نوزائیدہ حکومت مہلک بیماریوں کی زد میں - مسزجمشیدخاکوانی

جس طرح بچہ پیدا ہوتے ہی چھ مہلک بیماریوں سے بچائو کے ٹیکے لگوانے پڑتے ہیں تاکہ وہ پولیو، خسرہ، ٹی بی، خناق، تشنج، چیچک، چکن پاکس جیسی منحوس بیماریوں سے بچا رہے۔ میرا خیال ہے اسی طرح پی ٹی آئی حکومت کو بھی حفاظتی ٹیکے لگوانے پڑیں گے۔ پانچ ساڑھے پانچ ماہ میں اس پر کئی مہلک حملے ہو چکے ہیں، اللہ بچا رہا ہے۔ عمران خان کہتے ہیں میں دباؤ میں کھیلنے کا عادی ہوں، اس میں کوئی شبہ نہیں مگر اللہ نے بھی حفاظت اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ جنرل ظہیر الاسلام اور جنرل شجاع پاشا حفاظتی ٹیکوں کا کام دے سکتے ہیں۔ جان سے نہ بھی جائیں تو پولیو مفلوج اور چیچک شکل تو بگاڑ ہی دے گی، اس لیے ہم تو اللہ اللہ کر کے دن گذار رہے ہیں، ایک دن خیر کا گذر جائے تو دوسرے دن شر کی باری ہوتی ہے۔ خیر و شر کی اس کشمکش میں بے چارے عوام پس رہے ہیں۔

یہ تو سارا ملک جانتا ہے کہ اس ملک کو تباہی کے آخری کنارے تک پہنچانے والے کون تھے، لیکن سب سے زیادہ متاثر میڈیا ہوا ہے۔ اس وقت جو ملکی سلامتی دیکھ رہا ہے وہی اصل ہیرو ہے۔ جو اپنی سلامتی دیکھ رہا ہے وہ مفاد پرستوں کا ٹولہ ہے۔ سازشی تھیوریاں چل رہی ہیں، ایک دن میں اتنے تضاد سامنے آتے ہیں کہ دماغ چکرا جاتا ہے۔ جب بھی وزیر اعظم کسی ملک کے دورے پر روانہ ہوتے ہیں، کوئی نہ کوئی قیامت کھڑی کر دی جاتی ہے۔ سانحہ ساہی وال بھی ایک قیامت ہی تھا جو ایک خاندان پر گذر گئی، لیکن اس کے تانے بانے بھی وہیں جا کر ملے جہاں سے سانحہ ماڈل ٹائون پلان ہوا تھا۔ CTD پولیس فورس میاں شہباز شریف نے ترکی کی جانب سے ملنے والے فنڈ کو ضائع کرنے کے لیے بنائی، یہ دو سال کے لیے بنائی گئی تھی جبکہ ترکی نے ایلیٹ فورس کو مزید بہتر اور سہولیات کے لیے فنڈ دیا تھا۔ CTD اپنی نا تجربہ کاری کی وجہ سے پولیس اور ایلیٹ کا کافی نقصان کر چکی ہے۔ سی ٹی ڈی میں کارپورل کے نام سے بھرتی کیے گئے ناتجربہ کار اور فیلڈ سے ناواقف لوگوں کو نوے نوے ہزار تنخواہیں دی جا رہی ہیں جبکہ تیس ہزار پر شہادتیں دینے والی اور وی آئی پی پروٹوکول پر ذلیل ہونے والی ایلیٹ فورس کے مونو گرام والی گاڑی کو استعمال کیا گیا۔ پنجاب پولیس کا جوان چوبیس گھنٹے ڈیوٹی دے کر بھی لعن طعن کا حقدار کیوں ٹھہرتا ہے، یہ سوال تھا پنجاب پولیس کے ایک افسر کا۔ اس افسر کا یہ بھی مطالبہ تھا کہ ماورائے عدالت انکائونٹرز پر پابندی لگائی جائے اور ذمہ داروں کو کڑی سے کڑی سزا دی جائے۔ انہوں نے کہا جب تک پولیس کے محکمے سے سیاسی چھتری نہیں ہٹائی جائے گی اور اس میں بھرتی ہزاروں سفارشی چن چن کر نہیں نکالے جاتے، اصلاحات ممکن نہیں۔

