سایہ بھی ساتھ جب چھوڑ جائے - سحرش سحر

وہ کئی دنوں سے سخت الجھن کا شکار تھا۔ پہلے تو کبھی ایسا نہیں ہوا تھا۔ اس کی زندگی معمول کے مطابق ہی چل رہی تھی۔ روزانہ پر ہجوم شہر کے بازاروں میں وہ محنت مزدوری کرتا اور تھک ہار کر شام کو گھر سدھار جاتا، مگر آج کل اس کے ساتھ کچھ غیر معمولی اور انتہائی عجیب وغریب واقعات رونما ہو رہے تھے۔ اس کا اپنا سایہ اس سے باغی ہو گیا تھا۔ وہ دیکھتا کہ اس کا سایہ کبھی کبھار اس کا ساتھ چھوڑ دیتا ہے اور کسی کے ساتھ چل پڑتا ہے۔

پچھلے کئی روز سے یہ انہونی ہو رہی تھی۔ اس دن بھی وہ حسب معمول اپنے کام میں جُتا ہوا تھا،کہ اچانک اسے احساس ہوا کہ اس کےقریب سے کوئی سایہ گزر گیا ہے۔ وہ آنکھیں پھاڑے اسے دیکھتا رہا۔ دو چار قدم آگے جا کر اس کا تعاقب بھی کیا تو اندازہ ہوا کہ یہ تو اس کا اپنا سایہ ہے جو اسے چھوڑ کر کسی خاتون کے ساتھ چل پڑا ہے۔ اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ اس کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں۔ بارہا اس نے اسے اواز دینی چاہی مگر اس نے ارد گرد کا جائزہ لیا کہ کہیں کسی کی نگاہیں بھی وہ کچھ تو نہیں دیکھ رہیں جو یہ دیکھ رہا ہے۔ خوف کے عالم میں وہ پسینے میں شرابور ہو گیا اور اس کے حواس جواب دینے لگے۔

اس دن وہ گھر جلدی چلا گیا کیونکہ اسے بخار نے آں لیا تھا۔ وہ بستر میں منہ لپیٹ کر لیٹ گیا اس کا دماغ پھٹ رہا تھا۔ وہ سوچنے لگا یہ سب کیا تھا؟ آخر اس کا سایہ کہاں چلا گیا؟ اگر وہ واپس نہ آیا تو وہ کیا کرے گا؟ وہ لوگوں کے سوالوں کے کیا جواب دے گا؟

اللہ اللہ کر کے صبح ہوگئی تو اس نے اپنی ہمت جمع کی اور اٹھ بیٹھا۔ بستر میں بیٹھے بیٹھے خود کو سمجھانے کی کوشش کی کہ کہ اسے کوئی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اسے بالکل گھبرانا نہیں چاہیے، ہاں! البتہ دھوپ میں لوگوں کی نگاہوں سے بچ کر رہنا ہوگا۔ وہ اٹھا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔ دیکھا کہ ایک روشن پر رونق صبح پورے آب وتاب سے طلوع ہو چکی ہے۔ اس نے کل کے خیالات کو ذہن سے جھٹکتے ہوئے سستانے کو آنکھیں بند اور ہاتھوں کو اوپر اٹھا کر ایک انگڑائی لی۔ آنکھیں کھول کر جیسے ہی دو چار قدم لیے ہوں گے کہ اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی کیونکہ اس کا سایہ تو اسی کے قدم کے ساتھ قدم ملا کر چل رہا تھا۔ وہ آنکھیں پھاڑے اسے دیکھنے لگا۔ اس کا دل زور زور سےدھڑک رہا تھا۔ وہ کل! شاید وہ کوئی خواب تھا؟ اور یہ...؟ حقیقت ہے ...؟؟؟نہیں ...نہیں! یہ میرا وہم ہے۔ وہ ہنسا اور اپنے سائے کی معیت میں خوشی خوشی واش روم کی طرف گیا۔

