پولیس کی دوستی اچھی نہ دشمنی - سمیع احمد کلیا

مثل مشہور ہے کہ پولیس والوں کی دوستی اچھی ہے نہ دشمنی۔ ہر ادارے کی طرح پولیس میں بھی اچھے برے لوگ موجود ہیں، عموماً پولیس کے اچھے کام کو اتنا سراہا نہیں جاتا جتنے کہ وہ حقدار ہوتا ہے، البتہ ذرا سی بھی دانستہ یا غیر دانستہ غلطی میڈیا کی بریکنگ نیوز بن جاتی ہے، شام کے اخبارات میں مصالحے دار شہ سرخیاں لگائی جاتی ہیں۔

ساہیوال میں جو ہوا بہت بہت برا ہوا۔ چند اہلکاروں کی مجرمانہ غفلت سے اس ادارے کی برسوں کی محنت اور لاتعداد کامیابیوں اور قربانیوں پر پانی پھر گیا۔ ہر وہ شخص جسے کسی بات کی سمجھ نہیں ہے، وہ انٹیلیجنس آپریشنز کا ایکسپرٹ بن گیا ہے۔ جو منہ میں آ رہا ہے کہا جا رہا ہے۔ ٹارگٹڈ آپریشنز میں امریکی سی آئی اے سے بھی متعدد غلطیاں ہوئی ہیں اور ان کی ٹیکنالوجیکل استعداد کسی سے چھپی نہیں۔ یقیناً جو ہوا بہت غلط ہوا، پر کیا اس وجہ سے آپ سی ٹی ڈی کی سب کارکردگی پہ سیاہی پھیر دیں گے۔ کیا آپ جانتے ہیں سی ٹی ڈی کے اہلکار اپنے خاندانوں کی زندگی داؤ پر لگا کر دہشت گردوں کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ کیا آپ آئی ایس آئی کی کاؤنٹر ٹیررازم کی کامیابیوں کے بارے میں ایک لفظ بھی جانتے ہیں۔ نہیں تو ذرا حوصلہ کیجیے، یہ بالکل غیر معمولی صورت حال ہے اور اس میں اس طرح کے حادثات ہوتے ہیں۔ اپنے اداروں کو سپورٹ کریں، ہم سب کتنے قابل اور پروفیشنل ہیں، یہ مجھ سے زیادہ کم لوگ ہی جانتے ہوں گے۔ اللہ اس آپریشن میں جو بےگناہ شہید ہوئے ہیں، ان کی مغفرت کرے۔ آمین

انسان خطا کا پتلا ہے۔ غلطیاں کرنا انسان کی فطرت میں شامل ہے۔


گرتے ہیں شہسوار ہی میدان جنگ میں

وہ طفل کیا گرے جو گھٹنوں کے بل چلے


میدان جنگ میں شہسوار اس لیے گرتے ہیں کہ وہ شہسواری کے گر سے واقفیت نہیں رکھتے یعنی وہ شہسوار نہیں ہوتے، اور اپنے آپ کو شہسوار ثابت کرنے لگتے، لیکن بعض اوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ وہ اچھے خاصے شہسوار ہوتے ہوئے بھی گر جاتے، کیونکہ ان سے دانستہ یا نادانستہ کوئی غلطی سرزد ہوجاتی ہے، وہ لوگ کمال کے ہوتے ہیں جن سے غلطیاں سرزد نہیں ہوتیں، ایسے لوگوں کو متقی اور پرہیزگار کہا جاتا ہے۔ ہماری پولیس میں بھی اسی قسم کا معاملہ ہے جہاں آپ کو ہر قسم کے پولیس والوں سے واسطہ پڑتا ہے، پولیس میں جہاں بہت ہی برے اور بدعنوان افسر و ملازمان بہت کثرت سے پائے جاتے ہیں، وہیں نڈر، بہادراورفرض شناس لوگوں کی بھی کم نہیں ہیں۔ اپنی کم تنخواہ اور ناکافی سہولتوں کے باوجود جس طرح اپنا فرض نبھاتے ہوئے یہ لوگ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں، اس کی مثال کسی اور نوکری مں نہیں ملتی۔ لوگوں کی جان و مال کی حفاظت کرتے ہوئے صرف پولس والے ہی اپنی جان قربان کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔ حالات چاہے کتنے ہی مشکل ہوں، ایسے پولیس والے کبھی اپنے فرض سے منہ نہیں موڑتے۔ فرض شناس اور بہادر پولیس والے کو نہ کسی بااثر سیاستدان سے کوئی خوف محسوس ہوتا ہے اور نہ ہی روپے پیسے کی لالچ اس کا ایمان کمزور کرسکتی ہے۔ ایسے ہی اچھے اور بہادر پولیس والوں کی وجہ سے محکمے کی عزت قائم ہے ورنہ گندی مچھلیوں نے تو پورا تالاب ہی گندا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ ہم کو صرف پولیس کی خامیاں ہی نظر آتی ہیں خوبیاں نہیں۔ ہم نے اپنی خامیاں دیکھنے والی آنکھ کو اتنا کھلا رکھا ہوا ہے کہ ہم ہر اچھے کام کو چاہے وہ جو بھی کرے صرف نظر کر جاتے ہیں، تنقید ضرورکیجیے مگر تعریف بھی پولیس کا حق ہے۔