ایک اور افسر کا بیان تھا کہ پنجاب میں پچھلے پانچ سالوں میں پولیس کے 30 شعبے بنا دیے گئے۔ CIA پولیس، CTD پولیس، ڈولفن پولیس، سپیشل برانچ پولیس، سیکورٹی برانچ پولیس، محافظ پولیس وغیرہ وغیرہ۔ اب SHO کو پتہ نہیں ہوتا کہ اس کے علاقے میں کون کہاں سے آیا اور کیا کر کے چلا گیا، جبکہ SHO کو اطلاع دینا ضروری ہوتا ہے۔ ان کے پاس بے تحاشا اختیارات ہوتے ہیں جو یہ اپنے ذاتی مقاصد کے لیے استمعال کرتے ہیں۔ اسی طرح ایلیٹ فورس میں SEG ایلیٹ اور SOS ایلیٹ بنانے کا کیا مقصد؟ جبکہ ایلیٹ فورس ہی آپریشن اور مختلف ڈیوٹیاں کرتی ہے۔ یہ سب فورسز کمیشن اور فنڈ کھانے کے لیے بنائی گئیں۔ اس سے پہلے ڈیلی پاکستان نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ انتہائی اہم اور ذمہ دار ذرائع کے مطابق سانحہ ساہیوال میں عہدے سے ہٹائے جانے والے سی ٹی ڈی پنجاب کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی رائے محمد طاہر جعلی پولیس مقابلوں کے ماہر تصور کیے جاتے ہیں اور ان کا شمار سابق وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف کے انتہائی تابعدار اور رازدار افسران میں ہوتا تھا۔ یہ اس سے پہلے 2013ء میں بطور ڈی آئی جی آپریشنز لاہور ’’خدمات‘‘ سر انجام دیتے رہے ہیں۔ اس دور میں ان پر ماورائے عدالت لوگوں کے قتل، قبضہ گروپوں کے ساتھ مل کر لوگوں کی زمینوں پر قبضہ کرنے جیسے کئی سنگین الزامات لگتے رہے ہیں۔ رائے محمد طاہر جب ڈی جآئی جی لاہور تھے، اس وقت خاتون سمیت پورے خاندان کو حبس بےجا میں رکھنے تک کے الزامات ثابت بھی ہو چکے ہیں، تاہم اس وقت کے وزیر اعلی کی قربت کی وجہ سے یہ سنگین معاملہ بھی دبا دیا گیا تھا۔ لیکن اکتوبر 2013ء میں محکمہ پولیس کی جانب سے خاتون کو حبس بےجا میں رکھنے اور قبضہ گروپوں کی سرپرستی کے کیس میں ایڈیشنل آئی جی محمد عملیش کی سربراہی میں ہونے والی انکوائری میں رائے طاہر کو اس سنگین واقعہ کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشنز لاہور کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔

سابق وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف نے اس سنگین جرم کی سزا دینے کے بجائے رائے محمد طاہر کو سی ٹی ڈی سربراہ کی ذمہ داری سونپ دی تھی۔ محمد عملیش نے سابق وزیر اعلی پنجاب کو انکوائری رپورٹ پیش کر دی تھی لیکن انہوں نے کوئی سخت ایکشن نہیں لیا تھا۔ یاد رہے کہ رائے محمد طاہر رائے ونڈ کے قریبی علاقے راجہ جنگ کے رہائشی ہیں اور ان کا ایک بھائی ’’یوسف بلو‘‘ قبضہ گروپ اور مخالفین کو جعلی پولیس مقابلوں میں پار کرانے کی شہرت رکھتا ہے۔ چونکہ رائے محمد طاہر کا شمار سابق وزیر اعلی کے بہت قریبی ساتھیوں میں ہوتا تھا، جس کی وجہ سے ان کو آؤٹ آف ٹرن ترقیاں دے کر سی ٹی ڈی سربراہ بنایا گیا۔

بہرحال سانحہ ساہیوال پر بھر پور ایکشن لے لیا گیا ہے۔ امید ہے جلد انصاف ہوگا۔ پولیس اصلاحات اب انتہائی ضروری ہو چکی ہیں۔ اب ذرا اچھی خبروں کی طرف آتے ہیں جو آج پیش کیے جانے والے منی بجٹ سے متعلق ہیں۔ میں تو اسے منی بجٹ نہیں اصلاحی بجٹ کا نام دوں گی کہ یہ ریلیف بجٹ تھا کیونکہ فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس انڈسٹریزنے منی بجٹ کو بہترین پیکیج اور ملکی معیشت کے لیے خوش آئند قرار دیا ہے۔ اس سے صنعتیں چلیں گی اور روزگار کے موقعے پیدا ہوں گے۔ ان کے مطابق ہماری تمام تجاویز منظور کر لی گئی ہیں۔ جنرل باجوہ بھی بزنس کمیونٹی سے مل کر بہت خوش تھے۔ انہوں نے کہا کہ کپتان آپ کی تمام شکایات دور کرے گا۔ ایک صاحب نے تو یہاں تک لکھا ہوا تھا کہ اسد عمر نے سجی دکھا کر کھبی ماری ہے۔ سنا تھا پی ٹی آئی نیوز میڈیا کی دشمن ہے مگر اخباری کاغذ پر امپورٹ ڈیوٹی ہی ختم کر دی گئی ہے۔ موبائل فون پر ٹیکس کم کر دیا گیا۔ زرعی قرضوں پر بھی ٹیکس کم کر کے 20فیصد کر دیا گیا۔ 5ارب روپے کی قرض حسنہ کی سکیم، بینکنگ ٹرانزنکشنز پر فائلر کے لیے0.3 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس ختم، چھوٹے شادی ہالوں پر عائد ٹیکس 20 ہزار سے کم کر کے پانچ ہزار کر دیا گیا، تمام نان بینکنگ کمپنیز کا سپر ٹیکس ختم۔ غریب طبقے کے گھروں کے لیے تعمیر کے لیے کئی قسم کی مراعات کا اعلان کیا گیا ہے اور زراعت کے لیے بھی خوش آئند خبریں ہیں۔ اللہ ان کو مزید وعدے پورے کرنے کی توفیق دے۔ حسب معمول اپوزیشن نے تو شور شرابہ اور تنقید ہی کرنی ہے۔ اس پر پھر بات ہوگی !