شام کی ایک کہانی۔ سعید بن عبد الغفار

وہ ایک سنہری اور خوبصورت شام تھی ، جب ہم دوست دمشق کی گلیوں میں سے ہوتے سڑک کے پاس لگے ٹھیلوں سے دوستی دوستی میں کچھ پھل فروٹ کھاتے کھاتے جامع مسجد کی طرف جا رہے تھے جہاں ہمارے شیخ (۔۔۔۔۔۔۔۔) نام ذکر نہیں کیا جاسکتا ، درس دیا کرتے ، ہم ان سے روز سبق لیتے تھے وہ علم حدیث کے ایک ماہر تھے،ا ور ان کا بڑا نام تھا ، ان کی عالمانہ گفتگو اور نکات سے ہم اپنی علم کی پیاس بجھاتے، یہ وہ ملک شام ہے جس کی فضائوں میں گھٹن کے باوجود ایک تقدس ہے، جہاں جا بجا مقدس ہستیوں کے مزارات ہیں، صوفیاءکرام کا یک بڑا حلقہ موجود ہے ، ہم ان سے فیض لینے ہی ارض شام کی طرف آئے تھے .

اس شام جب ہم مسجد میں داخل ہوئے تو نماز سے پہلے ہی درس شروع ہوا، اور پھر ازان کا وقت ہوا، اذان کے لیے ایک بندہ داخل ہوا اور اذان کہنے لگا ، اذان کی آواز کچھ مختلف محسوس ہوئی کیونکہ اس مخصوص آواز والی آواز والے موذن کو ہم جانتے تھے ، اذان پوری ہونے کی دیر تھی کہ اچانک دو بندے مسجد میں داخل ہوئے اور اس شخص لو لعن طعن کرنے لگے کہ تم نے اذان کیوں دی، بحث کے دوران ہی وردیوں کے ساتھ چند اور لوگ گھس آئےا ور جنہوں نےآتے ہی مار پیٹ شروع کردی کہ تم نے سرکاری موذن کا انتظار کیوں نہیں کیا ، ؟؟ْ

اب وہ بندہ بہت ہی عاجزی سے منتیں کرنے لگا کہ اس سے غلطی ہوگئی اسے معاف کردیجئے، مگر فرعون کا پرتو لیے وہ کارندے اسے معاف کرنے پہ راضی نہیں ، بالآخر اس سے کہتے ہیں کہ اب تم اسی زبان سے جس اللہ پاک کی کبریائی بیان کر چکے ہو ، انہی الفاظ میں بشار الاسد کی کبریائی بیان کرو، وہ اس کفر کو زبان پہ لانے سے مر جانا قبول کرت مگر جب سرکاری کارندوں نےاس کے خاندان اور بیوی بچوں کو مارنے کی دھمکی دی تو روتے ہوئے وہ ان کفریہ کلمات کو ادا کرنے پہ مجبور ہوگیا ، اور مسجد کے منبر و محراب لرز کر رہ گئے، یہاں ہمارے شیخ درس میں محو تھے جب انہوں نے دیکھا کہ اس کے شاگرد کسی رد عمل کے لیے پر تول رہے ہیں تو سخت نگاہوں سے روکا اور اپنا درس جاری رکھا.

یہ بھی پڑھیں:   شام میں اسرائیل کے فضائی حملے، ایرانی اہداف کو نشانہ بنایا

یہ واقعہ اس پر امن دور کا ہے جب بغاوت کا دور شروع نہیں ہوا تھا ، میں نے اپنی پڑھائی وہاں چھوڑی اور آٹھ سالہ رفاقت کو خیرباد کہ دیا کیونکہ ہمارے خون میں رد عمل کا بخار بہت تھا اور اس گھٹن میں سانس لینا ممکن نہ تھا،یہ واقعہ میرے ایک ایسے دوست کا ہے جو ملک شام میں ایک لمبا عرصہ پڑھنے کی غرض سے گذار چکا ہے.

حلب کے واقعے کے بعد فیس بک پہ چند نامعقول لوگ یہ کہتے نظر آرہے ہیں کہ بشار کے خلاف بغاوت انسانیت سے دشمنی ہے، اور سعودی اور امریکی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے جنگ چھیڑی گئی ہے، عقل کے دشمنوں سعودی خود ایک بادشاہی نظام رکھنے والا ملک ہے ، اسے معلوم ہے کہ اگلی باری اس کی ہے وہ اس طرح کا کام کیوں کرے گا؟؟؟؟میں سمجھتا ہوں کہ ایسے لوگ ہیں جنہیں شاید شام کے چار شہروں کے نام بھی ٹھیک سے نہیں آتے، جو شام کی تاریخ سے بھی واقف نہیں، مگر قرآن پاک تو پڑھتے ہونگے نا ، اللہ پاک کا ارشاد ہےکہ کسی قوم کی دشمنی تمہیں ناانصافی پر مجبور نہ کرے، پھر سعودی دشمنی میں تم کیوں حلب کے معصوم بچوں کی چیخوں کو دبا رہے ہو، کیوں مسلک اور فرقے کی آڑ لے کر انصاف کی بات کرنے سے گھبراتے ہو؟؟؟؟ظلم سہنے کی ایک حد ہوتی ہے مگر اس خطے میں مظالم کا بازار گرم تھا جو زمین دوز تھا پھر برسر زمین آگیا ، یہ تو ایک لاوا تھا جسے کسی دن پھٹنا تھا ، یہ وہ بغاوت تھی جسے کسی نہ کسی دن برسر زمین آنا تھا۔

ٹیگز