طلاق ثلاثہ بل، اور کیا دیکھنے کو باقی ہے - ایس احمد پیرزادہ

ہندوستان کی راجیہ سبھا میں وزیر اعظم ہند نریندر مودی کی ہدایت پر تیار کی ہوئی طلاق ثلاثہ بل ایک مرتبہ پھر پیش نہ ہوسکی کیونکہ بل کی مخالفت کے بارے میں بولنے والے بیش تراراکین پارلیمنٹ کی رائے یہ ہے کہ جب طلاق ِثلاثہ کے بارے میں سپریم کورٹ پہلے ہی فیصلہ کرچکاہے کہ ایک ہی نشست یا ایک ہی وقت میں دی گئی تین طلاق سے طلاق واقع نہیں ہوتی ہے تو پھر پارلیمنٹ کو اس بارے میں قانون سازی کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ ممبران پارلیمنٹ نے بل پر اعتراض پیش کرتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ اگر ایک نشست میں تین طلاق دینے سے طلاق واقع نہیں ہوتی ہے تو طلاق دینے والے شخص کے لیے پھر تین سال کی جیل کی سزاتجویز کرنا اُن کے ساتھ سراسر زیادتی ہے۔دلی میں برسر اقتدار بی جے پی سرکار دوبارہ پوری تیاری کے ساتھ سہ طلاق بل کو پیش کرنے اور اس کو منظور کروانے کے لیے پہلے ہی عندیہ دے چکی ہے، اس لیے دیر سویراس بل کے راجیہ سبھا میںپاس ہو نے کا امکان رد نہیں کیا جاسکتا۔ اگر کوئی اور زلزلہ نہ ہو تو آر ایس ایس کا سیاسی مکھوٹابھاجپا شاید مسلم پرسنل لاء کی مضبوط ولافانی عمارت کی بنیادیں ہلانے میں اپنی دیگر اسلام دشمن طاقتوں کے ساتھ مل کر کامیابی پاہی لیں گے۔ واللہ اَعلم

تین طلاق کے موضوع پر شرعِ اسلام کا مؤقف واضح ہے اور علمائے اْمت اور فقہائے ملت نے گزشتہ چودہ صدیوں کے دوران اس اہم موضوع سے جڑے معاملات ، مسائل اور اس کی باریکیاں اور نزاکتیں کھول کھول بیان کی ہیں۔ ہندوستان کے تکثیری سماج میں جان بوجھ کر دیر سے اْچھالے جارہے اس شرعی مسئلے پر ہندوستانی علماء اور مسلم دانش وروں نے پہلے ہی اسلام کے احکامات اور مبنی بر صداقت مؤقف کو مفصلاً واضح کردیا ہے اور ہندی مسلمانوں نے ہمیشہ اس کے لئے اپنی پوزیشن اکثریتی طبقے اور حکمرانوں کے سامنے رکھی ہوئی ہے،لیکن المیہ یہ ہے کہ بی جے پی سرکار اس ملک کی سب سے بڑی اقلیت کے مذہبی جذبات کو ٹھیس ہی نہیں پہنچا رہی ہے بلکہ ساتھ ہی ساتھ مجموعی طور پر مسلمانوں کو بھی نظر انداز کرکے یک طرفہ فیصلہ لے کر اپنے سیاسی مفادات پانا چاہتی ہے۔ ہزاروں ہندو خواتین جو ’’ستی‘‘ کے نام پر ہر سال قربان ہوجاتیں، دیہاتی خواتین جنہیں زندگی کی بنیادی سہولیات بھی فراہم نہیں اور جن کے ساتھ اْن کے مرد دوسرے درجے سے بدتر سلوک روا رکھے ہوئے ہیں، خواتین کے خلاف جرائم میں ہندوستان پہلے نمبر کے چند ممالک میں شمار ہوتا ہے،جہیزنہ لانے کی وجہ سے ہندوستان بھر میں آئے روز بہو بیٹیوں کو زندہ جلایا جارہا ہے یا خود سوزی اور خود کشی پر مجبور کیا جارہاہے، توہم پرستی کے مفروضات میں جکڑی پسماندہ قوم کی نہ جانے کتنی جواں سال بیٹیوں کی قدیم روایات کے مطابق پیڑ پودوںاور جانوروں کے ساتھ جبراً شادی کی جاتی ہے،شملہ سے لیہہ تک پہاڑی علاقوں میں آج بھی ایک ایک خاتون چار چار ، پانچ پانچ بھائیوں کی مشترکہ طور بیوی ہوتی ہے،خواتین سے جڑے ایسے ہی سینکڑوں اہم اور سلگتے مسائل کو پس ِپشت ڈال کر مودی سرکار کو مسلم خواتین پر ہورہے نام نہاد’’ مظالم ‘‘بالخصوص تین طلاق کا بار بار مسئلہ یاد آتا ہے، اپنی ہی پارٹی سے جڑی چند مسلم خواتین کے ذریعے سے فرضی کیسز عدالتوں میں لائے گئے، پھر میڈیا کے ذریعے سے مسلم کمیونٹی کے خلاف ماحول تیار کروایا گیا اور بالآخر عدالتوں کے ذریعے سے ہی فیصلے تک صادر کروائے گئے۔ طلاق کی ہی اگر بات کریں تو اعداد و شمار یہ بتا رہے ہیں کہ بھارتی عدالتوں میں طلاق سے جڑے ۸۰؍فیصد سے زیادہ کیسز ہندوعورتوں کے ہوتے ہیں۔ طلاق کی شرح دوسری قوموں کے برعکس مسلمانوں میں نہایت ہی قلیل اور نہ ہونے کے برابر ہے لیکن جب قانون سازی کی بات آئی تو ایک آنکھ سے دیکھنے والے قانونی اداروں کے ساتھ ساتھ ہندتوا کی علمبردار حکومت کو مسلم خواتین ہی نظر آئی ہیں۔

