جناب وزیراعظم! یہ انداز گفتگو کیا ہے؟ آصف محمود

نمل یونیورسٹی میں عمران خان کے خطاب کا حاصل ایک ہی سوال ہے: کیا انہیں ایک تعلیمی ادارے میں کھڑے ہو کر یہ سب کہنا چاہیے تھا؟ کیا بریڈ فورڈ یونیورسٹی کے سابق چانسلر کو کچھ خبر ہے تعلیمی ادارے کا کا نووکیشن جلسہ عام نہیں ہوتا؟

کانووکیشن کیا ہوتا ہے؟ ستم ہائے گردوں مفصل نہ پوچھو۔ تعلیم کا ایک مرحلہ تمام ہوتا ہے۔ اب باغ حیات میں بے حجاب اترنے کا وقت ہے۔ جو علم حاصل کر لیا اب شاہراہ حیات پر اس کے اطلاق کا امتحان ہے۔ خوابوں سے دہکتے جوان وجود ہیں جن کی آنکھوں میں اپنے ہی نہیں، والدین کے سپنے بھی تاروں کی صورت جھلملا رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں خوابوں اور امنگوں کو مہمیز دی جاتی ہے اور عملی زندگی کے حقائق کی تمازتوں کی کچھ خبر دی جاتی ہے لیکن سیاست کے گندے کپڑے یہاں نہیں دھوئے جاتے۔

عمران خان محض ایک وزیر اعظم نہیں، امر واقع یہ ہے کہ لاکھوں نوجوانوں کے لیے وہ اس سے بڑھ کر ہیں۔ شاید ایک رول ماڈل۔ زندگی کے ایسے اہم مواقع پر آپ سے وہ شخص ہمکلام ہو جسے آپ چاہتے ہوں تو حرف و معانی کی صورت بدل جاتی ہے۔ یہ الفاظ زندگی بھر آپ کے رفیق رہتے ہیں، مشکل میں ڈھارس بن جاتے ہیں اور دھوپ میں بادل۔ یہ آپ کا عزم بھی ہوتے ہیں اور گاہے بگاہے کردار بن کر ساتھ چلتے ہیں۔ نمل کے یہ نوجوان اس موقع پر کون سی متاع ساتھ لے کر جا رہے ہیں؟ وہی سیاسی اقوال زریں؟

عمران خان نمل کے کانووکیشن میں آئے تھے تو گویا ایک موقع تھا وہ تعلیم کے حوالے سے اپنا پورا ویژن بیان کر دیتے۔ وہ طلباء کی بھی رہنمائی کرتے اور قوم کی بھی۔ وہ بتاتے تعلیم کے میدان میں کیا مسائل ہیں اور ان کی حکومت اس باب میں کیا کرنے جا رہی ہے؟ وہ اپنی تعلیمی پالیسی سامنے رکھتے۔ ایک لیڈر کی طرح وہ صرف تعلیم پر بات کرتے تاکہ آنے والے دنوں میں قومی مباحثے کا محور تعلیم ہوتی۔ لیکن انہوں نے کیا فرمایا؟ یہی کہ فلاں فلاں چور ہے اور عثمان بزدار سے قابل آدمی اس دھرتی پر آج تک شاید ہی اترا ہو۔ یہ اقوال زریں اس قوم کو روز سنائے جاتے ہیں، کیا لازم تھا نمل کے کونووکیشن میں بھی یہی سبق دہرایا جاتا؟

ستم ظریفی دیکھیے نمل کے تعلیم یافتہ جوانوں کے سامنے عثمان بزدار کی تعریفیں کی جا رہی تھیں جن کے جوہر آج تک عمران خان کے علاوہ کسی پر نہیں کھل سکے۔ لوگ یہ فضائل سن سن کر اکتا گئے ہیں مگر عمران ہر محفل میں کہتے ہیں: جو آپ کہیں ایک غزل اور سنا دوں؟ یہ ایک الگ موضوع ہے مگر ایک روایت یہ بھی ہے کہ نام میں ’’ع ‘‘ نہ ہوتی تو صاحب وزیر اعلی نہ ہوتے ۔ ’ع ‘ کے اس راز سے میں بھی کچھ زیادہ واقف نہیں لیکن آپ چاہیں تو وقت ضائع کرنے کے لیے حساب لگا کر دیکھ لیں، اہم مناصب پر فائز کتنے لوگوں کے ناموں میں ’’ع‘‘ کا عامل موجود ہے۔ ضروری نہیں یہ روایت درست ہو لیکن عثمان بزدار کی جب تک کوئی اور خوبی سامنے نہیں آتی ان کی وزارت اعلی کو ’’عین ‘‘ نوازش ہی سمجھا جائے گا۔ نہ وہ منجھے ہوئے سیاسی کارکن ہیں نہ ان کی تحریک انصاف کے لیے کوئی خدمات ہیں۔ وہ ایسے صاحب علم بھی نہیں کہ انہیں غیر معمولی مرتبہ دیا جائے نہ ہی وہ عمران کے ابتدائی دنوں کے رفیق ہیں۔ ’ع‘ کے علاوہ اگر عثمان بزدار صاحب میں ایسا کچھ ہے تو وہ وجہ فضیلت سامنے آنی چاہیے کیونکہ کار حکومت بہرحال عالم اسباب پر چلتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   وائٹ ہاؤس جانے والے پاکستانی صحافی کون تھے؟ معوذ اسعد صدیقی