پچھلے ہفتے کے واقعے کو اپنا وہم سمجھ کر آج بھی وہ اپنی سبزی کے ٹھیلے کے ساتھ کھڑا تھا، گاہک آ جا رہے تھے، اس نے قریب سے گزرتے ہوئے ایک بوڑھےضعیف کو گاہک سمجھتے ہوئے ایک سرسری سی نگاہ اس پر ڈالی۔ بزرگ تو آگے نکل گئے مگر اس کے ساتھ اس کا اپنا سایہ نہیں تھا۔ دیکھا کہ اِس ـکا سایہ جا کر اس بزرگ کے پیچھے پیچھے رواں دواں ہے۔ وہ حواس باختہ ہو کر ٹھیلا چھوڑ کر غیر ارادی طور پراس کے پیچھے تیزی سے بھاگا اور اسے پکارا:
کہاں جا رہے ہو ....رکو.....واپس آؤ..... چند ہی سیکنڈز کے بعد اسے خیال آیا کہ کہیں لوگ اسے پاگل نہ سمجھنے لگے، وہ خود ہی واپس چلا آیا۔ وہ بہت گھبرایا ہوا تھا۔ آج عشاء کی نماز پڑھ کروہ بدستور مسجد میں بیٹھا رہا۔ وہ پریشان تھا۔ اس کی واحد غمخوار اس کی والدہ تھی۔ جو پچھلے سال اسے داغ مفارقت دے گئی تھی۔ اب وہ اپنی پریشانی آخر کسے کہے؟ پھر اسے مولوی صاحب جیسا مرنجان مرنج انسان کا خیال آیا۔ جن کے پاس ابھی بھی ایک شخص بیٹھا، بڑی رازداری سے ان سےکوئی بات کررہا تھا۔ اس کے رخصت ہوتے ہی اس نے اپنی پریشانی مولوی صاحب کے سامنے رکھ دی۔

یہ بھی پڑھیں:   بدبو دار محبت (وینٹائن ڈے) - ڈاکٹر میمونہ حمزہ

مولوی صاحب بھی اس کی دلچسپ روداد سن کر مسکراتے ہوئے سیدھے بیٹھ گئے اور اپنی چھدری سی داڑھی پر ہاتھ پھیر تے ہوئے کچھ دیر خاموش بیٹھے رہے۔ سیانے تو تھے ہی، پھر گویا ہوئے: بیٹا! آیا تمہارا سایہ ان لوگوں کے ساتھ چل پڑتا ہے، جن کا اپنا سایہ نہیں ہوتا؟ جی ـ ـ ـ ـ جی 'جی! اس نے ذہن پر کچھ زور دے کر کہا۔ اور تمہارا اپنا سایہ جلدی لوٹ آتا ہے؟ جی ـ ـ ـ ـ ـ بالکل !

اسی نقطہ کی بنیاد پر انھوں نےگتھی سلجھا دی۔ مولوی صاحب نےاسے یہ بھی خوشخبری دی کہ ایسے واقعات کو وہ اپنے رب کی طرف سے خصوصی کرامت سمجھے اورـ ـ ـ ـ ـ
مولوی صاحب کی باتیں سن کر، وہ ایک نئے احساس سے آشنا ہو گیا تھا۔ اس کی الجھن سلجھ چکی تھی۔ اس کی ساری پریشانی کافورہو گئی تھی۔

پورے گیارہ دن کے بعد آج پھر اس کا سایہ ایک بارہ سالہ بچہ کے پیچھے ہو لیا مگر اسے کوئی الجھن نہ ہوئی۔ بس پھر کیا تھا، وہ بھی مولوی صاحب کے کہنےکےمطابق اس بچہ کے پاس لپک کر گیا اور شفقت آمیز لہجہ میں اس کا حال احوال پوچھا اور اس پر یوں ظاہر کیا جیسے وہ اس کے والد کےدوست ہو۔ وہ ایک یتیم بچہ تھا۔ وہ اسے اپنےٹھیلے کے پاس لے آیا۔ بچہ کااعتماد جب بحال ہوا تو اس نے اپنی اماں کی بیماری کے باعث شدید مالی پریشانی کا ذکر کیا۔ اس نے اپنی جیب سے کچھ پیسے نکالے اور ایک کلو سبزی سمیت اسے یہ کہہ کر زبردستی پکڑا دیے کہ کل سے تم میری مدد کے لیے یہاں آیا کروگے تو تمہیں مزدوری ملا کرے گی۔ وہ آج واقعی بہت خوش تھا۔ اس نے مولوی صاحب کو ڈھیروں دعائیں دیں۔ مولوی صاحب درست ہی فرماتے تھے کہ واقعی ہر معاشرے میں ایسے افراد ہوتے ہیں کہ جن کا سایہ تک ان کا ساتھ چھوڑ دیتا ہے، وہ بھرے پرے سماج میں تنہا ہوتے ہیں۔ ان کا کوئی پوچھنے والا، کوئی ہمدرد و غمخوارنہیں ہوتا، ایسوں کا سایہ اور سہارا بننا چاہیے۔ یہی انسانیت کی معراج ہے۔ آج تم کسی کے لیے سایہ فراہم کرو گے تو کل کوئی تمھارا چھپر بن کر زمانے کی دھوپ میں کھڑا ہوگا۔