اسلامی شریعت واضح ہے اور قرآن حکیم نے طلاق کے حوالے سے جو طریق کار وضع کیا ہے، دنیا بھر کے قوانین میں ناگزیر حالات کے دوران میاں بیوی کے درمیان جدائی کا اس سے بہتر اور شریفانہ کوئی طریقہ اور ہوہی نہیں سکتا۔ ہندوستانی پارلیمنٹ میں ایک خاتون رُکن پارلیمنٹ نے بھی قرآن کے طریقۂ طلاق کے اَحسن اور انصاف پر مبنی ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اگر خواتین کی تکریم یقینی بنانے کے لئے واقعی کوئی قانون بنانا چاہتی ہے تو قرآنی قانون کو فالو کرے۔ اس سلسلے میں فقہائے کرام کے درمیان جو اختلاف پائے جاتے ہیں وہ ذیلی، فروعی اور معمولی نوعیت کے ہیں۔ ہمہ گیر یلغاراور سیاسی بے زاری کے اس دور میںمسلمانانِ ہند کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ انہوںنے مختلف مکاتب ِفکر کی حیثیت سے طلاق کے مسئلہ کو پیش کیا ہے، طلاق کے بنیادی مسئلے پر بات کرنے اور منصفانہ قرآنی ا حکامات کو سامنے لانے کے بجائے اْنہوں نے فقہا کے درمیان پائے جانے والے اختلاف کو زیادہ نمایاں انداز میں پیش کیا۔اس کا منفی نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ میڈیا نے مختلف مکتب فکر سے وابستہ علمائے کرام کی متضاد آراء اْچھال اْچھال کر اپنا یہ جھوٹ ’’سچ ‘‘ کرکے دکھانے کی نامراد کوششیں کیں کہ اسلامی فقہ کے چار بڑے اسکول بھی طلاق کے مسئلے پر کسی ایک نکتے پر جمع نہیں ہیں، اس لیے ہندوستانی مسلمانوں کو قانون سازی کے ذریعے ہی اس مسئلے میں یک سُو کیا جانا چاہیے۔ حد تو یہ ہے کہ بعض نادان مسلمانوں نے اس طرح کی مجوزہ قانون سازی پر نہ صرف خوشی کا اظہار کیا بلکہ اسے اپنے نقطۂ نظر کی جیت تک قرار دیا ہے۔

ہندوستان میں موجود پیٹ کے پجاری ، نفس کے غلام اور اپنے آپ کو مسلمان اور مسلمانوں کا نمائندہ کہلانے والی ایک ٹولی نے مودی حکومت کے اس اسلام مخالف اقدام کی کھل کر حمایت کی تاکہ ان کی شکم سیری کا دھندا چلتا رہے۔ اُن کے نزدیک غالب جماعت کی آنکھیں بند کرکے حمایت کرنے میں ہی اْن کے لیے امن و سلامتی کا راز پوشیدہ ہے ، حالانکہ اْنہیں معلوم ہونا چاہیے کہ کسی قوم پر غلبہ پانے کی نیت سے طاقت ور قومیں جو بھی گندے اور بدنیتی پر مبنی اقدامات کرتی ہیں اْن کا مقصد مغلوب قوم کے تشخص،آثار اور نام و نشان مٹانا ہوتا ہے۔ ’’ اچھے‘‘ اور ’’برے‘‘ مسلمان، ’’حمایتی‘‘ اور’’مخالف‘‘ مسلمان، اعتدال پسند اور شدت پسندکی تفریق ان کے سامنے وقتی چیزیںہوتی ہیں اور اس لیے ہوتی ہیں تاکہ مرحلہ وار طریقے سے اْمت کے لاغر جسم سے روح نکالی جاسکے۔ حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ۲۰؍کروڑ مسلمانانِ ہند اپنی یکجہتی ، اتحاد اور ایمان کے بل بوتے پر کسی بھی فرقہ پرست جماعت کو شریعت اورمسلم دشمن اقدام اْٹھانے سے پہلے سو بار سوچنے پر مجبور کرتے۔ اگر مسلمانانِ ہند متحد ہوکر صفت ِ ایمان اور قوتِ ارادی جیسی ناقابل تسخیر چیزیں اپنے آپ میں پیدا کرتے توکسی بھی پارلیمنٹ یا عدالت کی یہ جسارتِ بے جا نہ ہوتی کہ وہ مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں خواہ مخواہ مداخلت کی نامراد کوشش کرتیں۔