یہ احساس غالبا عمران خان کو بھی تھا کہ یونیورسٹی کانووکیشن ایسی گفتگو کے لیے موزوں نہیں اس لیے اپنے تئیں انہوں نے اس کی ایک توجیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمان میں تو مجھے بات کرنے نہیں دی جاتی، اس لیے یہ باتیں یہاں کر رہا ہوں۔ اس وضاحت نے معاملے کو مزید پیچیدہ کر دیا اور مزید سوالات اٹھا دیے۔

پہلا سوال یہ ہے کہ اگر وزیر اعظم یہ سمجھتے ہیں کہ پارلیمان میں انہیں بات نہیں کرنے دی جاتی تو کیا انہیں سوچنا نہیں چاہیے پارلیمان کے ماحول میں اتنی تلخی کیوں پیدا ہوئی اور اس میں خود حکومتی وزراء کا کتنا کردار ہے؟ سینیٹ کے جس چیئرمین کے انتخاب کو جمہوریت کی فتح مبین بنا کر پیش کیا گیا تھا کیا اسی چیئرمین کو وزیر اطلاعات پر سینیٹ میں داخلے پر پابندی نہیں لگانا پڑی تھی؟ کیا وزیر محترم کا بھی کوئی قصور تھا یا یہ بھی چیئر مین سینیٹ ہی کی غلطی تھی؟ اسمبلی کا ماحول بہتر رکھنا بنیادی طور پر کس کی ذمہ داری ہے؟ حکومت کی یا اپوزیشن کی؟ اور کیا حکومت نے اس ضمن میں کبھی بھی اپنی ذمہ داری کو محسوس کیا؟ کیا عمران خان اپنے ترجمانوں کی کارکردگی سے مطمئن ہیں؟ کیا اس مزاج اور اس انداز سے حکومت کی ترجمانی کی جا سکتی ہے؟ یہ ترجمان عمران کے لیے مسائل پیدا کر رہے ہیں یا آسانیاں؟

دوسرے سوال کا تعلق حکومت کے رویے سے ہے۔ کیا حکومت پارلیمان میں رد عمل اور غصے کا شکار ہے اس لیے اپوزیشن سے مل کر ماحول کو بہتر کرنے کی کوئی کوشش نہیں کر پا رہی یا یہ حکمت عملی کا معاملہ ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں عمران خان پارلیمانی جمہوریت کو محض ایک ناگزیر برائی سمجھتے ہوں اور صدارتی نظام کے خواہاں ہوں؟ اگر ایسا ہے تو کیا انہیں یہ بات کھل کر نہیں کہ دینی چاہیے؟ غریب قوم کے پیسوں سے پارلیمان کی ہر روز کی کارروائی پر257 لاکھ روپے خرچ کرنے کی کیا ضرورت ہے؟

یہ بھی پڑھیں:   حکومت صلاح الدین ایوبی بنے - حبیب الرحمن

تیسرا سوال یہ ہے کہ وزیر اعظم کو اگر پارلیمان میں کوئی بات نہیں کرنے دیتا تو کیا وہ سیاسی گفتگو پریس ٹاک کے ذریعے نہیں کر سکتے تھے؟ کانووکیشن سے پہلے یا اس کے بعد؟ وہ وزیراعظم ہیں اور ان کے پاس سیاسی امور پر بات کرنے کے تمام فورمز اور تمام مواقع موجود ہیں۔ اس سب کی موجودگی میں کانووکیشن کے علمی ماحول میں وہی روایتی سیاسی گفتگو کرنے کا یہ جواز کیا ایک معتبر جواز ہے؟

چوتھا اور آخری سوال یہ ہے کہ کیا یہ مناسب نہ ہو وزیر اعظم فی البدیہہ خطاب کی بجائے لکھی ہوئی تقریر کیا کریں؟ عمران خان علم کی دنیا کے آدمی نہیں۔ ان کے حلقہ احباب میں بھی شاید ہی کوئی ایسا ہو جس کے نام ایسی کوئی تہمت دھری جا سکے۔ ان کا مطالعہ بھی کم ہے اور ذخیرہ الفاظ بھی۔ سیاست جیسے موضوع پر بھی وہ ابھی تک وہی تقاریر کیے جا رہے ہیں جو وہ بطور اپوزیشن رہنما کیا کرتے تھے، ان کا بیانیہ اس نکتے سے ایک انچ آگے نہیں بڑھ سکا کہ ’’فلاں اور فلاں چور ہے‘‘۔ حتی کہ خاتون اول کو یاد دلانا پڑتا ہے کہ اب آپ وزیر اعظم ہیں۔

دیکھیے آج پھر استاد ذوق یاد آ گئے:


جا کے اک بارنہ پھرنا تھا جہاں، واں مجھ کو

بے قراری ہے کہ سو بار لیے پھرتی ہے

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.