اللہ کے بن جائیے، کائنات آپ کی بن جائے گی! - ابو محمد مصعب

بہت پرانے زمانے کی بات ہے، ایشائے کوچک کے ایک شہر ’اِفسس‘ میں ایک ظالم بادشاہ حکومت کرتا تھا جس کا نام ’دقیانوس‘ تھا۔ وہاں، ڈائنا دیوی کا ایک عظیم الشان مندر تھا، جس کی شہرت دنیا بھر میں پھیلی ہوئی تھی اور دور دور سے لوگ اس کی پوجا کے لیے آتے تھے۔ وہاں کے جادوگر، عامل اور فال گیر دنیا بھر میں مشہور تھے۔ یوں تو سارا سال ہی ڈائنا دیوی کی پوجا چلتی رہتی تھی لکین سال میں ایک بار وہاں ایک بہت بڑا میلہ لگتا تھا، جس میں بادشاہ خود بھی شریک ہوتا تھا۔ اسی لیے بادشاہ کا حکم تھا کہ میلے کے دنوں میں ملک کے سب لوگ لازماََ استھان پر حاضری دیں اور دیوی کی پوجا کریں۔ کسی کو بادشاہ کی حکم عدولی کرنے یا بادشاہ کے نظریے سے اختلاف کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ یوں، وہ پورا خطہ بُت پرستی اور جادو ٹونے کا مرکز بن چکا تھا۔

ہوا یوں، کہ ایک مرتبہ جب میلے کے دن قریب آئے تو بادشاہ نے حسبِ دستور شہر کی تمام آبادی کو میلے پر چلنے اور دیوی کے استھان پر حاضر ہونے کا حکم دیا۔ مندر کے پاس پہنچ کر سب لوگ دیوی کی پوجا پاٹ میں لگ گئے مگر ایک نوجوان نے دیوی کو نہ سلام کیا نہ اس کی پوجا کی۔ وہ خاموشی سے مجمع سے الگ ہو کر قریب ہی ایک درخت کے سائے میں جا کر بیٹھ گیا۔ کچھ دیر بعد ایک اور نوجوان بھی اس سارے کھشٹ سے کنّی کترا کر وہاں آ بیٹھا۔ پھر، کچھ وقت کے بعد ایک اور نوجوان بھی وہاں آ کر بیٹھا۔ یوں، دوپہر ڈھلنے تک، نوجوانوں کی ایک قلیل تعداد اس درخت کے نیچے جمع گئی۔

یہ سب نوجوان ایک دوسرے کے لیے بالکل اجنبی تھے لہٰذا کسی نے کسی کے ساتھ بات نہ کی اور خاموش بیٹھے رہے۔ بالاخر کچھ وقت کے بعد ایک نوجوان نے ہمت کی اور باقی نوجوانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا: ’’دوستو! کوئی تو بات ہے، جو ہم سب لوگ، یہ موج میلہ چھوڑ کر یہاں آ جمع ہوئے ہیں، کوئی کچھ تو بولے‘‘۔

اس پر ایک نوجوان نے ہمت کی اور وہ یوں گویا ہوا: ’’بھائیو، یہ جو کچھ یہاں ہو رہا ہے میں اس سے بیزار ہوں۔ مجھے یہ بات سمجھ میں نہیں آ رہی کہ یہ لوگ کیوں ایک اللہ کو اپنا معبود نہیں مانتے اور اسے چھوڑ کر اس دیوی کی پوجا کرنے کو جمع ہو گئے ہیں جب کہ ہمارا حقیقی خالق اور مالک تو ایک اللہ ہے‘‘۔

