سکھوں کا مکہ مدینہ، وزیراعظم سے ایک التجا - محمد عاصم حفیظ

وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان نے گزشتہ روز قطر میں اپنے خطاب کے دوران کہا کہ سکھوں کا مکہ مدینہ پاکستان میں ہے۔ ویسے تو جناب وزیراعظم کو جو دل میں آئے وہ کہنے کا پورا پورا حق ہے کیونکہ وہ حکمران ہیں اور باقی سب رعایا۔ وہ تاریخ بدل سکتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ کو غیر معروف کہہ سکتے ہیں۔ اپنے ہر اقدام کو ریاست مدینہ کا اصول قرار دے سکتے ہیں۔ انہیں سوشل میڈیا پر بڑی تعداد میں ایسے حامی میسر ہیں جو ان کے ہر اقدام اور ہر لفظ کو ہر صورت درست قرار دیتے ہیں، لیکن اس کے باوجود ان سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ اگر وہ خالص اسلامی دینی اصطلاحات کو یوں بے توقیر نہ کریں تو عین نوازش ہوگی۔

مکہ مدینہ صرف شہروں کے نام نہیں بلکہ حرمین الشریفین کا مقام رکھتے ہیں ان کیساتھ بہت سے اسلامی احکامات منسلک ہیں۔ عبادت اور ثواب کا مقام حاصل ہے۔ آپ سکھوں کو ضرور سہولیات دیں، ان کو خوش کریں لیکن یہ سب اسلامی و دینی اصطلاحات کے بغیر بھی کیا جا سکتا ہے۔ وہ زیادہ خوش ہوں گے۔ ان کےلئے مکہ و مدینہ کے الفاظ شاید اتنے اہمیت کے حامل بھی نہ ہو۔ آپ ان کی ہی اصطلاحات استعمال کر سکتے ہیں۔ ہر مذہب میں عبادات، اصطلاحات کا الگ الگ مقام ہوتا ہے۔ آپ بھجن گانے کو عین نماز پڑھنا نہیں کہہ سکتے۔ کمبھ میلے کو حج کے مترادف کہنا مناسب نہیں۔ اسی طرح اللہ تعالی اور بھگوان کے ناموں سے ایک ہی تصور نہیں ابھرتا۔ یہ ایسے ہی ہے کہ جیسے آج کل وزیر اعظم کو خلیفۃ المسلمین کہہ دیا جائے۔ یا پھر صدر کو بادشاہ سلامت اور عوام کو غلام۔ یقینا یہ مناسب نہیں لگے گا کیونکہ ان عہدوں کا تصور ہی ایسا نہیں ہے۔ اسی طرح سکھوں کے مقدس مقامات کو مکہ مدینہ کہنا بھی مناسب نہیں۔ جنم بھومی و جنم استھان کے الفاظ ہی مناسب ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   اگر عمران خان تھک گیا تو - واصب امداد

وزارت عظمیٰ کے منصب کا تقاضا ہے کہ ان کے الفاظ بھی انتہائی سنجیدہ اور جچے تلے ہوں۔ مانا کہ اب ملک کا دینی طبقہ اس قدر سہم چکا ہے اور شاید بےحس تک ہو چکا ہے کہ وہ ایسی باتوں کا نوٹس تک نہیں لیتا۔ آپ کو لامحدود اختیارات حاصل ہیں لیکن پھر بھی ہم گزارش کرنے کی جسارت ضرور کریں گے۔