ادھوری اپوزیشن - امجد طفیل بھٹی

قومی و صوبائی حکومتیں بنے چھے مہینے سے زائد کا عرصہ ہو چکا مگر ابھی تک حقیقی اپوزیشن کا نام و نشان تک نظر نہیں آ رہا اور یوں لگ رہا ہے سب اپنی اپنی جان بچانے کے چکر میں کبھی کسی سے ملاقات کرتے ہیں تو کبھی کسی سے۔ چاہے مسلم لیگ ن ہو یا پاکستان پیپلز پارٹی ہو ، متحدہ مجلس عمل ہو یا پھر اے این پی سب جماعتیں ایک دوسرے کی طرف دیکھتی نظر آ رہی ہیں اور ایک دوسرے کی ہمدردی سمیٹنے کی کوششوں میں مصروف ہیں کیونکہ گزشتہ ادوار میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی آپس میں ایک دوسرے کی اپوزیشن رہی ہیں لیکن اب کی بار ملکی تاریخ میں پہلی بار دونوں ہی جماعتیں مشترکہ اپوزیشن کا حصہ ہیں۔ دونوں جماعتوں کے سربراہان کرپشن کیسز میں عدالتوں کے چکر کاٹنے میں مصروف ہیں۔ یوں تو دونوں جماعتوں یعنی مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کا اپنا اپنا نظریہ ہے اور ایک دائیں بازو کی جماعت تو دوسری بائیں بازو کی جماعت کہلاتی ہے مگر دونوں میں ایک قدر مشترک ہے اور وہ ہے کرپشن کے الزامات۔ دونوں جماعتوں نے کل ملا کر پاکستان پر تقریباً پچیس سال تک حکومت کی ہے ، اپنے اپنے دور حکومت میں دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کی خوب کردار کشی کی ، کبھی ایک جماعت کے لیڈران نے دوسری جماعت کے لیڈران کی ذاتی زندگی میں جھانکنے کی کوشش کی تو کبھی کسی سربراہ کے اسکینڈل منظر عام پر لائے گئے۔ کبھی ایک نے دوسرے پر ملک کو لوٹنے کا الزام لگایا تو کبھی ایک نے دوسرے کو کرپٹ قرار دیا۔ ہر بار احتساب کے نام پہ مخالفین کو دبانے اور زبان بند رکھنے کی کوشش کی گئی مگر عملی احتساب ممکن نہ ہو سکا۔

انتخابات کے وقت ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھالی جاتیں رہیں اور عوام کو بے وقوف بنا کر ووٹ حاصل کیے گئے مگر جونہی حکومت سنبھالی گئی تو جمہوریت کو بچانے کی خاطر تمام تر احتساب کے کیسز یہ کہہ کر ختم کردیے گئے کہ اس احتساب سے سیاسی انتقام کی بْو آ جاتی تھی۔ یوں دونوں جماعتوں نے خوب کھلے دل سے اور دونوں ہاتھوں سے نہ صرف ملکی خزانے پر ہاتھ صاف کیے بلکہ تمام قومی اداروں کا ستیاناس کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا نیا چینل واقعی اسلام کو پیش کرے گا - حامد کمال الدین