نوجوان کی بات سن کر ایک اور نوجوان اٹھا اور یوں گویا ہوا: ’’واللہ، اس بھائی نے میرے دل کی بات کہہ ڈالی ہے۔ میں خود سوچتا ہوں کہ جب کائنات کی تخلیق اور اس کو چلانے میں اس دیوی کا کوئی عمل دخل نہیں تو پھر کیوں یہ لوگ اس کی پوجا کرتے ہیں جو خود کچھ بھی نہیں کر سکتی اور مٹی میں دفن ہو کر بے بس پڑی ہے؟ واللہ، میں بھی لوگوں کی اس جہالت اور ظلم سے بیزار ہوں اور اس سے برأت کا اظہار کرتا ہوں۔‘‘

دوسرے نوجوان کی باتیں سن کر باقی لوگوں نے بھی ہمت کی اور انہی سے ملتی جلتی باتیں کیں۔ لیکن طے ہوا کہ سب لوگ اپنے یہ خیالات اور نظریات خود تک محدود رکھیں گے اور کسی سے ذکر نہ کریں گے کہ مبادا، بادشاہ کو اگر بھِنک پڑ گئی تو وہ تو گویا سب کو سنگسار ہی کر ڈالے گا۔

لیکن، سوءِ قسمت، نوجوانوں کی یہ باتیں کسی طرح بادشاہ تک پہنچ گئیں اور اس نے سب کو اپنے پاس بلا کر بہت سرزنش کی اور غصے میں لال پیلا ہوتے ہوئے انہیں دھمکی آمیز لہجے میں کہا کہ اگر انہوں نے اپنے خیالات سے رجوع نہ کیا تو پتھر مارمار کر سب کو ہلاک کر دیا جائے گا۔

بادشاہ کی دھمکی سے نوجوان خوفزدہ ہوگئے۔ دربار سے باہر نکل کر نوجوانوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اب کیا کیا جائے۔ ایک طرف ہمارا ایمان ہے تو دوسری طرف بادشاہ کا ظلم عظیم۔ اگر ہم اس قوم کے درمیان واپس گئے تو یہ دوبارہ ہمیں اپنے دین کی طرف پھیر لے جائے گی۔

پھر، باہم مشورے سے طے ہوا کہ وہاں سے بھاگ نکلا جائے اور کسی دوسری جگہ جا کر زندگی کے باقی ایام گزارے جائیں۔ لہٰذا، وہ ایک پہاڑ کی طرف دوڑے اور ایک غار میں جا کر پناہ گزیں ہو گئے۔ دن بھر کی تھکن اور بادشاہ کی اعصاب شکن باتوں نے ان کے جسموں کو چور چور کر دیا تھا۔ لہٰذا پل بھر کو سستانے کے لیے لیٹے ہی تھے کہ آنکھ لگ گئی اور اللہ نے انہیں تین سو سال سے زائد عرصے کے لیے سلا دیا۔

تقریباََ، تین سو نو برس کے بعد جب وہ نیند سے بیدار ہوئے تو بھوک نے سب کا برا حال کر رکھا تھا۔ ایک دوسرے سے پوچھنے لگے کہ ہم نے کتنی دیر نیند کی ہوگی؟ کسی نے کہا زیادہ سے زیادہ ایک دن یا اس کا کچھ حصہ۔ پھر، کسی نے کہا، بھئی یہ حساب کتاب ہوتا رہے گا۔ فی الحال تو پیٹ میں چوہے دوڑ رہے ہیں، کچھ کھانے پینے کا بندوبست ہونا چاہیے۔ لہٰذا انہوں نے ایک ساتھی کو چند سکّے دے کر بازار کی طرف بھیجا تاکہ وہ کچھ کھانے پینے کا سامان لے آئے۔ لیکن اس تاکید کے ساتھ کہ احتیاط کرنی ہے ورنہ بادشاہ کو اگر ان کے ٹھکانے کا پتہ چل گیا تو واپس اپنے دین کی طرف پھیر لے جائے گا یا پھر سنگسار ہی کر ڈالے گا۔