وقت گزرتا گیا۔ اب اس یتیم بچہ کی بدولت وہ اپنا ٹھیلا چھوڑ کر اپنے سائے کے تعاقب میں کسی بے سہارا کا غم، درد، دکھ، پریشانیاں بانٹنے چلا جاتا۔ ایک دن شام سے کچھ گھڑیاں پہلے، روڈ پر خراماں خراماں گھر کی طرف چلتے ہوئے اس نے دیکھا کہ ایک بزرگ سڑک کے کنارے بیزار اور تھکے تھکے سے اپنا سر پکڑ کر بیٹھے ہیں اور ساتھ میں ایک بڑھیا بھی کھڑی ہے۔ اپنے سایہ کی نشاندہی سے پہلے ہی وہ ان کے پاس گیا کیونکہ اب وہ بےکس و مجبور لوگوں کے چہرے پڑھنا جان گیا تھا۔ ان کے پاس جاکر ان سے ان کی پریشانی دریافت کی تو پتہ چلا کہ وہ بوڑھاشخص بیمار ہے۔ اس کی بوڑھی بیوی اسے قریبی کسی حکیم کے پاس لے کر گئی تھی۔ کچھ فاصلے پر ہی ان کا گھر تھا مگر اب اس بزرگوار سے چلا نہیں جا رہا تھا، اور کرایہ کے پیسے بھی نہیں تھے۔ سو اِس نے ایک رکشہ رکوایا اور انھیں بٹھا دیا۔

یہ بھی پڑھیں:   بدبو دار محبت (وینٹائن ڈے) - ڈاکٹر میمونہ حمزہ

انھیں بٹھانے کے بعد، وہ وہاں سے دو چار قدم آگے گیا ہی ہوگا کہ اسے فٹ پاتھ پرایک والٹ پڑا ہوا نظر آیا۔ اِس نے اٹھانے سے پہلے ادھر ادھر دیکھا تو اسے آگے ایک طرحدار خاتون نظر آئی جو بڑی بے پروائی سے اپنی گاڑی کا دروازہ کھول کر اس میں بیٹھنے ہی لگی تھیں کہ اس نے اسے آواز دی کہ شاید وہ والٹ انھی کا ہو۔ واقعی وہ اپنا والٹ پا کر بہت خوش ہوئی کیونکہ اس میں اس کے ضروری کاغذات تھے۔ اسی رات اس کی جرمنی کی فلائٹ تھی۔ خاتون نے اسے یہ کہہ کر اپنا کارڈ دیا کہ کوئی بھی خدمت ہو اسے ضرور موقع دے۔

شومئی تقدیر! اگلے ہی لمحہ وہ بےدھیانی میں سڑک پار کرتے ہوئے ایک تیز رفتار گاڑی کی زد میں آکر اپنی دونوں ٹانگوں سے محروم ہو گیا تھا۔ پورے دو مہینے کے بعد اب سماج کے لیے اس کا وہ حادثہ اور یہ معذوری ایک عام سی بات تھی۔ سو اب اِس نےخود ہی انھی بیساکھیوں کے سہارے نہ صرف اپنے جسم بلکہ اپنی پوری زندگی کا بوجھ اٹھانا تھا۔ پچھلے اکتالیس دنوں سے تنہائی کا یہ عالم تھا کہ اس کا اپنا سایہ بھی ساتھ چھوڑ گیا تھا۔ وہ اس بڑے پر ہجوم شہر میں بالکل اکیلا تھا۔ گھر پر پڑے پڑے اس کا احساس محرومی بڑھتا ہی جا رہا تھا۔گھر کی خاموش چار دیواری کے اندر کمرہ کےوال کلاک کی سوئیوں کی مسلسل ٹک ٹک اس کے دماغ پر ہتھوڑے چلا رہی تھی۔ تین بج رہے تھے۔ وہ بیساکھیاں اٹھا کر باہر نکلا۔ باہر چہل پہل عروج پر تھی۔ نفسا نفسی تھی۔ چونکہ نقاہت بڑھ گئی تھی اس لیے سڑک کے کنارے کنارے بیساکھیوں کےسہارے چلتے ہوئے اس کا سر چکرایا اور وہ لڑ کھڑا کرگرپڑا، مگر کوئی اس کی مدد کو نہ آیا۔ گاڑیوں کے شور میں اس کی درد بھری آہیں، کوئی نہ سن سکا۔ اس کی آنکھیں ڈبڈباگئیں تھیں۔ وہ ہمت کر کے اٹھ کھڑا ہوا تو ایک عرصہ کے بعد اسے اپنا سایہ نظر آیا۔ خوشی کے مارے، پرنم آنکھوں کےساتھ ایک ہلکی سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر پھیل گئی۔ آج اسے اپنا بچھڑا ساتھی مل گیا تھا۔ اس کی ساری تنہائی، جیسے ہجوم میں ڈھل گئی تھی۔ اب وہ اکیلا نہیں تھا ـ مگر ـ ـ ـ ـ ـ یہ اس کا اپنا سایہ تو نہیں تھا، یہ تو کسی خاتون کا سایہ تھا، جو اس کی معیت میں اس کے پیچھے پیچھے چلتا جا رہا تھا۔