اْدھر دوسری جانب تمام مذہبی جماعتوں کے اتحاد سے وجود پانے والی متحدہ مجلس عمل بھی تقریباً تقریباً ٹوٹ چکی ہے کیونکہ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے یہ کہہ دیا ہے کہ یہ اتحاد ایک انتخابی اتحاد تھا۔ اس سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تمام مذہبی جماعتوں کا ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا ایک غیر فطری عمل تھا کیونکہ پہلے 2002 کے انتخابات میں بھی یہ اتحاد وجود میں آیا تھا مگر جونہی حکومت ختم ہوئی اتحاد بھی اپنی موت آپ مر گیا۔ ایک بات جو یہاں اہم ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان میں بیشتر سیاستدان الیکشن سے پہلے صرف اس لیے جماعتیں بدلتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح اقتدار کی سیڑھی پر قدم رکھا جا سکے۔ متحدہ مجلس عمل میں اور کسی کا عمل دخل ہو نہ ہو مولانا فضل الرحمان کا لازمی تھا کیونکہ وہ ہر حال میں اتنی تعداد میں نشستیں حاصل کرنا چاہتے تھے کہ کوئی بھی جماعت جب حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہوگی وہ بھی وسیع تر قومی مفاد میں اسکے ساتھ شریک حکومت ہو جائیں گے۔ لیکن 2018 کے انتخابات کے نتیجے میں چونکہ مولانا صاحب خود اسمبلی سے آؤٹ ہو گئے تو سارے کا سارا جمہوری نظام ناکارہ اور بے کار ہوگیا ( بقول مولانا کے ) کیونکہ انکا اسمبلی میں ہونا شاید ملکی سیاست میں اہم ترین ہے۔ مولانا کی حب الوطنی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب الیکشن میں ہار گئے تو 14 اگست کو یوم آزادی تک نہ منایا ، گویا کہ پاکستان سے ہی متنفر ہوگئے لیکن کچھ عرصے بعد جب مشترکہ صدارتی امیدوار کی بات آئی تو مولانا صاحب نہ صرف پیش پیش رہے بلکہ خود صدارتی الیکشن بھی لڑے ، گویا پاکستان میں کوئی ائم منصب ملا رہے تو وطن سے محبت قائم رہتی ہے۔ خیر جب مولانا صاحب ہار گئے تو انہوں نے تمام اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی بلوائی کہ اس بوگس اسمبلی میں ہم نہیں جائیں گے۔ یہ الگ بات تھی کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کو انکا مشورہ پسند نہ آیا۔

یہ بھی پڑھیں:   مسافر اور لنگر خانے کیوں ضروری ہیں - تصوّر حسین خیال

اب لے دے کر دو ہی جماعتیں یعنی مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی ہی اسمبلی میں اپوزیشن کے طور پر رہ گئی ہیں لیکن انکا اتحاد بھی صرف اور صرف ذاتی مفاد کے گرد گھومتا ہے چاہے وہ میثاق جمہوریت کی صورت میں ہو یا ، مشرف کے خلاف وکلا کی جدوجہد کی حمایت کی صورت میں ہو یا پھر مشرف کو صدر کے عہدے سے ہٹانے کا موقع ہو۔ اور اب کی بار دونوں جماعتوں کو کرپشن کیسز کا سامنا ہے تو عمران خان کے خلاف دونوں جماعتیں یک زبان ہو کر یہ نعرہ لگا رہی ہیں کہ ہمیں انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے حالانکہ دونوں پر کرپشن کیسز تو پرانے ہیں اس میں عمران خان کا نام استعمال کرنا سرا سر زیادتی ہو گی۔

اوپر بیان کردہ اپوزیشن کے اپنے مسائل کو دیکھتے ہوئے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس وقت حکومت کا کسی قسم کی مضبوط اپوزیشن کا سامنا نہیں ہے کیونکہ آج اگر پیپلز پارٹی کی قیادت پر سے کیس ختم ہو جائیں تو وہ اس متوقع گرینڈ اپوزیشن کو خیر باد کہہ سکتی ہے۔ جبکہ متحدہ مجلس عمل کی ایک الگ ہی سمت ہے اور وہ ان جماعتوں کے ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں ہے کیونکہ دونوں بڑی جماعتوں پر کرپشن کے الزامات ہیں۔ رہی بات عوامی طاقت کی تو عوام کو اب پرانے سیاستدانوں کی سیاست کا اچھی طرح اندازہ ہوچکا ہے کیونکہ سب جان چکے ہیں کہ انکے مسائل کی طرف کسی نے توجہ نہیں دینی بلکہ سب نے اپنا اپنا الو سیدھا کرنا ہے۔