پاکستان میں تعلیم کی صورتحال اور علم و اداب کی خدمات - محمد عرفان ندیم

یہ پروجیکٹ اوورسیز پاکستانیوں کی وطن عزیز سے محبت کا کھلااعتراف ہے اور ہمیں بہر حال اس اعتراف کو سراہنا اور ان خدمات کی داد دینی چاہیے۔ ہم پاکستان میں بیٹھ کر پاکستان کے بارے میں اتنا نہیں سوچتے جتنا یہ لوگ ہزاروں میل دور بیٹھ کر پاکستان کے بارے میں فکر مند رہتے ہیں۔ یہ لوگ حالات سے مجبور ہو کر یا بہتر مستقبل کی تلاش میں بیرون ملک چلے تو جاتے ہیں لیکن ان کے دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور ان کی سانسیں پاکستان کی یادوں سے آکسیجن کشید کرتی ہیں۔ یہ باہر بیٹھ کر ہر وقت یہی سوچتے ہیں کہ ہم اپنے ملک کے لیے کیا کر سکتے ہیں۔

طلحہ زبیر خان بھی ایسی ہی ایک پاکستانی ہیں ، یہ عرصہ قبل پاکستان سے امریکہ شفٹ تو ہوئے لیکن ان کا دل اور دل کی دھڑکنیں پاکستان کے لیے دھڑکتی رہیںاور 2011میں یہ دھڑکنیں علم و ادب کے روپ ڈھل گئیں۔ طلحہ زبیر خان اور ان کے دوست پاکستان کی تعلیمی صورتحال سے واقف تھے، یہ پاکستان کے گورنمنٹ سکولوں کی حالت زار کے بارے میں بھی فکر مند رہتے تھے چنانچہ یہ2011میں اکٹھے ہوئے اور اپنے حصے کی شمع جلانے کے لیے علم و ادب کی بنیاد رکھ دی ۔انہوں نے آٹھ سال پہلے امریکا میں بیٹھ کر سرکاری سکولوں کی بہتری کے جس منصوبے کا آغاز کیا تھا آج یہ ایک تناور درخت کی شکل اختیار کر چکا ہے ۔ اس وقت پاکستان کے چاروں صوبوں میں علم وا دب کی سرگرمیاں جا ری ہیں اور اب تک اڑتیس ہزار تیس اسٹوڈنٹ اورتین سو اسی اساتذہ ان سے مستفید ہو چکے ہیں۔ یہ لوگ اب تک ایک سو ستاون پروجیکٹ مکمل کر چکے ہیں اور پندرہ پروجیکٹس پر کام جاری ہے ۔ علم و ادب کی ساری ٹیم اور ممبران بغیر کسی معاوضے کے خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ یہ گورنمنٹ سکولوں کے انفراسٹکچر کی بحالی، سٹوڈنٹ کونسلنگ، پرفارمنس ایوارڈ، سپورٹس، فرنیچر، صاف پانی کی فراہمی، اساتذہ کی تنخواہ اور سائنس لیبارٹریز کے شعبوں میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ علم و ادب کے موجودہ صدر عثمان اوپل صاحب ہیں جو امریکہ میں مقیم ہیں۔ دسمبر کے آخری عشرے میں ’’علم و ادب‘‘ کی طرف سے لاہور سمن آباد کے علاقے میں ایک تقریب منعقد کی گئی جس میں میٹرک میں امتیازی نمبر حاصل کرنے والے طلبہ میں انعامات تقسیم کیے گئے۔ عثمان اوپل صاحب امریکہ سے تشریف لائے تھے اور پاکستان میں حسن شوکت کو آ رڈینیٹر کے فرائض سرا نجام دہے رہے تھے، حسن شوکت ایک سلجھے ہوئے نوجوان ہیں، دھیمے لہجے اور بااخلاق شخصیت کے مالک ہیں، انہوں نے مجھے بھی تقریب میں شرکت کی دعوت دی، یہ بڑی شاندار تقریب تھی، سرکاری سکولوں کے باصلاحیت اور امتیازی نمبر حاصل کرنے والے طلبہ کی حوصلہ افزائی کے لیے کیش انعامات تقسیم کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں:   مدرسے میں ناول پڑھنے کی روداد - رعایت اللہ فاروقی

یہ لوگ کتنا اہم اور شاندار کام کر رہے ہیں اس کے لیے آپ کو پاکستان کی تعلیمی صورتحال پر نظر ڈالنی ہوگی۔ اس وقت پاکستان میں پرائمری سکولوں کی مجموعی تعداد 145829 ہے جس میں سرکاری سکولوں کی تعداد 125573اور پرائیویٹ سکولوں کی تعداد 20256 ہے۔ مڈل سکولوں کی کل تعداد 45680 ہے۔ ہائی سکولوں کی تعداد 31740 ہے جس میں 12732سرکاری اور 19008 پرائیویٹ ہیں۔ کالجز کی کل تعداد 5470 ہے جس میں سرکاری کالجوں کی تعداد 1865 اور پرائیویٹ کالجز کی تعداد 3605 ہے۔ ڈکری کالجز کی مجموعی تعداد 1418 ہے جس میں 1259 سرکاری اور 159 پرائیویٹ ہیں۔ یونیورسٹیز کی کل تعداد 163 ہے جس میں91 سرکاری جبکہ 72 پرائیویٹ یونیورسٹیاں ہیں۔ ٹیکنیکل اور ووکیشنل اداروں کی مجموعی تعداد 3746 ہے جس میں سرکاری اداروں کی تعداد 1123 اور 2623 پرائیویٹ ادارے ہیں۔ تربیت اساتذہ کے کل 209 ادارے ہیں جن میں سرکاری اداروں کی تعداد 156 اور پرائیویٹ اداروں کی تعداد 53 ہے۔

