کمبوجیہ کی تلاش - جواد احمد

ان کملائے ہوئےدو چہروں کو دیکھتا ہوں جن کے والدین اور بڑی بہن ساہیوال میں ان کی آنکھوں کے سامنے وحشیانہ درندگی اور بربریت کی بھینٹ چڑھ گئے تو ایک ہول سا اٹھتا ہے۔ بےاختیار ایک بادشاہ یاد آتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ نام اور مقام کے فرق کے ساتھ کہانی وہی دہرائی گئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بادشاہ کو شکار سے بے پناہ لگاؤ تھا۔ اپنے اس شوق کی تسکین میں وہ سالہا سال جنگلوں کی خاک چھانتا رہا۔ تیراندازی اور نشانہ بازی میں وہ کہنہ مشق ہوا تو نجانے اسے کیا سوجھی کہ اس نے اپنی نشانہ بازی کا امتحان لینا چاہا۔ برسوں جانوروں کا شکار کرتے شاید وہ اکتا چکا تھا اور تفریح طبع کے لیے شکار کی تبدیلی اسے ناگزیر معلوم ہوئی تواس نے ایک کمسن لڑکے کو بطور نشانہ اس کے باپ کی آنکھوں کے سامنے کھڑا کیا۔ نتیجہ وہی نکلا کہ جس کی توقع تھی۔ باپ کی دعائیں رائیگاں گئیں۔ تیر اپنے نشانہ پرلگا اور لڑکا ہلاک ہوگیا۔ خوف سے کانپتے باپ نے ایک لمحہ خود سے جدا ہوتے لخت جگر کو دیکھا اور دوسرے ہی لمحے فاتح بادشاہ کو کامیاب نشانہ بازی پر مبارکباد پیش کی۔ وزیروں، مشیروں نے تعریفوں کے پل باندھے کہ بادشاہ سلامت ایسا زبرست نشانہ مارتے ہیں کہ رونے بھی نہیں دیتے۔

ان معصوم چہروں پر خوف کی یہ کیفیت بھی چنداں مختلف نہ تھی۔ غور کرتا ہوں کہ ان مظلوموں کے حق میں آواز کہاں سے بلند ہوسکتی ہے کہ یہ انصاف پا سکیں؟ اپنے والدین کو کھو کر شاید ایسے کئی معصوموں کو اس ٹھنڈی چھاؤں کی محرومی سے بچا سکیں۔ سوچتا ہوں لیکن کوئی راہ سجھائی نہیں دیتی۔ معاشرہ، لیکن وہ تو بے حسی کی دبیز چادر اوڑھے کب کا سو چکا ہے۔ اسے تو یہ واقعات اب روز مرہ کا معمول لگتے ہیں۔ یہ انہونی تھوڑی ہے؟ مرغی خانوں میں ان مرغیوں کی طرح جو قصاب کے پکڑتےوقت شور بطوراحتجاج نہیں بلند کرتیں بلکہ یوں اپنے تئیں وہ اپنے تحفظ کا سامان کررہی ہوتی ہیں۔ اس مرغی کے ذبح ہوجانے کے بعد وہ خود کو محفوظ سمجھتے ہوئے ایسا سکوت طاری کرتی ہیں گویا کچھ ہوا ہی نہیں۔ دوسری نگہ انتخاب سیاسی جماعتوں پر پڑی لیکن وہ تو مصلحتوں کے دام میں ایسی اسیر نظر آئیں کہ ان میں تواب شاید رسمی احتجاج کی سکت بھی نہ رہی ہو۔ قانون کہ ہر کہ و مہ اس کی بالادستی کا دم بھرتا ہے لیکن یہ امید تو اس شدت سے ٹوٹی کہ بھول گیا ہو جیسے سوال بھی۔ قانون کے رکھوالوں نے ہی تو یہ کیا ہے۔ انصاف دینے والوں کی طرف توجہ مبذول ہوئی تو راوانوار منہ چڑائے سامنے آکھڑا ہوا۔ عدالتوں میں ایک قاتل کو ملنے والے پروٹوکول کی ایک جھلک ہی ان سے اعتماد اٹھا دینے کے لیے کافی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   سانحہ ساہیوال کے بعد؟ آصف خورشید رانا

دشت پرہول کی ظلمت میں روشنی کی کوئی کرن نظر نہ آئی تو تاریخ کا سہارا کام آیا۔ عادل و منصف بادشاہوں کے واقعات سے جی بہلانے کا سوچا۔ اس فہرست میں کمبوجیہ سب سے الگ تھلگ نظر آیا۔ وہ ایران کا بادشاہ تھا۔ ول ڈیورنٹ نے اس کے نظام انصاف کا ایک عجیب و غریب نقشہ کھینچا ہے۔ دل نے دعا کی کہ کاش کوئی کمبوجیہ ہمارا بھی مقدر ہو۔اس نظام کے تحت نا انصافی کرنے والے جج کی کھال جیتے جی کھنچوائی جاتی اور اسے اس کرسی کے پوشش کے لیے استعمال کیا جاتا جس پر بیٹھ کر اس نے ناانصافی کی تھی۔ اس کے بیٹے کا بطور جج تقرر کیا جاتا تاکہ وہ اس کرسی پر بیٹھ کر" آغوش پدر" کی گرمی اور "انجام پدر" کی تپش محسوس کرتے ہوئے انصاف سے کام لے۔ کاش کہ انصاف کی بالاستی کا دم بھرنے والے ایک نظر اس مثال پر بھی ڈالیں کہ نہ صرف اس کے ذریعے بد دیانت اور ناانصاف حکمرانوں اور عادلوں کی بیخ کنی کی جاسکے بلکہ ان کی قیمتی کھالیں کو بہتر مصرف میں لاکرملک کی تعمیر و ترقی کے ایک روشن باب کا آغاز بھی کیا جاسکے۔