پاکستان کے ممتاز دانش ور مرحوم ڈاکٹر اشفاق احمد سے منسوب ایک واقعہ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے اپنی کتاب میں درج کیا جو اشفاق احمد کو۱۹۶۰ء میں چین کے بانی لیڈر رہنماماؤ زے تنگ نے اُنہیں بتایا ہے۔ ماؤ کو جب معلوم ہوا کہ اشفاق احمد کا تعلق پاکستان سے ہے تو انہوں نے اْن سے کہا:’’آپ کے عوام میں بلا کی صلاحیت ہے۔‘‘ ماؤ اس واقعہ سے متاثر تھے جو پاکستان میں تعینات چین کے ایک سفیر نے انہیں سنایا تھا۔ کہانی کچھ یوں ہے کہ چینی سفارت کار ایک پاکستانی دوست کے ساتھ شطرنج کھیل رہا تھا۔ کراچی کی جھلسا دینے والی گرمی میں اس پاکستانی نے روزہ رکھا ہوا تھا۔ بے چارہ گرمی کے باعث شدید تکلیف میں تھا ، ہر چند منٹ کے بعد چال چلنے سے پہلے سر پر پانی ڈالتا۔ چینی سفیر نے اس سے کہا: تھوڑا سا پانی پی کیوں نہیں لیتے؟پاکستانی نے بُرا مانا اور کہا:’’ تم اللہ تعالیٰ کو کیسے دھوکا دے سکتے ہو؟‘‘ ماؤ نے اس واقعے سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اگر ایک قوم ایسی قوتِ ارادی اور ضبط ِنفس کے ایسے اوصاف کی مالک ہے تو وہ عظیم کارنامے انجام دے سکتی ہے۔ انفرادی سطح پر ہر دور میں مسلمان قوتِ ارادی اور ضبط ِنفس کے ساتھ ساتھ ایمان کی دولت سے بھی مالا مال رہا ہے، وہ بھی ایسے وقت میں جب اسلام کے شعائر پر کوئی حملہ آور ہونے کی کوشش کرتا ہے تو ایمانی غیرت ہر مسلمان کے خون میںبے خوف حرارت پیدا کردیتی ہے۔ بے شک ہندوستانی مسلمانوں کو آج تحریک ِختم نبوت اور تحریک خلافت والے علما ئے کرام کی قیادت دستیاب نہیں ہے۔ آج دینی محاذ پر جو لوگ ہندی مسلمانوں کی ترجمانی کا دعویٰ کرتے ہیں وہ بھرے جلسوں میں اسلام دشمنوں کی خوشنودی کی خاطر یہ کہنے میںبھی کوئی جھجک محسوس نہیںکرتے کہ :’’ انہوں نے دو قومی نظریہ اور اسلامی نظام کی تھیوری مسترد کردی ہے۔‘‘ خود فراموشی کے اس عالم میں شریعت میں دخل در معقولات کر نے پر ایمانی غیرت وحمیت جگانے والے، عام مسلمانوں میں دفاعِ دین کے باب میں قوت ِارادی پیدا کرنے والے اورتحفظ شریعت کے لیے یک رنگ ویک زبان والے لیڈر اور قائد بھلا کہاں سے آئیں گے؟

