کیرئیر کونسلنگ کیوں ضروری ہے - عمیر مظہر

ہائر سیکنڈری تعلیم مکمل کرنے کے بعد سبجیکٹ سلیکشن ایک اہم مرحلہ ہے جو آج کل ہائر ایجوکیشن کی طرف جانے والے کم و بیش ہر طالب علم کا مسئلہ ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا جارہا ہے۔

اکثر اوقات یوں ہوتا ہے کے انٹر کی تعلیم کے بعد طالب علم مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے جب یونیورسٹی کا رخ کرتے ہیں تو انھیں پتا نہیں ہوتا کہ ان کی دلچسپی کس سبجیکٹ میں ہے بلکہ اس کے برعکس گھر سے جو ان کے لئے سلیکٹ کیا جاتا ہے، اسی پر انحصار کرتے ہیں یا پھر جو ان کے دوست سلیکٹ کرتے ہیں یا خود جس سبجیکٹ میں ایڈمشن لیتے ہیں، وہ بھی وہی لے لیتے ہیں۔ داخلہ لینے کے بعد جیسے جیسے وہ شعوری طور پر پروان چڑ ھتے ہیں تو انھیں اپنے غلط فیصلے کا احساس ہونے لگتا ہے مگر اس وقت بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے اور کوئی دوسرا آپشن بہت مشکل ہوجاتا ہے۔

اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے طالب علم وہ توانائی جو اسے زندگی کے ان سالوں میں خرچ کرنا ہوتی ہے وہ نہیں ہو پاتی۔ بہت کم ہی ایسا ہوتا ہے کہ بعد میں اپنی دلچسپی کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے انسان اپنی وہ خوبی جس میں قدرت نے اسے قدرت بخشی ہو، اس کو پالش کر پائے۔ مثال کے طور پر معروف کالم نگار حسن نثار نے اکنامکس میں گریجوایشن کیا مگر قدرت نے انھیں لکھنے میں مہارت بخشی۔ اس طرح طلبہ ڈگری تو لے لیتے ہیں مگر انھیں کام کرنا نہیں آتا، وہ ہنر نہیں رکھتے جو کہ غربت کی بڑی وجہ ہے کیونکہ جب آپ کو ہنر حاصل ہو تو نوکری ضروری نہیں ہوتی۔ نوکری کے بغیر ایک ہنرمند انسان گزارہ کر سکتا ہے، مگر بے ہنر آدمی لاکھوں روپے کی ڈگری لے کر در بدر پھر رہا ہوتا ہے اور بعض اوقات تنگ آ کر خود سوزی کر لیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   بلوچستان میں تعلیمی ایمرجنسی ضروری کیوں؟ عبدالمتین اخونزادہ

جب آپ کسی چیز میں اپنے شوق اور دلچسپی کے ساتھ جاتے ہیں تو اپنے آپ کواس چیز میں مشغول رکھنے کے لیے آپ وہ سب کچھ کرتے ہیں جو ضروری ہو، مگر اس کے برعکس اگر آپ کو کسی ایسی چیز جس میں آپ دلچسپی نہیں رکھتے، اس پر کام کرنا پڑ جائے تو یہ بلاشبہ مشکل ہوگا۔

اس مسئلہ کے حل کے لیے طالب علم کی کونسلنگ انتہائی ضروری ہے جس میں گھر والوں کا کلیدی کردار ہے، ان طالب علموں کے لیے جو کنفیوز ہیں، اس کے علاوہ سکول، کالجز اور خاص طور پر یونیورسٹیز میں کیرئیر کونسلنگ کلاسز کا اہتمام انتہائی ضروری ہے۔ طلبہ کی بہتری کے لیے ضروری ہے کہ انھیں بتایا جائے کہ مستقبل میں ان کے لیے کیا بہتر ہے۔ کیرئیر کونسلنگ کا سرکاری سطح پر فروغ اس طرف بارش کا پہلا قطرہ اور طلبہ کے لیے مفید ثابت ہوسکتا ہے۔