وہ نوجوان، سکے لے کر بازار گیا۔ دوکاندار سے کھانے کا کوئی سامان لیا اور پھر سکے اس کے ہاتھ پر رکھ دیے۔ دوکاندار، سکے دیکھ کر حیران رہ گیا۔ کبھی سکوں کو الٹ پلٹ کر دیکھتا تو کبھی اس نوجوان کو۔ کچھ ہی دیر میں وہاں لوگوں کی بھیڑ لگ گئی جو بار بار اس نوجوان، اس کے دیے گئے سِکوں اس کے حلیے اور لباس کو عجیب نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔

نوجوان ڈر گیا اور دل ہی دل میں کہنے لگا کہ خدا کی پناہ! جس چیز سے بچنے کی کوشش کر رہا تھا وہی ہو گئی۔

پھر اس نوجوان سے سوالات کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوگیا۔ تم کون ہو، تم کہاں سے آئے ہو، یہ سکے تم کہاں سے لائے ہو، وغیرہ وغیرہ۔ نوجوان نے سب حقیقت بیان کر دی اور بتایا کہ وہ تنہا نہیں بلکہ اس کے باقی ساتھی بھی ہیں جو غار میں کھانے کا انتظار کر رہے ہیں۔ یہ سن کر وہاں موجود لوگوں کا اژدہام، نوجوان کے پیچھے پیچھے چلنے لگا تاکہ وہ غار تک ان کی رہنمائی کرے۔

غار میں پہنچ کر لوگوں نے باقی نوجوانوں کو بھی دیکھا، ان سے مختصراََ بات چیت کی۔ پھر، غار والوں کو جب پتہ چلا کہ ان کا راز افشاء ہو چکا تو انہوں نے سب کو سلام کیا اور پھر وہیں لیٹ گئے۔ اللہ نے ان سب کو ابدی نیند سُلا دیا۔

ہوا یہ تھا کہ جس ’’دقیانوس‘‘ نامی بادشاہ کے خوف سے یہ نوجوان بھاگ کر غار میں پناہ گزیں ہوئے تھے، اسے گزرے ہوئے تین سو سال سے زائد عرصہ بیت چکا تھا اور اس کی جگہ اب اسی کی نسلوں میں سے کوئی دوسرا بادشاہ حکومت کر رہا تھا جو ایک نیک دل انسان تھا اور ایمان قبول کر چکا تھا۔ موجودہ بادشاہ نے اپنے دادا کے زمانے کے سکوں ہی سے اندازہ لگا لیا کہ یہ نوجوان کس دؤر سے تعلق رکھتے ہیں۔

یہ تھے وہ غار والے جن کا ذکر اللہ نے اپنے قرآن میں کیا ہے۔

اس کہانی میں سبق یہ ہے کہ جو لوگ، اپنے ایمان بچانا چاہیں، اللہ ان کے لیے راستے کھولتا ہے۔ دوسری بات یہ پتہ چلی کہ جب دنیا اہلِ ایمان پر تنگ ہو جائے تو ایک ’غار‘ بھی ان کے لیے ’وسعت‘ بن سکتی ہے۔ تیسرے بات یہ کہ اللہ کے دین ہی میں دراصل ’’وسعت‘‘ ہے، دنیا میں تو ’’تنگی‘‘ ہی ’’تنگی‘‘ ہے۔

اور آخری بات یہ کہ جو اللہ کا ہو جائے، پھر چاہے وہ فقیر ہی کیوں نہ ہو، وہ سرمدی اور امر ہوجاتا ہے اور جو اس کو بھلا دے، پھر چاہے وہ بادشاہ ہی کیوں نہ ہو، وہ قصہء پارینہ بن جاتا ہے۔ وہ چند نوجوان، جن کے نام تک پتہ نہیں ان کا ذکر قرآن میں آگیا اور لوگ قیامت تک ان کو پڑھتے رہیں گے اور وہ بادشاہ جس کا نام معلوم ہے لیکن وہ نامعلوم بن کر تاریخ کے اوراق میں گُم ہوگیا۔

صرف اور صرف اللہ کے بن جائیے، پوری کائنات آپ کی بن جائے گی!