے کہ مرد و خواتین کےغیرشرعی تعلقات رکھنے کو جرم کی کیٹیگری سے نکال دیا گیا۔ ایجنڈا صرف ایک ہے کہ شادی کو مشکل بنایا جائے اور تاخیر کی وجہ صرف یہ کہ نوجوان کچھ عیاشی کا سامان کر لیں۔ حکومت خاندانی انداز میں شادی پر تو نظر رکھے گی، ذرا سی عمر کم ہوئی تو والدین سمیت سب تین سال کے لیے جیل جائیں گے، لیکن شادی کے علاوہ تعلقات بنانے کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ کسی کو نہیں پوچھا جا سکتا کہ جو آپ کا پارٹنر ہے، جس کے ساتھ موج مستی ہو رہی ہے، ہوٹلنگ، ڈانس کلب، فارم ہاؤسز کی رات گئے کی پارٹیوں کو گرمایا جا رہا ہے، اس کی عمر کیا ہے؟ کیا ان میں شرکت اور وہاں جو کچھ ہوتا ہے، اس بارے بھی قانون سازی ہو سکتی ہے۔ خود حکومتی ادارے اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ پورنوگرافی دیکھنے کے حوالے سے پاکستان ٹاپ ممالک میں شامل ہے اور یہ ویڈیو کلپ یہیں تیار ہوتے ہیں۔ چائلڈ پورنو گرافی کے گھناؤنے نیٹ ورکس کے تذکرے تو سپریم کورٹ تک پہنچے ہیں۔ اس پر کوئی ایکشن نہیں ہوتا کیونکہ یہ کسی کا ایجنڈا نہیں، لیکن 18 سال سے ایک دن بھی کم ہوا تو پورے الیکٹرانک میڈیا کے لاؤ لشکر کے ساتھ ایکشن ہوگا۔ اس پر براہ راست کوریج بھی ہوگی اور سزائیں بھی ہوں گی، کیونکہ یہ این جی اوز کا ایجنڈا ہے۔ ہمارے معاشرے کے والدین کس قدر مجبور بنا دیے گئے ہیں کہ اگر وہ اپنے بچوں کی ضرورت کا خیال رکھتے ہوئے بروقت ان کی شادی کرنا چاہیں تو وہ مجرم ہوں گے اور قید کی سزا ملے گی، البتہ اگر کوئی ان کی مرضی کے بغیر گھر سے بھاگ کر کسی آشنا کے ساتھ جا کر ان کی عزت کا جنازہ نکال کر کسی پارٹنر کے ساتھ کورٹ میرج کرے تو پھر ریاست اس معاملے میں والدین کا کوئی حق تسلیم نہیں کرتی۔ یعنی حلال کام کرنے پر وہ مجرم ہوں گے لیکن حرام سے روکنے کا انہیں کوئی حق نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   باپ پر کیا گزری؟ یہ اولاد کو کب سمجھ آتا ہے۔ یمین الدین احمد

کاش معاشرتی برائیوں کے پھیلاؤ پر بھی کسی لابی کی نظر ہوتی اور اس حوالے سے بھی قانون سازی کی کوششیں کی جاتیں۔ شادی کو مشکل بنانا، خاندانی نظام کی تباہی کے لیے حدود آرڈینینس میں ترمیم، "حقوق نسواں" طرز کے بلز کے نام پر قانون سازی، دوسری شادی کے حوالے سے قوانین کی سختی سمیت بہت سے اقدامات کا واحد مقصد نوجوان نسل کو مغربی طرز معاشرت کی طرف دھکیلنا ہے۔ کتنی عجیب بات ہے کہ ریاست شادی جیسے دینی فریضے کے حوالے سے عمر کی حد بندی سمیت بہت سے اقدامات کو سختی سے نافذ کراتی ہے، لیکن اگر تعلیمی اداروں میں پھیلتی بے راہ روی، بےہودہ اور فحش ویڈیو کلپس کی تیاری، پورنو گرافی کی صنعت کے پھیلاؤ اور عیش و مستی کی تقریبات میں کم عمر لڑکے لڑکیوں کی شرکت کے حوالے سے بات کی جائے تو اسے ذاتی معاملہ قرار دیا جاتا ہے۔ ایک دو مرتبہ ٹی وی شوز میں ایسے موضوعات پر بات کی گئیی تو ان شوز کو ہی بند کرا دیا گیا۔ مغربی ایجنڈے پر اس طرح کی قانون سازیاں کرانے والے نہ تو خواتین کے حقوق کے لیے سنجیدہ ہیں اور نہ ان کا مقصد کسی مسئلے کو حل کرنا ہے۔ واحد مقصد شادی، خاندان، اور ہماری روایات کو تباہ کرکے مغربی طرز زندگی کو فروغ دینا ہے۔ اگر دینی اور سنجیدہ حلقوں نے اس طرح کی قانون سازی پر بات نہ کی تو اگلے مراحل میں ہم جنس پرستی کو جائز قرار دینے سمیت بہت کچھ برداشت کرنا پڑے گا۔