اب آپ ان تعلیمی اداروں کی صورتحال ملاحظہ فرمائیں۔

صرف پنجاب کے بیس ہزار سرکاری سکول پانی، واش روم، بجلی، بائونڈری وال اور استاد جیسی بنیادی ضرورت سے محروم ہیں۔ ایک کروڑ تیس لاکھ بچے سکول نہیں جاتے، سکولوں میں حاضری کی شرح صرف چونسٹھ فیصد ہے، صرف پچھلے آٹھ سالوں میں دس ہزار سکول بند ہوئے اور تین سو سے زائد سکول نجی شعبے کے حوالے کیے گئے۔ 13فیصد سکول بیت الخلا، 14فیصد بجلی ،6 فیصد چار دیواری، 15فیصد پینے کے صاف پانی اور 29 فیصد اساتذہ کی کمی کا شکار ہیں۔ ملک کے مجموعی ناخواندہ بچوں کا 52 فیصد پنجاب میں ہے۔ یہ اس صوبے کی صورتحال ہے جودیگر صوبوں کی نسبت زیادہ ترقی یافتہ شمار ہوتا ہے اور پنجاب سپیڈ کی مثالیں دی جاتی ہیں۔ یو این او کے پروجیکٹ ملینیم ڈویلپمنٹ گولز کے تحت 2015 تک شرح خواندگی کو 88فیصد اور شرح داخلہ کو 100فیصد تک بڑھانا تھا مگر یہ اہداف 2019ء تک حاصل نہیں کیے جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں:   تعلیمی بجٹ میں کمی کا مفروضہ اور حقائق - وجیہہ اکرم

خیبرپختونخواہ کے35فیصد سکول پانی، 48 فیصد بجلی، 35فیصد واش روم اور 27فیصد بائونڈری وال سے محروم ہیں۔ صرف فاٹا میں ہر سال 6 لاکھ بچے سکولوں میں داخل ہوتے ہیں اور ان میں سے 2 لاکھ 22 ہزار بچے سکول چھوڑ جاتے ہیں۔

بلوچستان میں 50فیصد سکول پانی، 48فیصد واش روم، 79فیصد چاردیواری، 38فیصد بجلی اور 93فیصد سکول اساتذہ کی مطلوبہ تعداد کی ضرورت سے محروم ہیں۔

سندھ میں 55فیصد سکول صاف پانی، 61فیصد واش روم، 48فیصد چاردیواری اور 17فیصد بجلی جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔

مجموعی طور پر پاکستان میں سکول جانے کی عمر کے کل بچوں میں سے 44 فیصد بچے سکول نہیں جاتے جن کی تعداد 2 کروڑ 28 لاکھ 40 ہزارہے، ان میں بچیوں کی تعداد 1 کروڑ 21 لاکھ 60 ہزارہے جو کل بچیوں کی تعداد کا 49 فیصد بنتی ہے۔ پنجاب میں سکول جانے والے بچوں میں سے 44 فیصد یعنی ایک کروڑتیس لاکھ بچے سکول سے باہر ہیں، خیبرپختونخوا کے34 فیصد یعنی 23 لاکھ 85 ہزار، سندھ کے 52 فیصد یعنی 64 لاکھ 13ہزار اور بلوچستان کے 70 فیصد یعنی 19 لاکھ 12 ہزار بچے سکول سے باہر ہیں۔ اسلام آباد کے 12 فیصد،گلگت بلتستان اور آزاد جموں وکشمیر کے 47 فیصد بچے سکول سے باہر ہیں۔

اس سے بھی افسوس ناک صورتحال یہ ہے کہ پاکستان خطے میں تعلیم پر سب سے کم خرچ کرنے والا ملک ہے۔ انڈیااپنی تعلیم پر جی ڈی پی کا 3.8 فیصد ،بھوٹان 6 فیصد، نیپال 4.7 فیصد جبکہ پاکستان صرف 2.5 فیصد خرچ کرتا ہے۔

یہ پاکستان کی تعلیمی صورتحال ہے، ہونا تو یہ چاہیے تھے کہ پاکستان میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کی جاتی لیکن ہماری ترجیحات کچھ اور ہیں۔ جب تک ہم تعلیم کے شرح بلند نہیں کرتے تب تک ہم دنیا میں آگے نہیں بڑھ سکیں گے، تعلیم کے بغیر سی پیک یا کوئی اور معجزہ ہمیںترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا نہیں کر سکتا۔ ایسی صورتحال میں علم و ادب کی ٹیم جیسے لوگ جو خاموشی سے اپنے حصے کا چراغ جلا رہے ہیں واقعی داد کے مستحق ہیں ۔ یہ ہزاروں میل دور رہ کر بھی اپنی مٹی سے جڑے ہوئے ہیں اور یہ اپنے ملک کو بھی دنیا کی مہذب اور ترقی یافتہ اقوام کی صف میں کھڑا دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان کے یہ جذبے اور خدمات واقعی قابل تحسین ہیں اور ہمیں بہر حال ان کی خدمات کا اعتراف اور ایسے لوگوں کو داد دینی چاہیے۔

Comments

محمد عرفان ندیم

محمد عرفان ندیم

محمد عرفان ندیم نے ماس کمیونیکیشن میں ماسٹر اور اسلامیات میں ایم فل کیا ہے، شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں اور او پی ایف بوئز کالج اسلام آباد میں بطور لیکچرار فرائض سرانجام دے رہے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.