میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں؟ حمیرا توقیر

رات نیند ہی نہیں آ رہی تھی۔ ان معصوم بچوں کی تصویر نظروں کے سامنے سے ہٹ ہی نہیں رہی تھی۔ وہ فیڈر ہاتھ میں تھامے خاموش نظروں سے پتہ نہیں کسے دیکھ رہی ہے۔ کس کی منتظر ہے؟ شاید بھوکی ہو، شاید ماں کو تلاش کر رہی ہو، شاید بہن بھائی کو حیران ہو کر دیکھ رہی ہو کہ یہ بول کیوں نہیں رہے؟

یہی سوچتے سوچتے آنکھ لگی، کچھ ہی دیر بعد آنکھ کھل گئی، عجیب بےچینی سی تھی۔ کھڑکی پر بارش سر پٹک رہی تھی۔ بجلی کی کڑک اور چمک دل کو دہلا رہی تھی۔ کراچی میں بڑے عرصے بعد گرج چمک کے ساتھ بارش برس رہی تھی۔ اس شہر میں بارش بہت خواہشوں، آروزؤں اور دعاؤں کے بعد ہوتی ہے۔ کراچی والے بارش کے دیوانے بہت ہیں۔ میں خود بارش بہت پسند کرتی ہوں۔ بارش ہونے لگتی ہے تو لگتا ہے کہ کوئی چپکے چپکے روح میں نئی زندگی پھونک رہا ہے۔ دل کا ہر موسم کھلنے لگتا ہے۔ لبوں پر آپ ہی آپ مسکان کھیلنے لگتی ہے۔ آنکھوں میں ایک گہری چمک آنے لگتی ہے اور دل۔ دل کی کیا بات کریں، دل اللہ کی شکر گزاری کےگہرے جذبے سے چھلکنے لگتا ہے۔ روح کو نئی زندگی ملنے لگتی ہے۔ گھنٹوں بارش میں کھڑی چہرہ آسمان کی جانب کیے قطروں کو اپنے اوپر برستے اپنے اندر نئی روح داخل ہوتے محسوس کرتی رہتی ہوں۔

مگر کل رات...
زندگی میں پہلی بار میں بارش کا لطف نہ اٹھا سکی۔ دل بوجھل سا تھا۔ عجیب اداسی سی روح پر چھائی ہوئی تھی۔ اچانک بجلی کی کڑک نے دل دہلا دیا۔ ایسے ہی دل میں خیال آیا کہ شاید بجلی گرنے کے لیے ان سفاک قاتلوں کو تلاش کر رہی ہے۔ بےگناہوں کو اس بےرحمی سے قتل کرنے پر عذاب نہیں آئے گا کیا؟ دل اس سوچ سے کانپ اٹھتا ہے۔ کہیں یہ بارشیں عذاب کی کوئی شکل نہ ہو؟
استغفراللہ ربي من كل ذنب اذنبتہ عمداً او خطا سراً او علانيۃ وأتوب إليہ

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • کیا تبصرہ کروں، سمجھ نہیں آتا اس قسم کی خبروں پر.
    تحریر ی معیار جانچنے کا کیا موقع
    بس سکوت موت کا سا