اسلامی شریعت کے طریقۂ طلاق پر مسلمانوں کو دفاعی لائن اختیار نہیں کرنی چاہیے، اور نہ ہی دلیلیں دے کر سامنے والی طاقت کو قائل کرنے میں اپنا وقت ضائع کرنا چاہیے، دلیلیں وہاں کام کرتی ہیں جہاں سامنے والا کسی غلط فہمی کا شکا ر ہو اور اپنی غلط فہمی کے نتیجے میں کوئی غلط اقدام کرنے جارہا ہو، ایسے لوگوں کے سامنے جب صحیح حقائق اور دلائل رکھے جاتے ہیں تو وہ حق بات سمجھ جاتے ہیں۔یہاں معاملہ اْلٹا ہے، یہاں یہ اقدامات صرف مسلمانوں کو کمزور کرنے، اْنہیں اپنے دین سے دور کرنے اور ہندوستان کو ’’ہندو راشٹر ‘‘ بنانے کے لیے کئے جارہے ہیں۔ آج کی تاریخ میں مسئلہ سہ طلاق پر اگر مسلمان سمجھوتے کرتے ہیں ، کل کو پھر اُنہیں لازمی طور پر نمازوں پر پھر سمجھوتہ کرنا پڑے گا۔ جس کا بظاہر آغاز بھی ہوچکا ہے، یوپی میں یوگی سرکار نے کھلے میدان میں نماز پڑھنے پر پابندی عائد کردی ہے، بھارت میں ایسے بھی علاقے ہیں جہاں ہندو تہواروں کے مواقع پر مسلمانوں کو نماز جمعہ ادا نہیں کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی یا اْنہیں کہا جاتا ہے کہ وہ ہندو تہواروں کے احترام میں نماز جمعہ نہ پڑھیں اور ایسا کہیں کہیں قوت ِبازو کے بل پر ہوبھی رہا ہے۔ایسے میں دلائل دینا اور اپنا اپنا مسلکی نقطہ نظر سامنے رکھنا خود فریبی میں مبتلا ہوجانے جیسا ہے۔ایک بابری مسجد سے مسلمانوں کو دستبردار کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں کہ سینکڑوں نئی مساجد کے بارے میں طرح طرح کی قصہ کہانیاں گھڑی جارہی ہیں، تاکہ آئندہ کے لیے فرقہ پرست ایجنڈے کے لیے مواد حاصل ہوسکے۔جو قوم اصولوں اور حقوق کے حوالے سے معذرت خواہانہ لہجہ اختیار کرلیتی ہے ، وہ کبھی بھی کامیاب نہیں ہوتی بلکہ اْنہیں زندگی کے ہر مرحلہ پر کچھ نہ کچھ کھونا ہی پڑتا ہے اور یوں ہارتے ہارتے ایک دن وہ دین وایمان سے تہی دامن ہوکر اپنی شناخت اور پہچان تک بھی کھو دیتے ہیں اور پھر اْن کا کہیں نام و نشان بھی نظر نہیں آتا ہے۔ بھارت کو اسپین بنانے کی حکمت عملی اْسی دن سے شروع ہوئی جب بیسویں صدی کی تیسری دہائی میں آر ایس ایس کی بنیاد ڈالی گئی۔ گریٹر انڈیا کے خواب کو سچ کرنے کی راہ میں اْنہیں سب سے بڑی رُکاوٹ اس ملک کی سب سے بڑی اقلیت یعنی مسلمان دکھائی دے رہے ہیں اور اب اسپین کے طرز پر ہی مسلمانوں کے ساتھ ظالمانہ سلوک روا رکھا جارہا ہے تاکہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ مسلم دشمن طاقتیں اپنے خاکوں میں رنگ بھرنے میں کامیاب ہوجائیں۔

بھارتی مسلمان علماء ، دانش وروں اور عوام کے لئے لازمی ہے کہ وہ دین و شریعت کے بارے میں معذرت خواہانہ لب و لہجہ چھوڑ کر سب سے پہلے اپنے ایمان کی پرورش کریں ، اپنی صفوں میں یکجہتی و یک سوئی پیدا کریں، نیز اتحاد کے ذریعے سے۲۰؍کروڑ سے زائد مسلمانوں کو یک جٹ کریں۔ پھر ملک کے حکمرانوں پر واضح کریں کہ وہ اپنے دینی معاملات میں کسی بھی طرح کی مداخلت کو برداشت نہیں کریں گے اور کسی بھی قیمت پر دینی معاملات میں کمپرومائز کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے ہیں۔ یکجہتی، اتحاد اور ہمت وحوصلے کے ساتھ بات کرنے سے ہی مسلمانانِ ہند موجودہ آزمائشی دور سے نکل سکتے ہیں، ساتھ ہی ساتھ اْنہیں اپنی صفوں میں یک سوئی پیدا کرنے کے لیے درون ِخانہ دینی تعلیمات کو عام کرنے کے لیے جی جان سے مہم بھی چھیڑنی ہے تاکہ مسلمانوں میں سے کوئی بھی شخص زندگی کے معاملات میں اسلامی طریقۂ کار کو غلط انداز سے پیش نہ کرے اور دین کی بدنامی کا سبب نہ بنیں۔