سرفراز احمد کے ساتھ زیادتی کیوں ہوئی؟ محمد عامر خاکوانی

کرکٹر سرفراز احمد کا میں ہرگز فین نہیں، بلکہ میری خاصے عرصے سے رائے ہے کہ سرفراز اگر بیٹنگ بہتر نہیں کرتے تو ان کی کی جگہ ٹیسٹ ٹیم میں نہیں بنتی۔ ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میں ان کی جگہ بنتی ہے، لیکن وہاں بھی سرفراز کو اٹکنگ کرکٹ کھیلتے ہوئے نمبر چارسے چھ تک کھیلنا چاہیے۔

سرفراز کا فین نہ ہونے کے باوجود یہ کہنا چاہوں گا کہ اسے سخت اور بے جا سزا دی گئی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سرفراز نے ایک غیر محتاط جملہ بولا ، جس سے گریز کرنا چاہیے تھا۔ یہ مگر ہیٹ سپیچ نہیں، نسل پرستی پر مبنی گفتگو نہیں۔

سب سے پہلی بات یہ کہ سرفراز نے یہ بات جنوبی افریقی کھلاری کی تذلیل کی نیت سے نہیں کہی۔ اگر وہ اس کھلاڑی کا مذاق اڑانا چاہتے، دل آزاری یا مشتعل کرنا چاہتے تو انگلش میں فقرہ بولتے، سرفراز مناسب انگریزی بول لیتے ہیں، آسانی سے کوئی چبھتا ہوا طنزیہ جملہ وہ بول سکتے تھے۔ انہوں نے جنوبی افریقی بلے باز کے منہ پر یا اسے سنانے کے لیے بھی وہ جملہ نہیں بولا، بعض اوقات کھلاڑی مخالف کھلاڑی کی تذلیل کی نیت سے کوئی سخت قابل اعتراض جملہ اپنی مقامی زبان میں بولتے ہیں، الفاظ سمجھ نہ آئیں تب بھی بولنے والے کی باڈی لینگوئج، طنزیہ مسکراہٹ، معنی خیز اشارے اور جوابی معنی خیز ہنسی یا ٹھٹھا بتا دیتا ہے کہ اس کی بےعزتی کی کوشش ہوئی ہے۔

سرفراز نے ان دونوں میں سے کچھ بھی نہیں کہا۔ اس نے ایک جملہ بولا جس میں مغربی معیار سے قابل اعتراض لفظ موجود ہے، مگر پاکستانی سلینگ لینگوئج کے لحاظ سے یہ خاصا شائستہ جملہ ہے، ہمارے ہاں کلب لیول پر کرکٹ کھیلنے والے جانتے ہیں کہ لڑکے غصے اور جھنجھلاہٹ میں کیا کچھ نہیں کہہ جاتے، خاص کر جب مقصد سنانا نہ ہو اور صرف آپس ہی میں بات کی جائے تو گالی عام بات ہے۔ سرفراز نے اپنے اس جملے میں جنوبی افریقی سیاہ فام کھلاڑی کی والدہ کے بارے می بھی شائستگی سے بات کی۔ اس سے زیادہ بدتمیزی والے جملے میدان میں سنے اور کہے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   اکیلا نہیں جاؤں گا، دوسرے بھی گھر جائیں گے - سرفراز احمد برس پڑے

سرفراز نے فرسٹریشن میں ایک جملہ کہا اور انداز خودکلامی کا سا تھا۔ بلے باز بھی متوجہ نہیں ہوا نہ اسے چڑانا مقصد تھا۔ سرفراز کو اندازہ بھی نہیں تھا کہ سٹمپ مائیک کے ذریعے یہ جملہ نشر ہوجائے گا۔ اس کیس کے بعد ایک نکتہ یہ سامنے آیا ہے کہ سٹمپ مائیک کھلاڑیوں کی پرائیویسی کے لیے خطرہ ہیں۔ فیلڈ میں کھلاڑی گویا آپس میں بھی کوئی بات نہیں کر سکتے کہ وہ مائیک سے نشر ہونے کا خدشہ رہے گا۔

یہ جملہ سنائی دینے پر کمنٹری باکس میں رمیز راجہ سے ترجمہ کا کہا گیا تو وہ خوش اسلوبی سے بات ٹال گئے۔ بات ختم ہوجانی تھی مگر پاکستانی سابق کھلاڑیوں اور ہمارے اپنے میڈیا نے سب سے زیادہ شور مچایا۔ آئی سی سی نوٹس لیتی یا نہ لیتی پاکستانی سابق کھلاڑیوں نے پہلے مذمتی بیانات جاری شروع کر دیے، شعیب اختر جیسے کھلاڑی جو اپنے زمانے میں گالیاں دیا کرتے تھے، انہوں نے بھی اخلاقیات کے بھاشن دیے۔ یوں ایک پورا ایشو ڈویلپ ہوگیا۔

جب سرفراز نے فوری معافی مانگ لی، ٹوئٹر پر معذرت کے بعد اعلانیہ جنوبی افریقی ٹیم سے معافی مانگی، اس کھلاری سے بھی معذرت کی۔ اس کے بعد یہ کیس ختم ہوجانا چاہیے تھا۔ ایشو اتنا بڑا نہیں تھا، پاکستان کی کمزور لابی کی وجہ سے اسے نشانہ بنایا گیا۔ یقین سے کہتا ہوں کہ اگر بھارت ہوتا تو کبھی اس قسم کے ایشو میں پابندی نہ لگنے دیتا۔ کوئی بھی اچھا وکیل آسانی سے سرفراز کے مؤقف کو مدلل انداز میں پیش کر کے اس سزا سے بچا سکتا تھا۔ پاکستانی کرکٹ بورڈ کو بھی یہ ایشو سمجھ ہی نہیں آیا اور نہ ہی انہوں نے مؤثر طریقے سے بات کی۔ یہ بات کہی جا سکتی تھی اور غلط نہ ہوتی کہ پاکستان میں تو پیارے سے مائیں بھی اپنے بچوں کا کالو، کلو، کلوا کہہ دیتی ہیں۔ یہ قطعی طور پر نسل پرستانہ جملہ نہیں خاص کر جب کہنے والا خود بھی سانولے رنگ کا شخص ہو، کوئی گورا یہ جملہ کہے تو ممکن ہے تاثر مختلف جائے۔

یہ بھی پڑھیں:   آل دا بیسٹ کپتان ۔۔۔۔۔ سرفراز - ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

مجھے لگتا ہے کہ سرفراز کے ساتھ زیادتی ہوئی، انہیں کمزور ملک کی ٹیم کا کپتان ہونے کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا۔ ان کا کیس کسی نے لڑا ہی نہیں۔ زیادہ تر لوگ تو جیسے اس انتظار میں تھے کہ ان پر پابندی لگے۔ شائقین کرکٹ کی بڑی تعداد نے بھی سرفراز پر پابندی کو تحسین کی نظر سے دیکھا کہ چلو اس سے تو جان چھٹی۔ یہ سب مگر غلط اور نامناسب ہوا۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.